تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تبلیغی جماعت کا آغاز وارتقا‘‘

The Origins and Development of the Tablighi Jamaat (1920-2000)

مصنف: یوگندر سکند

صفحات: ۳۱۰+۱۲۔ قیمت ۵۹۵ روپے۔ پہلا ایڈیشن ۲۰۰۲ پیپر بیک۔ 

ناشر: 

Oriental Longman Pvt. Ltd. 1/24 Asaf Ali Road, New Delhi-110002

یوگندر سکند ہمارے ملک میں اور کسی حد تک دنیا میں ایک نوجوان ’’ماہر اسلامیات‘‘ مانے جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی ابتدا اور ترقی کے بارے میں ان کی زیر تبصرہ کتاب دراصل وہ تحقیق ہے جو انھوں نے لندن یونیورسٹی کے ایک ماتحت ادارے سے اس موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے پیش کی تھی۔ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر تاریخ جنوب ایشیا فرانسس رابنسن کا خیال ہے کہ سکند آگے چل کر بین الاقوامی منظر پر اس صدی کے نصف اول کے ایک سرکردہ ماہر اسلامیات بن کر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تبلیغی جماعت پر اب تک انگریزی میں اس سے پہلے صرف تین مصنفوں کی کاوشیں ہی عام طور سے لوگوں کے علم میں تھیں۔ یہ ڈاکٹر انوار الحق، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور خالد مسعود کی تصنیفات ہیں۔

یوگندر سکند نے تبلیغی جماعت کے بارے میں اپنی اس تحقیق کو معتبر اور مدلل بنانے کے لیے محنت شاقہ صرف کی ہے اور ان کے دل کے کسی گوشے میں تعصب کی کارفرمائی بالعموم نظر نہیں آتی۔ اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ایسے دور میں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں اور اس بنیاد کے حامل مسلم اداروں تک کے بارے میں من گھڑت باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، تبلیغی جماعت کے پھیلاؤ کی انھوں نے جو تصویر کشی کی ہے، وہ مغربی دنیا کو ہیبت زدہ کر سکتی ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ملکوں میں تبلیغی جماعت کا وجود ہے۔

مصنف نے تمہیدی صفحات کے بعد کتاب کے ابتدائی حصہ میں دکھایا ہے کہ کس طرح تبلیغ کی اس تحریک نے ۱۹۲۰ کے عشرہ میں شدھی کی شرانگیز اور زہریلی مہم کے پس منظر میں جنم لیا جو کہ برطانوی حکومت کی اس حکمت عملی کے بطن سے پیدا ہوئی تھی کہ عوام میں مذہبی بنیاد پر تفریق پیدا کی جائے۔ اس حکمت عملی کے تحت پہلی مرتبہ مذہب پر مبنی مردم شماری شروع کی گئی۔ شدھی مہم کا مقصد متحدہ پنجاب کے میوات اور دوسرے علاقوں میں ہندووں کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ دکھانا تھا کیونکہ مردم شماری ہندووں اور مسلمانوں کے مابین واضح خط فاصل کھینچ رہی تھی جو کہ پہلے رسوم ورواج کے اعتبار سے بڑی حد تک باہم خلط ملط تھے۔

تبلیغی تحریک کی بنیادیں ہندوستان میں علما کے نئے فکری، یعنی عوامی رجحانات تک پہنچتی ہیں جن کو ۱۸ویں صدی عیسوی کے آغاز سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے شروع کیا۔ یہ رجحانات مغلیہ زوال کے حالات میں عوام کے اندر اسلام کی افادیت باقی رکھنے کے لیے وجود میں آئے تھے۔ صرف انھی دو حقائق کا کتاب میں تذکرہ ظاہر کر دیتا ہے کہ مصنف نے سنجیدہ تحقیق وجستجو کی کوشش ضرور کی ہے، خواہ اس میں مکمل کامیابی نہ حاصل ہوئی ہو۔ مغربی دنیا میں اسلامی تنظیموں اور تحریکوں کے بارے میں مطالعات کا عام ڈھرہ یہ ہے کہ پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے کہ کسی کتاب، فلم یا دوسری کاوش کے ذریعہ ناظرین کو کیا پیغام دینا اور کیا ثابت کرنا ہے۔ پھر اس نہج پر لکھنے کے لیے من مانے اور قطع وبرید شدہ حقائق، واقعات یا بیانات اکٹھا کر کے ان کو بطور شواہد پیش کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ تصنیف اس راستے سے الگ ہے۔ اس میں صرف یہ کیا گیا ہے کہ مولانا الیاس کاندھلوی کا تبلیغی مشن اور تبلیغی جماعت کی سن ۲۰۰۰ تک کی معروضی روداد بیان کر دی گئی ہے اور اس کو مصدقہ بنانے کے لیے معروف اسلامی عالموں ومصنفوں کے حوالے ہر صفحہ پرموجود ہیں۔

