سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ

مولانا مشتاق احمد

نام ونسب 

مولانا موصو ف چنیوٹ میں راجپوت خاندان کے ایک فرد حاجی احمد بخش ولد قادر بخش کے ہاں۳۱دسمبر ۱۹۳۱ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین نے خواب میں دیکھا کہ ان کے سامنے سے روشنی پھوٹ رہی ہے جس سے گرد وپیش کا علاقہ منور ہورہا ہے۔ آپ کے والد محترم نے قریبی مسجد کے اما م صاحب کے سامنے خواب بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا بیٹا عطا فرمائیں گے جو دین اسلام کی خدمت کرے گا اور بکثرت لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔ امام مسجد کی یہ تعبیر جس طرح پوری ہوئی، محتاج بیان نہیں ۔مولانا چنیوٹی کے آبا واجداد میں سے رائے گل محمد نے سب سے پہلے ساتویں صدی ہجر ی میں اسلام قبول کیا ۔

تعلیم وتربیت 

چار سال کی عمر میں آپ کو قر یبی مسجد میں حافظ گلزار احمد مرحوم کے پاس ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے داخل کرایا گیا۔ ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد آپ نے اسلامیہ ہائی سکول چنیوٹ میں چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے آپ کو سکول سے ہٹالیا گیا۔ اس کے بعد کچھ مدت تک والد صاحب کے ساتھ کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے ۔

اللہ تعالیٰ نے چونکہ آگے چل کر آپ سے دین اسلام کا کام لینا تھا، اس لیے چنیوٹ کے معروف عالم دین (احقر کے رشتہ کے دادا جا ن ) حضر ت مولانا دوست محمد ساقی فاضل دارالعلو م دیوبند کی توجہ مولانا چنیوٹی کی طرف مبذول کرادی۔ وہ روزانہ آکرآپ کو بھی تر غیب دیتے رہتے اور آپ کے والد صاحب محترم حاجی اللہ بخش صاحب کی توجہ بھی اس طرح مبذول کراتے رہتے۔ نتیجتاً آپ ۱۹۴۰ء میں مدرسہ آفتاب العلوم محلہ گڑھا چنیوٹ میں داخل ہو گئے۔ وہاں آپ نے مولاناحبیب اللہ سیالکوٹی، مولانامحمد اسلم حیات گجراتی، مولاناغلام محمد گوجرانوالہ اور مولانا دوست محمد ساقی جیسے فضلاے دیو بند سے کسب فیض کیا۔ قیا م پاکستان کے وقت ناموافق حالات کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا اور اپنے ماموں محمداکرم صاحب کے ساتھ پنسار کی دکان پربیٹھنے لگے۔ پھر مولانا ساقی کے ہمت دلانے پر دوبارہ تعلیم شروع کی اور ان کے ساتھ چنیوٹ کے قریبی گاؤں چک ساہمبل میں چلے گئے، جہاں مولانا ساقی صاحب وہاں کے باشندوں کی دعوت پر ان دنوں درس نظامی کی تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔یہا ں آپ نے کم و بیش چار پانچ سال تعلیم حاصل کی۔

۱۹۵۱ء میں آپ دورۂ حدیث کے لیے جامعہ خیر المدارس ملتان میں داخل ہوئے مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہا ں سے دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈواللہ یار (سندھ ) چلے گئے۔ وہاں آپ نے حضر ت مولانا عبدالرحما ن کیمبل پوری، حضر ت مولانا بدر عالم میر ٹھی، حضرت مولانا سید یوسف بنوری اور مولانااشفاق الرحمان کاندھلوی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے یکتائے روزگار اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا۔ دورہ حدیث سے فراغت حاصل کرنے کے بعد ایک سال مزید ٹھہر کر حضر ت مولاناعبد الرشید نعمانی سے مقدمہ ابن الصلاح، مولانا بنوری سے انشاء عربی اور مولانا عبد الرحمان کامل پوری سے علم میراث کی تعلیم حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب خیرالمدارس ملتان دورۂ حدیث میں آپ کے ہم جماعت تھے۔ علم تفسیر کے لیے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اورشیخ القر آن حضرت مولاناغلام اللہ خانؒ سے مراجعت کی۔ فن مناظرہ میں کمال حصل کرنے کے لیے دفترتنظیم اہل سنت ملتان میں حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری ؒ اورحضرت علامہ عبدالستارتونسوی سے رد رافضیت کے مو ضوع پر تربیت حاصل کی۔

مولاناچنیوٹی مرحومؒ اپنے اساتذہ کرام کاانتہائی ادب واحترام کرتے تھے۔ مولانا ساقی مرحوم طبیعتاً سخت مزاج تھے اورجوانی کے زمانے میں طلبا کو سخت سزا دیا کرتے تھے۔ (بعد ازاں احقر کے تعلیمی زمانے میں نسبتاً کچھ تحمل پیدا ہو گیاتھا ) مولانا چنیوٹی نے کبھی آج کل کے طلبا کی طرح مدرسہ بدلنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ مولانا چنیوٹی کے بر عکس ان کے دو سا تھی گستاخانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔ ایک تومولانا ساقی صاحب کے سامنے ہی زیر لب بڑبڑاتا رہتاتھا، جبکہ دوسراڈنڈا پکڑ لیتا اور باقاعدہ مزاحمت کرتاتھا ۔ ان دونوں کوعلم نافع نصیب نہ ہوسکا۔ امامت وخطابت سے آگے نہ بڑھ سکے بلکہ امامت بھی باقاعدگی سے نہ کر سکے۔ ’باادب بانصیب‘ کے مقولہ کے مطابق مولاناچنیوٹی صاحب کو استاذ محترم کے سامنے باادب رہنے کا جوصلہ ملا، وہ سب کے سامنے ہے۔

تعلیمی دور سے گزرنے کے بعد بھی جب کہ مولانا پنجاب اسمبلی کے ممبر اور دینی ودنیاوی وجاہت کے مالک تھے، آپ کے بااد ب ہونے کا یہ منظر بارہا دیکھا کہ مولانا ساقی صاحب چنیوٹی صاحب کے دفتر میں تشریف لاتے تو ابھی و ہ دفتر سے باہر ہوتے کہ آپ تمام مصروفیت چھوڑکرفوراً کھڑے ہو جاتے۔ ادب و احترام سے بات سنتے اور ان کے تشریف لے جانے کے بعد بیٹھتے تھے ۔

تعلیمی خدمات

۱۹۵۲ ء میں آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرہ میں تدریسی فرائض سرانجام دینے لگے۔ سنن ابی داؤد سمیت اعلیٰ درجات کی کتابیں پڑھاتے رہے۔ چوکیرہ ہی میں مولانا غلا م محمدصاحب آف عنایت پور بھٹیاں (چنیوٹ) نے آپ سے تعلیم حاصل کی اور اپنے علاقے میں میں قادیانیوں کو لوہے کے چنے چبوائے۔ پچاس سے زیادہ قادیانی مولاناغلام محمد کے ہاتھ تائب ہوچکے ہیں ۔

