مکاتیب

ادارہ

(۱)

مکرمی محمد عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا قاری ہونے کے ناطے مجھے یہ لکھنے میں عار نہیں کہ یہ ماہنامہ اپنے نوجوان، توانا فکر کے حامل لکھاریوں کی بدولت قارئین کے لیے ہمیشہ Food for thought فراہم کرتا ہے، خاص کر میاں انعام الرحمن کا قلم ’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ کے حوالے سے نیک نیتی سے کوشاں ہے۔ ان کے افکار ، خیالات، اسلوب تحریر سے اختلاف واتفاق پڑھنے والوں کا حق ہے مگر نوجوانی میں ان کا جذبہ صادق اور سعی مسلسل دعوت فکر ضرور دیتی ہے۔ ماہ جون کے شمارے میں ان کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ اور جولائی کے شمارے میں ان کی فکر کے محاسبے پر مبنی تحریریں ہی ہیں جن پر میں انعام الرحمن کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ فکری جمود کے تالاب میں ان کے افکار تازہ کے پھینکے پتھروں سے اٹھنے والی لہریں ہی ان کی کامیابی کا بڑا ثبوت ہیں۔ شہرت یافتہ مورخ ٹائن بی کے خیال میں رسپانس حقیقی چیلنج ہی کو ملتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کی تاریخ کے باطن میں علمی تقاضا پوشیدہ ہے جسے پورا کیے بغیر اس کے وجود اور اس کی حرکت تاریخ کو سمجھنا مشکل ہے۔ تہذیبوں کی تشکیل اور تعمیر میں ان کی جمالیات کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ فی زمانہ آرٹ کے متعلق ایک مصنوعی آفاقیت کا تصور رواج پا گیا ہے۔ جن معاشروں میں اس تصور خاص سے مطابقت رکھنے والی فنی ہیئتیں موجود ہیں، ان پر جمال کشی کا ٹھپہ فوراً لگا دیا جاتا ہے حالانکہ انسان کی تہذیبی فعلیت کی کلی حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس امر کا ادراک لازم ہے کہ تہذیب تلافی کے نظام پر اپنی بنیاد رکھتی ہے۔ کمال، کامیابی یا برتری اسی تہذیب کا مقدر ہے جو ادنیٰ ترین درجوں کو قربان کرکے، ان پر زور کم کر کے اعلیٰ ترین عناصر میں فائق ہو۔

روح عصر کا تقاضا ہے کہ ایک نیا فکری نظام جنم لے جس کی جڑیں اسلام کی روایتی فکر میں پیوست ہوں اور جو حقیقی روح اسلام سے کسب نمو کرتی ہو۔ ایسا فکری نظام ابھی تشکیلی دور میں ہے۔ میرے دوست میاں انعام الرحمن کے خیالات کسی درجے میں اسی نظام کی تلاش سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تلاش خود اسلامی تاریخ کے باطن اور اسلامی تہذیب کے جہان امکان سے پھوٹی ہے۔ ایسے اصولوں اور فکر کا تنقیدی جائزہ وتحقیقی مکالمہ اور مطالعہ ناگزیر ہے جن کے زیر اثر تجدید ملت کا یہ عمل سامنے آ رہا ہے۔ اس میں تہذیب اسلامی کے کثرت آشنا مناظر بھی شامل ہیں اور ادب وآرٹ کے وہ دبستان بھی جنھوں نے صدیوں کے سفر میں اس امت کی نفسیاتی ساخت کی شہادت بھی دی ہے اور جمال کے مظاہر کے ذریعے حقیقت کو اس کے شعور کا حصہ بنا دیا ہے، اسی نے ’’امت خیر‘‘ سے وابستہ آرزوؤں کو زندہ رکھا ہے، پروان چڑھایا ہے۔ یہ آرزو ہی ہمارے حال کی عظیم قوت اور مستقبل کے لیے بے مثال محرک عمل ہے۔ T.B Irving نے اپنی کتاب "Islam Resurgent" میں شاید اس لیے لکھا تھا کہ ’’اسلام کا ایک بہت عظیم پہلو وہ آفاقی اپیل ہے جو صدیوں کے دائرے میں پوری دنیا کی مختلف النوع اقوام کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ اس مذہب کے باطن میں کوئی ایسا عنصر ہے جس کو ہم وضاحت سے مشخص نہیں کر سکتے لیکن جس نے اسے عرب دنیا سے باہر قابل قبول بنایا ہے۔‘‘

