’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کا ایک جائزہ

مفتی محمد تقی عثمانی

حال ہی میں ’’تحفظ خواتین‘‘ کے نام سے قومی اسمبلی میں جو بل منظور کرایا گیاہے، اس کے قانونی مضمرات سے تو وہی لوگ واقف ہوسکتے ہیں جو قانونی باریکیوں کا فہم رکھتے ہوں، لیکن عوام کے سامنے اس کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس نے خواتین پر جو بے پناہ مظالم توڑ رکھے تھے، اس بل نے ان کا مداواکیاہے اور اس سے نہ جانے کتنی ستم رسیدہ خواتین کو سکھ چین نصیب ہوگا۔ یہ دعویٰ بھی کیا جارہاہے کہ اس بل میں کوئی بات قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہے۔

آئیے ذراسنجیدگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ یہ دیکھیں کہ اس بل کی بنیادی باتیں کیا ہیں؟ وہ کس حد تک ان دعووں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں؟ پورے بل کا جائزہ لیاجائے تو اس بل کی جوہری (Substantive) باتیں صرف دو ہیں :

پہلی بات یہ ہے کہ زنا بالجبر کی جو سزا قرآن وسنت نے مقرر فرمائی ہے اور جسے اصطلاح میں ’’حد‘‘ کہتے ہیں، اسے اس بل میں مکمل طور پر ختم کردیاگیاہے۔ اس کی رو سے زنا بالجبر کے کسی مجرم کو کسی بھی حالت میں وہ شرعی سزا نہیں دی جاسکتی، بلکہ اسے ہر حالت میں تعزیری سزا دی جائے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ حدود آرڈیننس میں جس جرم کو زنا موجب تعزیر کہاگیاتھا، اسے اب ’’فحاشی‘‘ (Lewdness) کا نام دے کر اس کی سزا کم کردی گئی ہے اور اس کے ثبوت کو مشکل تر بنادیاگیاہے۔

ا ب ان دونوں جوہری باتوں پر ایک ایک کرکے غور کرتے ہیں:

زنا بالجبر کی شرعی سزا (حد) کو بالکلیہ ختم کردینا واضح طور پر قرآن وسنت کے احکام کی خلاف ورزی ہے، لیکن کہا یہ جارہاہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد مقرر کی ہے، وہ صرف اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب زنا کا ارتکاب دو مرد وعورت نے باہمی رضا مندی سے کیاہو، لیکن جہاں کسی مجرم نے کسی عورت سے اس کی رضامندی کے بغیر زنا کیاہو، اس پر قرآن وسنت نے کوئی حد عائد نہیں کی۔ آئیے پہلے یہ دیکھیں کہ یہ دعویٰ کس حد تک صحیح ہے؟

(۱) قرآن کریم نے سورۂ نور کی دوسری آیت میں زنا کی حد بیان فرمائی ہے:

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا ماِءَۃَ جَلْدَۃٍ۔
’’جو عورت زنا کرے ،اور جو مرد زنا کرے، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگواؤ۔‘‘ (النور:۲)

اس آیت میں ’’زنا‘‘کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے۔ اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی،بلکہ یہ عقل عام (Common sense)کی بات ہے کہ زنا بالجبر کا جرم رضامندی سے کیے ہوئے زناسے زیادہ سنگین جرم ہے، لہٰذا اگر رضامندی کی صورت میں یہ حد عائد ہو رہی ہے تو جبر کی صورت میں اس کا اطلاق اور زیادہ قوت کے ساتھ ہوگا۔

اگر چہ اس آیت میں ’’زناکرنے والی عورت‘‘کا بھی ذکر ہے، لیکن خود سورۂ نور ہی میں آگے چل کران خواتین کو سزاسے مستثنیٰ کردیاگیاہے، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو،چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

وَمَن یُکْرِہہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِن بَعْدِ إِکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (آیت ۳۳)
’’اور جو ان خواتین پر زبردستی کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبردستی کے بعد (ان خواتین کو) بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘ 

اس سے واضح ہوگیا کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جاسکتی، البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی وہ حد جو سورۂ نور کی آیت نمبر ۲ میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔

(۲) سوکوڑوں کی مذکورہ بالا سزا غیرشادی شدہ اشخاص کے لیے ہے۔ سنت متواترہ نے اس پر یہ اضافہ کیاہے کہ اگر مجرم شادی شدہ ہو تو اسے سنگسار کیا جائے گا اور نبی کریم ﷺ نے سنگساری کی یہ حد جس طرح رضامندی سے کیے ہوئے زنا پر جاری فرمائی، اسی طرح زنا بالجبر کے مرتکب پر بھی جاری فرمائی۔ چنانچہ حضرت وائل بن حجرؓ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز پڑھنے کے ارادے سے نکلی۔ راستے میں ایک شخص نے اس سے زبردستی زنا کا ارتکاب کیا۔ اس عورت نے شور مچایا تو وہ بھاگ گیا۔ بعد میں اس شخص نے اعتراف کرلیا کہ اسی نے عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا تھا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر حد جاری فرمائی اور عور ت پر حد جاری نہیں کی۔ امام ترمذی ؒ نے یہ حدیث اپنی جامع میں دو سندوں سے روایت کی ہے اور دوسری سند کو قابل اعتبار قراردیاہے۔ (جامع ترمذی، کتاب الحدود، باب ۲۲، حدیث ۱۴۵۳، ۱۴۵۴)

