مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘

جاوید چودھری

جنوری ۱۹۷۷ء میں الیکشن کا اعلان ہوا تو تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بھٹو کے خلاف جمع ہو گئیں۔ اس اجتماع کو پاکستان عوامی اتحاد یا پی این اے کا نام دیا ہے۔ اس اتحاد میں مذہبی جماعتوں کی اکثریت تھی لہٰذا بھٹو اسے ’’ملاؤں کا اتحاد‘‘ کہتے تھے۔ آنے والے دنوں میں پی این اے نے اپنی جدوجہد کو ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ کا نام دے کر بھٹوکے خدشات سچ ثابت کر دیے۔ اس اتحاد نے ۱۰ جنوری کو اپنی مہم شروع کی۔ پورے پاکستان میں آگ لگ گئی۔ ایک ایک شہر میں ایک ایک دن میں نو نو جلوس نکلے، عوام کے اس رد عمل نے بھٹو کی مضبوط کرسی کے پائے ہلا دیے۔ صاف نظر آرہا تھا، بھٹو اور اس کی قیادت اب ماضی کا قصہ پارینہ بن جائے گی۔ بھٹو نے علماء کرام کی اس یلغار کو روکنے کی ذمہ داری مولانا کوثرنیازی کو سونپ دی۔ مولانا، بھٹو کی کابینہ میں اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر اور بلا کے مقرر تھے۔ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ علما کی قربت میں گزرا تھا لہٰذا وہ گھر کے بھیدی تھے۔

مولانا خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلانا شروع کر دیا کہ علماء کرام میں ملکی قیادت کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ ایک عوامی اجتماع میں مولانا کوثر نیازی نے عوامی اتحاد کو چیلنج دیا ’’اگر مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور بعد ازاں اس کی قضا ادا نہ کریں تو پیپلز پارٹی، پی این اے کے مقابلے میں اپنے تمام امیدوار بٹھا دے گی۔‘‘ چیلنج تہلکہ خیز تھا، بھٹو نے سنا تو پریشان ہو کر مولانا کو ٹیلی فون کیا ’’یہ تم نے کیا کر دیا، یہ لوگ تو ایسا کر گزریں گے‘‘ مولانا نے جواب دیا ’’سر، میں ان لوگوں کو جانتا ہوں، نورانی کی گردن پر تلوار بھی رکھ دی جائے تو بھی وہ مفتی محمود کی امامت میں نماز ادا نہیں کریں گے‘‘ چیلنج کی تشہیر ہوئی تو عوام نے پی این اے کے راہنماؤں پردباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ عوامی رد عمل سے مجبور ہو کر پی این اے کے لیڈر ملتان میں جمع ہوئے، مشترکہ جلسہ کیا اور بعد ازاں مغرب کے وقت قاسم باغ میں نورانی صاحب نے امامت کرائی اور مفتی محمود سمیت تمام راہنماؤں نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر دی۔ اگلے روز کے اخبارات نے نماز کی تصاویر اور خبریں نمایاں کرکے شائع کیں۔ اسی شام مولانا کوثر نیازی نے ایک جلسے میں اعلان کیا ’’میں نے یہ چیلنج دیا تھا، مولانا نورانی مفتی محمود کی امامت میں نماز پڑھ کر دکھائیں، یہ نہیں کہا تھا کہ مفتی محمود، نورانی کے پیچھے نماز پڑھ لیں‘‘ چند روز بعد لاہور ایئر پورٹ پر مولانا کوثر نیازی کی شاہ احمد نورانی سے اتفاقاً ملاقات ہوئی، نورانی صاحب نے مولانا سے شکوہ کیا ’’تم نے تو ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا‘‘

یہ واقعی علماء کرام کی دکھتی رگ ہے۔ شاید اسی باعث آج تک پاکستان میں اسلام کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ شاید اسی کی وجہ سے مذہبی جماعتیں اپنے پورے اثر ورسوخ کے باوجود کبھی ووٹ نہیں لے پائیں۔ لوگ انہیں چندہ دے دیتے ہیں، پوری پوری رات ان کی تقریریں سنتے ہیں، ان کے لیے جلوس بھی نکالتے ہیں، ان کے کہنے پر اپنے بچے تک جہاد پر روانہ کر دیتے ہیں لیکن نہیں دیتے تو ووٹ نہیں دیتے۔ شاید اس کی وجہ ان کی یہی دکھتی رگ ہے۔ لوگ سوچتے ہیں جو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، وہ مل کر ملک کیسے چلائیں گے؟ علماء کرام کے یہی اختلافات تھے جن کے باعث جنرل ضیاء الحق کہنے پر مجبور ہو گئے، ’’لوگ مجھ سے نفاذ اسلام کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن میں پریشان ہو جاتا ہوں، میں کون سا اسلام نافذ کروں؟ یہاں تو ہر فرقے، ہر عالم کا اسلام الگ ہے‘‘۔

۲۵ برس بعد ایک بار پھر ۸ ستمبر کو کراچی میں شاہ احمد نورانی نے امامت کرائی اور منور حسن، ساجد نقوی، قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن نے ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ گویا ۲۵ برس بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ ہماری مذہبی قیادت کو ان برسوں میں جو کچھ سیکھنا چاہیے تھا، انہوں نے وہ نہیں سیکھا لیکن اس کے باوجود ان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے۔ ایک نظریاتی، ثقافتی، اخلاقی اور سیاسی طور پر منتشر قوم کے لیے واقعتا یہ ایک خوش خبری ہے۔ جس ملک میں لوگ جان کے خطرے سے نام بدلنے پر مجبور ہوں، وہاں نظریاتی اور فقہی اختلافات بھلا کر علماء کرام کا ایک ’’امام‘‘ پر متفق ہو جانا ٹھیک ٹھاک انقلاب ہے۔ مجھے یقین ہے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو کبھی نہ کبھی مولانا شاہ احمد نورانی بھی مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش نکال لیں گے کیونکہ اتحاد اختلافات سے بہرحال زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ ان علماء کرام کی دیکھا دیکھی اب ۱۲۹ پارٹیوں میں منقسم سیاست دانوں کو بھی سیاسی اور جمہوری ’’جماعت‘‘ کے لیے صفیں درست کر لینی چاہییں، کندھے سے کندھا ملا لینا چاہیے اور اپنا کوئی ’’امام‘‘ چن کر اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دینا چاہیے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ق، پ، ج، ایم کیو ایم، تحریک انصاف، ملت پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل موومنٹ، سندھ نیشنل فرنٹ، سندھ ڈیمو کریٹک الائنس اور تحریک استقلال مل کر جدوجہد نہیں کرتیں، ہوس اقتدار سے بالاتر ہو کر نہیں سوچتیں، ملکی ترقی، سیاسی استحکام اور جمہوری مستقبل کے ایک پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑتیں، اس ملک سے ۱۲۔ اکتوبر اور ۵ جولائی ختم نہیں ہو سکتے۔ اس ملک سے نظریہ ضرورت، گریٹ نیشنل انٹرسٹ اور ۵۸ ۔ ۲ بی رخصت نہیں ہو سکتی۔ آج ہو یا کل، بہرحال اس ملک کے تمام سیاست دانوں کو کندھے سے کندھا ملانا ہی پڑے گا۔ اپنی دکھتی رگ کا دکھ بھلانا ہی ہوگا۔

(روزنامہ جنگ ، ۱۹ ستمبر ۲۰۰۲ء)

مشاہدات و تاثرات

اکتوبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۰

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘
جاوید چودھری

تعارف و تبصرہ
ادارہ