مناظراسلام حضرت مولانا سید احمد شاہ چوکیروی سے آپ کو خصوصی تعلق تھا۔ وہ بھی آپ پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب کے مشورہ سے آپ چوکیرہ چھوڑ کر جامعہ عربیہ چنیوٹ میں بطور صدر مدرس تشریف لائے۔ جامعہ عربیہ ۱۹۵۴ء میں استاذالقرا قاری مشتاق احمد صاحب قدس سر ہ نے چنیو ٹ کی شیخ برادری کے تعاون سے قائم کیا تھا۔ انہیں تن تنہا مدرسہ کا نظم چلانے میں دقت پیش آرہی تھی۔ مولانا چنیوٹی نے قاری صاحب کے اعتما د اور مشورہ سے مدرسہ کا تعلیمی نظام سنبھالا اور شب وروز سخت محنت کرکے اسے اس بلند ی پر لے گئے کہ عوامی وحکومتی سطح پر معتبر بنادیا اور پورے ملک سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ تقریباًتیس پینتیس برس تک یہ معمول رہا کہ شہر میں گھر ہونے کے باوجود پورا ہفتہ مدرسہ میں رہتے تھے اور جمعرات کی شا م کو تشریف لے جاتے تھے اور جمعہ کی شام کو پھر واپس آجاتے تھے اور جانچ پڑتال کرتے کہ جمعرات کو چھٹی لے کر گھر جا نے والے طلبہ میں سے کون واپس آیا ہے اور کون نہیں آیا، فجر کی نماز کس نے پڑھی اور کس نے سستی کی۔ سستی کرنے والوں کو خود سزا دیتے تھے ۔

بہت عرصہ معمول رہا کہ عشا کے بعد صَرف پڑھنے والے طلبہ کو بلالیتے اور ان سے صیغے نکلوایا کرتے تھے۔ اگردو تین دن کے لیے تبلیغی سفر درپیش ہوتا تو جس وقت واپس آتے، خود طلبہ کوبلاتے اور سبق پڑھاتے تھے۔ ان سے بارہا سنا کہ میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جیسے دور دراز شہروں میں تقریریں کرنے جاتا تھا اور تقریر کے فوراًبعد واپس چل پڑتا اور صبح آکر اسباق پڑھاتا تھا۔ جامعہ عربیہ کے ایک استاذمولانا نذر محمدصاحب حیران ہوکر کہا کرتے کہ معلوم نہیں تو انسان ہے یا جن ہے۔

آپ کو صرف ونحو اور علم میراث میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ آپ سے کئی بار سنا کہ لوگ مجھے رد قادیانیت کا ماہر سمجھتے ہیں حالانکہ اس زیادہ مجھے میراث میں دسترس حاصل ہے ۔ جامعہ عربیہ میں باضابطہ مفتی متعین نہ تھا۔ علاقہ کے لوگ مولانا مرحوم سے مسائل پوچھنے کے لیے رجوع کرتے اور آپ زبانی اور تحریری طور پر لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ اس طر ح آپ نے سینکڑوں فتاوی تحریری طور پر جاری کیے ۔

جامع مسجد صدیق اکبر محلہ گڑھا چنیوٹ میں آپ نے بحیثیت خطیب تقریباًچالیس سال فرائض سرانجام دیے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں خالص علمی تقریر کرتے تھے جو کہ روایتی خطیبوں کے حشو و زوائد سے پاک اور دلائل سے مزین ہوتی تھی۔ خطابت کا کبھی آپ نے معاوضہ وصول نہیں کیا۔ علاوہ ازیں دن میں دو بار فجراور عشا کے بعد درس قرآن دینے کا برسوں معمول رہا ۔

قادیانی جامعہ احمدیہ چناب نگر میں فاضل عربی کا کورس کرایا جاتا تھا اور قادیانی لڑکے اور لڑکیاں سرکاری اداروں میں بطور اوٹی ٹیچر تقرری کروا کر مسلمان طلبہ اور طالبات کی گمراہی کا سبب بنتے تھے۔ اس وقت دینی اداروں میں فاضل عربی کرانے کا رواج نہ تھا۔ مولانا چنیوٹی نے قادیانیوں کے توڑ کے لیے جامعہ عربیہ میں فاضل عربی کا اہتمام کیا ۔طلبہ یہاں سے پڑھ کر بطور اوٹی ٹیچر وپروفیسر سکولو ں اور کالجوں میں جانے لگے اور اس طرح قادیانیت کی تبلیغ کا راستہ بند ہوا۔

مدرسہ اشرف المدارس محلہ گڑھا چنیوٹ اور مدرسہ اشرف العلوم محلہ ترکھانہ چنیوٹ مدتوں آپ کے زیر انتظام رہے، بلکہ اشرف المدارس تو اب بھی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کے زیر انتظام ہے۔ علاوہ ازیں تین اور شاخیں بھی ادارہ کے تحت چل رہی ہیں جن سے سینکڑوں طلبہ مستفید ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔

تحفظ ختم نبوت کے میدان میں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے دفتر میں انہی دنوں حضرت امیرشیریعت کی زیر سرپرستی علماء کرام کے لیے دارالمبلغین قائم کیا گیا جس میں فاتح قادیا ن حضر ت مولانا محمد حیا ت ؒ تربیت دے رہے تھے۔ آپ چناب نگر کے پڑوس میں رہنے کی وجہ سے فتنہ قادیانیت کی اہمیت سے کما حقہ واقف تھے اس لیے آپ نے دارالمبلغین کے سہ ماہی کورس میں داخلہ لیا اور علماء کرام کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر مولانا محمد حیات ؒ سے کما حقہ استفادہ کیا اور اصل قادیانی کتب سے آگاہی حاصل کی۔ اس کورس میں معروف مناظر مولانا عبدالرحیم اشعر بھی آپ کے ساتھ شریک تھے ۔

فاتح قادیان نے مولانا چنیوٹی ؒ کے دل ودماغ میں قادیانیت سے نفرت اور تحفظ ختم نبوت سے محبت کے جو شعلے بھر دیے تھے، وہ تازیست اپنی گرمی دکھاتے رہے۔۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شریک ہوئے اور چھ ماہ تک قید رہے ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو فتنہ قادیانیت کی سر کوبی کے لیے وقف کردیا۔ عملی زندگی میں قدم رکھا تو اپنے استاذ محترم مولانا محمدحیا ت ؒ سے قادیانیت کے تعاقب اور ختم نبو ت کے تحفظ کا عہد کیااور اس عہد کو نبھانے میں تن من دھن کی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ان کامنشورتھا :

نہ کرو غم، ضرورت پڑی تو ہم دیں گے 
لہوکا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے 

