مارچ ۲۰۰۴ء

ڈھاکہ میں ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کی افتتاحی تقریب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا، البتہ انھوں نے میرے بہت سے مضامین پڑھ...

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ۔ دعوت ومکالمہ کے چند حکیمانہ پہلو

― پروفیسر محمد اکرم ورک

پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہریؒ بریلوی مکتبہ فکر کے ایک نامور اور سنجیدہ صاحب علم ہونے کے ناتے ممتاز مقام کے حامل ہیں۔ مسلکی اختلافات میں اعتدال و توازن اور علمی واخلاقی حدود کی پابندی ان کے طرز فکر کی نمایاں خصوصیت ہے اور اسی بنا پر انھیں تمام علمی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ایک عبارت دیوبندی اور بریلوی حلقوں میں ہمیشہ نزاع کا باعث رہی ہے اور بریلوی مکتب فکر کے بہت سے علما کی طرف سے اس عبارت کو ختم نبوت کے انکار کے مترادف قرار دے کر حضرت نانوتویؒ...

برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ ۔ عالمی سیاست ومعیشت کے تناظر میں

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت عالمِ اسلام اور وطنِ عزیز کی ناگفتہ بہ حالت کے معروضی تجزیے کے لیے جس اخلاقی جرات اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے، شاید اس سے دیدہ و دانستہ پہلو تہی برتی جا رہی ہے۔ نتیجے کے طور پر قومی و ملی مورال گرتا جا رہاہے۔ عوام الناس آنکھوں میں سینکڑوں سوالات لیے قائدین کی طرف دیکھ رہے ہیں ، جو اب بھی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر’ قد آور‘ ہونے کی ادھیڑ بن میں مبتلا ہیں کہ ان کی اپنی سوچ محدود، منتشر اور غیر منظم ہے۔ ان نام نہاد قائدین نے جماعت، طبقہ، ذات، حیثیت، نسل اور مسلک وغیرہ جیسی خواہشات سے دب کر اپنے نظریات اور کمٹ منٹ کو انتہائی منفی حد تک متاثر کیا...

جہادی حکمت عملی: مثبت اور منفی پہلو

― ادارہ

کشمیر کے محاذ پر کل کیا ہونے والا ہے، اس کی تفصیلات ابھی پردۂ غیب میں ہیں لیکن اب تک کیا ہو چکا، اس باب میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ ۸۹۔۱۹۸۸ء میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی، اس کی صفیں اب لپیٹی جا رہی ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں جو کچھ ہوا، اس کا قرض ان لوگوں کے ذمے ہے جنھوں نے یہ ساری حکمت عملی ترتیب دی اور جو ان کے دست وبازو بنے۔ ہمارے ہاں چونکہ خود احتسابی کی کوئی روایت نہیں، اس لیے یہ امکان تو موجود نہیں کہ یہاں کوئی تحقیقاتی کمیشن بنے جو اس ناکامی کے اسباب کو موضوع بنائے لیکن ایک احتساب بہرحال اللہ کی عدالت میں ہونا ہے۔ اب یہ ان لوگوں...

مکاتیب

― ادارہ

آج، ۴ جنوری کے جنگ میں جناب کے کالم (بعنوان ’’قرض اور فرض‘‘) پر نظر گئی تو شروع ہی میں حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کا نام خاص طور پر باعث ہوا کہ اسے پڑھوں۔ یہ آج کا کالم آپ نے جس سابق مضمون کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے، اس میں حضرت مولانا سے متعلق حصہ میں آپ کے آخری جملہ نے میرے دل میں تقاضا پیدا کیا تھا کہ کچھ گزارش کروں، مگر ایک دو بار کے سابق تجربہ کو یاد کر کے خیال ہوا کہ آپ ہی کیوں ایک اجنبی کی گزارش سے کوئی فرض اپنے اوپر عائد سمجھ لیں گے۔ یہ سوچ کر رہ گیا۔ مگر آج کے کالم نے جو اس دن کی بات یاد دلا دی ہے تو اب وہ آپ تک پہنچ ہی جانی بہتر لگتی ہے۔...

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ پاکستان

― ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے جنوری کے تیسرے عشرے میں پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی، لاہور، ملتان، چیچہ وطنی، ساہیوال اور اسلام آباد میں مختلف دینی مدارس ومراکز کے معائنہ اور سرکردہ علماے کرام سے ملاقاتوں کے علاوہ ۲۱ جنوری کو دو روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے۔ انھوں نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ اور طلبہ کی مشترکہ نشست میں موجودہ عالمی صورت حال اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو اسی عنوان پر لیکچر دیا۔ انھوں نے جامعہ...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’نور علیٰ نور‘‘ کا قرآن نمبر۔ کراچی سے مولانا عبد الرشید انصاری کی زیر ادارت ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ نے قرآن کریم کے حوالہ سے ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس کا پہلا حصہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو ممتاز اہل قلم کی نگارشات پر مشتمل ہے اور قرآن کریم کی جمع وتدوین، ناموس رسالت، عقیدۂ ختم نبوت، عظمت صحابہؓ، قرآن کا نظام اور تجوید وقراء ت کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق وفرائض کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات جیسے اہم عنوانات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ نمبر معنوی اور صوری لحاظ سے مولانا عبد الرشید انصاری کے حسن ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ عمدہ کمپوزنگ...