پروفیسر انعام الرحمن بجا طور پر شعور نبوت کی راہبری کے طالب ہیں جو تاریخ اسلام میں عباسی دور کی خطابت محض کے غلبے سے پہلے ہی کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ انعام الرحمن کے خیال میں انسان اگر حسن پسند بن جائے تو وہ لازماً حقیقی حسن کو ظاہری رنگا رنگی کی بجائے اس وحدت میں دیکھے گا جہاں تمام رنگ بغل گیر ہوتے ہیں۔ جی ہاں، شوآن (Schuon) نے کہیں کہا تھا کہ حسن کے عناصر بصری ہوں یا صوتی، سکونی ہوں یا حرکی، سب سے پہلے حقیقی ہوتے ہیں اور ان کی لذت اسی ’’حقیقت‘‘ سے مستعار ہوتی ہے۔

آخر میں یہی لکھنا ہے کہ میاں صاحب اسلوب تحریر میں روایت پسندوں پر ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھیں۔ اصلاح کی کاوش اعتدال پر مبنی ہو تو جلدی کامیاب ہوتی ہے۔ لکھنے کے عمل میں بلندئ فکر آپ کو مبارک ہو، مگر مشہور ادیب محمد حسن عسکری کا ایک قول آپ کی نذر کہ بین السطور آپ سمجھ جائیں گے۔ عسکری کا کہنا ہے ’’جدید مغربی ناول نگار زندگی میں خیر کے عنصر کی موجودگی کا انکار تو نہیں کرتے لیکن مطالعہ صرف بدی کا کرتے ہیں۔‘‘

والسلام

پروفیسر شیخ عبد الرشید

شعبہ سیاسیات۔ گورنمنٹ زمیندار کالج

بھمبر روڈ ۔ گجرات

24/7/2004

(۲)

مخدوم گرامی قدر حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ العالی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

’الشریعہ‘ میں جس فراخ دلی کے ساتھ قارئین کی خط وکتابت شامل کی جاتی ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ خصوصاً منکرین حدیث کو اہمیت دینا اور ان کے خطوط شائع کرنا، آپ کے خاندانی پس منظر اور علمی وجاہت کو سامنے رکھتے ہوئے ازحد افسوس ناک ہے۔ پرویزی مکتبہ فکر کے یہ لکھاری بعد میں ’الشریعہ‘ میں شائع شدہ خطوط کو اپنی تائید میں استعمال کر سکتے ہیں اور یقیناًکریں گے۔ جو لوگ قرآن وحدیث کو بازیچہ اطفال بنانے سے باز نہیں آتے، ان کے سامنے آپ اور آپ کا جریدہ کیا چیز ہیں؟ ازراہ کرم اس فراخ دلی کی حدود مقرر کیجیے، ورنہ بعض قارئین کی آرا غلط فہمی کی بنیاد پر منفی رخ بھی اختیار کر سکتی ہیں جو کہ کسی بھی لحاظ سے مفید ثابت نہ ہوگا۔

مسجد اقصیٰ کے حوالے سے بحث بھی جدت پسندی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس بحث کا علمی وعملی فائدہ کیاہے؟ کم از کم احقر کی سمجھ میں نہیں آ سکا۔ بجائے اس کے کہ مولانا عمار صاحب اپنے دفاع میں مضمون کی تیسری قسط لکھیں، اس بحث کو بند کردیں تو بہتر ہوگا۔

