سود کے بارے میں چند گزارشات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام وقوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں یوبی ایل کی اپیل کی سماعت کے موقع پر دینی وملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے حسب ذیل گزارشات شریعت اپیلٹ بنچ کے معزز ارکان‘ فریقین کے وکلا اور اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم ودانش کی خدمت میں پیش کی گئیں:

* سود تمام آسمانی شریعتوں میں حرام رہا ہے اور بائبل میں بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب ۲۲ آیت ۲۵ میں ارشاد ہے کہ: ’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہے‘ کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔‘‘

استثناء باب ۲۳ آیت ۱۹ میں ہے کہ: ’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا ہو یا اناج کا یا کسی اور ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔‘‘

جبکہ زبور باب ۱۵ آیت ۵ میں نیک آدمی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ’’وہ اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا۔‘‘

قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹ میں سود کی ممانعت کرتے ہوئے سود اور تجارت کو باہم مثل قرار دینے والوں کے موقف کی نفی کی گئی ہے‘ تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے‘ سود سے باز نہ آنے والوں کے طرز عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور سود اور تجارت میں فرق نہ کرنے والوں کو مخبوط الحواس بتایا گیا ہے۔

سورۃ النساء کی آیت ۶۱ میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایک سبب یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں سود سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سود لیتے تھے۔

جناب نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کے تاریخی خطبے میں سود کی کلی ممانعت اور تمام سابقہ سودی معاملات کے خاتمہ کا اعلان فرمایا اور جناب نبی اکرم ﷺ کی بیسیوں احادیث میں سود کی مذمت اور سودکا کاروبار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب اور شدید ناراضی کا ذکر موجود ہے۔

علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبی‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اہل طائف نے جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنے کے لیے چند شرائط پیش کیں تو ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ہم سود کا لین دین نہیں چھوڑ سکتے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ہمارا بیشتر کاروبار سودپر چلتا ہے لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

’’سیرت النبی‘‘ میں ہی مذکور ہے کہ نجران کے مسیحیوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اسلامی سلطنت میں بطور ذمی رہنے کا معاہدہ کیا تو معاہدہ کی باقاعدہ شرائط میں یہ بات درج تھی کہ ان میں سے کوئی سود کا لین دین نہیں کرے گا۔

* کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اس سود کی ممانعت کی ہے جو شخصی قرضوں پر ضرورت مندوں سے لیا جاتا تھا اور تجارتی قرضوں یا لین دین میں سود کی ممانعت نہیں فرمائی۔ یہ بات درست نہیں ہے اور مندرجہ ذیل شواہد اس کی تردید کرتے ہیں:

۱۔ سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ ۔ ’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادہ دست ہونے تک اس کو مہلت دے دو۔‘‘ 

آیت میں اس صورت کے بیان کے لیے حرف ان استعمال ہوا ہے جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ صورت نادر الوقوع ہے کیونکہ عام الوقوع صورت کے ذکر کے لیے عربی زبان میں حرف اذا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۸۲میں اللہ تعالیٰ نے روزہ مرہ لین دین کے احکام بیان کرنے کے لیے اذا تداینتم بدینکے ‘ جبکہ اگلی آیت میں اسی ضمن کی ایک نادر صورت یعنی سفر میں لین دین کی صورت میں رہن کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم علی سفر کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح سورۃ المائدہ کی آیت ۶ میں عام حالات میں نماز سے پہلے وضو کا حکم بیان کرنے کے لیے اذا قمتم الی الصلوۃکے الفاظ آئے ہیں جبکہ غیر معمولی صورت احوال میں تیمم کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم مرضی او علی سفرکے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ یہ تصور کہ نزول قرآن کے زمانے میں صرف تنگ دست اور مفلوک الحال لوگ ہی اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے‘ غلط ہے کیونکہ یہ صورت تو‘ قرآن کے الفاظ کی رو سے‘ نادر اور قلیل الوقوع تھی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر ذاتی اور صرفی ضروریات کے بجائے تجارتی مقاصد کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے اور قرآن نے اسی کو حرام قرار دیا ہے۔

۲۔ سورۃ الروم کی آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے سود پر قرض دینے کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: وما آتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللہ۔ ’’اور تم سود پر جو قرض اس غرض سے دیتے ہو کہ وہ لوگوں کے مال میں بڑھے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتی‘‘۔ 