انہوں نے اپنے اس منشور کی تکمیل کے لیے تازیست سر دھڑ کی بازی لگائے رکھی۔ جب ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تو دینی خدمت کے کسی اور عنو ان کی کشش انہیں اپنے راستہ سے ہٹا نہ سکی ۔ تحفظ ختم نبو ت کی اہمیت مولانا چنیوٹی مرحوم ایک مثال سے واضح کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ ایک شخص کے چار بیٹے ہیں۔ ایک بہت سی دولت کما کر لے آتا ہے۔ دوسرا باپ کے لیے کھانے پینے کا انتظا م کرتا ہے۔ تیسرا باپ کا بدن دباتا ہے اور اس کی صحت وآرام کا خیا ل رکھتا ہے۔ چوتھا باپ کے دشمن کو قتل کرتا ہے۔ باپ چاروں بیٹو ں سے راضی تو ہے لیکن زیادہ خوش اس بیٹے سے ہوگاجس نے اس کے دشمن کو قتل کیا ہے۔ فرماتے تھے کہ قادیانی نبی کریم ﷺکے دشمن ہیں۔ آپ کی ختم نبوت کی چادر کو اتار کر اسے مرزاقادیانی کو پہنانا چاہتے ہیں۔ دیگر باطل فرقوں کا رد کرنا اپنی جگہ اہم اور ضروری ہے لیکن ان موضوعات کا نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ بلاواسطہ تعلق نہیں۔رد قادیانیت کا کام ایسا کام ہے جو براہ راست نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے تعلق رکھتا ہے۔یہ کا م اگر خلو ص سے کیاجائے تو حضور ﷺکی خوشنودی کا بہترین اور موثر ذریعہ ہے۔ مولانا مرحوم کا ختم نبوت سے عشق ان کو بے چین رکھتا تھا۔ اپنے اس مشن کی خاطر انہوں نے برطانیہ ،امریکہ ،جرمنی، بیلجیم، اسپین، ناروے، جنو بی افریقہ، سعودی عرب، متحد ہ عرب امارات، یمن، مصر، بھارت،بنگلہ دیش وغیر ہ بیسیو ں ممالک کے سفر کیے۔

عملی زند گی کا آغاز مناظروں سے کیا۔ قادیانیو ں کے رئیس المبلغین والمناظرین قاضی نذیر قادیانی سے بیسیوں مناظرے کیے۔ اس پر مولانا کا ایسارعب طاری ہوا کہ وہ مولانا سے مناظرہ کر تے ہوئے گھبراتا تھا اور بسا اوقات مید ان چھوڑ کر بھاگ جاتا تھا۔ قادیانی ۵۰ء کے عشرہ میں پروپیگنڈا کیا کرتے کہ مرزاقادیانی نے علما کو دعوت مباہلہ دی تھی لیکن کوئی مولوی اور پیر مقابلہ میں نہ آیا۔مولانا چنیوٹی ؒ نے ان کے اس پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مرزا محمود کو دعوت مباہلہ دی۔ اس نے کچھ شرائط پیش کیں جو کہ مولانا نے پوری کردیں۔ دریائے چناب کے دو پلو ں کی درمیانی جگہ مقام مباہلہ کے طور پر متعین ہوئی لیکن وہ تاریخ اور مقام متعین کرنے کے باجود میدان میں نہ آیا۔ اس کے مرنے کے بعد مولانا چنیوٹی مرزاناصر، مرزاطاہر اور مرزامسرور کو دعوت مباہلہ دیتے رہے لیکن وہ تاریخی حقیقت پوری ہوکر رہی جو مولانا ظفر علی خان نے بیان کی:

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلہ کے نام سے 
فرار ہوا کفر جیسے بیت الحرام سے 

مولانا چنیوٹی مرزامحمود سے مباہلہ کی یاد میں ہر سال فتح مباہلہ کانفرنس منعقد کیا کرتے تھے۔ اس میں قادیانی سربراہوں کو دعوت مباہلہ ہوئے یہ تاریخی الفاظ کہتے تھے: ’’قادیانی سربراہ موکد بعذاب قسم اٹھائیں کہ مرزاقادیانی نے اور خود انھو ں نے کبھی شراب پی ہے، نہ زنا کیا ہے، اور نہ لواطت میں کبھی فاعل اور مفعول بنے۔ ان کے با لمقابل میں موکد بعذاب قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ویسے تو بہت گنہگار ہوں لیکن ان چاروں مذکورہ عیوب سے پاک ہوں۔‘‘ مولانا فرماتے تھے کہ ویمبلے ہال لندن میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس میں تقریرکرتے ہوئے باوضو قرآن مجیدہاتھ میں لے کر جب میں نے قسم اٹھائی تو ہال چیخوں سے گونج اٹھا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، مولانا چنیوٹی کو رد قادیانیت سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ یہ جنون انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیتا تھا۔ عرصہ چالیس سال سے ۱۰ شعبان سے ۲۵ شعبان تک علما، وکلا، پروفیسرحضرات اور عام پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے کورس کرانے کا معمول رہا جس میں وہ اپنا درد دل اور اپنے تجربات ان تک منتقل کر تے رہے۔ علاوہ ازیں جامعہ اشرفیہ لاہور،دفتر تنظیم اہل سنت ملتان، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن سمیت ملک کے اہم اداروں میں بھی تربیتی کورسز کا سلسلہ جاری رہا۔ ۱۹۹۱ء میں ہندوستان میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں پھیلنے لگیں تو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نے ایک تربیتی کیمپ لگایا۔ ملک بھر کے ہزاروں علما کومولانا چنیوٹی صاحب نے تربیت دی ۔ مولانا چنیوٹی سے تربیت پا کر انڈیا کے علما نے قادیانیت کے تعاقب کا حق ادا کر دیا اور آج وہاں قادیانیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

مولانا چنیوٹی کویہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ او ردیگر سعودی اداروں میں آپ نے ہزاروں طلبا کو تربیت دی۔ ان طلبا میں ایک روایت کے مطابق یحیےٰ ابوبکر بھی شامل تھے جو کہ بعد میں گیمبیاکے صدر بنے اور انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کی املاک ضبط کر لیں۔ 

اردو میں کہتے ہیں: ’’ جادو وہ جو سر چڑھ بو لے‘‘۔ بالفاظ دیگر عربی کی ضرب المثل ہے: ’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘۔ پنجابی والے کہتے ہیں، حسن وہ ہوتا ہے جس کا سوکن بھی اعتراف کرے۔ مولانا چنیوٹی ؒ کی رد قادیا نیت کے محاذ پر خدمات کا اعتراف مرزا طاہر کو بھی کرنا پڑا۔ اس نے قادیانی چینل پر تقریر کرتے ہوئے مولانا چنیوٹی کو ’اشد اعداء نا‘ (ہماراسب سے بڑ ا دشمن) کا خطاب دیا ۔