(۳) صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک باندی کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا تو حضرت عمرؓ نے مردپرحد جاری فرمائی اورعورت کو سزا نہیں دی، کیونکہ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی تھی۔ (صحیح بخاریؒ ،کتاب الاکراہ، باب نمبر ۶)

لہٰذا قرآن کریم، سنت نبویہ علیٰ صاحبہا السلام اور خلفاے راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح زضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنابالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے، وہ صرف رضامندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ پھر کس وجہ سے زنا بالجبر کی شرعی سزا کو ختم کرنے پر اتنا اصرار کیا گیاہے؟ اس کی وجہ دراصل ایک انتہائی غیر منصفانہ پروپیگنڈا ہے جو حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت سے بعض حلقے کرتے چلے آرہے ہیں۔ پروپیگنڈا یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت اگر کوئی مظلوم عورت کسی مرد کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرائے تو اس سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ وہ زنا بالجبر پر چار گواہ پیش کرے اورجب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکتی تو الٹا اسی کو گرفتارکرکے جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو عرصہ دراز سے بے تکان دہرائی جارہی ہے اور اس شدت کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اسے سچ سمجھنے لگے ہیں اوریہی وہ بات ہے جسے صدر مملکت نے بھی اپنی نشری تقریر میں اس بل کی واحد وجہ جواز کے طورپر پیش کیاہے ۔ جب کوئی بات پروپیگنڈے کے زور پر گلی گلی اتنی مشہور کردی جائے کہ وہ بچے بچے کی زبان پر ہو تو اس کے خلاف کوئی بات کہنے والا عام نظروں میں دیوانہ معلوم ہوتاہے، لیکن جو حضرات انصاف کے ساتھ مسائل کاجائزہ لینا چاہتے ہیں، میں انہیں دل سوزی کے ساتھ دعوت دیتا ہوں کہ وہ براہ کرم پروپیگنڈے سے ہٹ کر میری آئندہ معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں۔

واقعہ یہ ہے کہ میں خود پہلے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی حیثیت سے اور پھر سترہ سال تک سپریم کورٹ کی شریعت ایپلٹ بنچ کے رکن کی حیثیت سے حدود آرڈیننس کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی براہ راست سماعت کرتا رہا ہوں۔ اتنے طویل عرصے میں میرے علم میں کوئی ایک مقدمہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں زنا بالجبر کی کسی مظلومہ کو اس بنا پر سز اد ی گئی ہو کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکی، اور حدود آرڈیننس کے تحت ایسا ہونا ممکن بھی نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت چارگواہوں یا ملزم کے اقرار کی شرط صرف زنا بالجبر موجب حد کے لیے تھی، لیکن اسی کے ساتھ دفعہ ۱۰ (۳) زنا بالجبر موجب تعزیر کے لیے رکھی گئی تھی جس میں چار گواہوں کی شرط نہیں تھی، بلکہ اس میں جرم کا ثبوت کسی ایک گواہ، طبی معائنے اور کیمیاوی تجزیہ کار کی رپورٹ سے بھی ہوجاتاتھا۔ چنانچہ زنا بالجبر کے بیشتر مجرم اسی دفعہ کے تحت ہمیشہ سزا یاب ہوتے رہے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو مظلومہ چار گواہ نہیں لاسکی، اگر اسے کبھی سزا دی گئی ہو تو حدود آرڈیننس کی کون سی دفعہ کے تحت دی گئی ہوگی؟ اگر یہ کہا جائے کہ اسے قذف (یعنی زنا کی جھوٹی تہمت لگانے) پر سزا دی گئی تو قذف آرڈیننس کی دفعہ ۳ استثنا نمبر ۲ میں صاف صاف یہ لکھاہواموجود ہے کہ جو شخص قانونی اتھارٹیز کے پاس زنا بالجبر کی شکایت لے کرجائے، اسے صرف اس بنا پر قذف میں سز ا نہیں دی جاسکتی کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکا؍کرسکی۔ کوئی عدالت ہوش وحواس میں رہتے ہوئے ایسی عورت کو سزا دے ہی نہیں سکتی۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اسی عورت کو رضامندی سے زنا کرنے کی سزا دی جائے، لیکن اگر کسی عدالت نے ایسا کیا ہو تو اس کی یہ وجہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خاتون چار گواہ نہیں لاسکی، بلکہ واحد ممکن وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عدالت شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ عورت کا جبر کا دعویٰ جھوٹاہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت کسی مرد پر یہ الزام عائد کرے کہ اس نے زبردستی اس کے ساتھ زنا کیا ہے اوربعد میں شہادتوں سے ثابت ہو کہ اس کا جبر کا دعویٰ جھوٹاہے اوروہ رضامندی کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوئی تو اسے سزایاب کرنا انصاف کے کسی تقاضے کے خلاف نہیں ہے، لیکن چونکہ عورت کو یقینی طور پر جھوٹا قراردینے کے لیے کافی ثبوت عموماً موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایسی مثالیں بھی اکا دکا ہیں، ورنہ ۹۹ فیصد مقدمات میں یہ ہوتاہے کہ اگرچہ عدالت کو اس بات پر اطمینان نہیں ہوتا کہ مرد کی طرف سے جبر ہوا ہے لیکن چونکہ عورت کی رضامندی کا کافی ثبوت بھی موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایسی صورت میں بھی عورت کو شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