یہ محرک‘ ظاہرہے کہ ضرورت مندوں کو دیے جانے والے صرفی قرضوں کے بجائے حقیقتاً تجارتی سود میں پایا جاتا ہے کیونکہ صرفی قرضوں میں تو قرض کے مع سود واپس آنے کے بجائے خود اصل رقم ہی کے ڈوب جانے کا امکان غالب ہوتا ہے۔

۳۔ سنن ابن ماجہ‘ کتاب التجارات‘ باب التغلیظ فی الربا میں حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے‘ سود کھلانے والے‘ سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے سب افراد کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس سود سے مراد تجارتی کے بجائے صرف صرفی قرضوں کا سود ہے تو اس میں سود دینے والا کس وجہ سے لعنت کا مستحق ہے؟ کیونکہ وہ بے چارہ تو جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اضطرار کی حالت میں سود پر قرض لے رہا ہے۔

۴۔ احادیث میں ’ربا الفضل‘ یعنی ہم جنس اشیا کے مبادلہ میں کمی بیشی کی ممانعت کے احکام ’ربا النسیءۃ‘ ہی کی فرع ہیں اور سود سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس ضمن میں دو روایتیں درج ذیل ہیں:

صاحب مشکوٰۃ نے باب الربوٰا میں بخاری شریف اور مسلم شریف کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے محاصل وصول کرنے کے لیے ایک نمائندہ بھیجا جو واپس آیا تو اس کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کہ کیا خیبر میں ساری کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں نے عام اور ردی کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ہدایت کی کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ردی کھجوریں نقد رقم کے عوض بیچ کر اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔

مشکوٰۃ شریف باب الربوٰا میں ہی بخاری اور مسلم کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ حضرت بلالؓ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عمدہ کھجوریں لائے۔ حضور ﷺ نے دریافت کیا کہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ عام کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض میں عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ’’عین ربا‘‘ ہے‘ اس لیے ایسا مت کرو اور اگر اس طرح کرنا ضروری ہو تو عام کھجوریں کسی اور چیز کے عوض فروخت کر کے اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں لے لیا کرو۔

احادیث سے ظاہر ہے کہ ربا الفضل کے احکام کا اطلاق روزمرہ کے تجارتی لین دین پر ہوتا ہے نہ کہ صرفی قرضوں پر۔ اب یہ ایک بالکل نامعقول بات ہوگی کہ تجارتی لین دین میں سد ذریعہ کے طور پر ربا الفضل تو حرام ہو اور ربا النسیءۃ‘ جس سے بچنے کے لیے ربا الفضل کو احتیاطاً ممنوع قرار دیا گیاہے‘ حلال اور جائز ہو۔ 

۵۔ یہ بات تاریخی شواہد سے بھی ثابت ہے کہ عہد رسالت اور دور صحابہ میں تجارتی قرضوں کا رواج موجود تھا۔ اس سلسلے میں دو واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

بخاری شریف کتاب الجہاد‘ باب برکۃ الغازی فی مالہ میں مذکور ہے کہ حضرت زبیر بن العوامؓ لوگوں سے قرض لے کر تجارت کیا کرتے تھے اور وفات کے بعد ان کے ذمے مختلف لوگوں کے اس قسم کے قرضوں کی مالیت بائیس لاکھ درہم تھی جو موجودہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔

طبری مطبوعہ قاہرہ ج ۳‘ ص ۸۷ میں مذکور ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہند بن عتبہؓ نے بیت المال سے قرض لے کر بلاد کلب میں جا کر اس سے تجارت کی۔

ان شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ دور نبوی اور دور صحابہ میں شخصی قرضوں کے علاوہ تجارت میں سود کی شکلیں موجود تھیں‘ لوگوں سے قرض لے کر سرمایہ کاری ہوتی تھی اور تجارت کے لیے بیت المال سے قرض لینے کی صورت بھی موجود تھی لیکن ان تمام صورتوں کی موجودگی کے باوجود کسی بھی صورت میں سود کا کوئی معمول نہیں تھا اور شخصی ضرورت‘ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت کسی بھی غرض کے لیے قرض لینے پر سود کی کلی ممانعت تھی۔

* جناب نبی اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں امت میں سود کے عام ہونے کو قیامت کی نشانیوں اور امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں میں ذکر فرمایا ہے‘ مثلاً:

۱۔ مشکوٰۃ باب الربوٰا میں ابو داؤد‘ نسائی اور مسند احمد کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر شخص سود کھانے لگے لگا اور جو نہیں کھانا چاہے گا‘ اس کے سانس کے ساتھ سود شامل ہوگا۔

۲۔ مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک دور ایسا آئے گا کہ کچھ لوگوں کی شکلیں اس لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ ہو جائیں گی کہ وہ شراب پیتے ہوں گے‘ ریشم پہنتے ہوں گے‘ ناچ گانے کی محفلیں آباد کرتے ہوں گے اور سود کھاتے ہوں گے۔

۳۔ حافظ ابن القیمؒ نے ’’اغاثۃ اللہفانؒ ‘‘ میں جناب نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے۔‘‘

* اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اس غرض سے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس ملک میں قرآن وسنت کا نظام نافذ کیا جائے گا اور برطانوی دور کے نوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کر کے اس کی جگہ قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کی طرز پر نیا نظام رائج کیا جائے گا جس کی صراحت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے متعدد ارشادات میں موجود ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کے بارے میں بھی وضاحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ پاکستان کے معاشی نظام کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہوگی اور مغرب کے معاشی نظام سے نجات حاصل کی جائے گی چنانچہ سنگ میل پبلی کیشنز اردو بازار لاہور کی شائع کردہ کتاب ’’قائد اعظم کے مہ وسال‘‘ (مصنفہ جناب محمد علی چراغ) کے ص ۳۳۰ میں مذکور ہے کہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ 

’’مغرب کے نظام معاشیات نے متعدد مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ میں اسلامی نظریات کے مطابق آپ کے یہاں نظام معیشت دیکھنے کا متمنی ہوں۔ مغرب کا معاشی نظام ہی دو عظیم جنگوں کا موجب بنا ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد اور ضروریات کے لیے کام کرنا ہے‘ ہمیں انسانوں کے لیے معاشرتی اور معاشی انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔‘‘

جبکہ مکتبہ محمود مکان نمبر ۸‘ رسول پورہ سٹریٹ اچھرہ لاہور کے شائع کردہ کتابچہ ’’نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام‘‘ میں قائد اعظم کے مذکورہ خطاب کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے:

’’میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ’’مجلس تحقیق‘‘ بنکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام‘ افراد انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظام اور نظریہ اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوش حالی حاصل کرنے کے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانی پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کر کے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا قومی فرض سرانجام دیں گے۔ انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے کہ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہول ناکی سے بچا سکتا ہے اور صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوش حالی کا امین ہو سکتا ہے۔‘‘

اس لیے شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قابل صد احترام سربراہ اور معزز ارکان سے گزارش ہے کہ سودی نظام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات‘ جناب نبی اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین کے تعامل‘ امت کے ہر دور کے جمہور علما وفقہا کے فیصلوں‘ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات وتصریحات کو سامنے رکھیں اور نوآبادیاتی استحصالی نظام کے منحوس شکنجے سے مظلوم پاکستانی قوم کو نجات دلانے والے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے جناب سرور کائنات ﷺ کے ارشادات وفرمودات کی تعمیل کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کے استحصالی معاشی نظام کے جبر کو توڑنے میں پہل اور پیش قدمی کا اعزاز بھی برقرار رکھیں۔

(۱۱ جون ۲۰۰۲ء)

