عصر حاضر میں اسلامی فکر ۔ چند توجہ طلب مسائل

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی

(ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا شمار عالم اسلام کے نامور اصحاب علم اور ماہرین معاشیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں انہوں نے نہایت بالغ نظری کے ساتھ ان مباحث کی نشان دہی کی ہے جو دین وشریعت کی تعبیر وتشریح اور امت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنجوں کے حوالے سے عالم اسلام کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ تحریر کی اہمیت کے پیش نظر اسے افادۂ عام کے نقطہ نظر سے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے شکریے کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


دور جدید میں احیاے اسلام کی کوشش، یا زیادہ جامع الفاظ میں اسلامی زندگی کو عقیدہ ومسلک، اجتماعی رویہ، قانون ملکی اور دستور مملکت کی حیثیت سے بہ تمام وکمال برپا کرنے کی کوشش کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تجدید ایمان کا مسئلہ ہے۔

فکری بنیادیں

ایمان کی اہمیت:

اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ آج پوری دنیا میں اللہ پر ایمان زائل یا از حد ضعیف ہو چکا ہے اور اس کی ہدایت کی طرف رجوع مفقود یا محض رسمی ہو کر رہ گیا ہے۔ دور جدید کا انسان رسمی طور پر خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنا نظام زندگی خود وضع کرنے پر مصر ہے اگرچہ ایسا کرنے کے نتائج اچھے نہیں رہے ہیں۔ انسانی ذہن کی نارسائی، کوتاہ بینی اور عدم استقرار نے جدید انسان کو اضطراب وحیرانی میں مبتلا کر رکھا ہے مگر ابھی وہ خدا کی طرف رجوع پر آمادہ نہیں۔

تحریک اسلامی کو، جو صرف مسلمانوں کی اصلاح کو مقصود نہیں بناتی ہے بلکہ تمام بندگان خدا کو خدا کی ہدایت کی طرف بلاتی ہے، ایک ایسی فکر کو سامنے لانا ہے جو انسانیت کو دوبارہ خدا پر سچا ایمان عطا کرنے اور اس کی ہدایت کی طرف واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

دنیا میں گزشتہ دو سو سال سے جو تہذیب چھائی ہوئی ہے، اس نے ایمان بالغیب کی جڑیں ہلا دی ہیں اور یقین کو صرف اسی علم تک محدود کر دیا ہے جو حواس کی مدد سے حاصل کیا جا سکے۔ اس تہذیب نے انسان کا منتہائے نظر دنیوی ترقی اور مادی اقتدار تک محدود کر دیا ہے۔ زندگی کے روحانی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا ہے، اور اخلاق کو ان مادی مقاصد کے تابع بنا دیا ہے۔ یہی مرض اس تضاد کی بھی توجیہ کرتا ہے کہ آج جب دنیا میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان ہیں جن کی اکثریت ۵۰ سے زیادہ ملکوں میں رہتی ہے لیکن کسی جگہ بھی اسلامی نظام زندگی قائم نہیں ہے، ان مسلمانوں میں ایمان کی کمزوری خدا کے وجود یا محمد ﷺ کی رسالت سے کھلم کھلا انکار کی صورت شاذ ونادر ہی اختیار کرتی ہے مگر ان کی ۹۹ فی صد اکثریت انسانیت کے مذکورہ بالا مشترکہ مرض میں مبتلا ہونے کے سبب اس پختہ یقین، تعلق باللہ اور محمد ﷺ کی قیادت ورہنمائی پر اس کامل اعتماد سے محروم ہے جو اللہ ہی کو زندگی کے تمام امور میں حکمران بنانے کے لیے درکار ہے۔

مسلم دانش وروں کی فکری جہت:

مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ پریس اور دوسرے ذرائع سے تہذیب حاضر کی مسلسل تربیت میں رہتا ہے اور معاشی اعتبار سے ان قدروں کا زیادہ واضح شعور رکھتا ہے جو تہذیب حاضر نے انسان کو دی ہیں۔ یہی طبقہ مسلمان قوموں میں سیاسی برتری کا مالک ہے۔ یہ آزاد مسلم ممالک میں حکومت کرتا اور نظام تعلیم، پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سینما کے ذریعے عوام کی تربیت کرتا ہے اور دوسرے ممالک میں مسلمان اقلیتوں کا سیاسی اور ثقافتی رہنما ہے۔ یہ طبقہ ایمان کے غیر معمولی ضعف کا شکار ہے۔ مسلمان دانش وروں میں ایک معتد بہ تعداد خدا کے وجود، رسالت اور آخرت پر یقین سے محروم ہے یا کم از کم ایسے شک وریب میں مبتلا ہے جو ان کے ایمان کو بے اثر بنا دینے کے لیے کافی ہے۔

