اکتوبر ۲۰۰۲ء

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی نظریاتی کونسل کا سوال نامہ: اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، نیز نجی زندگی سے متعلق معاملات میں انہیں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس نے نہ صرف ظلم وتعدی سے روکا ہے بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انصاف سے متجاوز ہو جانے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لیے بھی مہذب اور عادلانہ اصول...

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب

― پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں: ایک داعی اور دوسرا مدعو۔تاہم دعوت کی کامیابی کامکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں، اگر داعی کا طریقِ دعوت ڈھنگ کانہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کرکے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تواس کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں ہے۔جو بات ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی، وہی بات جب دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے۔مبلغ کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ دوست دشمن سبھی پکار اٹھیں کہ اس نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں تصریف...

امریکی جارحیت کے محرکات

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

عالمی سیاست کے حقیقت پسند مکتبہ فکر کے مطابق کسی بھی قسم کی ’’قدریں‘‘ قومی مفاد کا جزو لا ینفک نہیں ہوتیں۔ مغربی ممالک کی عمومی نفسیات اسی مکتبہ فکر سے متاثر ہے لہٰذا ان ممالک میں قومی مفاد کو قدروں سے وابستہ کرنے کے بجائے تزویراتی مفاد سے وابستہ کیا جاتا ہے، اگرچہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈھنڈورا اعلیٰ انسانی قدروں کا ہی پیٹا جاتا ہے۔ افغانستان اور عراق کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات میں بھی ’’انسانی تہذیب کی سلامتی‘‘ جیسے جوازات گھڑے گئے ہیں حالانکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی پالیسی ساز قدریاتی تعیش پر مبنی...

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل

― راشد الغنوشی

کسی بھی معاشرے کے مسائل کا حل معاشرے کے اپنے پاس موجود ہوتا ہے تاہم دیگر عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اس وقت مغرب کا کردار منفی ہے اور اس کی وجہ ان کا یہ خیال ہے کہ اگر (احیاے اسلام کے نتیجے میں مسلم ممالک میں) تبدیلی آئی تو متبادل، اسلام ہوگا اور یہ کتنا ہی معتدل کیوں نہ ہو، ان کو پسند نہیں ہے۔ لیکن تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہ اللہ کی مرضی سے واقع ہوگی۔ یہ اللہ ہے، نہ کہ مغرب، جو، جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ دنیا میں کئی سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں اور وہ سب مغرب کو پسند نہ تھیں لیکن مغرب کو انہیں حقیقت تسلیم کرنا پڑا۔ عوامی جمہوریہ چین...

علما اور عملی سیاست

― خورشید احمد ندیم

کیا علما کو عملی سیاست میں حصہ لینا چاہیے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت دو باتیں پیش نظر رہنا چاہییں۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ شریعت کا نہیں، حکمت وتدبر کا معاملہ ہے۔ یہ جائز اور ناجائز کی بحث نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ شریعت نے علما کو سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے یا انہیں اس کے لیے حکم دیا ہے۔ جب ہم اس سوال کو موضوع بناتے ہیں تو ہمارے پیش نظر محض یہ ہے کہ اس سے دین اور علما کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نقصان؟ دوسری بات یہ کہ عملی سیاست سے ہماری مراد اقتدار کی سیاست (Power Politics) ہے یعنی اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا یا کسی کے عزل ونصب کے لیے کوئی...

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملکی سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتیں اس وقت عجیب مخمصے میں ہیں اور ریگستان میں راستہ بھول جانے والے قافلے کی طرح منزل کی تلاش بلکہ تعین میں سرگرداں ہیں۔ مروجہ سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے وقت مذہبی جماعتیں یقیناًاپنے اس اقدام پر پوری طرح مطمئن نہ تھیں اور وہ خدشات وخطرات اس وقت بھی ان کے ذہن میں اجمالی طور پر ضرور موجود تھے جن سے انہیں آج سابقہ درپیش ہے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ مروجہ سیاست میں شریک کار بنے بغیر ملکی نظام میں تبدیلی کی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی اور مروجہ سیاست کی خرابیوں پر وہ مذہبی قوت اور عوامی دباؤ کے ذریعے سے...

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

اکثر اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہمارے مذہبی معاشرے کے عوام سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس کے جواب میں دو نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں: مذہبی جماعتوں کا موقف یہ ہوتا ہے کہ انگریز کے ٹوڈی ان کی راہ میں حائل ہیں ورنہ عوام تو دل وجان سے مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ خود عوام ہی کو منافقت پسند اور دوغلا قرار دیتے ہیں جو عام زندگی میں تو دین پر عمل کے حوالے سے علما کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن سیاست میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ علما کے مخالف طبقے کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ علما جدید عہد کے تقاضوں...

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘

― جاوید چودھری

جنوری ۱۹۷۷ء میں الیکشن کا اعلان ہوا تو تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بھٹو کے خلاف جمع ہو گئیں۔ اس اجتماع کو پاکستان عوامی اتحاد یا پی این اے کا نام دیا ہے۔ اس اتحاد میں مذہبی جماعتوں کی اکثریت تھی لہٰذا بھٹو اسے ’’ملاؤں کا اتحاد‘‘ کہتے تھے۔ آنے والے دنوں میں پی این اے نے اپنی جدوجہد کو ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ کا نام دے کر بھٹوکے خدشات سچ ثابت کر دیے۔ اس اتحاد نے ۱۰ جنوری کو اپنی مہم شروع کی۔ پورے پاکستان میں آگ لگ گئی۔ ایک ایک شہر میں ایک ایک دن میں نو نو جلوس نکلے، عوام کے اس رد عمل نے بھٹو کی مضبوط کرسی کے پائے ہلا دیے۔ صاف نظر آرہا تھا، بھٹو اور...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’ذکر اہل بیت مصطفی ﷺ‘‘۔ اس کتابچہ میں علامہ حافظ شفقات احمد مجددی نے اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل ومناقب پر اپنے مخصوص ذوق کے مطابق معلومات جمع کی ہیں۔ صفحات ۱۹۲۔ ناشر: دار التبلیغ، آستانہ عالیہ حضرت کیلیانوالہ شریف، ضلع گوجرانوالہ۔ ’’حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں اہل بیت رسول کا فیصلہ‘‘۔ جناب محمد رفیق کیلانی نے اس کتابچہ میں امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے بارے میں حضرات اہل بیت کرامؓ کے تاثرات بیان کیے ہیں اور مستند حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔ یہ رسالہ بھی دار التبلیغ، آستانہ عالیہ...

اکتوبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۰

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘
جاوید چودھری

تعارف و تبصرہ
ادارہ

تلاش

Flag Counter