ڈارفر کا قضیہ اور عرب لیگ کا کردار

ادارہ

عرب لیگ سوڈان میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے کوئی مضبوط موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے اس امر کے بارے میں سنجیدہ شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں کہ عرب ممالک اپنے علاقائی مسائل کو ازخود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

ایجپشن آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے سیکرٹری جنرل حافظ ابو سعدا نے کہا ہے کہ ’’عرب جنجاوید ملیشیا کو جو ڈارفر میں عام شہریوں کو قتل کر رہی ہیں، روکنے کے لیے عرب حکومتوں کو سنجیدہ قدم اٹھانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو سنجیدہ مداخلت کا تقاضا کرتا ہے اور اگر عربوں میں اسے روکنے کی اہلیت نہیں ہے تو انھیں بیرونی امداد قبول کر لینی چاہیے۔‘‘

اقوام متحدہ نے ڈارفر میں جاری تصادم کو اس وقت دنیا کا سنگین ترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ فروری ۲۰۰۳ء میں جب سے حکومتی حمایت کے تحت جنجاوید ملیشیا نے ڈارفر میں باغی گروپوں کے خلاف حملے کرنے شروع کیے ہیں، اس وقت سے پچاس ہزار آدمی قتل اور بارہ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۱۵۵۶ میں، جو ۳۰ جولائی کو منظور کی گئی، سوڈانی حکومت کو جنجاوید ملیشیا کو غیر مسلح کرنے اور امن وامان کو بحال کرنے کے لیے ۳۰ دن دیے گئے تھے۔ بصورت دیگر اس پر غیر متعین سفارتی اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ فوجی مداخلت بھی خارج از امکان نہیں۔

حافظ ابو سعدا نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی مداخلت ضروری تھی کیونکہ ۲۲ رکنی عرب لیگ اپنے ایک رکن ملک سوڈان کے خلاف فوجی یا اقتصادی دباؤ ڈالنے کے معاملے میں ہچکچا رہی تھی۔ انہوں نے انٹر پریس نیوز سروس کو بتایا کہ ’’عرب لیگ عرب حکومتوں کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے نہ کہ عرب عوام کے۔ ہم اس سے پہلے عراق میں بھی یہ دیکھ چکے ہیں اور اب سوڈان میں بھی یہی کچھ دیکھ رہے ہیں‘‘ ۔ 

اس ماہ قاہرہ میں اکٹھے ہونے والے عرب لیگ کے وزراے خارجہ نے سوڈان کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے سوڈانی حکومت اور باغیوں کے مابین جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مبصرین بھیجنے پر تو اتفاق کیا لیکن ’’علاقے میں جبری فوجی مداخلت کی کسی بھی دھمکی‘‘ کو سختی سے مسترد کر دیا۔ 

ابو ظبی کے امارات سنٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر جہاد عودہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ۱۵۵۶ کو مسترد کر کے عرب لیگ نے دوسرے مسائل پر ’’اپنی اخلاقی ساکھ کھو دی ہے۔ عرب ممالک ہمیشہ اس بات پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں کہ اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کیا ہے اور اس کی فوج ان اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے جو زمینوں کے جائز فلسطینی مالکوں سے ان کی زمینیں چھین لینا چاہتے ہیں۔ لیکن اب بعینہ یہی کچھ سوڈان کے معاملے میں ہو رہا ہے۔‘‘

عرب ملیشیا نے گزشتہ ایک سال میں جتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے، ان کی تعداد ستمبر ۲۰۰۰ میں شروع ہونے والے فلسطینی انتفاضہ کے بعد اسرائیلی گولیوں سے مرنے والے فلسطینیوں سے زیادہ ہے۔ سیاہ فام افریقی مسلمانوں کے خلاف جبر وتشدد کے معاملے میں عربوں کی خاموشی کے نتیجے میں نوبت نسل پرستی اور نسل کشی کے الزام تک پہنچ چکی ہے۔

جہاد عودہ کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کی ہچکچاہٹ کے پیچھے نسل پرستی کا عامل بھی کارفرما ہو سکتا ہے لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ تنظیم کے باہمی اختلافات (ڈارفر میں امن کے خواہاں) گنتی کے چند عرب ممالک اور این جی اوز کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ لیگ کے ارکان کے باہمی اختلافات نے گزشتہ سالوں میں اس کو مفلوج کیے رکھا ہے اور بہت سے امور پر ایک متفقہ موقف اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ ۲۰۰۱ء میں اپنامنصب سنبھالنے کے بعد مسلسل اصلاح کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو عرب لیگ ’’مضبوط بن جائے اور یا سرے سے ختم کر دی جائے۔‘‘