مسلم دانش وروں کی ایک بڑی تعداد ان بنیادی امور پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ سمجھتی ہے کہ اسلام کا دائرہ بھی دوسرے مذاہب کی طرح نجی زندگی میں بندہ وخدا کے تعلق تک محدود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قرآن کی تعلیمات اور رسول کی ہدایات، عبادات واخلاق اور عام انسانی تعلقات میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہیں مگر قرآن وسنت کے احکام وقوانین یعنی ’’شریعت‘‘ اپنے زمانے کے لیے تھی، ہمارے زمانے کے لیے نہیں ہے۔ یہ لوگ عام دنیوی امور میں شریعت کی پابندی کے قائل نہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد ان مسلمانوں کی بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ان امور میں ہم اسلامی تعلیمات کی روح کو سامنے رکھیں گے مگر سود کی حرمت، قانون وراثت اور فوجداری قوانین جیسے متعین احکام کی پابندی اس زمانے میں ممکن نہیں۔

موخر الذکر دونوں طبقوں کے رجحانات متعین کرنے میں اگر ایک طرف مغرب کی دی ہوئی فکر اور اس کا نظام اقدار اثر انداز ہوا ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی فیصلہ کن رہی ہے کہ ان دانش وروں کو مذکورہ بالا متعین قوانین اور ان جیسے دوسرے قوانین کو آج کی دنیا میں نافذ کرنا عملاً محال نظر آتا ہے۔ جدید زندگی کے احوال وظروف اور جدید انسان کے مزاج کو، جیسا کچھ انہوں نے سمجھا ہے، اس کی روشنی میں وہ یہ رائے رکھتے ہیں کہ: سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی، وراثت، گواہی، طلاق یا زندگی کے کسی مسئلے میں عورت کے ساتھ مرد سے مختلف سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ حدود شرعیہ کا نفاذ دور جدید کے انسان کا مزاج نہیں قبول کر سکتا، ایک جدید مملکت میں قانون سازی اور انتظام ملکی میں غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا، وغیرہ وغیرہ۔

جب تک مسلمان معاشروں میں قیادت اور سربراہی کے مالک دانش وروں کی ایمانی اور فکری حالت یہ ہے، ظاہر ہے کہ ان کے اندر اسلامی انقلاب کی توقع نہیں کی جا سکتی، اگرچہ عام مسلمانوں میں مذہب کا اثر زیادہ ہے۔تعلیم کی کمی اور معلوم معاشی پست حالی کے سبب ابھی تہذیب جدید کی فکر اور نظام اقدار ان پر پوری طرح اثر انداز نہیں ہو سکا ہے۔ معاشی ترقی اور جدید تعلیم کے عام ہونے کے ساتھ مذہب کا اثر بھی گھٹتا جا رہا ہے۔ مذہب کا جو اثر ہے، وہ بھی زیادہ تر عبادات اور متعدد ثقافتی امور تک محدود ہے۔ البتہ زندگی کے مقاصد، منظور نظر قدریں اور دنیوی زندگی میں خوب وناخوب کے پیمانے وہی ہیں جنہیں جدید فکر کے زیر اثر دانش وروں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اپنے لیڈروں کی مذہب سے دوری پر افسوس کرنے کے باوجود دنیوی امور سے شریعت کی بے دخلی کے معاملے میں مسلمان عوام کی غالب اکثریت اپنے لیڈروں ہی کے پیچھے چل رہی ہے۔

علما ومشائخ کا عمومی رویہ:

ہر مسلمان معاشرے میں ایک طبقہ علما ومشائخ کا بھی ہے جس سے مسلمان عوام خاصا تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے اندر شعائر اسلام کے احترام اور ثقافتی امور میں اسلامی آداب کی پابندی زیادہ تر انہی علما ومشائخ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ان علما ومشائخ کو مسلمان عوام سیاسی اور عام دنیوی امور میں اپنا رہنما نہیں بناتے اور نہ خود علما ومشائخ میں اتنی خود اعتمادی اور اس بات کا حوصلہ ہے کہ وہ ان کی مکمل رہنمائی کریں۔