استاذ مکرم مولانا چنیوٹی قدس سرہ کے حوالے سے تحریر کردہ تفصیلی مضمون کے بعض پیراگراف حذف کرنا بہتر ہے۔ ان کی نشان دہی علیحدہ کاغذ پر کر رہا ہوں۔ وہ محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب کے حوالے کر دیں تاکہ وہ کمپوزنگ کرتے وقت حذف کر سکیں۔ 

والسلام۔ دعاگو ودعا جو

(مولانا) مشتاق احمد

استاذ جامعہ عربیہ چنیوٹ

۴۔ اگست ۲۰۰۴ء

(۳)

مکرم ومحترم گرامی قدر عالی جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدکم

مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

سلام اللہ ورحمتہ وبرکاتہ علیکم وعلیٰ من لدیکم وعلیٰ جمیع المسلمین الموحدین این ما کانوا ومن کانوا۔

محترم! بندہ عفا اللہ عنہ آن محترم کے علمی خاندان کا قدر دان، عقیدت مند بلکہ نیاز مند ہے۔ آن محترم کے والد محترم گرامی قدر مدظلہ العالی کے علمی دنیا پر عظیم احسانات ہیں۔ آپ بھی ماشاء اللہ ’الولد سر لابیہ‘ کے عین مطابق دینی علوم کی اشاعت میں اخلاص کے ساتھ مساعی جمیلہ میں مصروف زندگی گزار رہے ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔ اللہم زد فزد۔ اللہ تعالیٰ آن محترم کو مزید اخلاص وللہیت کے جذبہ صادق سے صحیح دین اسلام کی اشاعت کی توفیق بخشیں۔ ع ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد۔

محترم! اس اعتراف حقیقت کے ساتھ صمیم قلب سے تھوڑا سا گلہ بھی نوٹ کر لیجیے۔ جناب عالی! نہ جانے کیوں آپ نے سبائیت جیسے عظیم اور قدیم فتنے کی ناجائز آبیاری بلکہ وکالت شروع کر دی ہے جبکہ سبائی بروزن مرزائی، دونوں ہیں حقیقی بھائی بھائی۔ وائے افسوس آپ شیعوں کے کفر وضلالت کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی اپنے قارئین کو گویا ہدایت دے رہے ہیں تو خدا نخواستہ پھر آں محترم کا یہی پیدا کردہ نرم گوشہ ترقی کرتے ہوئے مرزائیت کے لیے سازگار کیفیت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ 

محترم! الشریعہ کے مسلسل دو شماروں یعنی جولائی اور اگست میں سبائیت کے لیے فضا سازگار بنائی جا رہی ہے۔ ماہ جولائی ۲۰۰۴ء کے شمارے میں آنجناب نے کلمہ حق یعنی اداریے میں شیعوں سے متعلق جو کچھ رقم فرمایا ہے، اسے ملاحظہ کر کے اہل حق کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ پھر اس کو مزید تقویت دینے کے لیے سرنامہ پر بھی اسے مرقوم کیا ہے۔ اسے کوئی اور صاحب یوں بھی زیادہ روشن خیالی سے لکھ سکتا ہے کہ ’’ہم مرزائیوں کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے ........‘‘ تو پھر آپ اس کے منہ میں کس طرح لگام دے سکتے ہیں جبکہ خود اپنی منطق آپ کے خلاف صغریٰ کبریٰ تیار کر کے یہی حد اوسط نکالے گی جو کہ آپ نے شیعوں کے بارے میں نکالی ہے۔ اللہ اکبر! پھر اگست کے شمارے میں تو اس سے بھی بڑھ کر ترقی کرتے ہوئے ’’شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ‘‘ میں ڈاکٹر یوگندر سکند نے جو کچھ رقم کیا ہے، خدا جانے آپ نے اسے پہلے ملاحظہ بھی فرمایا ہے یا ایسے ہی اشاعت کے لیے دے دیا ہے۔ آپ کے والد محترم مخدوم العلماء مدظلہ العالی اور عم محترم نے بھی اسے ضرور ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ اس کے بارے میں ان مقدس علماء حق کی رائے کیا ہے، جبکہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ ان ہر دو حضرات کی زیر سرپرستی شائع ہوتا ہے۔ نہ جانے یہ ڈاکٹر یوگندر سکند کس زمرے کا فرد ہے جس کا نام ہی ہمارے لیے تعجب انگیز ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس صاحب نے شیعوں کے اس مصنوعی دین کا مطالعہ ہی نہیں کیا بلکہ یوگندر صاحب شیعہ مسلک کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ براہ کرم اس خطرناک شیعہ نواز کو محقق اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نور اللہ مرقدہ کی زندگی کی آخری تصنیف لطیف جو آپ نے سبائیوں کی تصنیفات کی روشنی میں لکھی ہے اور شیعہ عقائد کے کفر پر تمام علما کے دستخط لیے تھے، ضرور موصوف کو مطالعہ کی سفارش فرمائیں اور اس کتاب کے مطالعہ کے بعد پھر موصوف کی رائے معلوم کیجیے۔ محترم! خدارا آپ شیعیت کی کافرانہ تقیہ کی دلدل میں ہرگز نہ پھنس جائیے۔ اہل اسلام کے نزدیک شیعہ متفقہ طور پر کافر ہے۔ پھر شیعہ سے شیعہ نواز زیادہ خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائیں۔ 