کولہو کے بیل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سودی نظام کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر کے اس کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے اور اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں بہت سے سقم باقی رہ گئے ہیں جن کی اصلاح اور فیصلے کو جامع بنانے کے لیے اس کیس کی دوبارہ سماعت ضروری ہے جس کے دوران میں فریقین پہلے سے اٹھائے گئے نکات کے علاوہ نئے نکات بھی اٹھا سکیں گے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد وہ کنفیوژن ختم ہو گیا ہے جو سودی نظام کے مستقبل کے بارے میں ملکی اور بیرونی حلقوں میں پایا جاتا تھا اور وہ خدشات بھی ذہنوں سے نکل گئے ہیں جو سودی نظام کے خاتمے کی صور ت میں ملکی معیشت کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والے خلفشار کے حوالے سے مسلسل گردش کر رہے تھے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں سقم کی موجودگی، اس پر نظر ثانی کی ضرورت اور اس کی نئے سرے سے سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کو ہدایت کے حوالے سے ہے اس لیے اس پہلو پر کچھ عرض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اب یہ کیس دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہوگا۔ فریقین کے وکلا دلائل کے تبادلہ کا ایک نیا سلسلہ شروع کریں گے، بہت سے اعتراضات اٹھائے جائیں گے، باہمی بحث ومباحثہ ہوگا اور اس کے بعد معلوم ہوگا کہ وفاقی شرعی عدالت اپنے پہلے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے یا اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ اس لیے اس بنیادی سوال پر تو ہم کچھ عرض نہیں کریں گے البتہ بعض متعلقہ امور کے بارے میں چند گزارشات ضرور پیش کرنا چاہیں گے جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اگر ان پر متعلقہ حلقے سنجیدہ توجہ دیتے تو شاید اس فیصلہ کی نوبت نہ آتی اور اب بھی یہ اس لیے عرض کرنا ضروری ہے کہ کیس کی ازسرنو سماعت کے موقع پر اگر یہ امور سنجیدہ توجہ کے مستحق نہ ٹھہرے تو ہمارا اندازہ ہے کہ نتیجہ پہلے سے مختلف نہیں ہوگا اور خاص طور پر دینی حلقے اور ان کی قیادت ’’بعد از مرگ واویلا‘‘ کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔

ملک کے معاشی ڈھانچہ کے بارے میں اس بنیادی فیصلے کے لیے ہم نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ صرف کر دیا ہے مگر ابھی تک ’’زیر پوائنٹ‘‘ پر کھڑے ہیں۔ فیصلے میں اس قدر تاخیر کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور یہ بنیادی طور پر دینی قیادتوں اور اہل علم ودانش کے ان حلقوں کی ذمہ داری ہے جو سودی معیشت کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اسے ملکی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے متمنی ہیں۔ ہمارے خیال میں ان دونوں حلقوں نے ابھی تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ورنہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت کے دفاع کی طرح اس مسئلے کو بھی دینی حلقے اپنی ترجیحات میں صحیح جگہ دے دیں اور اس کے لیے عوامی ذہن کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینے، کیس کو صحیح طریقے سے لڑنے اور علمی اور عوامی دونوں محاذوں پر دباؤ کو منظم کرنے کے لیے مناسب جدوجہد کریں تونتائج پر ان کی گرفت اس قدر ڈھیلی نہیں رہے گی جیسا کہ اب صاف طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔

ہمیں عدالت عظمیٰ میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے یوبی ایل کی رٹ کی سماعت کے دوران میں ایک فاضل جج کے ان ریمارکس سے مکمل اتفاق ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا کی تیاری مکمل نہیں تھی اور خود ہمارا تاثر بھی یہی ہے کہ وہ سرکاری وکلا کے دلائل اور نکات کے جواب دینے کے بجائے روایتی باتیں دہرانے اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں پر اکتفا کر رہے تھے۔ یہ بات درست ہے کہ سرکاری وکلا بالخصوص سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے جو نکات اٹھائے اور جس طرح محنت کر کے اپنا کیس پیش کیا، ان دلائل ونکات کا غلط یا صحیح ہونا اپنے مقام پر مگر دلائل کی تلاش میں ان کی محنت اور عوامی ذہن کو متاثر کرنے والے طرز استدلال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دوسری طرف اس کا فقدان تھا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ سرکاری وکلا کے دلائل اور نکات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ان دلائل کا جواب موجود ہے اور ہم ان کالموں میں سرکاری وکلا کی اس بحث کا جائزہ لینے اور علمی انداز سے اس کے دلائل ونکات کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہمارے نزدیک اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:

۱۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا نے نئی تیاری کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سابقہ دلائل ونکات کے دہرانے کو ہی کافی سمجھا۔

۲۔ سرکاری وکلا کی طرف سے پیش کیے جانے والے دلائل اور نکات کو انہوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا اور عوامی سطح پر ان کے اثرات پر توجہ نہیں دی۔