وہ جدید تہذیب اور مسلمان دانش وروں پر اس کے گہرے اثرات سے بالعموم ناواقف ہیں۔ اگر وہ مرض کی بعض علامتیں دیکھتے بھی ہیں تو اس کے اسباب تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ تہذیب جدید اور اس کے تمدن کی مادی بلندی سے مرعوب ہیں اور اس کو جڑ، بنیاد سے بدل کر اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کا کوئی داعیہ اپنے اندر نہیں پاتے۔ مسلمان دانش وروں کی بے دینی پر بظاہر تنقید کرنے کے باوجود امور دنیا میں یہ انہی کی قیادت کو مان رہے ہیں۔ وقت پڑنے پر مسلمان عوام کو انہی کی قیادت پر مجتمع کرنے اور انہی کی تائید پر کمربستہ کرنے کی خدمت انجام دیتے رہتے ہیں۔

یہ منظر بڑا عبرت انگیز ہے کہ جہاں بھی احیاے اسلام کی طاقت ور تحریکیں اٹھیں، علما ومشائخ کے ایک بڑے طبقے نے ان کی زبردست مخالفت کی اور بڑی حد تک اپنا وزن اس لادینی قیادت کے حق میں استعمال کیا جو ان تحریکوں کو پامال کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا سبب صرف گروہی عصبیت اور عوام کی قیادت چھن جانے کا خوف نہیں، بلکہ اس مخالفت کی تہہ میں اسلام کے بارے میں ان علما ومشائخ کی فکر کی محدودیت اور احیاے اسلام کی ہمہ گیر جدوجہد کے لیے مطلوبہ حوصلے کا فقدان ہے۔ ان کا یہ تاریخی وجدان ہے کہ جو کام قرون اولیٰ کے بعد پھر ممکن نہ ہو سکا، وہ آج کی دنیا میں یکسر ناممکن ہے۔ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ مکمل اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کہیں محدود دائرے میں بھی اسلام کے باقی نہ رہنے کا سبب نہ بن جائے۔

اسلامی تحریکیں اور مسلم معاشرے:

ایمانی حالت کے اس سرسری جائزے کی روشنی میں احیاے اسلام کی ان کوششوں پر نظر ڈالی جائے جو بیسویں صدی سے دنیاے اسلام کے مختلف علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں تو یہ معلوم ہوگا کہ بڑی حد تک اصل مرض کو پہچانا گیا ہے اور اس کا علاج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقالے میں ان کوششوں کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔ صرف اس حقیقت پر زور دینا مطلوب ہے کہ ابھی یہ کوششیں ناتمام ہیں۔ اسلامی تحریکوں نے عام انسانوں کو مخاطب بنا کر انہیں کفر وشرک اور حیرانی واضطراب سے ایمان کی طرف لانے کی کوشش بھی کم ہی کی ہے۔ ان کی بیش تر توجہات مسلمان معاشروں پر مرکوز رہی ہیں۔ لیکن اب بھی مسلمان دانش وروں اور ان کے عوام کا حال وہ ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ ابھی دنیا میں کہیں بھی ان کوششوں کی (بظاہر) کامیابی کے آثار نہیں نظر آتے، اگرچہ گزشتہ نصف صدی کی کوششوں کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

آج مسلمان دانش وروں میں ایک معتدبہ عنصر موجود ہے جو پورے اسلام کو اختیار کرنے کا عزم رکھتا ہے اور شریعت کو نہ صرف واجب العمل سمجھتا ہے بلکہ قابل عمل سمجھتا ہے اور عصر حاضر میں اسے نافذ کرنے کا عزم بھی رکھتا ہے۔ یہ عنصر، متحرک اور فعال ہے اور متعدد مسلمان معاشروں میں اس نے عوام کے ایک بڑے طبقے کا اعتماد حاصل کر کے ان کی قیادت شک وریب میں مبتلا یا کمزور ایمان رکھنے والے اور دین ودنیا کے درمیان تفریق کرنے والے دانش وروں سے بڑی حد تک چھین بھی لی ہے۔ لیکن ابھی عوام کی غالب اکثریت کی اس نئی اسلامی قیادت کے ساتھ وابستگی زیادہ تر جذباتی ہے جس کے سبب وہ غیر اسلامی قیادت کے تسلط کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے اور اس راہ میں قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ابھی نہ عوام کا نظام اقدار بدلا ہے، نہ اس بگڑے ہوئے ’’مذہبی مزاج‘‘ کی اصلاح ہوئی ہے جو اسلام کے نام پر لوگوں کو علما اور سیاسی قیادت کے پیچھے لا کھڑا کرتا ہے۔ عام طور پر مسلم عوام معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور امور مملکت کے نظم وانصرام کے سلسلے میں فیصلہ کن طاقت کا حق دار سیکولر قیادت ہی کو سمجھتے ہیں۔