حدود آرڈیننس کے تحت پچھلے ۲۷ سال میں جو مقدمات ہوئے ہیں، ان کا جائزہ لے کر اس بات کی تصدیق آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ میرے علاوہ جن جج صاحبان نے یہ مقدمات سنے ہیں، ان سب کا تاثر بھی میں نے ہمیشہ یہی پایا کہ اس قسم کے معاملات میں جہاں عورت کا کردار مشکوک ہو، تب بھی عورتوں کو سزا نہیں ہوتی، صرف مرد کو سزا ہوتی ہے۔

چونکہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت ہی سے یہ شور بکثرت مچتا رہاہے کہ اس کے ذریعے بے گناہ عورتوں کو سزاہورہی ہے، اس لیے ایک امریکی اسکالرچارلس کینیڈی یہ شور سن کر ان مقدمات کا سروے کرنے کے لیے پاکستان آیا۔ اس نے حدود آرڈیننس کے مقدمات کا جائزہ لے کر اعداد وشمار جمع کیے اور اپنی تحقیق کے نتائج ایک رپورٹ میں پیش کیے جو شائع ہوچکی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج بھی مذکورہ بالا حقائق کے عین مطابق ہیں۔ وہ اپنی رپورٹ میں لکھتاہے:

Women fearing conviction under section 10(2) frequently bring charges of rape under 10(2) against their alleged partners.The FSC finding no circumstantial evidence to support the latter charge, convict the male accused under section 10(2). The women is exonerated of any wrong doing due to reasonable doubt rule." (Charles Cannedy: The Status of Women in Pakistan in Islamization of Laws, P. 74) 

’’جن عورتوں کو دفعہ ۱۰(۲) کے تحت (زنا بالرضا کے جرم میں) سزا یاب ہونے کا اندیشہ ہوتاہے، وہ اپنے مبینہ شریک جرم کے خلاف دفعہ ۱۰(۳) کے تحت (زنا بالجبر کا) الزام لے کر آجاتی ہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ کو چونکہ ایسی کوئی قرائنی شہادت نہیں ملتی جو زنا بالجبر کے الزام کو ثابت کرسکے، اس لیے وہ مرد ملزم کو دفعہ ۱۰(۲) کے تحت (زنا بالرضا ) کی سزا دے دیتاہے، اور عورت ’’شک کے فائدے ‘‘والے قاعد ے کی بنا پراپنی ہر غلط کاری کی سزا سے چھوٹ جاتی ہے۔‘‘

یہ ایک غیر جانبدار غیر مسلم اسکالر کا مشاہدہ ہے جسے حدود آرڈیننس سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ان عورتوں سے متعلق ہے جنہوں نے بظاہر حالات رضامندی سے غلط کاری کا ارتکاب کیا، اور گھر والوں کے دباؤ میںآکر اپنے آشنا کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرایا۔ اس سے چار گواہوں کا نہیں، قرائنی شہادت (Circumstantial evidence)کا مطالبہ کیاگیا اور وہ قرائنی شہادت بھی ایسی پیش نہ کرسکیں جس سے جبر کا عنصر ثابت ہوسکے۔ اس کے باوجود سزا صرف مرد کو ہوئی اور شک کے فائدے کی وجہ سے اس صورت میں بھی ان کو کوئی سز ا نہیں ہوئی ۔ 

لہٰذا واقعہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی رو سے زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کو چار گواہ پیش نہ کرنے کی بنا پر الٹا سزا یاب کیا جاسکے۔ البتہ یہ ممکن ہے اور شایدچند واقعات میں ایسا ہوا بھی ہو کہ مقدمے کے عدالت تک پہنچنے سے پہلے تفتیش کے مرحلے میں پولیس نے قانون کے خلاف کسی عورت کے ساتھ یہ زیادتی کی ہو کہ وہ زنا بالجبر کی شکایت لے کر آئی، لیکن انہوں نے اسے زنا بالرضا میں گرفتار کرلیا۔ لیکن اس زیادتی کا حدود آرڈیننس کی کسی خامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس قسم کی زیادتیاں ہمارے ملک میں پولیس ہر قانون کی تنفیذ میں کرتی رہتی ہے، اس کی وجہ سے قانون کو نہیں بدلا جاتا۔ ہیروئن رکھنا قانوناً جرم ہے، مگر پولیس کتنے بے گناہوں کے سر ہیروئن ڈال کر انہیں تنگ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہیروئن کی ممانعت کا قانون ہی ختم کردیاجائے۔

