مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ پاکستان

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے جنوری کے تیسرے عشرے میں پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی، لاہور، ملتان، چیچہ وطنی، ساہیوال اور اسلام آباد میں مختلف دینی مدارس ومراکز کے معائنہ اور سرکردہ علماے کرام سے ملاقاتوں کے علاوہ ۲۱ جنوری کو دو روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے۔ انھوں نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ اور طلبہ کی مشترکہ نشست میں موجودہ عالمی صورت حال اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو اسی عنوان پر لیکچر دیا۔ انھوں نے جامعہ مدینہ جدید رائے ونڈ لاہور، دار بنی ہاشم مہربان کالونی ملتان، مرکزی جامع مسجد چیچہ وطنی، جامع مسجد عثمان غنی جی ٹین مرکز اسلام آباد، ادارۂ علوم اسلامی بھارہ کہو اسلام آباد، جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی، دفتر عالمی مجلس احرار اسلام نیو مسلم ٹاؤن لاہور اور دیگر اداروں میں علماے کرام اور دینی راہ نماؤں سے عالم اسلام کے مسائل پر تبادلہ خیالات کیا اور متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ انھوں نے کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی سے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں ملاقات کی اور گوجرانوالہ میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی سے ورلڈ اسلامک فورم کے معاملات اور دیگر امور پر صلاح مشورہ کیا۔ لیسٹر برطانیہ کے تعلیمی ادارہ دار ارقم کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق ملا بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطابات میں اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے پوری نسل انسانی سے خطاب کر کے اپنی دعوت پیش کی تھی لیکن ہم نے نسل انسانی سے مخاطب ہونا چھوڑ دیا ہے اور اپنے محدود مسلکی، علاقائی اور طبقاتی حلقوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے دنیا میں ہر دور میں دو مقاصد کے لیے کام کیا ہے۔ایک یہ کہ انسان کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا راستہ اختیار کر لے اور دوسرا یہ کہ انسان کو انسان کی خدائی سے نجات دلائی جائے اور زبردستی خدا بن بیٹھنے والوں کے جبر سے غریب انسانوں کی جان چھڑائی جائے۔ آج پھر مٹھی بھر لوگ پوری دنیا کے خدا بن بیٹھے ہیں اور زمین کے بیشتر وسائل پر قبضہ کر کے پوری نسل انسانی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ اس ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھانا اور انسان کا رشتہ اس کے خالق ومالک کے ساتھ پھر سے جوڑنا ہماری ذمہ داری ہے اس لیے کہ اب اس کام کے لیے کوئی نبی نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ﷺ کے امتی کی حیثیت سے یہ ذمہ داری ہم پر آتی ہے کہ ہم اپنے محدود حلقوں سے باہر نکل کر پوری نسل انسانی کو مخاطب بنائیں اور سب انسانوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ غریب انسانوں کو جھوٹے خداؤں کے جبر اور استحصال سے نجات دلانے کی محنت کریں۔

انھوں نے علماے کرام پر زور دیا کہ وہ آج کے حالات اور تقاضوں کو سمجھیں اور جدید علمی وفکری چیلنجز کا ادراک حاصل کر کے قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان کے بارے میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آج مغرب مادی وسائل، سائنس، ٹیکنالوجی اور سیاست ومعیشت میں ہم سے بہت آگے ہے اور ہم کسی شعبہ میں بھی اس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ مغرب فکری لحاظ سے تہی دامن ہے اور اس کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے۔ آج دنیا کا منظر یہ ہے کہ فکری اور تہذیبی ورثہ مسلمانوں کے پاس ہے اور وہ قرآن وسنت کی محفوظ تعلیمات کی دولت سے مالامال ہیں لیکن دنیاوی اسباب اور مادی وسائل کے حوالہ سے تہی دست ہیں جبکہ مغرب دنیاوی اسباب اور مادی وسائل کے ساتھ ساتھ عسکری قوت اور بالادستی سے مالامال ہے مگر فکری اور تہذیبی لحاظ سے تہی دامن ہے۔ اس صورت حال میں ہماری ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہم دنیا تک خدا کا پیغام پہنچانے اور پوری نسل انسانی کو جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت واسوہ سے روشناس کرانے کے لیے کمربستہ ہو جائیں کیونکہ آج بھی دنیا کی نجات وفلاح اسی پیغام میں ہے۔

مولانا منصوری نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے پروگرام اور معمولات کا جائزہ لیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ الشریعہ اکادمی آج کے حالات اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے علمی اور عملی پیش رفت کر رہی ہے۔

مولانا محمد عامر انور کی شادی خانہ آبادی

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے رفیق کار مولانا محمد عامر انور ۷ فروری ۲۰۰۳ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور رفقاے کار مولانا محمد یوسف، مولانا حبیب نجار، مولانا محمد عمار ناصر، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور مولانا احسن ندیم نے ۹ فروری کو چک ۶۴ جنوبی، سلانوالی، ضلع سرگودھا میں ان کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی اور ان کی خانہ آبادی پر انھیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کی۔ 

اخبار و آثار