جہاد عودہ نے انسٹھ سال پرانی عرب لیگ کو ’’کمزور اور بکھری ہوئی‘‘ قرار دیا اور بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے اس کی صلاحیت پر شک وشبہے کا اظہار کیا۔ ’’عرب ممالک ایسا کردار ادا کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اس قابل نہیں ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ ڈارفر کے مسئلے پر حقیقی پہل کس نے کی ہے؟ مغرب نے۔ عربوں سے اس معاملے میں تاخیر ہو گئی ہے، وہ ہچکچا رہے ہیں بلکہ حقائق کو سمجھنے سے بھی عاری ہیں۔‘‘

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عرب حکومتیں سوڈانی حکومت پر دباؤ ڈالنے سے اس لیے بھی گھبرا رہی ہیں کہ اس کے نتیجے میں خود ان کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔ قاہرہ کے سنٹر فار ڈیولپنگ کنٹری سٹڈیز کے ڈائریکٹر مصطفی کامل السید اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’خود بعض عرب حکومتوں کے ہاں اقلیتوں کے مسائل پائے جاتے ہیں اس لیے وہ بین الاقوامی مداخلت کو پسند نہیں کرتیں‘‘۔ ’’وہ ڈارفر میں بین الاقوامی تعاون کی تو خواہاں ہیں لیکن اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی حل مسلط کیے جانے کے حق میں بالکل نہیں۔‘‘

مصر کے سیاسی تجزیہ نگار حسن ابو طالب کو یقین ہے کہ اندرونی خامیوں کے باوجود عرب لیگ اس معاملے سے نبٹنے کی اہل ہے۔ ’’اگر عرب لیگ اس معاملے میں بالکل کنارہ کش ہو جائے تو اس سے معاملات زیادہ خراب ہو جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی حکومت مغربی امداد کی پیش کش کے بار ے میں تو شک وشبہے کا شکار تھی لیکن ساتھی عرب ممالک کی پیش کش کے بارے میں اس نے زیادہ تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔

سعودی عرب نے ڈارفر میں لڑائی سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کے لیے ۷ء۱۰ ملین ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ شام، کویت اور مصر فضا کے ذریعے سے خوراک پہنچانے اور طبی امداد فراہم کرنے کے سلسلے کا آغاز کر چکے ہیں۔ سوڈانی حکومت نے عرب حکومتوں اور افریقی یونین کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے کہ وہ حکومت اور باغی گروپوں کے مابین اپریل ۲۰۰۴ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی نگرانی کے لیے مبصر بھیجیں گے۔ دونوں بلاکوں نے ان مبصرین کی حفاظت کے لیے فوجی بھی بھیجے ہیں لیکن سوڈان کا اصرار ہے کہ صرف اس کے اپنے فوجی امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری انجام دیں گے۔

مغربی مبصرین نے عرب حکومتوں پر سوڈان کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن ابو طالب کا کہنا ہے کہ سوڈانی حکومت کے تعاون سے کام کرنا ایک پر امن حل کے حصول کے لیے لازم ہے۔ ’’بحران کے حل کے لیے آپ کو سوڈانی حکومت کے ساتھ ڈیل کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا ہے‘‘۔ ’’ہمیں ان کی مدد کرنی ہے نہ کہ سزا دینی ہے کیونکہ اگر ہم حکومت کو سزا دیتے ہیں تو اس کی زد میں وہاں کے غریب عوام بھی آئیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا پیچیدہ پس منظر کی تہہ میں جائے بغیر ڈارفر کی صورت حال کے بارے میں رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈارفر میں حالیہ لڑائی کی وجہ مبینہ طور پر وہ پرانا جھگڑا ہے جو سوڈانی صدر جنرل عمر البشیر اور جیل میں بند اپوزیشن اسلامی لیڈر حسن الترابی کے مابین چل رہا ہے۔ انہوں نے ترابی کے حامیوں پر الزام عائد کیا کہ عمر البشیر کی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ کو بڑھانے کے لیے انہوں نے ڈارفر میں عرصے سے سلگتی ہوئی کشمکش کو دانستہ بھڑکایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ جنجاوید ملیشیا سے تو ہتھیار واپس لے لیں جبکہ ڈارفر کے باغی ابھی مسلح ہوں۔ اس سے مزید خون خرابہ ہوگا۔‘‘

(بشکریہ روزنامہ ڈان، ۲۲ اگست ۲۰۰۴ء)


حالات و واقعات