زنا بالجبر کی مظلوم عورتوں کے ساتھ اگر پولیس نے بعض صورتوں میں ایسی زیادتی کی بھی ہے تو فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اس کا راستہ بند کیاہے، اور اگر بالفرض اب بھی ایسا کوئی خطرہ موجود ہو تو ایسا قانون بنایا جاسکتاہے جس کی رو سے یہ طے کر دیا جائے کہ زنا بالجبر کی مستغیثہ کو مقدمے کا آخری فیصلہ ہونے تک حدود آرڈیننس کی کسی بھی دفعہ کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا، اور جو شخص ایسی مظلومہ کو گرفتار کرے، اسے قرار واقعی سزا دینے کا قانون بھی بنایا جاسکتاہے، لیکن اس کی بناپر ’’زنا بالجبر‘‘ کی حد شرعی کو ختم کردینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لہٰذا زیر نظر بل میں زنا بالجبر کی حدِشرعی کو جس طرح بالکلیہ ختم کردیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے واضح طور پر خلاف ہے اور اس کا خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

فحاشی

زیر نظر بل کی دوسری اہم بات ان دفعات سے متعلق ہے جو ’’فحاشی‘‘ کے عنوان سے بل میں شامل کی گئی ہیں۔ حدود آرڈیننس میں احکام یہ تھے کہ اگر زنا پر شرعی اصول کے مطابق چار گواہ موجود ہوں تو آرڈی ننس کی دفعہ ۵ کے تحت مجرم پر زنا کی حد (شرعی سزا) جاری ہوگی، اور اگر چار گواہ نہ ہوں مگر فی الجملہ جرم ثابت ہو تو اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ اب اس بل میں حدود آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے تحت زنا بالرضا کی حد شرعی تو باقی رکھی گئی ہے جس کے لیے چار گواہ شرط ہیں لیکن بل کی دفعہ ۸ کے ذریعے اسے ناقابل دست اندازی پولیس قرار دے کر یہ ضروری قراردے دیاگیاہے کہ کوئی شخص چار گواہوں کو ساتھ لے کر عدالت میں شکایت درج کرائے۔ پولیس میں اس کی ایف آئی آر (FIR) درج نہیں کی جاسکتی ،اور اس طرح زنا قابل حد ثابت کرنے کے طریق کار کو مزید دشوار بنادیاگیاہے۔ اسی طرح چار گواہوں کی غیر موجودگی میں زنا کی جو تعزیری سزا حدود آرڈیننس میں تھی، اس میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:

(۱) حدود آرڈیننس میں اس جرم کو ’’زنا موجب تعزیر‘‘ کہا گیا تھا۔ اب زیر نظر بل میں اس کا نام بدل کر ’’فحاشی‘‘ (Lewdness)کردیاگیاہے۔ یہ تبدیلی بالکل درست اور قابل خیر مقدم ہے کیونکہ قرآن وسنت کی رو سے چار گواہوں کی غیر موجودگی میں کسی کے جرم کو زنا قراردینا مشکل تھا، البتہ اسے ’’زنا‘‘سے کم تر کوئی نام دینا چاہیے تھا۔ حدود آرڈیننس میں یہ کمزوری پائی جاتی تھی جسے دور کرنے کی سفارش علما کمیٹی نے بھی کی تھی۔

( تاہم قومی اسمبلی کے منظور کردہ ترمیمی بل کے اردو ترجمہ میں، جو سینٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ۱۸ ؍نومبر ۲۰۰۶ کو جاری کیا گیا ہے، بدستور ’’زنا‘‘ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ ترمیمی بل کی شق نمبر ۶ کے تحت ’’ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء‘‘ میں شامل کی جانے والی نئی دفعات میں دفعہ ۴۹۶۔ب کا اردو ترجمہ یوں درج ہے: ’’زنا: غیر منکوحہ مرد اور عورت اگر رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کریں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔‘‘ مدیر)

(۲) حدود آرڈیننس میں اس جرم کی سزا دس سال تک ہوسکتی تھی، بل میں اسے گھٹا کر پانچ سال تک کردیاگیاہے۔ بہرحال چونکہ یہ تعزیر ہے، اس لیے اس تبدیلی کو بھی قرآن وسنت کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔

(۳) حدود آرڈیننس کے تحت ’’زنا‘‘ ایک قابل دست اندازی پولیس (Congnizable) جرم تھا، زیر نظر بل میں اسے ناقابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے دیاگیاہے۔ چنانچہ اس جرم کی ایف آئی آر تھانے میں درج نہیں کرائی جاسکتی، بلکہ اس کی شکایت (Complaint) عدالت میں کرنی ہوگی او ر شکایت کے وقت دوعینی گواہ ساتھ لے جانے ہوں گے جن کا بیان حلفی عدالت فوراً قلم بند کرے گی، اس کے بعد اگر عدالت کو یہ اندازہ ہو کہ مزید کارروائی کے لیے کافی وجہ موجود ہے تو وہ ملزم کو سمن جاری کرے گی اور آئندہ کارروائی میں ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے ذاتی مچلکہ کے سوا کوئی ضمانت طلب نہیں کرے گی، اور اگر اندازہ ہو کہ کارروائی کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو مقدمہ اسی وقت خارج کر دے گی۔

اس طرح ’’فحاشی‘‘ کے جرم کو ثابت کرنا اتنا دشوار بنا دیاگیاہے کہ اس کے تحت کسی کو سزا ہونا عملاً بہت مشکل ہے۔