اس کے باوجود یوگندر سکند کی اس کوشش کو بے عیب نہیں کہا جا سکتا۔ تبلیغی جماعت کی ابتدا کس سن میں ہوئی، کیا یہ ایک جماعت یا تنظیم ہے یا صرف تحریک (یہاں جماعت، تبلیغ کے لیے نکلنے والی ٹولی کو بھی کہتے ہیں) حضرت مولانا الیاس کی پیدایش کس سن میں ہوئی، ان تمام سوالات کے حوالے سے معلومات کا ابہام اتنی کدو کاوش کے بعد بھی موجود ہے۔ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ تبلیغی جماعت کا وجود ۱۹۲۰ سے ہے لیکن کئی معتبر کتابوں میں ان تبلیغی جماعتوں یا اسفار کا آغاز اس کے کئی سال بعد بتایا گیا ہے۔ ندوۃ العلماء سے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی نگرانی میں مولانا محمد یوسف کی زندگی پر شائع ہونے والی کتاب (مولف: مولانا سید محمد رابع ثانی حسنی) میں مولانا الیاس کا سن پیدایش ۱۳۰۳ ہجری اور ان کا پیدایشی نام الیاس اختر بتایا گیا ہے۔ سکند نے سن پیدایش ۱۸۸۵ اور نام اختر الیاس بتایا ہے۔ دونوں میں سے ایک یا پھر دونوں ہی مشکوک ہیں۔ مذکورہ سن عیسوی اول الذکر سن ہجری سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کیا حضرت مولانا الیاس کے اس مشن میں کامیاب ہے کہ مسلمانوں کے کردار اور ذہن کو قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھالا جائے؟ کیا وہ گزشتہ ۶۰، ۶۲ برسوں میں اس منزل کی طرف آگے بڑھی ہے؟ کیا ڈیڑھ سو یا جتنے بھی ملکوں میں اس کا وجود ہے، وہاں کے معاشرے کے کسی قابل لحاظ حصے میں اس نے اپنے اثرات چھوڑے ہیں؟ کتاب ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے۔ تاہم مصنف کی اس تحقیقی کاوش کی ستایش کی جانی چاہیے۔

(تبصرہ نگار: ریاض قدوائی۔ بشکریہ ’اردو بک ریویو‘ دہلی)

’’تذکرۃ المصنفین المعروف بہ تراجم العلماء‘‘

حضرت مولانا مفتی ابو القاسم محمد عثمان قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے۔ ان کا تعلق چھچھ کے علاقہ سے تھا اور دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلا میں سے تھے۔ آپ کے دادا حضرت مولانا فضل حق شمس آبادیؒ ترک وطن کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے اور مدرسہ صولتیہ کے بانی حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے شرف تلمذ حاصل کیا تھا۔ انھوں نے وہاں شادی بھی کر لی تھی مگر علاقہ چھچھ کے علماء کرام اور احباب کے اصرار پر واپس آئے اور شمس آباد میں دینی تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا جسے ان کے فرزند حضرت مولانا مفتی محمد عمر شمس آبادیؒ اور پوتے حضرت مولانا مفتی محمد عثمان شمس آبادیؒ نے آگے بڑھایا اور اب اس دینی وعلمی سلسلہ کو ہمارے محترم دوست حضرت مولانا قاری امداد اللہ قاسمی زید مجدہم برمنگھم برطانیہ کے معروف دینی مرکز ’’مسجد حمزہؓ‘‘ میں قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی محمد عثمان شمس آبادی نے ساری زندگی درس وتدریس میں گزاری اور انھیں پورے علاقہ میں ایک ثقہ اور معتمد مفتی کا مقام حاصل تھا۔

