نومبر و دسمبر ۲۰۰۲ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لندن میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان علماء کرام نے ’’موطا ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ایک سوسائٹی قائم کر رکھی ہے جو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں دینی وعلمی خدمات سرانجام دینے کا جذبہ رکھتے ہیں اور دعوت وتعلیم کے حوالے سے ایک قابل عمل پروگرام کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ندوۃ العلماء لکھنو سے حضرت مولانا سید سلمان ندوی لندن تشریف لائے تو موطا ٹرسٹ کی فرمائش پر انہوں نے نوجوان علماء کرام کی ایک جماعت کو آج کے تقاضوں اور دینی وعوت وتعلیم سے تعلق رکھنے والے چند اہم عنوانات پر مسلسل پانچ روز تک لیکچر دیے۔ میری لندن حاضری کے...

صحابہ کرامؓ کا اسلوب دعوت (۱)

― پروفیسر محمد اکرم ورک

مکی دور۔ چالیس سال کی عمر میں رسول اللہا نے اعلانِ نبوت فرمایا تو حکمِ الٰہی کے مطابق دعوت کے کام کا آغاز نہایت حکمت،تدبر اور تدریج کے ساتھ فرمایا۔آپ انے ابتداء اً ان لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی جو آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوچکے تھے اور آپ کے اخلاق او رچالیس سالہ زندگی کے شب وروز سے آگاہ تھے۔ انہوں نے بلا تامل اس دعوت کو قبول کرلیا چنانچہ عورتوں میں حضرت خدیجہؓ ،مردوں میں حضرت ابوبکرؓ،غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ اور بچوں میں حضرت علیؓ نے سب سے پہلے قبولیتِ اسلام کا شرف حاصل کیا۔ تیرہ سالہ مکی دور کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعوتِ...

رمضان المبارک کی فضیلت

― مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

یا ایہا الذین آمنواکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرہ: ۱۸۳)۔ ’‘اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔‘‘ اس آیت میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزے کا بیان ہے۔ صیام (روزہ) کے لفظی معنی رک جانے کے ہیں۔ عربی زبان میں اس کے لیے امساک کا لفظ بھی آتا ہے تاہم صوم کا لفظ بھی رک جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ شریعت میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ نہار شرعی...

دیوبند اور جہاد

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

دیوبند (دار العلوم دیوبند) ان دنوں بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ افغانی طالبان پر جو قہر گزشتہ دنوں ٹوٹا، ہماری (بی جے پی) حکومت نے اس موقع پر ہر کردنی وناکردنی اس خواہش کے ماتحت کی تھی کہ امریکہ بہادر کے ساتھ اس کے لیے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالنے کی صورت بن جائے مگر امید بر نہ آ سکی۔ اس محرومی کی تلافی اب وہ طالبان کی ’دیوبندیت‘ کے حوالے سے دیوبند اور اس کی نسبت کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سلسلہ مدارس پر ستم آزمائی کی شکل سے کرنے میں لگ گئی ہے۔ طالبان بے شک ’’دیوبندی‘‘ تھے۔ اور وہ اگر ’جہاد‘ پیشہ تھے تو دیوبند کو اس پر بھی کسی معذرت کی ضرورت نہیں...

جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر محترم مولانا رضاء الحق سیاکھوی اور ان کے رفقا کا شکر گزار ہوں کہ جامعہ الہدیٰ شیفیلڈ کے افتتاح کے موقع پر اس تقریب میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع فراہم کیا اور اس نئے تعلیمی ادارے کے آغاز پر مدنی ٹرسٹ کے تمام دوستوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس ادارہ کو پورے خطے میں دین کی سربلندی اور علم کے فروغ کا ذریعہ بنائیں، آمین یارب العالمین۔ ہم ایک دینی درس گاہ کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں اور دینی مدارس کے حوالے سے اس وقت یہ صورت حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا...

ترقی اور لبریشن کی متوازی پرواز ناگزیر ہے

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت دنیا میں ترقی کو جا نچنے کے لیے تین طریقے رائج ہیں۔ انہیں تین مکاتب فکر بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایک مکتبہ فکر کے مطابق کوئی ملک اس وقت ترقی یافتہ ہو جاتا ہے جب اس کا GNP نمو پذیر رہے اور قومی ضروریات پوری کرتا رہے۔ والٹ روسلو Walt Roslow) (کی کتاب ’’معاشی نمو کے مراحل‘‘ (The Stages of Economic Growth) کی طرح مزید کئی کتب نے ترقی کے اس پہلو کو خاصا اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ معاشی منصوبہ بندی میں ماہرین معاشیات کے حتمی کردار نے بھی غیر معاشی عوامل کو عملاً دیس نکالا دے دیا ہے۔ جدید دور میں شاید ہی کوئی ایسا ماہر معاشیات ہو جو دھڑلے سے مذکورہ بالا نظریے کی حمایت...

تعارف و تبصرہ

― ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

اردو داں طبقہ کے لیے شیخ سعدی کی ’گلستاں‘ محتاج تعارف نہیں ۔ شیخ سعدی (م ۶۹۰ھ)نے یہ کتاب ۶۵۶ھ میں تصنیف کی اور خود ان کی حیات ہی میں اس کا شہرہ ہر طرف پھیل گیا۔ یہ کتاب خواص وعوام میں یکساں مقبول رہی ہے۔ صدیاں گزر گئیں کہ ’بوستان‘ کی طرح شیخ کی ’گلستاں‘ مختلف مسلم ممالک بشمول ہندوستان کے نصاب درس میں اب تک داخل ہے۔ اس کتاب پر کثرت سے شرحیں لکھی گئیں اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ ایران وہندوستان میں گلستاں کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے جو مختلف خصوصیات کے حامل ہیں۔ پیش نظر ایڈیشن تحقیق، تصحیح اور توضیح کے جدید اصولوں کی روشنی...

شیفیلڈ (برطانیہ) میں جامعہ الہدیٰ کی افتتاحی تقریب

― ادارہ

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں جامعۃ الہدیٰ کی افتتاحی تقریب تھی۔ مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم کے زیر اہتمام جامعۃ الہدیٰ کے نام سے ایک معیاری تعلیمی ادارہ ۱۹۹۶ء سے کام کر رہا ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ العزیز کی تشریف آوری پر ان کی دعا کے ساتھ اس ادارہ کا آغاز ہوا تھا۔ مولانا رضاء الحق سیاکھوی اور ان کے رفقا دل جمعی کے ساتھ اس کا نظام چلا رہے ہیں۔جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم میں بچیوں کی دینی تعلیم کا اہتمام ہے اور انہیں سکول کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی زبان، قرآن وحدیث، فقہ اسلامی اور دیگر ضروری دینی علوم...

مدیر سہ ماہی ’’مصباح الاسلام‘‘ (مٹہ خیل) کے نام مولانا زاہد الراشدی کا مکتوب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترم مولانا سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سہ ماہی ’’المصباح‘‘ (مصباح الاسلام) کا جون تا اگست ۲۰۰۲ء کا شمارہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ۔ مجلہ دیکھ کر خوشی اور مضامین کا تنوع دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ہمارے دینی حلقوں میں آج کی صحافتی ضروریات اور تقاضوں کا احساس بیدار ہو رہا ہے۔ اس طرف کم وبیش ربع صدی قبل حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے دینی مراکز کو توجہ دلائی تھی لیکن ابھی تک مطلوبہ توجہ اس مسئلہ کو حاصل نہیں ہو رہی۔ اصل ضرورت میڈیا اور صحافت کے جدید ترین اسلوب اور تکنیک کے...

نومبر و دسمبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۱