اول تو اسلامی احکام کے تحت زنا اور فحاشی کا جرم معاشرے اور اسٹیٹ کے خلاف جرم ہے، محض کسی فرد کے خلاف نہیں، اس لیے اسے قابل دست اندازی پولیس ہونا چاہیے۔بلاشبہ اس جرم کو قابل دست اندازی پولیس قرار دیتے وقت یہ پہلو مدنظر رہنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں پولیس کا جو کردار رہاہے، اس میں وہ بے گناہ جوڑوں کو جا و بیجاہراساں نہ کرے۔ اس بارے میں فیڈرل شریعت کورٹ کے متعدد فیصلے موجود ہیں جن کے بعد یہ خطرہ بڑی حد تک کم ہوگیا تھا اور ستائیس سال تک یہ جرم قابل دست اندازی پولیس رہاہے اور اس دوران اس جرم کی بنا پر لوگوں کوہراساں کرنے کے واقعات بہت ہی کم ہوئے ہیں، لیکن اس خطرے کا مزید سدِباب کرنے کے لیے یہ کیا جا سکتا تھا کہ جرم کی تفتیش ایس پی کے درجے کا کوئی پولیس آفیسر کرے، اور عدالت کے حکم کے بغیر کسی کو گرفتار نہ کیاجائے۔ ان مقدمات سے یہ رہاسہا خطرہ ختم ہو سکتا تھا۔

دوسرے شکایت کرنے والے پر یہ ذمہ داری عائد کرنا کہ وہ فوراً حد کی صورت میں چار اور فحاشی کی صورت میں دو عینی گواہ لے کر آئے، ہمارے فوجداری قانون کے نظام میں بالکل نرالی مثال ہے۔ہمارے پورے نظام شہادت میں حدود کے سوا کسی بھی مقدمے یا جرم کے ثبوت کے لیے گواہوں کی تعداد مقررنہیں ہے،بلکہ کسی چشم دید گواہ کے بغیر صر ف قرائنی شہادت (Circumstantial evidence) پر بھی فیصلے ہوجاتے ہیں۔چنانچہ زیرنظر جرم میں طبی معائنے اور کیمیاوی تجزیہ کی رپورٹیں شہادت کا بہت اہم حصہ ہوتی ہیں۔ شرعاً تعزیر کسی ایک قابل اعتماد گواہ پربھی جاری کی جاسکتی ہے اور قرائنی شہادت پر بھی۔ لہٰذا تعزیر کے معاملے میں عین شکایت درج کراتے وقت دو گواہوں کی شرط لگانا فحاشی کے مجرموں کو غیر ضروری تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح ایسے ملزم کے لیے یہ لازم کردینا کہ اس سے ذاتی مچلکے کے سواکوئی اور ضمانت طلب نہیں کی جاسکے گی، عدالت کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہے۔ مقدمے کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور اسی لیے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۹۶ کے تحت عدالت کو پہلے ہی یہ اختیار دیاگیا ہے کہ وہ حالات مقدمہ کے تحت اگر چاہے تو صرف ذاتی مچلکے پر ملزم کو رہا کر دے ،اور اگر چاہے تو اس سے دوسروں کی ضمانت بھی طلب کرے۔ہلکے سے ہلکے جرم میں بھی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے، لیکن ’’فحاشی‘‘ جیسے جرم پر عدالت سے یہ اختیار سلب کرلینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر مقدمے کی کافی وجہ موجود نہ ہو تو عدالت مقدمہ خارج کردے گی، سوعدالت کو مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۰۳ کے تحت پہلے ہی یہ اختیار حاصل ہے۔اسے اس بل کا دوبار ہ حصہ بنانے کا مقصد غیر واضح ہے۔

(۴) حدود آرڈیننس کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف زنا موجب حد کا الزام ہو، اور مقدمے میں حد کی شرائط پوری نہ ہوں، لیکن فی الجملہ جرم ثابت ہوجائے تو اسے دفعہ ۱۰(۳) کے تحت تعزیری سزا دی جاسکتی تھی، لیکن زیر نظر بل کی رو سے ضابطہ فوجداری میں دفعہ ۲۰۳ سی کا جو اضافہ کیا گیا ہے، اس کی شق نمبر ۶ میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو زنا موجب حد کے الزام سے بری ہوگیا ہو، اس کے خلاف فحاشی کا کوئی مقدمہ درج نہیں کرایاجاسکتا۔

اب یہ بات ظاہر ہے کہ زنا موجب حد کے لیے جو سخت ترین شرائط ہیں، وہ بعض اوقات محض فنی وجوہ سے پوری نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت میں جبکہ مضبوط شہادتوں سے فحاشی کا جرم ثابت ہو تو اس پر نہ صرف یہ کہ زنا کا مقدمہ سننے والی عدالت کوئی سزا جاری نہیں کرسکتی، بلکہ اس کے خلاف فحاشی کی کوئی نئی شکایت بھی درج نہیں کی جا سکتی۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسے شخص کے خلاف فحاشی کا مقدمہ دائر کرنے پر کلی پابندی عائد کر دینا فحاشی کو تحفظ دینے کے سوا اور کیاہے؟

