مدیر سہ ماہی ’’مصباح الاسلام‘‘ (مٹہ خیل) کے نام مولانا زاہد الراشدی کا مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترم مولانا سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سہ ماہی ’’المصباح‘‘ (مصباح الاسلام) کا جون تا اگست ۲۰۰۲ء کا شمارہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ۔ مجلہ دیکھ کر خوشی اور مضامین کا تنوع دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ہمارے دینی حلقوں میں آج کی صحافتی ضروریات اور تقاضوں کا احساس بیدار ہو رہا ہے۔ اس طرف کم وبیش ربع صدی قبل حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے دینی مراکز کو توجہ دلائی تھی لیکن ابھی تک مطلوبہ توجہ اس مسئلہ کو حاصل نہیں ہو رہی۔ اصل ضرورت میڈیا اور صحافت کے جدید ترین اسلوب اور تکنیک کے ساتھ اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے نیز اسلام اور اہل دین کے بارے میں عالمی سطح پر پھیلائے گئے شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں کے ازالے کی ہے جو بہرحال بڑے دینی مدارس اورمراکز ہی پوری کر سکتے ہیں تاہم اپنے داخلی حلقہ میں اس ضرورت کے احساس کو اجاگر کرنا اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے انہی میں سے کوئی باصلاحیت نوجوان آگے بڑھنے کا ذوق رکھتا ہو اور اپنی محنت اور تگ ودو سے پیش رفت کا کوئی راستہ نکال لے۔

طالبان حکومت کے بارے میں بحث کے حوالے سے مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے کہ ان کی پالیسیوں پر بحث نہیں ہونی چاہیے اور ان کی کوتاہیوں کو سامنے نہیں آنا چاہیے۔ ان کے اخلاص، ایثار، قربانی، للہیت اور صدق وصفا میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس کامطلب معصوم ہونا نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ خود احد اور حنین کے حوالے سے صحابہ کرام جیسی پاک باز ہستیوں کی بشری غلطیوں کو قرآن کریم میں اجاگر کر سکتے ہیں تو ہمیں اس میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ پوری سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لیں کہ کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے اور ماضی کی غلطیوں کے ازالہ کے لیے مستقبل میں کیا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک اس صورت حال پر مباحثہ کی ضرورت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے لیے ابھی شاید وقت موزوں نہ ہو لیکن جلد یا بدیر ہمیں اس مرحلہ سے گزرنا ہوگا ورنہ مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی میں ہم کام یاب نہیں ہو پائیں گے۔

زبان کی اصلاح کی طرف بطور خاص توجہ دیں اور اگر اردو ادب کے کوئی سنیئر پروفیسر یا دینی ذہن رکھنے والے کہنہ مشق صحافی دست یاب ہوں تو ان کی خدمات سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔

ان گزارشات کے ساتھ ’’المصباح‘‘ (مصباح الاسلام) کے اجرا پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔


مکاتیب