میں مخالف نہیں، آپ کا خادم ہوں۔ براہ کرم اس مکتوب کو مکتوبات میں ضرور شائع فرما کر ممنون فرمائیں۔ شکریہ

حافظ ارشاد احمد دیوبندی

ظاہر پیر۔ ضلع رحیم یار خان

7/8/2004

(۴)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

خیریت طرفین نیک مطلوب۔

آپ نے اپنے کالم میں (پاکستان، ۲۷ جولائی) جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کو پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ بلا تاخیر آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گیا۔ 

دینی طبقات میں رواداری کو فروغ دینا اس وقت بہت بڑی خدمت اور ضرورت ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس کسی کو مذہب سے تھوڑا بہت لگاؤ ہو جاتا ہے، اس کا پہلا کام دوسرے مسلک اور مذہب سے متعلق آدمی سے نفرت کا اظہار کرنا بن جاتا ہے۔ اہل مسجد آپس میں لڑ رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مذہب سے لا تعلق لوگ آپس میں ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ مذہبی اداروں کے طلبہ کے اندر، مذہبی رسائل میں اور دینی مجالس میں اس فکر، رویے اور طرز زندگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ آپ نے اپنے کالم میں کیا ہے۔ دیوبندی ہو کر، جمعیت علماء اسلام سے منسلک ہو کر جماعت اسلامی کے ادارے میں جانا اور ان کا آپ ایسے مخالف فکر کے آدمی کو اپنے ہاں بلانا یقیناًخوش آیند ہے۔

آپ اپنے موقر رسالے (الشریعہ) میں ہمیشہ اس طرز فکر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو مزید بڑھایا جائے۔ ایک دوسرے کی بات کو سننے کا حوصلہ پیدا کیا جانا چاہیے۔ اپنی بات کو دلائل کے زور پر منوانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ دوسرے کی بات پر تنقید کرنے سے قبل اس کے دلائل کا بخوبی جائزہ لینا چاہیے۔

جس رویے کا ذکر آپ نے کیا ہے، کاش یہ رویہ آپ کے مقتدیوں میں بھی پیدا ہو جائے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ہم منصب علما سے بار بار یہی گزارش کریں کہ وہ خود بھی اور اپنے مقتدیوں کو بھی اسی طرز عمل کے مظاہرے کا پابند بنائیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

(ڈاکٹر) خالد عاربی

حسن پورہ۔ کولیاں روڈ۔ ڈنگہ

(۵)