قادیانی مسلمانوں کا روپ دھارکر حصول روزگار کے لیے عرب ممالک خصو صاً سعودی عرب کا رخ کرتے تھے اور وہاں اپنی ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ مولانا چنیوٹی ؒ نے اس قسم کے سینکڑوں قادیانیوں کو سعودی عرب سے نکلوایا۔ مولانا چنیوٹی ؒ کی ان خدمات سے متاثر ہو کر معروف صحافی وادیب،مجاہد ختم نبوت آغا شورش کشمیر ی مرحوم نے آپ کو ’’سفیر ختم نبوت‘‘ کا لقب دیا ۔

آپ کا ایک اہم ترین کارنامہ ربوہ شہرکے نام کی تبدیلی ہے۔ قادیانی ہمیشہ دھوکہ دیتے تھے کہ قرآن مجید میں جس ’’ربوہ‘‘ کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد ربوہ شہر ہے ۔مولانا چنیوٹی ؒ اسمبلی میں کوشش کرتے رہے اور ممبران وسپیکر کو قائل کرتے رہے لیکن اسپیکر نہ مانتا تھا، تو مولاناچنیوٹی نے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب سے وقت لیا اور ان سے بات کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا، صدر صاحب! خدا کے لیے آپ تعاون کریں۔ میر ی کوئی نہیں مانتا۔صدر صاحب کی سرزنش پر اسپیکر اسمبلی نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی اور تمام ممبران کے اتفاق سے ربوہ کا نام بدل دیاگیا۔ اس طرح قادیانی مکروفریب کا ایک دروازہ بند ہوا۔ اسی طرح آپ نے صدر ضیاء الحق مرحوم سے ملاقات کی اور ان کو مرزا محمود کی تصنیف ’’تفسیر صغیر‘‘ میں درج تحریفات کے نمونے دکھائے تو مولانا کی تحریک پر صدر ضیاء نے تفسیر صغیر پر پابند ی کے احکامات جاری کیے۔

مولانا چنیوٹیؒ کی قوت حافظہ کمال درجہ کی تھی۔آخری عمر تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا ۔آپ کی آخری دور کی تقاریر سن کر حیرانی ہوتی تھی کہ’’ ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی ‘‘۔

صدر ایوب کے زمانہ میں شیخ محمد شلتوت جو جامعہ ازہر کا شیخ تھا، اس نے فتوی دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور قادیانی اس فتویٰ کی بڑی اشاعت کررہے تھے۔ مولانا چنیوٹیِ ؒ نے محد ث کبیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے مشورہ پر ائمہ حرمین اورمفتی اعظم سعودیہ شیخ ابن باز سے فتاویٰ حاصل کیے اور اس کے بعد اس پر بلاامتیاز مسلک پاکستان، ہندوستان ،بنگلہ دیش کے ہزاروں علماء کرا م کے تائید ی دستخط کرائے (سوائے مولانا مودود ی کے کہ انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ مولانامودودی کے انکار کے گواہ مولانا عبد المالک آج بھی منصورہ لاہور میں موجود ہیں) اس فتویٰ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے رفع ونزول کوثابت کیا گیا تھا۔ مولانا نے ان فتاویٰ کے حصول کے لیے جو جدوجہد کی، وہ آپ کے سوانح عمری کا ایک مستقل باب ہے۔ اب ان فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ حیات مسیح ‘‘ کے نام سے ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد سے دستیاب ہے ۔

مرزا محمود کی تحریر کردہ ’’تفسیر صغیر‘‘ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود تحریفات کا ایک نادرنمونہ ہے ۔ جگہ جگہ غیر محسوس انداز میں تلبیسات وتحریفات بھر دی گئی ہیں۔ استاذ محترم مولانا چنیوٹی ؒ کے پراصرارحکم پر احقر نے ان تلبیسات وتحریفات کا تنقیدی جائزہ لکھا۔ ترجمہ قرآن مجید میں درج تحریفات کا جائز ہ مکمل ہوچکا ہے۔ استاذ مرحوم نے لفظ بلفظ پڑھا اور اپنی تصدیق سے نوازا۔ ’’تفسیر صغیر‘‘ کے حواشی پر نقد ونظر کا کام ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ بیس پارے مکمل ہوچکے ہیں۔ دس باقی ہیں۔ کاش یہ کا م آپ کی زندگی میں مکمل ہوجاتا اور آپ کی آنکھیں مزیدٹھنڈی ہوتیں ۔بہرحال ’’وہی ہوتا ہے جو منظورخدا ہوتاہے‘‘۔ 

’’ رد قادیانیت کے زریں اصول‘‘ استاذمرحوم کی زندگی بھر کی تحقیقات کا بے مثال مجموعہ ہے جو کہ بار بار چھپ کر عوام وخواص سے خراج تحسین وصول کررہا ہے ۔ آپکی بعض دیگر تالیفات کا مختصر تعارف درج ذیل ہے : 

(۱) ’القادیانی ومعتقداتہ‘ ۔ یہ عربی زبان میں قادیانی عقائد پر مختصر اور جامع ومانع رسالہ ہے جو کہ مسجد نبویﷺمیں لکھا گیا۔

(۲) ’’قادیانی اور اس کے عقائد‘‘۔ یہ ’القادیانی ومعتقداتہ‘ کا اردو ترجمہ ہے جو کہ آپ کے بھائی مولانا محمد ایوب صاحب نے لکھا۔

(۳) Al Qadyani and His Faith ۔ ’القادیانی ومعتقداتہ‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔

(۴) ’’انگریزی نبی‘‘۔اس رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا ۔

(۵) ’’علماء کنونشن سے خطاب‘‘ ۔ یہ صدر ضیاء الحق کے طلب کردہ علما ومشائخ کنونشن سے آپ کے خطا ب کا متن ہے۔ 

(۶) دورہ افریقہ 

(۷) مناظرہ نائیجیر یا

(۸) ’’تصویر کے دو رخ ‘‘ ۔ یہ مرزا کے تضادات پر مشتمل مختصر رسالہ ہے ۔

(۹) The Double Dealer ۔ ’’تصویر کے دو رخ‘‘ کا انگریزی ترجمہ ۔

(۱۰) ’’اور وہ اس کو ما ں نہ بناسکے‘‘ اس رسالے میں محمد ی بیگم والی پیش گوئی پر بحث کی گئی ہے۔

(۱۱) ’’مرزاطاہر کی بوکھلاہٹ‘‘۔مرزاطاہر نے مولانا چنیوٹی سمیت بہت سے علماء کرام کو دعوت مباہلہ دی تھی۔ مولانا ؒ نے دعوت قبول کرلی تو مرزا طاہر آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ اس رسالہ میں یہ تما م روئیداد تحریر کی گئی ہے۔

(۱۲) ’’پندرہ روزہ کورس‘‘ ۔آپ ہمیشہ ۱۰سے ۲۵شعبان تک اپنے ادارہ میں کورس کراتے تھے۔ اس کا اجمالی نصاب اس رسالے میں درج ہے جس کی آپ دوران کورس تشریح کرتے تھے۔

