مکاتیب

ادارہ

(۱)

از عتیق الرحمن سنبھلی۔ لندن

مورخہ جنوری ۲۰۰۴

بخدمت گرامی جناب ڈاکٹر صفدر محمود بالقابہ ۔ پاکستان

محترمی ڈاکٹر صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آج، ۴ جنوری کے جنگ میں جناب کے کالم (بعنوان ’’قرض اور فرض‘‘) پر نظر گئی تو شروع ہی میں حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کا نام خاص طور پر باعث ہوا کہ اسے پڑھوں۔ یہ آج کا کالم آپ نے جس سابق مضمون کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے، اس میں حضرت مولانا سے متعلق حصہ میں آپ کے آخری جملہ نے میرے دل میں تقاضا پیدا کیا تھا کہ کچھ گزارش کروں، مگر ایک دو بار کے سابق تجربہ کو یاد کر کے خیال ہوا کہ آپ ہی کیوں ایک اجنبی کی گزارش سے کوئی فرض اپنے اوپر عائد سمجھ لیں گے۔ یہ سوچ کر رہ گیا۔ مگر آج کے کالم نے جو اس دن کی بات یاد دلا دی ہے تو اب وہ آپ تک پہنچ ہی جانی بہتر لگتی ہے۔

میرے پاس آپ کا سابقہ مضمون محفوظ نہیں ہے کہ بعینہ الفاظ نقل کر سکوں، لیکن بات یاد ہے کہ آنجناب نے حضرت مولانا کا اپنے مبینہ خواب سے متعلق ارشاد نقل کر کے فرمایا تھا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے بس آپ کے اسی جملہ پر کچھ عرض کرنے کا تقاضا ہوا تھا، اس لیے کہ اس میں تبصرہ نہ کر کے بھی آپ نے تبصرہ کے لیے کچھ نہ چھوڑا تھا۔ صرف ’’برہنہ گفتن‘‘ تک جانے سے احتیاط فرمائی تھی۔ اور پاکستانی تحریک کے ساتھ آپ کے قلبی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے مخالف تحریک بزرگوں کے معاملے میں اتنی احتیاط بھی قدرے قدر کی چیز تھی، ورنہ خیال ہی نہ ہوتا کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کیا جائے۔ بہرحال عرض یہ کرنا تھا کہ اہل کتاب جو اپنے بہت سے مذہبی رویوں پر اصرار کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے دیا کرتے تھے تو اس سلسلہ میں ایک موقع پر قرآن پاک میں ان سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا گیا ہے: (ترجمہ) ’’سنتے ہو، تم لوگ جھگڑ چکے اس بات میں جس کی تمھیں کچھ خبر تھی، سو اب کس بنیاد پر جھگڑتے ہو ان باتوں میں جن کا تمھیں علم نہیں؟‘‘ (آل عمران۔ ۶۶) معاف کیجیے گا، میرا مقصد آپ کے علمی مقام کی تنقیص نہیں ہے، صرف ازراہ خیر خواہی اس طرف توجہ دلانا ہے کہ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، جن سے سیاسی اختلاف کا کچھ بھی حق آپ جیسے اہل علم کو ہو، تاہم علم دین میں ان کے مقام اور مرتبہ سے اگر زیادہ نہیں تو اتنی واقفیت کے بعد بھی (جس سے آپ جیسے حضرات کی ناواقفیت کا تصور مشکل ہے) کہ وہ دیوبند جیسی مسلمہ درس گاہ کے صدر نشیں تھے، دینی معاملات میں ان کے کسی ارشاد پر اس طرح کے تبصرہ کا حق بھی اپنے لیے سمجھنا اپنے حدود سے تجاوز کے زمرہ کی بات ہے۔