محترم محمد عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم

آپ اور مدیر اشراق مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ حضرات نے ہیکل سلیمانی اور مسجد اقصیٰ کے متعلق اس دور میں کلمہ حق بلند کیا، جب حق کی آواز بلند کرنے والا ہر شخص ’’یہود کا ایجنٹ‘‘ قرار پاتا ہے، اور پھر ایسا شخص نہ صرف مباح الدم قرار پاتا ہے بلکہ اس کے خلاف جہاد بالسیف سب سے بڑا مذہبی فریضہ قرار پاتا ہے۔ خدا آپ کی سعی کو قبول کرے اور آج کے تمام مدعیان اسلام کو آپ ہی کی طرح حق کو دین اور دلیل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنے اور باطل کو اسی پر پرکھ کر رد کرنے کی توفیق دے۔

آپ کے مضامین سے چند سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کریں گے:

۱۔ ہمارا اور بنی اسرائیل کا دین وہی اللہ کا بھیجا ہوا دین اسلام ہے۔ اگر کچھ فرق ہے تو تقاضائے حکمت کے تحت، شریعت میں کہیں کہیں کچھ اختلاف ہے۔ ان کی شریعت کی بعض سختیاں، بنی اسرائیل کی کج روی اور کج بحثی کی وجہ سے بطور سزا ان پر عاید کی گئیں۔ اللہ کی آخری شریعت میں خدا نے یہ سختیاں منسوخ کر دیں۔ اسی طرح بعض سنن، بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے برقرار رکھے گئے، مثلاً ہفتہ کی بجائے جمعہ کا تقدس۔ سوال یہ ہے کہ ہیکل کی مقدس چٹان اگر بنی اسرائیل کی دینی روایت میں مقدس تھی تو ہماری شریعت میں کیوں ایسا نہیں، جبکہ اس چٹان کی اس مقدس حیثیت کو ہماری شریعت کی کسی نص نے منسوخ نہیں کیا؟ بلکہ اس کے برعکس یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قرآن نے ہیکل اور اس سے منسوب تمام اشیا کو شعائر میں سے قرار دیا ہو۔ چنانچہ شب معراج کے رؤیا کے متعلق قرآن فرماتا ہے۔ (ترجمہ):

’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے دور کی مسجد (یعنی ہیکل سلیمانی) جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ دکھائیں اسے اپنی نشانیاں۔‘‘

اس آیت میں موجود الفاظ ’’اپنی نشانیاں‘‘ سے مراد کیا، دیگر نشانیوں کے علاوہ، ہیکل سلیمانی اور اس کے ملحقہ دیگر شعائر نہیں ہو سکتے؟ اگر ایسا مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ محمدی شریعت، بنی اسرائیلی شریعت کے ان شعائر کو sanctity عطا کر رہی ہے۔

یہاں یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ بنی اسرائیل کی شریعت کے شعائر کو محمدی شریعت کے شعائر قرار دینے سے میرا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان پر اپنا حق تولیت جمائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے ان بھائیوں سے share کریں جو ہماری ہی طرح خود بھی دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، یعنی یہود اور مسیحی۔

۲۔ صخرہ کے قریب سیدنا عمر یا دیگر صحابہ کے نماز نہ پڑھنے سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شریعت محمدی میں شعیرہ نہیں ہے۔ چٹان کے قریب نماز نہ پڑھنے کی دیگر حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً اس کی حیثیت قبلہ کے تصور کو مٹانا۔ ہیکل اور اس سے ملحق شعائر کی حیثیتِ قبلہ کو نص قرآنی نے منسوخ کر دیا ہے، مگر ان کے شعائر ہونے کی حیثیت کو قرآن نے رؤیائے شب معراج کا تذکرہ کر کے reinforce کیا ہے۔