اسی طرح مجوزہ بل کی دفعہ ۱۱۲ ۔اے میں یہ بھی کہا گیاہے کہ اگر کسی شخص پر زنا بالجبر (موجب تعزیر یعنی ریپ) کا الزام ہو تو اس کے مقدمے کو کسی بھی مرحلے پر فحاشی کی شکایت میں تبدیل نہیں کیاجا سکتا۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے خلاف عورت نے زنا بالجبر کا الزام عائد کیا ہو، اور جبر کے ثبوت میں کوئی شک رہ جائے تو ملزم بری ہوجائے گا اور ا س کے خلاف فحاشی کی دفعہ کے تحت بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکے گی۔

جس زمانے میں زنا بالرضا کوئی جرم نہیں تھا، اس زمانے میں زنا بالجبر کے ملزمان اپنے دفاع میں یہ موقف اختیار کرتے تھے کہ زنا بے شک ہوا ہے، لیکن عور ت کی رضا مندی سے ہوا ہے، چنانچہ اگر عورت کی رضا مندی کا عدالت کو شبہ بھی ہو جاتا تو وہ ملزم کو بری کر دیتی تھی۔ حدود آرڈی ننس میں زنا بالجبر کے ملزم کے لیے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہی تھی، کیونکہ عورت کی رضامندی کے باوجود زنا جرم تھا اور جو عدالت زنا بالجبر کے مقدمے کی سماعت کررہی ہے، وہی اس کو زنا موجب تعزیر کے تحت سزا دے سکتی تھی، لیکن اس نئی ترمیم کے بعد تقریباً وہی صورت لوٹ آئی ہے کہ اگر ملزم دھڑلے سے یہ کہے کہ میں نے عورت کی مرضی سے زنا کیا تھا اور عورت کی مرضی کا کوئی شبہ پید اکر دے تو کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ وہ عدالت جو اس کا یہ اعتراف سن رہی ہے، وہ تو اس لیے اس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی کہ مذکورہ بالا دفعہ نے اس کا یہ اختیار سلب کرلیا ہے کہ وہ زنا بالجبر کے مقدمے کو کسی وقت فحاشی کی شکایت میں تبدیل کرے،اور اگر اس کے خلاف از سرِنو فحاشی کا مقدمہ دائر کیاجائے تو اس امکان کے بارے میں دفعہ کے الفاظ مجمل ہیں، لیکن اگر کوئی اور وجہ بھی موجود نہ ہو تو دائر نہ کرسکنے کی یہ وجہ بھی کافی ہے کہ اس کے لیے ضروری قرار دیا گیاہے کہ کوئی شخص دو عینی گواہوں کے ساتھ جاکر عدالت میں استغاثہ (Complaint) دائر کرے، اوریہاں دو عینی گواہ موجود نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایساشخص جرم سے بالکلیہ بری ہوجائے گا اور اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں کوئی نئی کارروائی بھی نہیں ہوسکے گی۔

سوال یہ ہے کہ جس فحاشی کو جرم قراردیاگیاہے، وہ واقعتا کوئی جرم ہے یا نہیں؟اگر جرم ہے تو اس کو تحفظ دینے اور مجرم کا اس کی سزا سے بچاؤ کرنے کے لیے یہ دنیا سے نرالے قواعد کیوں وضع کیے جا رہے ہیں؟

حدود آرڈ ننس میں کچھ مزید ترمیمات 

(۱) نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق جب کسی شخص کے خلاف عدالتی کارروائی کے نتیجے میں حد کا فیصلہ ہوجائے تو اس کی سزا کو معاف یا کم کرنے کا کسی کا اختیار نہیں ہے۔ چنانچہ حدود آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق ۵ میں کہا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کے باب ۱۹ میں صوبائی حکومت کو سزا معطل کرنے، اس میں تخفیف کرنے یا تبدیلی کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے ،وہ حد کی سزا پر اطلاق پذیر نہیں ہوگا۔ زیر نظر بل کے ذریعے حدود آرڈیننس میں ایک اور اہم اور سنگین تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ حدود آرڈیننس کی اس دفعہ ۲ شق ۵کو ختم کردیاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عدالت کسی کو حد کی سزا دے دے توحکومت کو ہر وقت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سزامیں تبدیلی یا تخفیف کرسکے۔ یہ ترمیم قرآن وسنت کے واضح ارشادات کے خلاف ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْراً أَن یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ (الاحزاب :۳۶)
’’جب اللہ اور اس کا رسول ؑ کوئی فیصلہ کردیں تو کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ پھر بھی اس معاملے میں ان کا کوئی اختیار باقی رہے۔‘‘ 

اور آنحضرت ﷺ کا وہ واقعہ مشہور ومعروف ہے جس میں آپ ؑ نے ایک ایسی عورت کے حق میں سفارش کرنے پر جس پر حد کا فیصلہ ہوچکاتھا، اپنے محبوب صحابی حضرت اسامہؓ کو تنبیہ فرمائی، اور فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی بھی چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ (صحیح بخاری ،کتاب الحدود،باب ۱۲،حدیث ۶۷۸۸)

اس بنا پر پوری امت کا اجماع ہے کہ حد کو معاف کرنے اور اس میں تخفیف کا کسی بھی حکومت کو اختیار نہیں ہے ۔ لہٰذا بل کا یہ حصہ بھی صراحتاً قرآن وسنت کے خلاف ہے۔

