مسلمان معاشرے اور تعلیمات اسلام ۔ فکری کنفیوژن کیوں؟

ارشاد احمد حقانی

ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی ایک ریاست (یعنی صوبے) کے وزیر اعلیٰ جناب عبد الہادی اورنگ کے اس عزم کو ناکام بنا دیں گے کہ وہ اپنی ریاست میں شرعی احکام نافذ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جناب عبد الہادی جس قسم کے قوانین نافذ کر رہے ہیں اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں ’’وہ جہنم میں جا سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مذکورہ قوانین نافذ کر کے ہادی اورنگ گناہ کے مرتکب ہوں گے کیونکہ یہ قوانین غیر منصفانہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’چونکہ انہوں نے ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جو حقیقی اسلامی تعلیمات پر مبنی نہیں ہیں اور اسلام کی سچی تعلیمات کو مسخ کرتے ہیں، اس لیے قیامت کے روز انہیں سزا ملے گی۔ میری حکومت عبد الہادی اورنگ کی پارٹی PAS کے مجوزہ قوانین کا مطالعہ کرے گی اور آئین کے اندر ہمیں اختیار ہوا تو ہم ان قوانین کا نفاذ روک دیں گے۔ میری جماعت اس پارٹی کے پروگرام کی مخالفت کرنے سے غیر اسلامی نہیں بن جائے گی۔‘‘

ملائشیا کے صوبے ترنگانو کے وزیر اعلیٰ جناب عبد الہادی جماعت اسلامی پاکستان کے ایک پچھلے سالانہ اجتماع میں، جو اس کی نئی آبادی قرطبہ میں منعقد ہوا تھا، تشریف لائے تھے اور میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ وہ اپنے صوبے میں طالبان یا ضیاء الحق طرز کے اسلامی قوانین نافذ کر رہے ہیں اور ڈاکٹر مہاتیر نے انہی کی مخالفت کی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر کا تازہ بیان ان لوگوں کے لیے باعث حیرت ہوگا جنہوں نے صرف ایک روز پہلے ان کی زبان سے یہ دعویٰ سنا تھا کہ ملائشیا ایک اسلامی بنیاد پرست ریاست ہے کیونکہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرتی ہے۔ یہ لوگ حیران ہوں گے کہ ڈاکٹر مہاتیر نے دو ایک ہی روز میں اس قدر ’’متضاد‘‘ باتیں کیسے کر دی ہیں لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر کے یہ بظاہر دو متضاد بیانات اصل میں اس مخمصے اور فکری الجھاؤ کے مظہر ہیں جو مسلمان ممالک، اس کے دانش وروں، علما اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ مغربی دنیا تو اسلام کے بارے میں الجھی ہی ہوئی ہے لیکن مسلمان معاشروں کے مختلف طبقات بھی کچھ کم الجھے ہوئے نہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی طور پر اسلام کے ترجمان اور شارح ہمارے علما سمجھے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی اکثریت ایک زائد المیعاد اور فرسودہ نظام تعلیم کی پیداوار ہے اور ان کی اکثریت جدید عمرانی علوم سے بالکل بے بہرہ ہے اس لیے وہ آج بھی صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں مدون ہونے والی شریعت کے اپنے فہم کے حتمی اور قطعی ہونے پر اصرار کرتی ہے اور اس کی تمام جزئیات کے نفاذ کو دین کا عین تقاضا سمجھتی ہے۔ اس کے مقابلے پر کچھ ایسے تعلیم یافتہ مسلمان بھی ہیں جو تعلیمات اسلام سے قریب قریب کلی طور پر بے بہرہ ہیں۔ وہ نہ صرف اسلام سے نابلد محض ہیں بلکہ بعض دوسرے فلسفوں اور نظام ہائے زندگی کے زیر اثر ہیں۔ ان فلسفوں اور نظام ہائے زندگی کے اکثر اجزا جوہری اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ ان کا تصور کائنات، تصور انسان، زندگی بعد الموت کا فہم، وحی اور رسالت کے بارے میں ان کے تصورات، اسلامی تصورات کی ضد اور ان سے متصادم ہیں لیکن خوش قسمتی سے مسلمان معاشروں میں ادھر کچھ عرصے سے (یوں کہہ لیجیے کہ قریباً ایک سو سال سے) مسلمان سکالرز کا ایک اور طبقہ ابھر رہا ہے جو جدید وقدیم کا جامع ہے، جس کے مآخذ رہنمائی تو قرآن وسنت ہیں لیکن جو معاصر عمرانی علوم پر بھی نظر رکھتا ہے اور جو روح عصر سے آشنا ہے۔ یہ تیسرا طبقہ علما وفضلا ہمارے مستقبل کی امید ہے لیکن کم از کم اس وقت مسلمان معاشروں میں ان تینوں طبقات کے درمیان زیادہ تر فکری اور علمی اور ایک حد تک عملی اور سیاسی مسابقت کی دوڑ بھی جاری ہے۔ فکرونظر کے اسی اختلاف کی وجہ سے تہذیب مغرب کے بارے میں بھی ان تینوں طبقوں کا رد عمل مختلف ہے اور اکثر متصادم بھی۔ اس فکری وعملی مجادلے کی سنگینی اور شدت کا اندازہ ڈاکٹر مہاتیر ہی کے مذکورہ بیانات سے کیا جا سکتا ہے۔ وہ جناب عبد الہادی اورنگ کو اپنے فہم شریعت کو نافذ کرنے پر جہنم میں جانے اور روز محشر سزا ملنے کی وعید سنا رہے ہیں جبکہ موصوف کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اسلام کی ٹھیٹھ شکل کو اپنی ریاست میں رائج کر رہے ہیں۔ کیا اس سے زیادہ سنگین فکری بعد کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟

تینوں طبقوں کے فکر ونظر کے اس اختلاف کا پیدا کردہ بحران اور کنفیوژن اس وقت سنگین تر ہو جاتا ہے جب ہم مغربی تہذیب اور مغربی جمہوریت کے بارے میں ان کے متبائن اور متخالف او رمتصادم رویے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال صرف فرزند اقبال ہی نہیں ہیں، اقبال کے ایک باخبر طالب علم بھی ہیں۔ چند ماہ پہلے ہم ایک مغربی چینل کے ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے انتظامات کو آخری شکل دیے جانے کے انتظار میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ دوران گفتگو ڈاکٹر جاوید اقبال نے مجھ سے کہا (دل تھام کر بیٹھیے اور غور سے سنیے) کہ اقبال آخر وقت تک اپنا ذہن صاف نہ کر سکے کہ تہذیب مغرب کے بارے میں ان کا رویہ درپیش لاتعداد فکری حوالوں سے کیا ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کی اس رائے میں کتنا وزن ہے، اس وقت میں اس سوال پر گفتگو نہیں کر رہا لیکن اس سے آپ اندازہ کیجیے کہ مسلمان سکالرز کے لیے تہذیب مغرب کے بارے میں ایک صائب اور متوازن رائے قائم کرنا کس طرح جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جب اقبال جیسے شخص کے لیے، جو میرے اوپر بیان کردہ تین طبقوں میں سے جدید وقدیم کے جامع طبقے کے گل سرسبد ہیں، جاوید اقبال کے بیان کردہ مخمصے کو حل کرنا ایک لاینحل عقدہ ثابت ہوا تو تابہ دیگراں چہ رسد؟ قدیم طرز کے علما اور اسلام کے براہ راست مطالعہ سے محروم لوگوں یعنی مسلمان معاشروں کی ان دو انتہاؤں پر کھڑے لوگوں کے لیے اس کو حل کرنا کس قدر مشکل ہوگا؟ اور جب ان کے فہم اور تصورات اور اہداف وترجیحات میں اس طرح کا غیر معمولی بعد پایاجاتا ہو تو مسلمان معاشروں اور نظام ہائے حکومت کی صورت گری اور تشکیل نو میں ان کے نظریات متصادم ہوں تو اس پر قطعاً تعجب نہ ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر مہاتیر نے اپنے دو متصل بیانات کے ذریعے ملائشیا کے جس مخمصے کو نمایاں کیا ہے، یہ مخمصہ کم وبیش تمام مسلمان ممالک کو درپیش ہے۔ پاکستان کو لے لیجیے، ایران کو لے لیجیے۔ دونوں ملکوں میں اس اساس پر بالعموم اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا جائے گا لیکن آپ دیکھیے کہ قائد اعظم اور مذہبی جماعتیں ایک دوسرے سے کس قدر فاصلے پر کھڑے ہیں۔ ان کے درمیان قومیت کی تعریف اور طرز انتخاب جیسے انتہائی ابتدائی امور پر بھی اتفاق رائے موجود نہیں۔ 