میں خود کوئی ایسا صاحب علم نہیں، مگر حضرت مولانا جیسے بزرگ اہل علم کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل جو تھوڑی شد بد ہے، اس کی بنیاد پر عرض کرتا ہوں کہ حضرت مولانا نے جو یہ فرمایا تھا کہ ان پر جو کچھ منکشف ہوا، وہ تکوینی معاملہ ہے، اس سے ان کے لیے کوئی امر ونہی ثابت نہیں ہوتی ہے، تو یہ عین حق ہے۔ اور یہ انھیں کے جیسے اصحاب علم کا مقام ہے کہ تکوین اور تشریع کے باریک فرق کو سمجھ سکیں۔ عام آدمی تو واقعی کہہ اٹھے گا اور قابل معافی ہوگا کہ لیجیے صاحب، اللہ تبارک وتعالیٰ نے مولانا حسین احمد صاحب کو براہ راست بتا دیا کہ ہمارا فیصلہ پاکستان بنوانے کا ہے، لیکن (معاذ اللہ) وہ اللہ کی بھی مان کے نہیں دیے! مگر آپ کے درجہ کے اہل علم سے اگر یہ ’’دخل در معقولات‘‘ دیکھنے میں آئے تو ایک سانحہ ہی کہا جائے گا۔ عالم بالا کے فیصلے جنھیں تکوینیات کہا جاتا ہے، وہ جہاں ایسے ہوتے ہیں کہ جب پردۂ غیب سے ظہور میں آئیں تو ہم شاداں وفرحاں ہوں، وہیں ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنی بد قسمتی کو روئیں۔ یہ افغانستان اور عراق پہ جو قیامت ان دنوں ٹوٹی ہے، یہ بھی تو تکوینی فیصلوں ہی کا ظہور ہے۔ اب اگر کوئی اللہ والا عالم کشف یا خواب میں انھیں دیکھ چکا ہو تو کیا اسے چاہیے کہ کوئی کوشش اس ہونے والے حادثہ کے روک تھام کی نہ کرے؟ حضرت مولانا کی رائے میں پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کی مجموعی مصلحت کے خلاف تھا، اس لیے وہ اپنی ملی اور شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ جو کچھ بھی اس کی مزاحمت کی راہ میں کر سکتے ہیں، کریں۔

اور ڈاکٹر صاحب، یہ تو تکوینیات کا معاملہ ہے جس کا کوئی بندہ پابند نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کچھ منافقین کے بارے میں صراحتاً اپنا فیصلہ بتایا جاتا ہے کہ ’’آپ اگر ستر مرتبہ بھی ان کی بخشش ہم سے مانگیں تب بھی ہم ان کو بخشنے والے نہیں ہیں۔‘‘ پھر بھی آپ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے کو بڑھتے ہیں۔ اور چونکہ نماز جنازہ کی حقیقت دعاے مغفرت ہے، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ دامن کش ہوتے ہیں کہ یا رسول اللہ، آپ اس کی نماز پڑھائیں گے جس کے لیے اللہ فرما چکا کہ ستر بار بھی دعا ہو تو قبول نہیں؟ رحمت عالم نے فرمایا، تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ دعا کروں گا۔ حتیٰ کہ اللہ کی طرف سے صاف ممانعت ہی نازل ہو گئی کہ: ’لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ‘ ’’اور کبھی بھی نماز نہ پڑھیں ان میں سے کسی مرنے والے کی، نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔‘‘ (التوبہ: ۹۔۸۴)

محترم، اگر آپ خیال فرمائیں کہ آپ کا سابقہ مضمون ایک دینی مسئلہ میں اور دینی شخصیت کی بابت غلط فہمی کا باعث بنا ہوگا تو ان سطور کی اشاعت پر بھی غور فرمائیں۔ ورنہ کم از کم اتنی توقع تو رکھوں گا ہی کہ آپ کے رد عمل سے آگاہ کیا جاؤں۔ ( ڈاکٹر صاحب کی طرف سے خط کا کوئی جواب یا رسید مولانا کو نہیں بھجوائی گئی۔ مدیر)

والسلام ۔ خاکسار 

عتیق سنبھلی

(۲)

۱۲ فروری ۲۰۰۴۔ جمعرات

۲۰/۱۲/۲۴

محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن مدظلکم ومتعنا اللہ بکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ علیٰ کل حال