(۲) حدود آرڈیننس کی دفعہ ۳ میں کہاگیاتھا کہ اس آرڈ یننس کے احکام دوسرے قوانین پر بالا رہیں گے، یعنی اگر کسی دوسرے قانون اور حدود آرڈیننس میں کہیں کوئی تضادہو تو حدود آرڈی ننس کے احکام قابل پابندی ہوں گے۔زیر نظر بل میں اس دفعہ کو ختم کردیاگیاہے ۔ 

یہ وہ دفعہ ہے جس سے نہ صرف بہت سی قانونی پیچیدگیاں دور کرنا مقصود تھا، بلکہ ماضی میں بہت سی ستم رسیدہ خواتین کی مظلومیت کا سدِ باب اسی دفعہ کے ذریعے ہواتھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عائلی قوانین کے تحت اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ طلاق اس وقت تک موثر نہیں ہوتی جب تک اس کا نوٹس یونین کونسل کے چیئرمین کو نہ بھیجا جائے۔ اگرچہ شرعی اعتبار سے طلاق کے بعد عدت گزار کر عورت جہاں چاہے، نکاح کرسکتی ہے ،لیکن عائلی قوانین کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس نہ جائے، قانوناً وہ طلاق دینے والے شوہر کی بیوی ہے اور اسے کہیں اور نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اب ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ شوہر نے طلاق کا نوٹس یونین کونسل میں نہیں بھیجا، اور عورت نے اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ کر عدت کے بعد دوسری شادی کرلی۔ اب اس ظالم شوہر نے عورت کے خلاف زنا کا دعویٰ کردیا، کیونکہ عائلی قوانین کی رو سے وہ ابھی تک اسی کی بیوی تھی۔ جب اس قسم کے بعض مقدمات آئے تو سپریم کورٹ کی شریعت بنچ نے حدود آرڈی ننس کے دوسرے امور کے علاوہ اس دفعہ ۳ کی بنیاد پر ان خواتین کو رہائی دلوائی اوریہ کہاکہ آرڈی ننس چونکہ شریعت کے مطابق بنایاگیاہے، اور شریعت میں اس عورت کا دوسرا نکاح جائز ہے، اس لیے اس کے نکاح کے بارے میں عائلی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ قانون دوسرے تما م قوانین پر بالا ہے۔ 

اب اس دفعہ کو ختم کرنے کے بعد، اور بالخصوص آرڈیننس میں نکاح کی جو تعریف تھی، اسے بھی بل کے ذریعے ختم کردینے کے بعد ایک مرتبہ پھر خواتین کے لیے دشواری پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو گیاہے ۔

علما کمیٹی میں ہم نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور بالآخر اس بات پر اتفاق ہواتھا کہ اس کی جگہ مندرجہ ذیل دفعہ لکھی جائے :

"In the interpretation and application of this Ordinance, the injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah shall have affect, notwithstanding any thing contained in any other law for the time being in force." 
یعنی :’’اس آرڈی ننس کی تشریح اور اطلاق میں اسلام کے وہ احکام جو قرآن کریم اور سنت نے متعین فرمائے ہیں، بہرصورت موثر ہوں گے، چاہے رائج الوقت کسی قانون میں کچھ بھی درج ہو۔‘‘

لیکن اب جو بل قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیاہے ، اس میں سے یہ دفعہ بھی غائب ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیداہونے کا اندیشہ ہے۔

(۳) قذف آرڈی ننس کی دفعہ ۱۴میں قرآن کریم کے بیان کیے ہوئے لعان کا طریقہ درج ہے، یعنی اگر کوئی مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کرسکے تو عورت کے مطالبے پر اسے لعان کی کارروائی میں قسمیں کھانی ہوں گی اور میاں بیوی کی قسموں کے بعد ان کے درمیان نکاح فسخ کردیاجائے گا۔ قذف آرڈی ننس میں کہاگیاہے کہ اگر شوہر لعان کی کارروائی سے انکار کرے تو اسے اس وقت تک حراست میں رکھا جائے گا جب تک وہ لعان پر آمادہ نہ ہو۔ زیر نظر بل میں یہ حصہ حذف کردیاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر لعان پر آمادہ نہ ہو تو عورت بے بسی سے لٹکی رہے گی ۔نہ اپنی بے گناہی لعان کے ذریعے ثابت کرسکے گی اور نہ نکاح فسخ کراسکے گی۔

نیز قذف آرڈیننس میں کہاگیاہے کہ اگر لعان کی کارروائی کے دوران عورت زنا کا اعتراف کرلے تو اس پر زنا کی سزا جاری ہوگی۔ زیر نظر بل میں یہ حصہ بھی حذف کردیاگیاہے، حالانکہ اعتراف کرلینے کے بعد سزائے زنا کے جاری نہ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں، جبکہ لعان کی کارروائی عورت کے مطالبے پر ہی شروع ہوتی ہے اور اسے اعتراف کرنے پر کوئی مجبور نہیں کرتا۔ لہٰذا بل کا یہ حصہ بھی قرآن وسنت کے احکا م کے خلاف ہے ۔

