ستمبر ۲۰۰۴ء

جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۵۔ اگست کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک سیمینار تھا جو مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی کے ادارے میں ’’ندوۃ الشباب الاسلامی العالمی‘‘ سعودی عرب کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی اہل حدیث علماے کرام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا روپڑی خاندان سے تعلق ہے اور وہ روایتی مسلکی دائرے پر اکتفا کرنے کے بجائے وسیع تر ملی مفاد کے ماحول میں کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’مجلس التحقیق الاسلامی‘‘ اور ماہوار جریدہ ’’محدث‘‘ نوجوان علما میں آج کے معروضی مسائل پر غور وتحقیق کا ذوق بیدار کرنے اور دینی حلقوں کو ان کی طرف توجہ دلانے کی...

ضعیف اور موضوع احادیث کا فتنہ

― ڈاکٹر یوسف القرضاوی

داعی کے لیے ضروری ہے کہ موضوع ہی نہیں بلکہ ضعیف اور منکر حدیثوں سے بھی اپنے کو دور رکھے۔ علماے امت نے موضوع حدیثوں کی روایت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ جواز کی صرف ایک صورت ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کو ان کے خلاف آگاہی دینا ہو اور وہ ساتھ ہی صاف صاف بتاتا جائے کہ یہ روایت ’موضوع‘ ہے تاکہ اس کو پڑھنے اور سننے والے اپنے کو اس سے بچا کر رکھیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ موضوع حدیث کی روایت حرام ہے اگر آدمی کو اس کا پتہ ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا مضمون کیا ہے۔ وہ احکام سے متعلق ہے یا واقعات اور قصص سے یا ترغیب وترہیب وغیرہ سے۔ اس کے جواز کی صرف ایک صورت...

سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ

― مولانا مشتاق احمد

نام ونسب۔ مولانا موصو ف چنیوٹ میں راجپوت خاندان کے ایک فرد حاجی احمد بخش ولد قادر بخش کے ہاں۳۱دسمبر ۱۹۳۱ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین نے خواب میں دیکھا کہ ان کے سامنے سے روشنی پھوٹ رہی ہے جس سے گرد وپیش کا علاقہ منور ہورہا ہے۔ آپ کے والد محترم نے قریبی مسجد کے اما م صاحب کے سامنے خواب بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا بیٹا عطا فرمائیں گے جو دین اسلام کی خدمت کرے گا اور بکثرت لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔ امام مسجد کی یہ تعبیر جس طرح پوری ہوئی، محتاج بیان نہیں ۔مولانا چنیوٹی کے آبا واجداد میں سے رائے گل محمد نے...

ڈارفر کا قضیہ اور عرب لیگ کا کردار

― ادارہ

عرب لیگ سوڈان میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے کوئی مضبوط موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے اس امر کے بارے میں سنجیدہ شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں کہ عرب ممالک اپنے علاقائی مسائل کو ازخود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایجپشن آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے سیکرٹری جنرل حافظ ابو سعدا نے کہا ہے کہ ’’عرب جنجاوید ملیشیا کو جو ڈارفر میں عام شہریوں کو قتل کر رہی ہیں، روکنے کے لیے عرب حکومتوں کو سنجیدہ قدم اٹھانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو سنجیدہ مداخلت کا تقاضا کرتا ہے اور اگر عربوں میں اسے روکنے کی اہلیت نہیں...

آئیے! اپنا کتبہ خود لکھیں

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

تمدنی زندگی کی گہما گہمی میں ہمارے پاس سوچ بچار کے لیے عموماً وقت نہیں ہوتا ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے بھی غور و فکر کے تقریباً سبھی راستے مسدود کر دیے ہیں ۔ آخر معلومات کے سیلاب میں بہنے والوں کو توقف و ٹھہراؤ کی فرصت کہاں ! جدید عہد کی یہی بربریت ہے۔ ہر شخص کے پاس معلومات کا ڈھیر ہے اور تقریباً ہر شخص بے شعور ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا معلومات ، شعور و آگہی کا بدل ہو سکتی ہیں ؟ مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ امریکی صدر کے لیے کم از کم ۳۵ سال کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان میں ۱۹۷۳ کے دستور کے تحت صدر کی کم از کم عمر ۴۵ سال ہے۔ اسے ہم معلومات کے زمرے میں شمار...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا قاری ہونے کے ناطے مجھے یہ لکھنے میں عار نہیں کہ یہ ماہنامہ اپنے نوجوان، توانا فکر کے حامل لکھاریوں کی بدولت قارئین کے لیے ہمیشہ Food for thought فراہم کرتا ہے، خاص کر میاں انعام الرحمن کا قلم ’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ کے حوالے سے نیک نیتی سے کوشاں ہے۔ ان کے افکار ، خیالات، اسلوب تحریر سے اختلاف واتفاق پڑھنے والوں کا حق ہے مگر نوجوانی میں ان کا جذبہ صادق اور سعی مسلسل دعوت فکر ضرور دیتی ہے۔ ماہ جون کے شمارے میں ان کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی...

یوم آزادی کے موقع پر الشریعہ اکادمی میں تقریب

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۱۴۔ اگست ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ وطن عزیز پاکستان کے ۵۸ ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ پروگرام کے مہمان خصوصی الشیخ حبیب النجار تھے جبکہ نقابت کے فرائض تین سالہ خصوصی کورس کے سال اول کے طالب علم حافظ ابو تراب نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد کاشف قیصر نے تلاوت کلام پاک سے کیا، جبکہ مولانا مطیع الرحمن نے رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد حافظ اسجد محمود نے قومی ترانہ پیش کیا اور تمام شرکا نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھا۔ بعد ازاں طلبا کے دو گروپوں نے...