انھوں نے اپنے زمانہ تدریس میں درس نظامی کے نصاب میں زیر درس رہنے والی کتابوں کے مصنفین کے تعارف پر ایک کتاب تصنیف کی جو ان کی زندگی میں طبع نہ ہو سکی اور اب مولانا قاری محمد امداد اللہ قاسمی کی نگرانی میں القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ نے اسے شائع کیا ہے جو بہت سے مصنفین اور علماے کرام کے ترجمہ وتعارف کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر علمی نکات کا مجموعہ بھی ہے۔

بڑے سائز کے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

(ابو عمار زاہد الراشدی)

’’خانوادۂ نبوی وعہد بنی امیہ‘‘

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ہمارے ملک کے ممتاز محققین میں سے ہے۔ تاریخ ان کا خصوصی موضوع ہے اور تاریخ کے مختلف عنوانات پر ان کے گراں قدر مقالات اہل علم سے داد وتحسین وصول کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انھوں نے بنو امیہ کے عہد حکومت میں خاندان نبوت کے حالات اور ان کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے اور بعض اہل علم کے پیش کردہ اشکالات واعتراضات کا جواب دیا ہے۔ بہت سے امور میں ان کے پیش کردہ نتائج سے اختلاف کی گنجایش موجود ہے مگر ان کی محنت اور تحقیق بہرحال قابل داد ہے۔ 

اڑھائی سو سے زائد صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت دو سو روپے ے اور اسے مکتبہ سید احمد شہیدؒ ، الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’قرآن کریم کی روشنی میں‘‘

یہ محترم ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مختلف مسائل اور موضوعات پر قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں دیے۔ ان موضوعات میں جہاد، پردہ، ازدواجی زندگی، بین الاقوامی معاملات، اسلام کا نظریہ مال ودولت اور آداب معاشرت جیسے اہم مسائل بھی شامل ہیں۔

ساڑھے چار سو سے زائد صفحات کا یہ مجلد مجموعہ مرکز فہم القرآن ۱۴۔۱۵ فرسٹ فلور، ڈیلا والا سنٹر، شون چورنگی بلاک ۹، کلفٹن کراچی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو پچاس روپے ہے۔

’’تفسیر گوہر بیان‘‘ (جلد اول)

جامعہ اویسیہ گوہریہ (پکا گڑھا) بونکن روڈ سیالکوٹ کے بانی علامہ محمد شاہد جمیل اویسی نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کے ترجمہ قرآن کریم ’’کنز الایمان‘‘ کے ساتھ اسی ذوق کے مطابق مختلف تفاسیر قرآن کریم سے تفسیری اقوال ونکات کی تلخیص کا مندرجہ بالا عنوان کے تحت آغاز کیا ہے۔ اس کی پہلی جلد ہمارے سامنے ہے جو قرآن کریم کے پہلے پارے پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے قرآن کریم کے حروف والفاظ اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے بہت سی معلومات اور اعداد وشمار بھی مرتب کر دیے ہیں۔

پہلی جلد ساڑھے چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی قیمت تین سو روپے ہے اور اسے مندرجہ بالا پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’اذکار سیرت‘‘

معروف ماہر تعلیم پروفیسر سید محمد سلیم مرحوم کے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف مضامین کا مجموعہ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز ، اے۔۴/۱۷ ناظم آباد ۴، کراچی ۱۸ نے شائع کیا ہے جس میں مختلف عنوانات کے تحت سیرت طیبہ کے حوالے سے مفید معلومات پیش کی گئی ہیں۔ ۲۴۰ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’مقالات سیرت‘‘

فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کے سیرت نبوی کے موضوع پر مختلف مضامین کو ان کے لائق فرزند مولانا قاری خلیل احمد تھانوی نے مرتب کیا ہے اور اسے ادارۃ اشرف التحقیق دار العلوم الاسلامیہ، کامران بلاک ، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے۔ پونے دو سو صفحات کی مجلد کتاب کی قیمت درج ہے۔

’’تعلیمات اسلام‘‘

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ اعظم حضرت مولانا شاہ مسیح اللہؒ نے اسلامی تعلیمات کو تعلیم وتدریس کے لیے سوال وجواب کی صورت میں مرتب فرمایا ہے جو عقائد و عبادات سے لے کر معاملات واخلاق تک تمام ضروری پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا یہ گراں قدر مجموعہ مولانا وکیل احمد شیروانی کی نگرانی میں مکتبہ فیض اشر ف، بیت الاشرف، ۷۸۔ اے ماڈل ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے جو سکولوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے بطور خاص مفید ہے۔ اس کے پانچ حصے ایک جلد میں یکجا شائع کیے گئے ہیں اور قیمت درج نہیں ہے۔