(۱۳) ’’حصول الامانی فی الرد علیٰ تلبیس القادیانی‘‘۔ پندرہ روزہ کورس کے نصاب کا عربی ترجمہ ہے جو کہ مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب بخاری مرحوم کے فرزند مولانا فداء الرحمان بخاری (کینیڈا )، صاحبزادہ مولانا الیاس صاحب، راقم الحروف و بعض دیگر احباب کی مشترکہ کاوش ہے۔

(۱۴) Africa Speaks the Truth۔ ’’دورہ افریقہ‘‘ کاانگریزی ترجمہ ہے۔ 

(۱۵) ’’برطانیہ میں مراسلت‘‘۔ لند ن میں قادیانیوں سے مباہلہ کے لیے آپ کی خط وکتابت ہوئی کی رودادہے۔

(۱۶) ’’الحقائق الاصلیہ‘‘۔ یہ قادیانیوں کے رسالہ ’’لمحہ فکریہ‘‘ کاجواب ہے ۔

(۱۷)’’فتویٰ حیات مسیح ‘‘۔اس کا مفصل ذکر گزر چکا ہے۔

(۱۸)’’مباہلہ کا چیلنج منظور ہے‘‘

(۱۹) ’’مناظرہ ناروے‘‘

(۲۰) ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘

(۲۱) ’’ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں‘‘

(۲۲) ’’خسوف وکسوف‘‘۔قادیانی اخبار ’الفضلؒ انٹر نیشنل لندن کے خسوف وکسوف نمبر کا جواب۔

(۲۳) ’’ربوہ سے چناب نگر تک‘‘۔ربوہ کے نام کی تبدیلی کے لیے جو کوششیں کی گئیں، اس کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ہے ۔

قاد یانی مبلغین کے توڑ کے لیے اور رد قادیانیت کے کام کو منظم کرنے کے لیے آپ نے ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ میں قائم کیا۔ ادارہ کی طرف سے بلامبالغہ لاکھوں پمفلٹ اب تک مفت تقسیم کیے جاچکے ہیں ۔

آپ نے واشنگٹن امریکہ میں بھی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں آپ کے خصوصی شاگرد مولانا حکیم محمد رفیق صاحب کا م کررہے ہیں۔

رد قادیانیت کے کام کو مزید پھیلانے کے لیے ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی قائم کی گئی جس کا سنگ بنیادرابطہ عالم اسلامی کے سیکر ٹر ی جنرل الشیخ عبداللہ عمر نصیف نے رکھا ،تاہم عارضی عمارت میں حفظ وناظرہ کی کلاسیں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ پند رہ روزہ سالانہ تربیتی کورسز کا سلسلہ عرصہ چالیس سال چنیوٹ میں جاری رہا۔ اس کے علاوہ مولانامرحوم مختلف دینی اداروں میں یہی کورس پڑھاتے تھے۔ اس کے باجو د آپ تشنگی محسوس فرماتے تھے۔ اس تشنگی کے ازالہ کے لیے مفکر اسلام علامہ خالد محمود صاحب کی مشاورت سے علماء کرام کے لیے دوسالہ تربیتی کورس کا اہتمام کیا جس میں ان کو تقابلی مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ احقر اس شعبہ میں بھی پانچ چھ سا ل سے مصروف کا ر ہے ۔پندرہ سے زائد فضلاے کرام یہ کورس مکمل کرچکے ہیں۔ 

احقر راقم الحروف کو مولانا چنیوٹی سے خاص تعلق تھا ۔ وہ احقر کے رشتہ کے داداجان مولانا دوست محمد ساقی مرحوم کے خاص شا گرد تھے اور احقر ان کا خصوصی شاگرد ہے۔ اس دو طرفہ تعلق کی وجہ سے ہمیشہ استاذمحترم سے انتہائی محبت وعقیدت رہی۔محبت و عقیدت کی اس شمع کو حوادثات زمانہ بجھانہ سکے۔ تحدیث نعمت کے طو ر عرض ہے کہ استاذ مکرم مولانا منظور احمد چنیوٹی کو اس عاجز پر ہمیشہ اعتماد رہا ہے ۔ وہ اپنے پاس آنے والے بہت سے خطوط کے جوابات لکھنے کی ذمہ داری اس عاجز پر ڈالا کر تے تھے۔ الحمدللہ ان کے اعتماد پر پورااترتا رہا ۔ احقر کی کئی تصانیف پر استاذمحترم کی تصدیقات درج ہیں۔ احقر کو آپ کے ساتھ ایک اور دس کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کہاں ان کی پر مشقت زندگی اور علمی اور عملی کمالات اور کہاں ایک گوشہ نشیں مسکین طبع شخص۔تاہم آپ نے کئی دفعہ اس امر کا بر ملا اظہار کیاکہ مولوی مشتاق کا مطالعہ مجھ سے زیادہ ہے۔ظاہرہے کہ یہ آپ کی خورد نوازی ہے، ورنہ من آنم کہ من دانم ۔

مرزا طاہر احمد نے ۱۰جون ۱۹۸۸ء کو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ اس دعو ت کو مختلف زبانوں میں شائع کر کے پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا۔ مرزا طاہر کی اس دعوت مباہلہ کو علماء کرام نے مرزاقادیانی کے اس عہد کے منافی قرار دیا جوکہ مرزا قادیانی نے ۲۴فروری ۱۸۹۹ء کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں تحریری طور پر کیا تھا کہ میں اور میر ے پیروکار آئند ہ کے لیے مسلمانوں کو دعوت مباہلہ نہیں دیں گے ۔

مولانا چنیوٹی ؒ نے ۱۹۵۶ء میں مرزا طاہر کے والد مرزا محمود کو دعوت مباہلہ دی تھی لیکن اس نے راہ فرار اختیار کی تھی۔اس کے مرنے کے بعد مرزاناصر اور مرزا طاہر نے بھی دعوت مباہلہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس انکار کے بعد مرزا طاہر کا پوری دنیا کے مسلمانوں کو خصوصاًعلماء کرام کو دعوت مباہلہ دینا ایک فضول حرکت تھی ۔لیکن اتمام حجت کی خاطر دیگر علما کی طرح مولانا چنیوٹی ؒ نے بھی دعوت مباہلہ قبول کرلی اور اپنے شائع کردہ بیان میں چالیس دن کی مہلت دی کہ چالیس دن کے اندر مرزا طاہر مباہلہ کی تاریخ،مقام اور وقت کا اعلان کرے، ورنہ اس کی شکست تصورکی جائے گی ۔مولانا چنیوٹی نے ۲۵ اگست کو مرزا طاہر کے نام یہ پیغام بذریعہ ڈاک ارسال کیا اورروزنامہ جنگ لاہور میں۱۵ستمبر ۱۹۸۸ء کو یہ پیغام شائع ہوا۔ 