۳۔ امام ابن تیمیہؒ کی یہ رائے کہ ’’اس (صخرہ) کی تعظیم کا طریقہ یہود کی مشابہت اختیار کرنے کے زمرے میں آتا ہے‘‘ میری ناچیز رائے میں نظر ثانی کے قابل ہے۔ امام صاحب کے علمی مقام اور مرتبہ کو پیش نظر رکھا جائے تو مجھ ناچیز کو ان سے، ظاہر ہے وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ کو سمندر سے ہوتی ہے، مگر ان کی رائے پر تبصرہ نہ کرنا ان کے اپنے اسوہ کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ صخرہ کی تعظیم کیا صرف یہود سے مشابہت ہے؟ کیا یہ بے شمار انبیائے بنی اسرائیل کی، ان کے جاں نثار ساتھیوں اور زمانہ قدیم کے ان گنت سچے مسلمانوں کی مشابہت بھی نہیں؟ پھر یہود کی مشابہت اگر کوئی جرم ہے تو آنحضرت ﷺ دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ کیا ایسا کرتے ہوئے وہ بنی اسرائیل کی شریعت کا اتباع نہیں کرتے تھے؟ امام صاحب فرماتے ہیں ’’ہماری شریعت میں جیسے ہفتے کے دن کے بارے میں کوئی حکم نہیں، اس طرح صخرہ کے حوالے سے بھی کوئی خصوصی حکم باقی نہیں رہا۔‘‘ ہفتہ کا حکم تو بنی اسماعیل کی سنت پر عمل کرنے سے حضور ﷺ نے منسوخ کر دیا، مگر صخرہ کے شعیرہ ہونے کا حکم آخر کس نص سے منسوخ ہوا؟ مزید یہ کہ رؤیائے شب معراج میں جہاں آپ کو ہیکل دکھایا گیا، وہاں ہیکل کا Holy of holies یعنی صخرہ جو ہیکل کا اصل یا دل تھا، کیوں دکھانے سے رہ گیا؟ اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ اس کا حصہ تو تھا ہی۔

۴۔ مسجد عبد الملک (یا مسجد عمر) اس احاطے میں تعمیر کی گئی ہے جس پر اصلاً یہود کا حق ہے، اس لیے اگر وہ اسے گرانا چاہیں تو کیا ہمیں اس پر کشت وخون کرنا چاہیے؟ پھر یہ مسجد ایک عام مسجد ہے۔ جو مسجد مسلمانوں کی تیسری مقدس مسجد ہے اور جس کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے، وہ تو ہیکل سلیمانی ہے۔ اسی کے متعلق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مانگی جانے والی دعا کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے۔ تو پھر کیا ہمیں اس کی تعمیر یہود پر چھوڑ رکھنی چاہیے، یا اس شرف کو خود حاصل کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ کیوں نہ ہم ہیکل خود حضرت سلیمان کے نقشہ پر تعمیر کر دیں؟ اور اگر یہود کے لیے یہ قابل قبول نہ ہو تو آخر ہم قبہ صخرہ کے مقدس حصے میں داخل ہونے کی سعادت سے محروم کیوں رہیں؟ احاطہ ہیکل یہود کے حوالے کرنے کے بعد ہم مسجد عبد الملک تک کیوں محدود رہیں؟ ہم کیوں نہ ان سے درخواست کریں کہ وہ ہیکل میں اپنے طریقہ سے عبادت کریں اور ہمیں اپنے طریقے سے کرنے دیں۔ ہیکل کو اس دنیا میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ دنیا کے تین عظیم مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے پیروکاروں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔ یہ عالم انسانیت میں محبت، امن، رواداری، خدا ترسی اور حضرت ابراہیم کے پیروکاروں کے مذاہب کی مشترکہ دعوتی اساس کا مرکز بن سکتا تھا۔ مگر افسوس، دین ابراہیمی کے درست ترین version کے حامل ہونے کے دعویٰ داروں نے اسے نفرت، عدم برداشت اور قتل وغارت کا مرکز بنا دیا۔

والسلام

محمد عزیر بھور

(۶)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکرمی محمد عزیر بھور صاحب 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ بے حد شکریہ

مسجد اقصیٰ سے متعلق میرے نقطہ نظر کے حوالے سے آپ نے جو استفسارات کیے ہیں، ان کے بارے میں میری گزارشات حسب ذیل ہیں:

۱۔ صخرۂ بیت المقدس کے تقدس اور اس کی حرمت وعظمت کے بارے میں آپ کے ارشاد سے مجھے پوری طرح اتفاق ہے۔ یہ یقیناًایک محترم اور مقدس پتھر ہے اور اس کی حرمت کو اسی طرح ملحوظ رکھا جانا چاہیے جیسا کہ پورے احاطہ ہیکل کی حرمت وتقدس کو۔ ہمارے فقہا جہاں نبی ﷺ کے واضح ارشادات کی بنا پر رفع حاجت کے وقت مسجد حرام کی طرف رخ کر کے بیٹھنے کو ممنوع قرار دیتے ہیں، وہاں صخرہ کے استقبال واستدبار سے گریز کو بھی مستحب مانتے ہیں۔ اسی طرح ’تغلیظ الیمین بالمکان‘ یعنی قسم کو موکد بنانے کے لیے کسی مقدس مقام میں حلف لینے کے مسئلے میں بھی ان کے ہاں بیت اللہ اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ صخرۂ بیت المقدس کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو باتیں ملحوظ رہنی چاہییں۔ ایک تو وہی جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، یعنی یہ کہ کسی چیز کی حرمت وتقدس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تولیت کے حقدار بھی لازماً مسلمان ہیں۔ اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے لیے صخرہ کی عظمت وحرمت محض اعتقادی اور اصولی نوعیت کی ہے۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اس کی رسمی (Ritualistic) تعظیم کا کوئی طریقہ (مثلاً صخرہ کا طواف یا عبادت کی نیت سے اس کو چھونا یا اہتمام سے اس کے قریب نماز پڑھنا وغیرہ) صاحب شریعت سے کسی ثبوت کے بغیر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ امام ابن تیمیہ بھی، جہاں تک میں ان کی رائے پر غور کر سکا ہوں، اسی رسمی تعظیم کو یہود کی مشابہت قرار دیتے ہیں۔ ہاں، اگر وہ اس کی اعتقادی اور اصولی حرمت کی بھی، فی الواقع، بالکلیہ نفی کرتے ہوں تو پھر، البتہ، ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ 

۲۔ آپ کی یہ رائے کہ مسلمان ازخود ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرکے پورے احاطہ ہیکل کو مسلمانوں اور یہود کی مشترکہ عبادت گاہ کی حیثیت دے دیں، غالباً مثالیت پسندانہ (Idealistic) ہے۔ اگر ایسا کرنے میں کوئی حقیقی نظری یا عملی رکاوٹ نہ ہوتی تو آپ کی بات قابل غور تھی، لیکن صورت حال یہ ہے کہ جانبین کے متعصبانہ عملی رویے سے قطع نظر، یہودی فقہ کی رو سے کسی غیر یہودی کا ہیکل کی اصل عمارت میں داخلہ ہی سرے سے ممنوع ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کے مذہبی علما اس فقہی شرط سے دست بردار ہو کر آپ کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے رضامند ہوں گے۔ اگر آپ غور کریں تو مسئلے کا عملی حل اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا جس کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔ آپ کا بتایا ہوا طریقہ اگر مطلوب یا افادیت کے ساتھ قابل عمل ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے مسجد کا ایک کونہ مخصوص کر دینے کا طریقہ اختیار نہ فرماتے۔

اگر مزید کوئی بات وضاحت طلب ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ 

عمار ناصر

۲۹ جولائی ۲۰۰۴ء

(۷)

محترمی عمار ناصر صاحب

السلام علیکم

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا عنایت نامہ ملا جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

چونکہ یہودی فقہ میں اس بات کی اجازت نہیں کہ غیر یہودی ہیکل کی عمارت میں داخل ہو سکے، اس لیے ظاہر ہے ہم اصل مسجد اقصیٰ کی عمارت نہ تو تعمیر کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں، نہ اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہی تجویز قابل عمل رہ جاتی ہے جو آپ نے پیش کی ہے۔ صورت حال کی وضاحت کے بعد مجھے آپ کی رائے سے پورا اتفاق ہے۔

خاکسار

محمد عزیر بھور

mubhaur@hotmail.com


مکاتیب

(ستمبر ۲۰۰۴ء)

Flag Counter