(۴) زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ میں کہا گیاتھا کہ اگر عدالت کی شہادتوں سے یہ بات ثابت ہو کہ ملزم نے کسی ایسے عمل کا ارتکاب کیاہے جو حدود آرڈیننس کے علاوہ کسی اور قانون کے تحت جرم ہے تو اگر وہ جرم عدالت کے دائرہ اختیار میں ہو تو وہ ملز م کو اس جرم کی سزا دے سکتی ہے ۔ یہ دفعہ عدالتی کارروائیوں میں پیچیدگی ختم کرنے کے لیے تھی، لیکن زیر نظر بل میں عدالت کے اس اختیار کو بھی ختم کردیاگیاہے ۔

زیر نظر بل میں صورت حال یہ ہے کہ زنا سے ملتے جلتے تمام تعزیری جرائم کو حدود آرڈیننس سے نکال کر تعزیرات پاکستان میں منتقل کردیاگیاہے اور حدود آرڈیننس میں صرف زنا بالرضا موجب حد کا جرم باقی رہ گیاہے ،لہٰذا اس ترمیم کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر کسی مرد پر زنا موجب حد کا الزام ہو لیکن شہادتوں کے نتیجہ میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ مرد نے عورت پر زبردستی کی تھی یا زنا ثابت نہ ہو لیکن عورت کو اغوا کرنا ثابت ہوجائے تو عدالت ملزم کو ریپ کی سزا دے سکے گی نہ اغوا کرنے کی، اور عدالت یہ جانتے بوجھتے اسے چھوڑ دے گی کہ اس نے عورت کواغوا کیاتھا اور اس پر زبردستی کی تھی۔ اس کے بعد یا تو ملزم بالکل چھوٹ جائے گا یا اس کے لیے از سرِ نو اغوا کی نالش کرنی ہوگی، اور عدالتی کارروائی کا نیا چکر نئے سرے سے شروع ہوگا۔

قانون سازی بڑا نازک عمل ہے، اس کے لیے بڑے ٹھنڈے دل ودماغ اور یکسوئی اور غیر جانب داری سے تمام پہلوؤں کوسامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب پروپیگنڈے کی فضا میں صرف نعروں سے متاثر اور مرعوب ہوکر قانون سازی کی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ اس قسم کی صورت حال کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ پھر عدالتیں نئے قانون کی تعبیر وتشریح کے لیے عرصہ دراز تک قانونی موشگافیوں میں الجھی رہتی ہیں۔مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ ان مظلوموں کی داد رسی میں رکاوٹ پید اہوتی ہے۔

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ چند جزوی خامیوں کو چھوڑ کر جن کا مفصل ذکر پیچھے آگیاہے، زیر نظر بل کی اہم خرابیاں یہ ہیں :

(۱) زیر نظر بل میں ’’زنا بالجبر‘‘ کی حدکو جس طرح بالکلیہ ختم کردیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے احکام کے بالکل خلاف ہے۔ خواتین کے ساتھ پولیس کی زیادتی کا اگر کوئی خطرہ ہو تو اس کا سدِباب اس طرح کیا جاسکتاہے کہ زنا بالجبر کی مستغیثہ کو مقدمے کی کارروائی عدالت میں پوری ہونے تک حدود آرڈیننس کی کسی بھی دفعہ کے تحت گرفتار کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا جائے۔

(۲) جب ایک مرتبہ زنا کی حد کا فیصلہ ہوجائے تو صوبائی حکومت کو سزا میں کسی قسم کی معافی یا تخفیف کا اختیار دینا قرآن وسنت کے بالکل خلاف ہے، لہٰذا زیر نظر بل میں زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق (۵) کو حذف کرکے حکومت کو سزا میں تخفیف وغیرہ کا جو اختیار دیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے منافی ہے۔

(۳) ’’زنا بالرضا موجب حد‘‘ اور ’’فحاشی‘‘کو ناقابل دست اندازی پولیس قراردے کر ان جرائم کو جو مختلف تحفظات دیے گئے ہیں، وہ ان جرائم کو عملاً ناقابل سزابنا دینے کے مترادف ہیں۔

(۴) عدالتوں پر یہ پابندی عائد کرنا کہ شہادت کے مطابق مختلف جرائم سامنے آنے پر وہ دوسرے جرائم میں سزا نہیں دے سکتے، مجرموں کی حوصلہ افزائی ہے، یا اس کے نتیجے میں مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوں گے اورعدالتی پیچیدگیاں بھی پیداہوں گی۔

(۵) ’’قذف‘‘ آرڈی ننس میں ترمیم کر کے مرد کو یہ چھوٹ دینا کہ وہ عورت کے مطالبے کے باوجود لعان کی کارروائی میں شرکت سے انکار کرکے عورت کو معلق چھوڑ دے، قرآن حکیم کے حکم کے منافی ہے۔

(۶) ’’قذف آرڈی ننس‘‘ میں یہ ترمیم بھی قرآن وسنت کے منافی ہے کہ عورت کے رضا کارانہ اقرار جرم کے باوجود اسے سزا نہیں دی جاسکے گی۔

ارکان پارلیمنٹ اوراربابِ اقتدار سے ہماری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ ان گزارشا ت پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے بل کی اصلاح کریں، اور قوم کو اس مخمصے سے نجات دلائیں جس میں وہ مبتلا ہوگئی ہے۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(دسمبر ۲۰۰۶ء)

Flag Counter