’’مفتی محمودؒ سے ملیے‘‘

کراچی کے جناب مولانا قطب الدین عابد نے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے افکار وخیالات اور ارشادات وتعلیمات کو خوب صورت ترتیب کے ساتھ اس کتاب میں جمع کیا ہے جن میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے حالات وخدمات کے ساتھ ساتھ ان کے اکیس کے لگ بھگ انٹرویوز بھی شامل ہیں جو انھوں نے مختلف اوقات میں اہم جرائد کو دیے اور یہ انٹرویوز بلاشبہ اس دور کی دینی جدوجہد اور قومی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔

ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مفتی محمود اکیڈمی، کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے جمعیۃ پبلی کیشنز متصل مسجد پائلٹ ہائی اسکول، وحدت روڈ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’تذکار محمود رحمہ اللہ تعالیٰ‘‘

۱۹۹۶ء کے دوران بنوں میں حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی یادمیں منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالات ومضامین کو ہمارے فاضل دوست محمد فاروق قریشی نے حسن ذوق کے ساتھ مرتب کیا ہے جو حضرت مفتی صاحب کی زندگی، خدمات اور تعلیمات کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ سوا تین سو کے لگ بھگ صفحات کا یہ مجلد مجموعہ مفتی محمود اکیڈمی کراچی نے شائع کیا ہے۔ اس کی قیمت دو سو روپے ہے اور مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

سیرت نبوی پر القاسم اکیڈمی کی مطبوعات

خیر القرون سے اب تک سیرت طیبہ پر مختلف زبانوں میں ہزاروں کتب شائع ہو چکی ہیں، لیکن اپنی کم مائیگی کا احساس ہر سیرت نگار کو دامن گیر رہتاہے اور خاتمہ کلام کے لیے اسے ’’ بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر‘‘ ہی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مولانا عبد القیوم حقاّنی ملک کے معروف مصنف ہیں اور مختلف موضوعات پر بیسیوں تصانیف ان کے حسن علم وقلم کا ثبوت ہیں۔ مولانا نے سیرت نبوی پر معروف ومتداول کتاب ’شمائل ترمذی‘ کی ضخیم شرح تقریباً ۱۶۰۰ صفحات میں تالیف کی ہے، تاہم عوام الناس کی سہولت کے پیش نظر اس کے بعض اجزا کو مستقل عنوانات کے تحت الگ شائع کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ تین کتب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ 

پہلی کتاب کا عنوان ’’جمال محمد ﷺ کا دلربا منظر ‘‘ ہے اور اس میں نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کے تمام اعضا ء کا ۲۲ احادیث کی روشنی میں مفصل ومدلل ذکر کیا گیاہے۔ ابتدا میں قاری کی سہولت کی خاطر حدیث کے متعلق چند ضروری اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے جبکہ بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا مفہوم سہل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ۲۰۶صفحات پر مشتمل مجلد کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے ۔

دوسری کتاب حصہ’’روئے زیبا ﷺ کی تابانیاں ‘‘ کے خوبصورت نام سے معنون ہے اور اس میں آپﷺ کی زلفوں،مانگ، تیل،کنگھی اور مسنون لباس سے متعلق شمائل کی ۴۸ ؍احادیث کی عالمانہ توضیح وتشریح کی گئی ہے۔ ۱۵۶ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۹۹ روپے ہے ۔

’’آفتاب نبوت ﷺ کی ضیا ء پاشیاں ‘‘ کے عنوان سے تیسری کتاب میں مولف نے حضور نبی کریم ﷺ کے پسندیدہ کھانے، مرغوب مشروبات، پسندیدہ پھل، کھانے پینے اور مہمان نوازی کے مسنون آدا ب کے ضمن میں شمائل کی ۱۷۷؍ احادیث کی سلیس تشریح کی ہے۔

مصنف کا انداز بیان عمدہ اور عشق نبوی ﷺ سے بھر پور ہے اور یہ کتب مجموعی لحاظ سے عوام وخواص اورطلبا، سب کے لیے یکساں مفید ہیں۔ رنگین اوردیدہ زیب سرورق نے کتب کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیاہے۔ تینوں کتب القاسم اکیڈمی ،جامعہ ابو ہریرہؓ خالق آباد نوشہرہ نے شائع کی ہیں۔

(ادارہ)

تعارف و تبصرہ