امت مسلمہ کو درپیش فکری مسائل کے حوالے سے چند اہم گزارشات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’عصر حاضر میں اسلامی فکر۔ چند توجہ طلب مسائل‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون اندازاً ربع صدی قبل تحریر کیا گیا تھا لیکن اس کی اہمیت وافادیت آج بھی موجود ہے بلکہ مسائل کی فہرست اور سنگینی میں کمی کے بجائے اس دوران میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

ان میں سے بیشتر مسائل خود میرے مطالعہ کا موضوع بھی رہے ہیں اور بعض مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھا بھی ہے مگر یہ خواہش رہی ہے کہ ایجنڈا اور تجاویز کے طور پر ایسے مسائل کی ایک مربوط فہرست سامنے آجائے جو اس وقت دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر ’’اسلامائزیشن‘‘ کے حوالے سے زیر بحث ہیں یا متعدد حلقوں کی طرف سے ان پر بحث وتمحیص کا تقاضا موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب محترم کا یہ مضمون اس ضرورت کو کافی حد تک پورا کرتا ہے اور اسے اہل علم ودانش کے حلقوں میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔

اب سے تقریباً پون صدی قبل مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خطبات میں ان اصولی اور علمی مسائل کی نشان دہی کی تھی جن کا جائزہ لینا اسلام کی تعبیر وتشریح کو دور جدید کے ناگزیر تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ میرے نزدیک علامہ محمد اقبالؒ کے یہ خطبات تجاویز اور ایجنڈے کی حیثیت رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے موافق اور مخالف دونوں حلقوں میں انہیں ایجنڈے کے بجائے موقف کا درجہ دے دیا گیا اور اول تو ان پر سنجیدگی سے بحث ہی نہیں ہوئی اور اگر گفتگو کا تھوڑا بہت سلسلہ چلا تو وہ موقف کی حمایت ومخالفت کے دائرہ تک محدود رہا اور علامہ اقبالؒ ان تجاویز اور ایجنڈے کی صورت میں متعلقہ امور ومسائل پر جس وسیع علمی مباحثہ کی توقع کر رہے تھے‘ وہ پوری نہ ہوئی۔

مجھے یہ خدشہ ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کے اس مضمون کے ساتھ بھی یہی معاملہ نہ ہو جائے اور ان کی ’’تجاویز‘‘ بحث وتمحیص کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے بجائے ’’موقف‘‘ قرار پا کر حمایت ومخالفت کے ایک نئے بازار کو گرم کرنے کا باعث نہ بن جائیں لیکن اس کے باوجود میں اس بات کے حق میں ہوں کہ دینی وعلمی حلقوں میں ان کا یہ مضمون ایک مربوط ایجنڈے کے طور پر بار بار پڑھا جائے اور اس میں جن مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے‘ ان پر وسیع تر دائرے میں علمی مباحثہ کا اہتمام ہو کیونکہ اسی صورت میں ہم پیش آمدہ مسائل پر ایک متفقہ یا کم از کم اکثریتی موقف تک پہنچنے اور ان مسائل کے حوالے سے فکر جدید کے چیلنج کا سامنا کرنے میں کام یاب ہو سکیں گے۔

ڈاکٹر صاحب کے مضمون میں مجھے ایک بات کھٹکی ہے کہ وہ اسلام کی تعبیر وتشریح کے لیے روایتی دینی وعلمی حلقوں کو ایک طرف کرتے ہوئے اہل دانش کے کسی نئے طبقے کو سامنے لانے کے خواہش مند ہیں اور جہاں وہ جدید فکری وعلمی تقاضوں سے روایتی دینی وعلمی حلقوں کی بے اعتنائی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے تحفظات میں اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ:

’’انہیں یہ اندیشہ ہے کہ مکمل اسلامی نظام کے قیام کی کوششیں کہیں محدود دائرے میں بھی اسلام کے باقی نہ رہنے کا سبب نہ بن جائیں۔‘‘

وہاں انہیں اسلامی تحریکات سے یہ شکایت بھی ہے کہ

’’ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کو سیکولر دانش وروں کے مقابلہ میں اور مسلمان عوام میں نفوذ کے لیے علما ومشائخ کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے ان پر تنقید کا لہجہ نرم پڑ جاتا ہے۔‘‘