آپ کا فکر انگیز مقالہ ’’ارضی نظام کی آسمانی رمز‘‘ ماہنامہ ’الشریعہ‘ گجرانوالہ کے جنوری/ فروری ۰۴ کے شمارے میں نظر سے گزرا۔ ذاتی طور پر میں اس بیش بہا تجزیاتی تحریر کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس سلسلے میں بعض باتیں عرض کرنی ہیں جنھیں میں بلا کم وکاست، گو مختصراً، عرض کیے دے رہا ہوں، لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس میں تنقید کا کوئی پہلو ہرگز نہیں۔ یوں بھی آپ ایک ذی وقار معلم ہیں اور معلم کا وقار، معلم انسانیت ﷺ کے فرمان کے مطابق بہت بڑا مقام رکھتا ہے۔

ہم ایک علم دشمن، ہنر گریز، فن بیزار، تحقیق ناآشنا مگر جہل خود سند ملت ہیں۔ ہمارا اجتماعی جہل اب مستند ترین ہے۔ ملی فضاے بسیط پر طاری وساری اس مایوسی کے اندھیاروں میں اگر کہیں سے بھی امید کی کوئی کرن نظر آ جاتی ہے تو امید وبیم کی کشمکش میں سانس کچھ تیز سی چلنے لگتی ہے۔ فکر ونظر کی یہ جاں بخش روشنیاں کچھ ’الشریعہ‘ ہی میں نظر آتی ہیں۔ عرصہ ہوا، دینی اداروں کے جرائد کو چھونے سے بھی توبہ کر رکھی تھی کہ ان میں سواے بھس کے کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس مرد قلندر، جناب زاہد الراشدی سلمہم اللہ کو سلامت رکھیں جن کی جرات رندانہ نے اس رسالہ کا ’’فورم‘‘ قائم کیا۔ میں آپ کے مضمون کے لیے اور اسی بنا پر ’الشریعہ‘ کی ندرت فکر کے لیے اللہ تعالیٰ کا اور آپ حضرات کا شکر گزار ہوں۔ میں کون ہوں، اس وضاحت کی کم از کم فی الحال فوری ضرورت لاحق نہیں۔ آپ کے در پر یہ دستک تو ملت کے ایک فرد کی طرف سے کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے ہے۔

آپ کا یہ تجزیاتی مضمون حقائق کا مرقع ہے اور اپنی طرز کا نادر بھی۔ لیکن اس کی زبان اور اس کی انشا پر کاملاً انگریزی طرز نگارش کی چھاپ ہے۔ اس قسم کے تجزیاتی مضامین کی آج کے دور میں بے حد ضرورت ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ دینی درس گاہوں سے فارغ طبقہ ہو کہ کالجز اور یونیورسٹیز کا، علم کے اس بحر زخار کی غواصی تو کیا کر پائے، کنارے کنارے بھی نہیں شناوری کر سکے گا۔ ذاتی طور پر چونکہ یہ بندۂ عاجز وبے نوا کئی زبانوں سے علاقہ رکھتا ہے، اس مضمون سے نہ صرف بہرہ ور ہوا بلکہ اس دھنک نے آنسوؤں کے تار دامن میں بھر دیے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین۔ لیکن میں نہایت عاجزی سے التماس کروں گا کہ اس پر غور فرمایا جائے کہ آپ کی انشا ایسی ہو کہ ہمارے دینی مدارس کے اساتذہ استفادہ کر سکیں۔ ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی۔

آپ جدید علوم سے، خاص طور پر جدید علم سیاسیات، معاشرتی علوم، نفسیات اور علم تاریخ کے ابواب میں خاص طور پر ثروت مند ہیں۔ ادب وشاعری کے میدانوں کے شہسوار ہیں۔ میں عمر کی اڑسٹھ سیڑھیاں طے کر چکا ہوں۔ جدید وقدیم علوم کے نامور قسم کے حاملین سے واسطہ رہتا ہے۔ میں اس تہی دامن ملت کا فرد ہوں۔ گھوڑا اور میدان ہر دو کو دیکھا اور پرکھا ہے۔ بس اتنا ہی عرض کروں گا کہ کچھ نہ کہنا بہتر ہے کیونکہ ہونٹ بھی اپنے ہیں اور دانت بھی اپنے ہی ہیں۔