اپنے دانش ور طبقے میں ایمان کی بحالی اور اپنے عوام کو پوری طرح ساتھ لے کر چلنے کے لیے ابھی اسلامی تحریکوں کو بہت کچھ اور کرنا ہے۔ انہیں عوام میں اسلام کا علم پھیلانے، ان کی اصلاحی اور دینی اصلاح اور ایمانی تربیت کے لیے اپنے پروگراموں کو زیادہ جامع بنانا ہے اور ان پر زیادہ مستعدی کے ساتھ عمل کرنا ہے۔ اصلاح صرف قول سے نہیں ہوا کرتی ہے، اس سے زیادہ اہمیت کردار کی ہے۔

تحریک اسلامی کے کارکنوں کو نہ صرف عبادات واخلاق میں بلکہ معاملات دنیا بالخصوص معاشی وسائل اور سیاسی طاقت کے برتنے میں نیز اپنی معاشرتی زندگی میں للہیت، ترجیح آخرت اور اخوت، مواساۃ ومرحمت، شورائیت اور مساوات کی اسلامی قدروں کے مطابق اعلیٰ اسلامی کردار کا نمونہ پیش کرنا ہے تاکہ مسلمان عوام ان قدروں کو جذب کر سکیں اور اسلامی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہیں اپنے عوام کے اندر وہ بنیادی انسانی صفات اجاگر کرنی ہیں جن کے بغیر کوئی انسانی گروہ زوال سے عروج اور ضعف سے قوت کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ہماری مراد محنت، نظم وضبط، کسی اعلیٰ مقصد کے لیے ایثار وقربانی کے جذبے اور اس مقصد کے لیے ذریعے کے طور پر علوم وفنون میں مہارت کے ذریعے تسخیر کائنات کے حوصلے سے ہے۔ صرف وعظ وارشاد کے ذریعے مسلمان عوام سے کاہلی اور جہالت، اختلاف اور فرقہ بندی، بخل اور کم ظرفی اور پست حوصلگی کی مہلک بیماریاں نہیں دور کی جا سکتیں۔ ان کے علاج کے لیے وسیع پیمانے پر مسلسل منظم کوششیں درکار ہیں۔

مسلمان دانش وروں کی ایمانی حالت درست کرنے، ان کے نظام اقدار میں تبدیلی اور کتاب وسنت کے ساتھ ان کی وفاداری بحال کرنے میں مذکورہ بالا کوششوں کو بھی دخل ہوگا مگر ان کی نسبت سے تحریک اسلامی کو کچھ علمی اور فکری کام بھی کرنے ہیں۔ یہ علمی اور فکری کام عام انسانوں کو دعوت اسلامی کا مخاطب بنانے کے ضمن میں اہمیت کے حامل ہیں، اور اس تعلیمی اور تربیتی پروگرام کے لیے بھی اہم بنیادیں فراہم کرتے ہیں جس کا ذکر اوپر عوام کی اصلاح کے ضمن میں کیا گیا ہے۔

غور وفکر کی جہتیں:

یہ مقالہ مخصوص طور پر تحریک اسلامی کے ہمہ جہتی کام کے علمی اور فکری پہلو سے بحث کرتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے موضوعات ومسائل کی نشان دہی ہے جن پر کیا جانے والا کام اتنا تشفی بخش نہیں کہ جدید ذہن کو پوری طرح مطمئن کر سکے یا جن کے بارے میں معاصر اسلامی مفکرین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات نے مزید بحث وتحقیق کو ناگزیر بنا دیا ہے یا جن کی طرف گزشتہ کئی عشروں میں بہت کم توجہ کی جا سکی ہے۔