مرزاطاہر نے بو کھلاکر ۲۵نومبر ۸۸ء کوتقریر کی اور کہا کہ اگلے سال ۱۵ ستمبر تک مولانا چنیوٹی مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہو جاہیں گے۔ مولاناچنیوٹی نے ۱۳۔ اگست ۱۹۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن میں تقریر کرتے ہوئے مرزاطاہر کو دوبارہ دعوت مباہلہ دی اور اس کی ہلاکت والی دھمکی کو قبول کیا۔ یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن میں پانچویں سالانہ ختم نبوت میں جب مولانا چنیوٹی تقریر کے لیے اٹھے تو مرزاطاہرکے معتمد خاص اور اسکے لندن ہیڈکوارٹرکے شعبہ عربی کے ڈائریکٹرحسن محمودعودہ صاحب اگلی صف سے اٹھ کر سٹیج پر آگئے اور مولانا چنیوٹی اور مولاناعبد الحفیظ مکی صاحب کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہو کر قادیانیت سے تو بہ کر نے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہا: ’انا اول ثمرۃھذاالمباہلۃ‘۔

مولاناچنیوٹی کے خلاف یہ پیش گوئی مرزا طاہر کو مہنگی پڑی اور اسے ذلت نصیب ہوئی ۔

(۱) ۲۳مارچ۱۹۸۹ء کو قادیانی اپنا صدسالہ جشن نہ منا سکے ۔

(۲) دسمبر ۱۹۸۹ء میں چناب نگر میں جلسہ نہ کر سکے۔ 

(۳) ربوہ میں کئی قادیانی بہائی ہوگئے۔ 

(۴) کھاریاں، سرگودھاوغیرہ کئی علاقوں میں قادیانیت کاصفایا ہو گیا۔

(۵) مرزاطاہر کے معتمدخاص حسن محمود عودہ نے اسلام قبول کر لیا ۔

اس کے بر عکس اللہ تعالی نے مولاناچنیوٹی پر کئی انعامات کیے:

(۱)وہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے دوبارہ ممبر منتخب ہوئے۔

(۲)رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر حج کر نے کی سعادت حاصل کی ۔

(۳)مصر میں شیخ جامعہ الازہر سے ملاقات کی اور ان کو قادیانی سازشوں سے آگاہ کیا۔ 

(۴)لندن میں ۱۳۔ اگست ۱۹۸۹ء کو ایک دفعہ پھرمرزاطاہر کو للکارا لیکن اسے سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔

(۵) ۲۹۔ اگست ۱۹۸۸ کو اللہ تعالیٰ نے مولاناچنیوٹی صاحب کو پہلا پوتا عطا فرمایا جس کا نام انہوں نے ضیاء الحق رکھا۔ 

مرزا طاہر احمد نے ۱۳۔اگست ۱۹۹۵ ء کو بیان دیا کہ مولاناچنیوٹی مختلف حیلے بہانے کر کے مباہلہ سے فرار حاصل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’’جھوٹے کو اس کے گھرتک پہنچاناچاہیے‘‘ کی مشہورضرب المثل پر عمل کر تے ہوے مو لانا چنیوٹی نے مرزا طاہر احمد کوایک بار پھردعوت دی کہ وہ ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو مباہلہ کے لیے ہائیڈپارک لندن آجائے۔یہ دعوت ۴۔اگست ۹۵ء کو روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہوئی۔ مولاناعبدالحفیظ مکی،مولاناضیاء القاسمی ،علامہ خالد محمود صاحب،میاں اجمل قادری صاحب اور دیگر علما سمیت مولاناچنیوٹی ۵۔ اگست کو دوپہربارہ بجے سے دو بجے تک انتظارکر تے رہے لیکن مرزا طاہر مقابلے میں نہ آسکا ۔

مولانا چنیوٹی مرحوم کی جواں ہمتی،سخت کوشی اور تحفظ ختم نبوت سے عشق کے بے شمار واقعات ہیں جن میں سے دو واقعات یاد آرہے ہیں جو کہ آپ سے ہی بار بار سنے ہیں۔ انہی کی زبانی ہی ملاحظہ فرمائیں :

(۱) کو ٹلی آزادکشمیر سے بریلوی مکتبہ فکر کے ایک صاحب (احقرکونام یاد نہیں رہا)کا خط آیا کہ قادیانی یہاں گمراہی پھیلارہے ہیں، آپ تشریف لائیں ۔ میں نے کتابوں کا بکس اٹھایا اور چل پڑا۔ میزبان کے ہاں پہنچا اور جلسہ عام کا اعلان ہوگیا ۔ میں نے ۹بجے سے ۲بجے تک تقریر کی تو لوگوں نے رات کو بھی تقریر کا مطالبہ کیا۔ میں نے منظوری دے دی۔ چنانچہ رات عشا کے بعد بھی میں واحد مقرر تھا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک تقریر کی۔ اس وقت دوران تقریر پچاس سے زائد سوالات کی پرچیاں جمع ہوگئیں۔ تقریر ختم کرنے کے بعد پہلی پرچی اٹھائی تو میزبان ہاتھ جوڑکر کھڑا ہوگیا کہ آپ اپنے اوپر بھی رحم کھائیں اور ان لوگو ں پر بھی جو صبح سے اب تک آپ کے ساتھ ہیں۔ اس پر دوسرے دن ۹بجے کا وقت مقرر ہوا۔ ہزاروں لوگ پھر جمع ہوگئے اور اس اجتما ع میں تین چار گھنٹے صرف کرکے ان بیسیوں سوالات کا جواب دیا۔ 

(۲)بنگلہ دیش کے دور ہ پر گیا۔ وہا ں صبح سے بارہ بجے تک ایک مدرسہ میں اور ظہر سے عصر تک دوسرے مدرسہ میں تربیتی کورس کراتا تھا۔ عصر کے بعد تبلیغی مرکز میں تقریر اور عشا کے بعد دو تین گھنٹے جلسہ عام سے خطاب ۔یہ پند رہ،بیس دن مسلسل معمول رہا۔ جوانی کا زمانہ تھا ،صحت اچھی تھی ،تھکتا نہ تھا۔واضح رہے کہ یہ دونوں واقعات آپ کی عمر کے سن ساٹھ کے عشرہ کے ہیں ۔ 

ان واقعات کی عملی تصدیق اپنی آنکھوں سے دیکھی کہ پیرانہ سالی اور جسمانی عوارض کے باجود انتقال سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے تک دور دراز اسفار کا معمول برقرار رہا ۔ سفر کرنے سے کبھی نہ تھکتے تھے۔ آپ کے عوارض اور مصروفیا ت کو دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران پریشان ہوتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حیران ہیں کہ مولانا ان عوارض کے ساتھ کیسے زندہ ہیں ؟

