امریکی جارحیت کے محرکات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

عالمی سیاست کے حقیقت پسند مکتبہ فکر کے مطابق کسی بھی قسم کی ’’قدریں‘‘ قومی مفاد کا جزو لا ینفک نہیں ہوتیں۔ مغربی ممالک کی عمومی نفسیات اسی مکتبہ فکر سے متاثر ہے لہٰذا ان ممالک میں قومی مفاد کو قدروں سے وابستہ کرنے کے بجائے تزویراتی مفاد سے وابستہ کیا جاتا ہے، اگرچہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈھنڈورا اعلیٰ انسانی قدروں کا ہی پیٹا جاتا ہے۔ افغانستان اور عراق کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات میں بھی ’’انسانی تہذیب کی سلامتی‘‘ جیسے جوازات گھڑے گئے ہیں حالانکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی پالیسی ساز قدریاتی تعیش پر مبنی ترجیحات اپنا کر تزویراتی نقصانات کے متحمل کبھی نہیں ہو سکتے اس لیے بفرض محال امریکی اقدامات میں قدری پہلوؤں کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ لازماً تزویراتی مفادات سے ہم آہنگ ہوں گے۔ تبھی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ان اقدامات کا پشتیبان بنا ہوگا۔

سپر طاقت ہونے کے باوجود امریکیوں کے لیے دنیا میں ابھرتے ہوئے باہمی انحصار (Rising Interdependence) کا رجحان درد سر بنا ہوا ہے۔ امریکی حکومت دنیا کے کسی بھی کونے کھدرے میں کسی انقلابی پیش رفت سے انتہائی خوف زدہ ہے کہ اس سے بالواسطہ امریکی مفادات پر زد پڑ سکتی ہے۔ اکیسویں صدی میں ریاست کے اندرون وبیرونی کا فرق ختم ہو چکا ہے۔ یہی پس منظر ہے جس کے باعث امریکہ عالمی کردار (Globalized role) اپنانا چاہتا ہے تاکہ اس کا موجودہ سٹیٹس برقرار رہے۔

بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انرجی کا چالیس فی صد حصہ تیل سے پورا ہوتا ہے اور تیل کا پینتالیس فی صد حصہ درآمد کیا جاتا ہے اور کل درآمد کا ایک چوتھائی خلیج سے لیا جاتا ہے یعنی امریکی انرجی کا تقریباً پانچ فی صد سے بھی کم انحصار خلیج کے تیل پر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ صرف پانچ فی صد انرجی کے تحفظ کے لیے اتنا ’’کھڑاک‘‘ کر رہا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جاپان کی انرجی کا سینتیس فی صد انحصار خلیج کے تیل پر ہے، اس طرح کچھ اور ممالک بھی اپنی تیل کی ضروریات کا وافرحصہ خلیج کے ذخائر سے پورا کرتے ہیں۔ عالمی منڈی کے اپنے تیل کا تقریباً ایک تہائی خلیج پر منحصر ہے لہٰذا وہاں کسی قسم کی گڑبڑ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھا دے گی اور نتیجے کے طور پر امریکہ کو بھی پینتالیس فی صد درآمدی تیل کی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر باہمی انحصار کے سبب امریکی معیشت پر بالواسطہ بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اثرات شدید نوعیت کے نہ بھی ہوں تو بھی امریکی عزائم کی راہ میں حائل ہونے کی کافی سکت رکھیں گے کہ امریکہ کا مسئلہ ’’روٹی کا مسئلہ‘‘ نہیں ہے بلکہ قومی تفاخر، انداز زندگی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی ٹھیکے داری بھی اس کے لیے نفسیاتی مسائل بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ امور کی بابت دنیا بھر میں کام کرنے کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہے۔ 

خیال رہے کہ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں تیل کے بحران کے بعد امریکی حکومت نے بیس بلین ڈالرز خرچ کر کے Strategic Petroleum Reserve تعمیر کیا تھا تاکہ عربوں کے ’’ہتھیار‘‘ سے بچا جا سکے لیکن اس وقت دنیا میں رائج مخصوص معاشی رجحانات نے اس ریزور کی سابقہ اہمیت میں کافی کمی کر دی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ درحقیقت عالمی معیشت پر ’’ٹیکس‘‘ تصور کیا جاتا ہے کہ اس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا اور طلب میں کمی واقع ہوگی۔ قیمتوں میں اضافے سے امریکی معیشت یوں متاثر ہوگی کہ اسے ایک بڑے درآمدی بل کا سامنا کرنا پڑے گا اور بڑے درآمدی بل سے معیشت کو دھچکا لگے گا اور نتیجتاً پیداواری عمل متاثر ہونے سے پوری معیشت بیٹھ جائے گی۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر امریکی حکومت، رچرڈ نکسن کا مقصد ’’توانائی کے میدان میں خو دمختاری‘‘ حاصل بھی کر لے تو بھی وہ میکرو اکنامک اثرات سے بچ نہیں سکے گی کہ باقی دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی منڈی کو شدید دھچکا لگے گا۔ 