ہمارے نزدیک اس طرح کا فکری کام، جس کے بعض گوشوں کی ذیل میں نشان دہی کی جائے گی، عصر حاضر میں اسلامی نظام کے قیام کی شرط لازم بن چکا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی مفکرین، فکری کام کا حق ادا کر چکے ہیں اور مسلم دانش وروں کو اسلام کے پوری طرح اختیار کرنے سے روکنے والی چیز صرف ان کی دنیا پرستی ہے، یا مسلم عوام اسلامی تحریکوں کی قیادت اور ان کے پروگراموں سے پوری طرح مطمئن ہیں، صرف فوجی آمریتیں ان کے اجتماعی ارادے کے عملی اظہار میں مانع ہیں۔ ان کے تجزیے کو ہم غیر تشفی بخش سمجھتے ہیں اور اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ہم اس غلط فہمی کا شکار نہیں کہ جن فکری کاموں کی نشان دہی کی جا رہی ہے، وہ انجام پا جائیں تو دور حاضر کا انسان اسلام کی طرف دوڑ پڑے گا، یا مسلمان دانش ور فوج در فوج تحریک اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے لگیں گے، اور مسلمان عوام کی موجودہ دو رخی اور ان کا تذبذب دور ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، مسئلے کے دوسرے پہلو بھی اہمیت رکھتے ہیں، مگر ہم یہ رائے ضرور رکھتے ہیں کہ جب تک فکری کام آگے نہیں بڑھتا، دوسرے کاموں کے باوجود اسلامی تحریکیں اپنے مقاصد کے حصول میں کام یاب نہیں ہو سکتیں۔

ہمارے نزدیک انسانی دنیا میں فیصلہ کن طاقت افکار وتصورات کی طاقت ہے اور جو چیز دور حاضر میں اسلام کو اس کا اصل مقام دوبارہ دلوانے والی ہے، وہ اسلامی افکار وتصورات کی صالحیت اور دوسرے تمام افکار وتصورات کے مقابلے میں اسلام کے نظریہ حیات کا زیادہ معقول وبرتر ہونا ہے۔ شرط یہ ہے کہ باطل افکار وتصورات پر گہری تنقید کے ساتھ، اسلامی افکار وتصورات کو ایسے استدلال کے ساتھ پیش کیا جائے جس کو عصر حاضر کا انسان سمجھ سکے۔

کسی صالح تر نظریے کو محض جبر وتشدد سے زیادہ عرصہ نہیں دبایا جا سکتا۔ آج بعض مسلم ممالک میں طاقت ور اسلامی تحریکوں کو جبر کی حکمرانی نے جس طرح دبا رکھا ہے، اس سے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ’’ایسے حالات میں نظام کی تبدیلی کے لیے اشاعت افکار، تعمیر کردار اور اصلاح معاشرہ کے پروگرام کس طرح مقصد برآری کر سکتے ہیں؟ طاقت کے جواب میں طاقت کی ضرورت ہے۔‘‘

اس طرح سوچنے والوں کو مذکورہ بالا تاریخی حقیقت پر غور کر کے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انہیں وقت کے چھائے ہوئے نظام کے مقابلے میں جس طرح کی طاقت کی ضرورت ہے، وہ عوام وخواص کے ذہنوں میں صالح فکر کے رسوخ اور ان کے انفرادی اور اجتماعی کردار پر اس کے گہرے اثر کے نتیجے میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ انسانی فطرت جبر کی حکمرانی سے نفرت کرتی ہے مگر اس کی بے پناہ قوتوں کو جبر کے خلاف منظم کوشش پر آمادہ کرنے کے لیے صالح نظریہ اور اس پر گہرا یقین درکار ہوتا ہے۔

ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ کسی ملک میں بھی اسلام کی راہ کا روڑا صرف اس ملک کا مغرب زدہ طبقہ یا اس کی حکمران قوتیں نہیں بلکہ پوری لادینی تہذیب، سرمایہ دارانہ مغرب، صلیبیت اور صہیونیت اپنے عالمی پریس، اپنے لٹریچر، اپنے سفارت خانوں اور برآمد کردہ ماہرین، اپنی فوجی اور اقتصادی امداد، غرض اپنے جملہ مادی اور ذہنی وسائل کے ساتھ اسلامی نظام کے احیا کی راہ روکنے پر تلے ہوئے ہیں۔ احیاے اسلام کے لیے اس فکری جہاد کا میدان کوئی ایک ملک نہیں، پوری دنیا ہے۔