مولانا چنیوٹی تحفظ ناموس صحابہؓ کے میدان

مولانا چنیوٹی نے چونکہ حضرت علامہ دوست محمد قریشی اور علامہ عبدالستار صاحب تونسوی مدظلہ سے تربیت حاصل کی تھی اورحضرت مولانا سید احمد شاہ صاحب چوکیروی قدس سرہ سے بھی استفادہ کرتے رہے، اس لیے آپ کوتحفظ ناموس صحابہؓپر مکمل دسترس حاصل تھی۔ تازیست حضرات خلفائے راشدینؓ ،حضرات حسنینؓ ،حضرت امیر معاویہؓ کے فضائل ومناقب اور مخالفین کے ان پر اعتراضات کے جوابات پر مبنی تقریریں کرتے رہے۔ آپ کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ آج سے چالیس سال پہلے خطبہ جمعہ میں خلفائے راشدینؓ اور اہل بیت کے اسماء گرامی کے ساتھ ساتھ حضرت امیر معاویہؓکا نام بھی لیتے تھے۔

یہ وہ دور تھا کہ جہالت کی وجہ سے بہت سے سنی حضرات بھی حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں ذہن صاف نہ رکھتے تھے اور مولانا مرحوم پراعتراض کرتے تھے۔مولانا چنیوٹی سپاہ صحابہؓ سے ہمدردی تورکھتے تھے لیکن ان کے مخصوص نعروں کے عام جلسوں میں لگائے جانے سے متفق نہ تھے۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کی مسجد میں سالانہ ردمرزائیت کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہو ئی۔ شہید ناموس صحابہ مولانااعظم طارق مرحوم مہمان خصوصی تھے۔ مولانااعظم طارق کی تقریر سے پہلے کسی نے ’’کافر کافر شیعہ کافر‘‘ کے نعرے لگائے تو مولانا چنیوٹی نے برملا ڈانٹا کہ تم اچھل اچھل کر نعرے لگانے والے توجلسہ کے بعد اپنے گھر وں کو چلے جا ؤ گے ۔ یہ غریب( مولانااعظم طارق) جیل چلاجا ئے گا۔ ان کوجیل سے باہربھی رہنے دو ۔ کیا انہیں جیل بھیجنا چاہتے ہو ؟مولانا اعظم طارق مرحوم عجیب تاثرات کے ساتھ مولانا چنیوٹی کو دیکھتے رہے لیکن اپنی تقریر میں بھی کو ئی تبصرہ نہ کیا۔

مولوی محمد اسماعیل گوجروی (شیعہ)کے ساتھ آپ نے چار مناظرے کیے ۔ تاج الدین حیدری کے ساتھ گکھڑمنڈی میں مناظرہ کیا۔دوبئی میں آپ نے شیعہ حضرات کے آٹھ سوالات کے جوابات دیتے ہوے تاریخی تقریر کی جس پر شیعہ نے قاتلانہ حملہ کیا۔پاکستان میں بھی دو تین حملے کیے گئے تاہم مولانا چنیوٹی محفوظ رہے ۔

تحفظ ناموس صحابہؓکے موضوع پر آپ کی تقریریں ہمارے فاضل دوست مولانا بلال احمد صاحب اور مولانا محبوب احمدصاحب مرتب کر رہے ہیں جو کہ ظاہر ہے ایک اہم علمی تحفہ ثابت ہو گا۔ 

مولاناچنیوٹی کی حق گوئی 

مولانا چنیوٹی بے باکی اور حق گوئی میں علمائے دیوبندکے صحیح وار ث تھے۔ انہیں بجا طور پر ترجمان علماء دیوبند کہا جاسکتا تھا۔ جمعہ کی تقریر میں آخری دس پندرہ منٹ حالات حاضرہ،مقامی سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے مظالم پر تنقیدی جائزہ لیا کرتے تھے۔ کبھی قادیانیت کو للکار رہے ہیں، کبھی وڈیروں اور جاگیرداروں کے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلندکر رہے، کبھی حکومت وقت ااور بیو رو کریسی پر تنقید فرما رہے ہیں، کبھی پر ویزیت کا پو سٹ مارٹم ہو رہا ہے ، کبھی شرک وبدعت اور رسومات محرم کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔ غر ض ساری عمر ایک چومکھی لڑائی لڑتے رہے ۔ ایک سابق وزیر اعظم کی بیوی کے سابق امریکی صدر فورڈکے ساتھ رقص کرنے کی تصویر اخبار میں شائع ہوئی تو مولانا چنیوٹی نے ایک مقام پر اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوے فر مایا کہ بے غیرتی میں خنزیر سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو بھی غیرت نہیں آئی۔یہ وزیراعظم ہے کہ خنزیر اعظم ہے۔مقدمہ بنا ۔آپ گرفتار ہوئے۔ بہاولپور میں ریاستی جبر کی انتہا کر دی گئی۔ قید تنہائی، ہتھکڑیاں، بیڑی، بازاری لوگوں کے ہاتھوں ایذا رسانی کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ کوئی جج ضمانت لینے کو تیار نہ تھا۔ آخر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے ضمانت لی ۔

واقعہ تو یہ ہے کہ مقامی افسران ،اعلیٰ افسران ،قادیانی ڈیرے دار اور باطل گروہ سب کے سب آپ سے لر زہ بر اندام رہتے تھے۔ حق گوئی کی وجہ سے آپ کو بار بار قید وبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا ۔مولانا چنیوٹی کی قید وبند کا مکمل ریکارڈتو محفوظ نہیں رہ سکا، تاہم جو ریکارڈ دستیاب ہوا، اس کے مطابق آپ کی قید وبند کی تفصیل درج ذیل ہے : 

  • ۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ۶ ماہ ڈسٹرکٹ جیل جھنگ اور بورسٹل جیل لاہور میں قید رہے۔
  • ۹۶۰ء میں تین ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
  • ۱۹۷۱ء میں یحییٰ خان کے مارشل لا کے دور میں ایک سال منٹگمری جیل میں قید رہے۔
  • ۱۹۷۲ء میں قادیانیوں کو کافر کہنے کے جرم میں شیخوپورہ میں قید رہے۔
  • ۹۷۳ء میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کو آشکار کر نے پر ایک ماہ ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
  • ۹۷۴ء میں حکمرانوں کے غیر اخلاقی کریکٹر پر تنقید کر کے جرم میں بہاولپور میں قید رہے۔
  • مسجدصدیق اکبر چنیوٹ میں سید عطاء المحسن شاہ بخاری کی تقریر کرانے کے جرم میں سنٹر ل جیل فیصل آباد میں ایک ماہ کے لیے نظر بند کر دیے گئے۔
  • ۹۷۷ء میں قادیانیت کے خلاف تقریر کر نے پر سیالکوٹ میں گرفتار ہوئے۔
  • تحریک نظام مصطفیﷺکے سلسلہ میں ۳ماہ سنٹرل جیل و کیمپ جیل لاہور میں قید رہے۔
  • ۹۷۴ء کے تاریخی فیصلہ کی تا ئید پر پرانے مقدمہ میں ایک ماہ کے لیے ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
  • ۹۸۵ء میں ساہیوال میں قادیانیوں کی دہشت گردی سے شہید ہونے والے مسلمانوں کے جنازہ میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتار کرلیے گئے۔
  • ۹۹۷ء میں منڈی بہاؤ الدین میں محرم الحرام کی فضیلت پر بیان کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔
  • ۹۹۵ء تک آپ کے خلاف زبان بندی کے ۱۵۰ احکام جاری ہوئے۔