۳۔ ملک کی بڑی دینی جماعتوں، علمی مراکز اور علمی شخصیات نے اس کیس میں براہ راست دل چسپی لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ پاکستان شریعت کونسل نے رٹ کی سماعت کے دوران میں ایک تفصیلی عرض داشت سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے معزز ارکان اور فریقین کے وکلا کو بھجوائی تھی جس میں ان بہت سے نکات کا جواب موجود تھا جن کی بنیاد پر اس فیصلے کو دوبارہ سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے پاس بھجوایا گیا ہے مگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا تک نے اس پر توجہ دینے کی زحمت نہیں فرمائی۔

۴۔ جتنا وقت سرکاری وکلا کو اپنا موقف اور دلائل پیش کرنے کے لیے دیا گیا، دوسری طرف کے وکلا کو جواب دینے کے لیے اتنا وقت نہیں ملا اور وہ اپنی بات دل جمعی کے ساتھ نہیں کہہ سکے۔ 

وجوہ کچھ بھی ہوں مگر نتائج سامنے ہیں کہ ہم سودی نظام اور غیر اسلامی ڈھانچے کے حوالے سے ایک بار پھر زیرو پوائنٹ پر واپس چلے گئے ہیں اور اب ہمیں نئے سرے سے اپنے سفر کا آغاز کرنا ہے۔

ایک نظر ان مراحل پر ڈال لیجیے جن سے گزر کر ہم نے ’’کولہو‘‘ کے گرد یہ چکر مکمل کیا ہے:

* پاکستان کا قیام اسلامی نظام، اسلامی معاشرت اور اسلامی معیشت کے نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور دیگر قائدین کی صراحتیں موجود ہیں۔

* یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے جس کی بنیاد مغرب کے معاشی افکار پر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات پر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ماہرین معیشت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ملک کے معاشی ڈھانچے کی جلد از جلد تشکیل کی طرف توجہ دیں۔

* قیام پاکستان کے بعد ربع صدی دستوری تجربات اور اکھاڑ پچھاڑ میں صرف ہو گئی۔ اس کے بعد ۷۳ء کا دستور نافذ ہوا تو اس میں ملک کے تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دی گئی جن میں سودی نظام اور ملک کا معاشی ڈھانچہ بھی شامل تھا۔

* جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے وفاقی شرعی عدالت قائم کی تو ابتدا میں مالیاتی معاملات کو دس سال تک اس کی دسترس سے باہر رکھنے کی شرط لگائی تھی۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ دس سال کے بعد اسے معاشی نظام کے بارے میں فیصلہ کرنے اور رائے دینے کا اختیار حاصل ہو گیا تھا۔

* اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۸۸ء میں سودی نظام کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی جس میں اس نے سودی نظام کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیتے ہوئے اسلامی تعلیمات پر مشتمل متبادل معاشی نظام کا ڈھا نچہ پیش کر دیا تھا۔

* وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۹۱ء میں سودی نظام کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایک متعینہ مدت کے اندر ان قوانین کو تبدیل کرے۔

* اس فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی تو ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی اور حکومت کو ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک مہلت دی کہ وہ سودی قوانین ختم کر کے ملک میں اسلامی نظام معیشت کی بنیاد رکھے۔

ان مراحل سے گزرنے کے بعد بھی اگر ہم ابھی تک اسی مقام پر کھڑے ہیں کہ ہمیں سود اور استحصال پر مبنی معاشی ڈھانچہ کو ہاتھ بھی لگانا ہے یا نہیں تو یہ ایک ’’قومی المیہ‘‘ ہے اور اس المیے کے رونما ہونے کے اسباب میں ہم سب کسی نہ کسی درجے میں ضرور شریک ہیں اور ہر طبقہ اور شخص کو اس کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ جہاں تک کسی نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے، ہم اس صلاحیت سے محروم نہیں ہیں۔ ہم تو ایک فون کال پر پورے سسٹم اور پراسس میں ’’یوٹرن‘‘ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نفع ونقصان کی پروا کیے بغیر اسے نباہنے اور بھگتنے کا حوصلہ بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے بات سسٹم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور اس تبدیلی کے نقصانات برداشت کرنے کے حوصلے کی نہیں بلکہ اصل بات کچھ اور ہے اور جب تک ہم اس بات کا پوری طرح ادراک کر کے اسے گرفت میں لانے کی کوشش نہیں کریں گے، نوآبادیاتی استحصالی نظام کے ’’کولہو‘‘ کے گرد اسی طرح چکر کاٹتے رہیں گے۔

اسلامی شریعت

(جولائی ۲۰۰۲ء)

Flag Counter