آج تحریک اسلامی جس مرحلے میں ہے، اس میں یہ لڑائی محض مادی قوت کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی ہے۔ ہماری اصل قوت ہمارا صالح نظریہ حیات ہے، جس کی صحیح اور موثر ترجمانی اور عصر حاضر کے ذہن ومزاج کو پوری طرح سمجھ کر کی جانے والی تفہیم --- ایسی ترجمانی اور تفہیم جس کے پیچھے داعی گروہ کے اعلیٰ اسلامی کردار کی سند موجود ہو--- جغرافیائی، قومی اور نسلی حدود سے بے نیاز ہو کر انسانوں کے دل ودماغ بدل سکتی ہے۔

یہی کام ہماری اپنی صفوں کو درست کرنے اور مخالف قوتوں کا شیرازہ منتشر کر کے انسانوں کو ان کی قیادت سے اپنی قیادت کی طرف لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنی توجہات اسی پر مرکوز کر دینی چاہییں۔

ایمان وعقیدہ

شان الوہیت:

فکری کاموں میں سرفہرست اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی صفات اور شان الوہیت کی تفہیم کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر اب تک ایسا لٹریچر نہیں پیش کیا جا سکا ہے جس میں دور حاضر کے منکرین خدا، متشککین (Skeptics) اور لا ادریین (Agnostics) کے خیالات کو پوری طرح سامنے رکھا گیا ہو۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے مفکرین مغرب کے انسان کو اپنا مخاطب بنانے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے عوام کے ایمان باللہ کو ایک مسلم حقیقت اور اپنے دانش وروں کے شک وریب کو محض مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ سمجھا۔ افسوس کہ ہمارا مرض زیادہ گہرا ہے۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ عصر حاضر کے ائمہ فکر کے اعتراضات وشبہات کا جائزہ لیتے ہوئے اس موضوع پر کام کیا جائے۔ اس ہمہ پہلو کام میں ایسے مسائل سے بھی تعرض ناگزیر ہوگا جن کا تعلق خدا کے وجود سے نہیں بلکہ اس کی صفات اور ان صفات کے درمیان ہم آہنگی سے ہے۔ مثلاً برٹرینڈ رسل اور ٹائن بی جیسے چوٹی کے لاادریین کائنات میں شر (Evil)کے وجود کے پیش نظر خدا کی صفت رحمت وقدرت کو تسلیم کرنے اور پھر اس بنا پر خود خدا کا وجود تسلیم کرنے کو دشوار پاتے ہیں۔ معاصر اسلامی لٹریچر اس مخصوص مسئلے سے بہت سرسری انداز میں گزر گیا ہے۔

صفات خداوندی کی قرآن کی روشنی میں تفہیم کی اہمیت ایک مثال سے سمجھی جا سکتی ہے۔ خدا علیم وخبیر ہے اور وہی غیب کا علم رکھتا ہے مگر علم کے باب میں دور حاضر کا انسان کسی حد کا قائل نہیں اور وہ اس علم وخبر کا بھی مدعی ہے جو ضابطہ حیات وضع کرنے کے لیے درکار ہے۔ اس انانیت میں اعتدال پیدا کرنا شان الوہیت اور مقام عبودیت کے صحیح فہم اور متعلقہ صفات خداوندی کے قرآنی تصور پر اطمینان حاصل کیے بغیر ممکن نہیں۔

اسی طرح شان الوہیت کی ایسی تفہیم درکار ہے جو انسانوں میں عموماً اور مسلمان دانش وروں اور ان کے عوام میں خصوصاً اللہ کی حاکمیت کا تصور بھی اسی طرح راسخ کر دے جس طرح اس کے مسجود ومعبود ہونے کا تصور راسخ ہے۔ اسلامی تصور توحید کی وضاحت میں وحدت الوجود جیسے تصورات کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے تاکہ یہ صاف اور سلجھا ہوا حرکی (Dynamic) تصور فلسفیانہ الجھاؤں سے پاک ہو کر انسانی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کر سکے۔ 