علالت وانتقال

زندگی بھر کی طویل جدو جہد کے بعد مولانا چنیوٹی سن رسیدہ ہونے کی اس منزل کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں انسان آرام کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور پر سکون زندگی گزارناچاہتاہے ۔ مولاناچنیوٹی نے ایک ابتدائی قدم تو اٹھایا کہ بیرون ملک ایک رفیق سفر کی ضرورت محسوس کر تے تھے لیکن عمر رسیدگی،بیماری ،اعصابی تھکاوٹ کے باوجود عشق مصطفی ﷺکی حرارت نے انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ کوئی بیماری اور رکاوٹ ان کے قدموں کی زنجیرنہ بن سکی۔پندرہ روزہ تربیتی کورس میں احقر نے بار ہا یہ منظر دیکھا کہ احقر نوجوا ن ا ور مجموعی طور پر صحت مند ہونے کے باوجود ایک نشست میں ڈیڑھ دو گھنٹے سے زائد نہ پڑھا سکتا تھا لیکن آپ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے تھے کہ ضعف وپیری کے باوجود تین چار گھنٹے پڑھانا آخر دم تک معمول رہا۔ تھکاوٹ اور بیماری کا سامعین کو احساس تک نہ ہوتا تھا ۔قوت حافظہ اور آواز کی گونج آخر تک قائم رہی :

ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند 

اپنی وفات سے تین چار ماہ پہلے لالیاں کے قریب کسی گاؤں میں تقریر کرنے گئے، وہاں قادیانی بھی رہتے تھے۔ اس وجہ سے پولیس والے بھی آئے ہوئے تھے ۔احقر کو تخصص کے ایک طالب علم نے بتایا کہ آپ پو لیس کو دیکھ کربڑے غصہ میں کہنے لگے کہ میرے جسم میں اتنا دم خم ہے کہ میں ہتھکڑیاں اب بھی بر داشت کر سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اپنے دونوں بازو فضامیں لہرائے۔ گردوں کی خرابی، دل کی بڑھوتری اور شوگر سمیت پانچ چھ امراض لا حق تھے لیکن وفات سے ایک ماہ پہلے تک تبلیغی اسفارجاری رہے۔ 

احرار مسجد چناب نگر میں بارہ ربیع الاول ۱۴۲۵ھ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے احراری زعما خصوصاً محترم عبداللطیف چیمہ صاحب کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا، اب میری دو آرزوئیں رہ گئی ہیں۔مجھے اپنی موت قریب محسوس ہو رہی ہے۔میں آپ حضرات کو وصیت کر تا ہوں کہ ان دونوں کا موں کی طرف جماعتی سطح پر توجہ فر مائیں اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں :

(۱)قادیانی اوقاف کا سر کا ری تحویل میں جانا۔

(۲)شناختی کارڈمیں مذہب کے خانے کا اضافہ ۔

آپ نے صرف احراری زعما کو ہی وصیت کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مجلس عمل کے ارکان پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر، فون اور ملاقاتیں کر کے توجہ دلاتے رہے۔ اسی مقصد کے لیے قائد حزب اختلاف مولانافضل الرحمان صاحب سے ملا قات کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی ماہ کی کوشش کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی ۔ 

شریف خاندان کے قائم کر دہ شریف میڈیکل سٹی میں تین ہفتے زیر علاج رہے ۔لیکن ’’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘‘ اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق آخر وہ وقت آپہنچا جس سے نہ کوئی نبی بچا ہے اور نہ ہی ولی ۔ ۲۷ جون کو ذکر الٰہی کر تے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے اور ’’عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا‘‘۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ جنازہ ۲۷ جون کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہوا جو ان کی وصیت کے مطابق ولی کامل ،حضرت مولانا سید نفیس حسین شاہ صاحب دام مجدہ نے پڑھایا۔ ۵۰ ہزار سے زیادہ کا مجمع تھا۔ جب ۲۷ کی شام کو آپ کی میت چنیوٹ پہنچی تو چنیوٹ سے کئی کلومیٹر دور پانچ چھ ہزار سے زائد افراد سواریوں پر اور پیدل استقبال کے لیے مو جود تھے۔ ۲۸ جون کی صبح چنیوٹ شہر کا ہر شہری گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ کی طرف رواں دواں تھا۔ پورے ملک سے ہزاروں فر زندان تو حید جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے ۔ اسلامیہ کالج اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ثابت ہوا۔ فیصل آباد روڈ اور لاہور روڈ پر کئی فرلانگ تک صفیں تھیں :

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے 

جنازہ میں ملک بھر سے علماء کرام ،مشائخ عظام ،حفاظ وقرا اور عوام الناس نے شرکت کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کا اجتماع تھا۔ جنازہ دیکھ کر مخالف مذہب وپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نے کہا کہ ہماری تو اب آنکھیں کھلی ہیں۔ اب پتا چلا ہے کہ مولانا چنیوٹی کیا تھے۔ افسوس کہ چنیوٹ کے عوام نے ان کی قدر نہ کی۔ آپ کا جنازہ حضرت سید علاء الدین شاہ صاحب قدس سرہ کے اجل خلیفہ حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے پڑھایا اور آپ کو جامعہ عربیہ کے پڑوس میں واقع قبرستان پیر حافظ یعقوب میں دفن کیا گیا جہاں آپ کی قبر پر روزانہ بے شمار لوگ فاتحہ پڑھنے آرہے ہیں ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے 

آپ کے انتقال کے بعد علماء کرام ، عوام الناس، ارباب مدارس اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے افراد اورادارے، سب اپنے آپ کوتہی دامن محسوس کر رہے ہیں۔ ’’اک شجر سایہ دارتھا نہ رہا‘‘۔ بالفاظ دیگر

جب سے اس نے شہر کو چھوڑاہر رستہ ویران ہوا
میرا کیا ہے، سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

مولا نا چنیو ٹی کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں: مولانا محمد الیاس صاحب، مولانا محمد ادریس صاحب، مولانا محمدثناء اللہ صاحب، مولانا محمدبدر عالم صاحب۔چاروں صاحبزادے حافظ قرآن اورعالم دین ہیں۔ مولانا محمد الیاس صاحب بالخصوص اچھا علمی ذوق اورقادیانی تعاقب کا دردرکھتے ہیں۔ اللہم زدفزد۔ آمین


شخصیات