میری گزارش ہے کہ اپنی تحریر کو بالخصوص ہمارے علما کو سامنے رکھ کر لکھیے۔ اس طبقے کو ۹۵ فیصد حضرات اردو ادب سے قطعی نابلد ہیں۔ آپ ذرا ان کی تصنیفات ہی دیکھ لیں۔ گھر کی بولی میں فارسی کے رستے زخم اور عربی کے گومڑ ٹانک دینے کو اردو نہیں کہا جا سکتا۔ جدید علوم سے یہ حضرات اس وحشت کی حد تک نابلد ہیں کہ ان کتابوں کو چھو بھی لیں تو انہیں ذہنی احتلام ہو جاتا ہے، جبکہ جدید طبقہ --- جی ہاں، اس عاجز سے ملنے کئی پی ایچ ڈی حضرات بھی آتے ہیں --- مطالعہ سے بے بہرہ، انگریزی ایسی کہ انگریز اپنی قبر میں بے چین ہو جائے، اور اردو ! میرا خاموش رہنا بہتر ہے۔ مگر ان حضرات پر کیا دوش؟ ہم نے دو نسلوں سے پڑھایا کیا ہے؟

تلاش ذات، ثقافتی اپج، ظرافت بطور قدر، حضوری، یہ معاشرے کی تشکیل کے وہ عناصر ہیں جن کے ذکر سے قرآن کریم اور حدیث مبارک کا دفتر بھرا پڑا ہے۔ تاریخ کا شعور سب سے بڑی بات ہے۔ قرآن کریم تو ہے ہی تاریخ عروج وزوال امم اور قانون عروج وزوال امم۔ آپ کا مضمون پڑھتے ہوئے عرب پروفیسر محمد عثمان نجاتی کی عربی تصانیف ’القرآن وعلم النفس‘ اور ’الحدیث النبوی وعلم النفس‘ کے مندرجات کارواں در کارواں یادوں کے افق سے گزرنے لگے۔

دنیا میں جہاں کہیں جمال نظر آتا ہے، میاں جی جان کائنات طٰہ سیاں ﷺ کے جمال جہاں آرا کا صدقہ ہے۔ آپ کا مضمون آپ کی جمالیاتی حس کے اعلیٰ وارفع ہونے کا غماز ہے۔ میاں جی سیاں ﷺ ہی کا حکم ہے: ’کلموا الناس علی قدر عقولہم‘ (Talk to the people on their level of intelligence) اس لیے اگر آپ ان تجزیاتی نکات کو، نوبت بہ نوبت، علما کو اور جدید طبقہ کو سامنے رکھ کر دوبارہ لیکن نئے مضامین کے روپ میں لکھیں اور سبک وسلیس مثالیں، بطور توضیح، دے دیا کریں تو مجھے یقین ہے کہ ہر قاری کی فکر میں نئے دریچے کھلیں گے۔ صدیاں گزریں، من حیث الملت ہماری فکر کے دریچے کچھ یوں بند ہیں کہ پچھلا سرمایہ بھی کائی اور پھپھوند آسودہ ہے (آلودہ تو معمولی بات ہے) ؂ ’جہاں تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود‘ کتنا سچ ہے۔ 

؂ آنکھیں سوکھی ہوئی ندیاں ہو گئیں اور طوفان بدستور آتے رہے

کے مصداق، دل میں سخن ہاے گفتنی کا ایک طوفان برپا ہے، لیکن میں نے اپنے ذہن ودل اور قلم کو اس پر راضی کر لیا ہے کہ وہ مندرجہ بالا گزارش پر ہی اکتفا کر لیں۔ آخر میں، مجھے یقین ہے کہ آپ اس تحریر کو تنقید پر محمول نہیں فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی فکر ونظر کو بلندیاں عطا فرماتا رہے۔ آمین

فقط والسلام۔العبد العاجز

سید عماد الدین قادری

گلشن معمار۔ کراچی


مکاتیب