ایران میں شدت پسند اور اصلاح پسند دونوں شیعہ اسلام اور امام خمینی کی تعلیمات سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہاں ایرانی معاشرے اور نظام حکومت کی تشکیل کے سوال پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور وہاں ایک خوف ناک فکری مباحثہ اور عملی جدال جاری ہے۔ اپنے آخری سفر ایران کے دوران دو ممتاز پاکستانی صحافیوں کی موجودگی میں میرا اس وقت کے ایرانی وزیر آہنگ وارشاد اسلامی (ہماری اصطلاحات میں وزیر ثقافت واطلاعات) جناب عطاء اللہ مہاجرانی سے ایک دل چسپ مکالمہ ہوا۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ڈاکٹر خاتمی کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور ڈاکٹر خاتمی کے ساتھی ایرانی آئین اور معاشرے کو جو رخ اور رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ڈاکٹر مہاجرانی نہ صرف اس سے متفق ہیں بلکہ شاید ان سے دو قدم آگے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں وزارت سے مستعفی ہو کر ایک نو تخلیق کردہ دفتر میں بٹھا دیا گیا ہے۔ یہ دفتر ’’تہذیبوں کے مکالمے‘‘ پر کام کر رہا ہے۔ مذکورہ مکالمے میں، میں ڈاکٹر مہاجرانی سے یہ کہلوانا چاہتا تھا کہ آپ کے آئین میں ولایت فقیہ اور راہبر کے منصب اور اختیارات کا جو فہم اپنایا گیا ہے، وہ منتخب صدر اور منتخب قیادت کے مقام، تصور اور اختیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مجھے معلوم تھا کہ ان کی اپنی رائے بھی یہی تھی لیکن چونکہ اس وقت وہ ایک اہم وزیر تھے اس لیے وہ کھل کر یہ بات نہ کہہ سکتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ہاں ’’اصلاح طلبگان‘‘ اور ’’محافظ کاران‘‘ کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے، اس میں کون سا فریق امام خمینی کی تعلیمات کے قریب تر ہے یعنی آج امام خمینی زندہ ہوتے تو ان کی سرپرستی کسے حاصل ہوتی؟ انہوں نے جواب دیا کہ دونوں فریق ’’خط امام‘‘ یعنی امام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے مدعی ہیں۔ جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے واضح جواب نہیں دیا تو انہوں نے کہا کہ کیا مسلمانوں کے تمام فرقے یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن اور اسلام کی اصل تعلیمات پر صرف وہی کاربند ہیں حالانکہ ان کے فہم اسلام میں غیر معمولی اختلاف پایا جاتا ہے؟ اسی طرح ہمارے ہاں دونوں طبقے ’’خط امام‘‘ کے پیروکار ہونے کے مدعی ہیں اور کوئی فریق دوسرے کو قائل نہیں کر سکتا کہ وہ خط امام سے انحراف کر رہا ہے۔ 

میں جو بات واضح کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ تعلیمات اسلام کی تعبیر اور تشریح اور اسی مناسبت سے تہذیب مغرب کے بارے میں رویوں میں پایا جانے والا اختلاف مسلمان معاشروں میں غیر مطلوب ہونے کے باوجود ناقابل فہم نہیں۔ اس اختلاف اور تنازع کو وقت ہی حل کرے گا اور میری پرانی رائے ہے کہ مسلمان معاشروں کا تیسرا طبقہ جو قدیم وجدید کا جامع ہے، اسی کا فہم اسلام آخر کار مسلمان معاشروں میں رائج ہوگا اور سند قبولیت پائے گا۔ لیکن ظاہر ہے ایسا دو چار دن میں نہیں ہوگا۔ اس میں سو سال بھی لگ سکتے ہیں، اگرچہ یہ عمل شروع نسبتاً جلدی بھی ہو سکتا ہے۔ 

(بشکریہ روزنامہ جنگ لاہور)

آراء و افکار