ہمارے نزدیک مسلم ممالک میں بہت سی اسلامی تحریکات نے اسی مقام پر ٹھوکر کھائی ہے کہ روایتی دینی وعلمی حلقوں کے بارے میں قطعی طور پر یہ بات طے کر کے کہ ان کے ذریعے سے اسلام کی دعوت واشاعت اور تنفیذ وترویج کا کوئی امکان نہیں ہے‘ ان سے ہٹ کر نئے علمی وفکری حلقے قائم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جن کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ اسلامی تحریکات کی بیشتر صلاحیتیں اور توانائیاں اپنا وجود منوانے اور روایتی دینی حلقوں کی افادیت کی نفی کرنے میں ہی صرف ہو کر رہ گئی ہیں اور جس کام کے لیے ان نئے حلقوں کا وجود عمل میں آیا ہے‘ ا س کی طرف توجہ کم رہی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی روایتی حلقوں اور نئے فکری حلقوں کے درمیان کشمکش اور بحث وتمحیص کی گرم بازاری نے بعض مقامات پر نئے فکری خلفشار کو جنم دیا ہے۔

روایتی دینی وعلمی حلقوں کی سرد مہری‘ پیش آمدہ مسائل سے ان کی بے اعتنائی اور فکر جدید کے چیلنجز کا سامنا کرنے سے ان کا گریز ایک معروضی حقیقت ہے جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور خود ہمیں بھی ان حلقوں سے مسلسل یہ شکایت ہے لیکن اس مسئلہ کا حل ان روایتی حلقوں کو جو صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں ایک مضبوط ادارے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں‘ ایک طرف کر کے اور ان کی نفی کر کے علم ودانش کی صلاحیتیں اور توانائیاں نئے فکری حلقوں کے قیام اور ان کا وجود منوانے کی کوششوں میں ضائع کرنا نہیں ہے بلکہ خود ان روایتی دینی وعلمی حلقوں کے اندر اصلاح کی جدوجہد کو مربوط بنانا ہے اور ہمارے خیال میں روایتی حلقوں سے ہٹ کر کام کرنے والی اسلامی تحریکات نے جتنا زور اپنا الگ وجود تسلیم کرانے میں صرف کیا ہے‘ اگر وہی قوت اور صلاحیتیں روایتی حلقوں کے اندر رہتے ہوئے اصلاح اور بہتری کے لیے صرف ہوتیں تو آج صورت حال خاصی مختلف ہوتی البتہ اس کے لیے بہت زیادہ محنت اور جگر کاوی درکار ہے اور خود کو ثانوی درجے میں رکھنے کے حوصلے کی بھی ضرورت ہے لیکن ہمارے نزدیک اس مسئلے کا کوئی اور حل ممکن نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامائزیشن کا جو عمل بھی نتیجہ خیز طور پر آگے بڑھے گا‘ وہ روایتی دینی وعلمی حلقوں کے ذریعے سے ہی وجود میں آئے گا اور ان کو نظر انداز کر کے کی جانے والی کوئی بھی کوشش نئے فکری خلفشار کو جنم دینے کے علاوہ اسلامی معاشرے کی اور کوئی خدمت سرانجام نہیں دے پائے گی۔

اس لیے ہمارے سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ جدید مسائل کا ادراک وشعور اور ان کے حل کا جذبہ رکھنے والے ارباب علم ودانش کو روایتی حلقوں کے اندر ہی اپنی جگہ تلاش کرنی چاہیے اور انہی کو محنت اور تگ ودو کے ساتھ اس کام کے لیے تیار کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنی چاہییں کیونکہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب محترم نے جن مسائل کو توجہ طلب قرار دیا ہے‘ ان کے حل کا محفوظ اور صحیح راستہ یہی ہے۔ 

میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے اس فکر انگیز مضمون پر مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کا یہ تبصرہ زیادہ مناسب ہے اور اسی پر اپنی معروضات ختم کر رہا ہوں کہ:

’’مضمون فکر انگیز اور پر مغز ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس طریق فکر سے سو فی صد اتفاق ہو۔ بڑے اہم سوالات ہیں جن کو زیادہ دنوں تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کو نظر انداز کرنے کی اس عالم اسباب میں اکثر وہی سزا ملتی ہے جو متعدد آزاد ہونے والے ممالک اور مسلم معاشروں میں اس دور میں ملی ہے ..... لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسائل پر کون غور کرے؟ یا وہ لوگ ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں اور جو اہل ہیں‘ ان کو ترکی کے پچھلے دور کے علما کی طرح اپنی دوسری مصروفیتوں سے فرصت نہیں۔‘‘ (بحوالہ ’’اسلام‘ معاشیات اور ادب‘‘ ص ۵۷‘ ۵۸ از ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی)

اسلام اور عصر حاضر