مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم ومکرم مدیر ماہنامہ الشریعہ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

’الشریعہ‘ کے مضامین پر آرا اور تبصروں کی کثرت ظاہر کرتی ہے کہ مجلہ کے قارئین کا ایک وسیع علمی حلقہ قائم ہو چکا ہے جو وطن عزیز کے دینی ودعوتی اور قانونی ومعاشرتی، غرض ہر طرح کے مسائل پر اپنی جاندار آرا کا اظہار کرتے ہیں اور کرنا جانتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات جائزوں، تبصروں اور مراسلوں میں نقد وتنقید اور مراسلہ نگاری کی جائز حدود سے تجاوز ذہن وروح کو بہت تکلیف دیتا ہے۔

’الشریعہ‘ کے تازہ شمارہ (جنوری ۲۰۰۶) میں چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے عہد حاضر میں اردو زبان کے ایک موقر اور معیاری مجلہ کے نائب مدیر کے ساتھ اپنی ذاتی رنجش کو بنیاد بنا کر مجلہ کے معیار کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ موصوف کے مراسلہ میں وکیلانہ جذباتیت کا اظہار علمی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مراسلہ نگاری میں مضمون نگار، مبصر یا کسی ادارے سے اپنے علمی اختلافات کو سلیقے سے اور جذباتیت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے تحریر کرنا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں باہمی جذبات کے احترام اور شخصی تکریم کو ہر حال میں ملحوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

عاصم نعیم

لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ

یونیورسٹی آف سرگودھا

(۲)

محترم جناب مدیر ماہنامہ الشریعہ 

’’دینی مدارس اور جدید تعلیم‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون نظر سے گزرا جس کے دل نشیں، پرخلوص اور ہمدردانہ اسلوب کے پیش نظر توقع کی جا سکتی ہے کہ مذکورہ کاوش عصر حاضر کے اس بنیادی اور نازک ترین قومی وملی اور دینی مسئلے کی طرف متعلقہ ذمہ داران کو توجہ دلانے میں کامیاب ہوگی۔ مذکورہ موضوع پر جس قدر تدبر، حوصلہ اور تفصیل کے ساتھ موصوف نے اظہار خیال فرمایا ہے، یہ انھی کے بہار آفریں قلم کا ثمر ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ مضمون اور ’’قدامت پسندوں کے تصور اجتہاد‘‘ کے درمیان اگر موازنہ کیا جائے تو تاثیر کے حوالے سے نمایاں فرق سامنے آتا ہے، حالانکہ دونوں کے مولفین اپنے ہی ہیں اور دونوں کی نیک نیتی اور مقاصد بھی یکساں ہیں۔ معلوم ہوا کہ کسی بھی مضمون کی اثر آفرینی میں اس کے اسلوب میں انس آفرینی کی قوت کا بہت بڑا دخل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ’’قدامت پسندوں کے تصور اجتہاد‘‘ کو ’الشریعہ‘ کے مستقل قارئین تعصب کے بجائے بے تکلفی پر مبنی آپس کی بات قرار دیتے ہیں، لیکن کوئی نووارد قاری اس کے تند وتیز جملوں سے یقیناًکوئی مثبت تاثر نہیں لیتا اور اسے بھی ’’برتن سے وہی نکلتا ہے جو اس کے اندر ہے‘‘ کا مصداق سمجھ لیتا ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ مثبت انسانی کاوش کے برآور ہونے کے لیے بھی اسلامی تعلیمات وہدایات کے مطابق طرز عمل اختیار کرنا ہی مفید وموثر ہے۔

محمود خارانی

جامعہ دار العلوم، کراچی

(۳)