اگر ہم مذکورہ پہلوؤں کے مضمرات پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ تیل کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا دفاعی بجٹ متاثر نہ ہو کیونکہ امریکی معیشت کو دھچکا لگنے کی صورت میں دفاعی بجٹ میں کٹوتی ضروری ہو جائے گی اور امریکہ ٹھیکے داری نہیں کر سکے گا۔

اگر ہم ایک اور زاویے سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی انشورنس پالیسی کی طرز پر تشکیل دی گئی ہے۔ سابقہ سوویت یونین سے کسی خوف ناک تصادم کے امکان کے پیش نظر دفاع پر ٹریلین ڈالرز جھونک دیے گئے تھے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں Margin of Safety کلیدی عنصر بن چکا تھا۔ جس طرح عام زندگی میں بہت کم لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کا گھر جل سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اکثرلوگ وافر انشورنس کی سکیورٹی ترجیحی بنیادوں پر اپناتے ہیں۔ سابقہ سوویت یونین سے کسی امکانی ٹکراؤ کے پیش نظر امریکی پالیسی ساز بھی وافر انشورنس کی سکیورٹی کو اپنائے ہوئے تھے اور اسلحہ کے انبار لگا رہے تھے۔ ہماری رائے میں اصل بات یہ ہے کہ کسی امکانی مسئلے کی ’’نوعیت‘‘ کیا ہے؟ یعنی امکان کے وجود میں ڈھلنے سے نقصان کس حد تک ہو سکتا ہے، اگرچہ مخصوص واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کا امکان انتہائی کم ہو۔ سابقہ سوویت یونین سے براہ راست ٹکراؤ کا امکان اگرچہ بہت کم تھا لیکن اگر یہ ٹکراؤ ہو جاتا تو نقصان کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا امریکی پالیسی ساز ایسے نقصان سے بچاؤ کے لیے Margin of Safety پر مبنی پالیسی بنانے میں حق بجانب تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ پالیسی کی یہی نفسیات افغانستان اور عراق میں نظر آتی ہے۔ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر سے اگرچہ امریکی مفادات براہ راست وابستہ نہیں ہیں لیکن امریکہ باہمی انحصار کے عالمی رجحان کے باعث Margin of Safety کا خواہاں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ امریکی پالیسی ساز سرد جنگ کی نفسیات سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ ہمارے موقف کو اس امر سے مزید تقویت ملتی ہے کہ امریکی صدر کے ارد گرد موجود افراد، سرد جنگ کے دوران بھی کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان کی سوچ اور رویہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔

سیاسی مدبرین کہتے ہیں کہ جنگ کا آپشن اختیار کرتے وقت بزرجمہروں کو اچھی طرح جانچ لینا چاہیے کہ کیا جنگ کے بعد مناقشت میں کمی واقع ہوگی یا مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بش سنیئر کے عہد میں عراق پر حملوں کے بعد کی صورت حال امریکی فیصلہ سازی میں غلطی کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس کے بعد امریکہ عراق کشمکش میں اضافہ ہوا ہے۔ آخر یہ کیسی جیت تھی کہ امریکہ نے جنگ جیتنے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ کیا؟ اسی طرح افغانستان پر حالیہ حملوں کے بعد امریکی دفاعی بجٹ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ بن کر سامنے آیا۔ سوویت یونین کی شکست وریخت، پہلی خلیجی جنگ میں امریکی فتح اور حالیہ افغان جنگ میں بھی امریکی فتوحات کے باوجود یورپ، جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، لاطینی امریکہ اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی ذمہ داریاں (Military Commitments) وہی ہیں جو سرد جنگ کے دوران تھیں۔ ماضی کی نسبت اس وقت امریکہ کو زیادہ خطرات لاحق ہیں مثلاً منشیات، دہشت گردی، تیسری دنیا میں امریکہ مخالف لہر وغیرہ۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے Soft Power Strategic Measures کی ضرورت ہے جیسا کہ:

۱۔ عالمی معاملات میں بین الاقوامی برادری کی رائے کا احترام کرنا۔

۲۔ امتیازی پالیسیوں کے بجائے اصولی موقف اختیار کرنا۔

۳۔ غربت وافلاس کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرنا۔

۴۔ دنیا کے ہر خطے کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا۔

۵۔ مقامی وعلاقائی تقاضوں اور نظریات کا احترام کرنا۔

لیکن اس وقت امریکی پالیسیوں کا محور Hard Power Strategic Measures ہیں۔ جناب واکر بش کی بڑھکیں کہ ’’کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے، ہم عراق پر حملہ ضرور کریں گے‘‘ امریکی حکمت عملی کے اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے امریکیوں کا حکمت عملی کے سخت پہلو پر زور دینا اپنے تئیں ٹھیک ہی ہو لیکن سیاسی مدبر میکس ویبر (Max Weber)کی بات بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پالیسیوں کو ان کے نتائج کے اعتبار سے جانچا جانا چاہیے نہ کہ ان کے محرکات کے حوالے سے۔ دنیامیں امریکہ مخالف بڑھتی ہوئی لہر امریکی پالیسیوں کی بابت نتائج کے اعتبار سے منفی تصویر پیش کرتی ہے۔

خلیجی جنگ، افغانستان میں امریکی مداخلت اور عراق پر امریکہ کے حالیہ حملوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکہ حقیقتاً عالمی لیڈر ہے، اس کے مقابلے میں کوئی نہیں۔ اگر ہم امریکہ کی موجودہ پوزیشن کا جنگ بوئر (۱۹۰۲۔۱۸۹۹ء) کے بعد کے برطانیہ سے موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح برطانیہ بھی اپنے تئیں عالمی لیڈر بنا ہوا تھا حالانکہ درحقیقت یہ برطانیہ کے زوال کا آغاز تھا کیونکہ اس وقت:

۱۔ نئی عظیم طاقتیں ابھر رہی تھیں جس طرح آج جاپان، جرمنی اور چین ابھر رہے ہیں۔

۲۔ اس وقت برطانیہ کی سٹرٹیجک کمٹ منٹس اور ان پر پورا اترنے کی اہلیت کے درمیان ’’خلیج‘‘ حائل ہو رہی تھی اور اس کی معاشی قوت امریکہ اور جرمنی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہی تھی۔ اسی طرح آج کا امریکہ بھی سٹرٹیجک کمٹ منٹس کا دائرہ بے محابا پھیلا چکا ہے۔ پال کینیڈی نے اپنی مشہور کتاب Rise and Fall of Great Powers میں اسی چیز کو Imperial Overstretch کا نام دیا ہے کہ امریکہ ماضی کی عظیم سلطنتوں کی مانند بے محابا پھیلاؤ کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں اسے زوال آئے گا کیونکہ عالمی کردار ادا کرنے کے لیے نمو پذیر معیشت ہی پشتی بان ثابت ہو سکتی ہے لیکن عالمی غلبے کے لیے جس قدر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں، اسی قدر قومی وسائل کا زیادہ تر حصہ ایسے اخراجات کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے نہ کہ معاشی پیداواری عمل کے لیے۔ اس طرح ایک تضاد (Paradox) سامنے آتا ہے کہ عالمی برتری کے تعاقب سے معاشی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں جن پر برتری کا انحصار ہوتا ہے۔

جنگ بوئر کے بعد برطانوی بھی آج کے امریکیوں کی مانند نعرے لگا رہے تھے کہ بین الاقوامی قانون کی پاس داری اور علم برداری کو یقینی بنانے کے لیے اور دنیا میں ’’دائمی امن‘‘ کے قیام کے لیے برطانوی کردار ناگزیر ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ، آج کے نوم چومسکی وغیرہ کی طرح، اس وقت بھی کچھ انگریز مدبروں نے برطانیہ کے عالمی کردار کی Restructuring کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہوئے تھے کیونکہ جنگ بوئر جیت لی گئی تھی اس لیے برطانوی بے محابا پھیلاؤ میں مضمر سٹرٹیجک اور معاشی کمزوریاں فتح کے نشے کے باعث پالیسی سازوں کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ آج کے امریکی پالیسی ساز بھی ایسے ہی اندھے پن کا شکار ہیں۔ ہماری رائے میں آنے والے وقت میں امریکہ کی فوجی طاقت ’’اضافی‘‘ شمار ہوگی۔ امریکہ اپنی جارحیت کے محرکات تلے ہی دم توڑ دے گا۔

حالات و مشاہدات

اکتوبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۰

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘
جاوید چودھری

تعارف و تبصرہ
ادارہ