مخدوم گرامی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟

الشریعہ جنوری ۲۰۰۷ کا شمارہ پڑھا۔ محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’’دینی مدارس اور جدید تعلیم‘‘ ان کے سوز دروں کا آئینہ دار تھا۔ ان کے نقطہ نظر سے موافقت یا مخالفت بڑے حضرات کا کام ہے۔ ان کے مخاطب بھی وفاق المدارس پاکستان اور دینی مدارس کے مہتمم حضرات ہیں، احقر ایسے لوگ نہیں۔ لیکن ایک بات عرض کرنے کو بے ساختہ جی چاہ رہا ہے۔ وہ یہ کہ برصغیر پاک وہند میں ہر طبقہ فکر کے علما اور دانش ور تقریباً ایک سو سال سے جدید وقدیم علوم کو نصاب میں سمونے کی مقدار، طریق کار اور نتائج کی بحثوں میں مصروف ہیں، لیکن بدقسمتی سے برصغیر میں کوئی ایسا فورم نہیں جو اسلامی دنیا کے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں کے تعلیمی تجربات سے ہمیں روشناس کرائے۔ یہ کام رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے بہترین طریقہ سے ہو سکتا ہے لیکن غالباً رابطہ کے ارباب اختیار کو کسی نے توجہ نہیں دلائی۔ میں ’الشریعہ‘ کی وساطت سے ایسے قارئین سے جو رابطہ عالم اسلامی تک بات پہنچا سکتے ہوں، گزارش کروں گا کہ وہ رابطہ کی انتظامیہ کو توجہ دلائیں کہ وہ فقہ اکیڈمی کی طرز پر ایک تعلیمی کمیٹی قائم کرے جس کا کام جدید وقدیم علوم کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی مقدار، طریق کار اور نتائج کے حوالے سے پاکستان سمیت مختلف اسلامی ملکوں میں سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد ہو۔ ہر ملک کے اہم اداروں کے نمائندے اس تعلیمی کمیٹی کے رکن ہوں اور ایک ملک کے تعلیمی تجربات دوسروں تک پہنچائے جائیں۔ اس سے مزید ذہن کھلیں گے اور ممکن ہے کچھ اہداف حاصل ہو جائیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ اس اقدام کے بغیر ہمارے مباحث پانی میں مدھانی کے سوا کچھ نہیں۔

(مولانا) مشتاق احمد

جامعہ اسلامیہ۔ کامونکی

(۴)

جناب مدیر ’الشریعہ‘!

السلام علیکم

آپ کا موقر جریدہ قریب دو سال سے مکتب زہرا میں جلوہ افروز ہو رہا ہے۔ رئیس التحریر اور دیگر بلند نظر فضلا کی دل کشا ایمان افزا تحقیقات سے ناچیز متعلمہ نے ہمیشہ استفادہ کیا۔ پرچہ فی الواقع بقامت کہتر بقیمت بہتر ہوتا ہے۔

کئی بار جی چاہا کہ بعض مشتملات پر تبصرہ کروں لیکن مشاغل خانہ داری اور مطالبات قلم کاری میں باہم ناسازگاری نے ہر دفعہ معاملہ آئندہ پر ملتوی کر دیا۔ اس مرتبہ ’الشریعہ‘ ۵؍ دسمبر کو مل گیا تھا مگر بچوں کی مسلسل بیماری اور سرمائی امتحان کی تیاری کے باعث آج ’’کرسمس ڈے‘‘ پر پڑھنے کی فرصت ملی۔ علامہ عتیق الرحمن سنبھلی، پروفیسر میاں انعام الرحمن، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، جناب خورشید احمد ندیم اور جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی کی فکر انگیز باتوں کی تحسین نہ کرنا کور ذوقی ہوگی۔ حافظ صفوان محمد چوہان اور محترم عبد الحفیظ قریشی کے خیالات تو دل کی آواز محسوس ہوئے۔ ع از دل خیزد بر دل ریزد۔

حدود آرڈی ننس ۱۹۷۹ اور ترمیمی بل ۲۰۰۶ کے حوالے سے ’الشریعہ‘ کے حالیہ شماروں میں بہت قیمتی مواد چھاپا گیا ہے۔ بالخصوص استاذ محمد مشتاق احمد صاحب، لیکچرر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا مقالہ بڑا وقیع اور پرمغز ہے۔ ابی واستاذی میر مفتی عبد الرحیم محدث کروڑی (تلمیذ ومسترشد حضرت مدنی) تغمدہما اللہ برحمتہ کہا کرتے تھے: ’’فقہ خوانی ہور شے ہے، فقہ مندی ہور شے۔‘‘ مولانا محمد مشتاق احمد اسلام آبادی بلاشبہ ’’فقیہ النفس‘‘ اور ’’فقہ مند‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ کریں علم وعمل اور زیادہ۔

ان شاء اللہ تعالیٰ راقمہ بھی پاکستان کے شوکانی، سائیں محمد تقی عثمانی کے ترمیمی بل ۲۰۰۶ کے دردمندانہ جائزہ پر ایک طالب علمانہ تبصرہ کرنا چاہتی ہے۔ اللہ بزرگ وبرتر حق کہنے اور غلطی کی صورت میں برملا اقبال خطا کی توفیق ارزاں فرمائیں۔

اس کے ہر پہلو پہ تنقید کی گنجایش ہے
میرا فتویٰ ہی تو ہے، قول پیمبر تو نہیں

المتعلمہ، شمیم فاطمہ تبسم

الزہرا ۔ چاہ عمر۔ کروڑ۔ لیہ

(۵)

جناب رئیس التحریر راشدی صاحب

ماہ دسمبر کا شمارہ میرے سامنے ہے جس میں ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں ایک جامع تحریر پڑھ کر نقطہ نظر سے آگاہی ہوئی، لیکن کنفیوژن دور نہیں ہو سکی اس لیے کہ اس بل کی حمایت میں لکھنے والا طبقہ بھی مدلل انداز سے اس کو بہتر ثابت کر رہا ہے۔ اس بل سے عورتوں کو تو کوئی فائدہ پہنچے نہ پہنچے، لیکن حکومتی پالیسی جو Divide and rule کے اصول پر چل رہی ہے، ضرور کامیاب ہوئی ہے اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو اس بے مقصد ایشو پر لگا دیا گیا ہے۔ مجھے آپ کے طبقہ فکر کے حامی افراد سے پوچھنا ہے کہ کیا اس ملک کے بگاڑ میں زنا اور شراب کا ہی رول ہے؟ آمرانہ حکومتوں کو سپورٹ کرنا ان مذہبی جماعتوں کا ہی خاصہ رہا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی آمر کے لیے عوامی حقوق کو غصب کرنا آسان ترین ہو گیا۔ مولویوں نے کبھی بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی آلودگی، انسانی حقوق کے لیے کیوں جنگ وجدل نہیں کی؟ کبھی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ، کبھی جمعہ کی چھٹی اور کبھی نقاب جیسے بے مقصد موضوعات کو چھیڑ کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ یہی حال ’حقوق نسواں بل‘ کا ہوا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہماری خواتین کی اکثریت کو اس ایشو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ مہنگائی اور امن وامان کی صورت حال سے انھیں دلچسپی بھی ہے اور اس پر تشویش بھی۔ 

آپ ازراہ کرم ایسے اچھے مضامین Dawn اور The News کو بھیجا کریں تاکہ آپ سے اختلاف کرنے والے مزید تحقیقاتی میٹریل اخبا ر کو بھیجیں اور یوں سچ ابھر آئے گا۔ ’الشریعہ‘ کو پڑھنے والے پہلے ہی آپ کے ہم خیال لوگ ہیں اور یوں ہم سچائی سے دور رہتے ہیں۔

اللہ آ پ کا حامی وناصر ہو۔

محمد سعید اعوان

اروپ۔ گوجرانوالہ

مکاتیب