انسان کی روحانی اور نفسیاتی، علمی اور فکری، اخلاقی اور عملی، نیز سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کے لیے عقیدہ توحید کے تقاضوں کی وضاحت ہر دور میں ازسرنو ضروری ہوتی ہے۔ دور حاضر کے احوال وظروف، اس کی ذہنی فضا اور مزاجی کیفیت کی مناسبت سے ایسی وضاحت درکار ہے جو مادی تہذیب کے اثرات سے زندگی کے تمام پہلوؤں کو پاک کر کے انہیں اسلامی اقدار کے مطابق ڈھال سکے۔ عملی زندگی میں توحید کے تقاضوں کی تو وضاحت کی گئی ہے مگر علم وفکر، آرٹ اور ادب، فنون لطیفہ اور جمالیات کی نسبت سے کم ہی سوچا گیا ہے۔

تمام تہذیبی مظاہر کی آب یاری بالآخر کسی ایک سرچشمہ سے ہوتی ہے جو ان کا مزاج متعین کرتا ہے۔ اسلامی تہذیب کا سرچشمہ تصور توحید ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کائنات کے مشاہدے ومطالعے میں، قوانین فطرت کے اکتشاف اور ان کی تشریح میں یا نفس انسانی، سماج اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے تجزیہ وتحلیل میں اس سرچشمہ سے بے نیازی برت کر اسلامی تہذیب کی تشکیل جدید کی امید کی جا سکے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ وہ دائرے ہیں جو علماء دین کی دسترس سے باہر رہے ہیں اور ان کے ماہرین نے شعوری یا لا شعوری طور پر ان دائروں میں خدا کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا ہے جو مغربی تہذیب نے اختیار کیا ہے۔ اس موقف پر نظر ثانی کی اور ان دائروں میں توحیدی بصیرت کے ساتھ نئے کام کی ضرورت ہے تاکہ ایک طرف تو یہ واضح ہو سکے کہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی خدا کے بغیر حقائق کا صحیح فہم اور ان کی تعبیر وتوجیہ دشوار ہے۔ دوسری طرف یہ ثابت ہو جائے کہ اس حقیقت کی رہنمائی میں مختلف حقائق کے درمیان ربط قائم کرنا اور ان سے متوازن اور ہم آہنگ استفادہ کرنا ممکن ہے۔

منصب رسالت:

الوہیت کے بعد وحی ورسالت کی اہمیت ہے۔ مستشرقین نے وحی کے اسلامی تصور کو مجروح کرنے اور رسالت کے حدود (Scope) کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے جس کا بعض مسلمان دانش وروں نے خاصا اثر لیا ہے۔

وحی ورسالت کے باب میں ہندو ذہن اور عیسائی ذہن، اسلامی ذہن سے یکسر مختلف تصور رکھتا ہے۔ ان مخصوص اجنبی تصورات کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے۔ وحی ورسالت کے قرآنی تصور کی وضاحت میں عقل انسانی، سائنس اور تاریخ کی رہنمائی کی رسائی کو بھی زیر بحث لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ غیب اور ایمان بالغیب کے موضوع پر سیر حاصل بحث کرنی ہوگی جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے۔ عصر حاضر کا انسان غیب سے کتراتا ہے اور کسی ایسے علم کو جاننے سے پہلو بچاتا ہے جسے عقل وتجربے کی سند نہ حاصل ہو۔ بیسویں صدی کے متعدد سائنس دانوں اور ماہرین نفسیات نے اس سطحیت اور کوتاہ نظری کے خلاف احتجاج کیا ہے اور معلوم کے بالمقابل مجہول کی وسعتوں پر زور دیا ہے مگر مزاج عصر نے اس کا اثر کم قبول کیا ہے۔ ان کی تحریروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلے کی مکمل تنقیح ضروری ہے۔

وحی اور رسالت کی ماہیت اور ان کی وسعتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس ذہن کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جو دین وشریعت کے درمیان تفریق کرتا ہے اور سیاست ومعیشت، خاندانی زندگی اور جرم وسزا جیسے دنیوی امور میں قانون سازی کے لیے انسانی عقل وتجربے کو کافی سمجھتا ہے۔ کیا انسان کی نفسیاتی، سماجی اور معاشی وسیاسی زندگی کے جملہ امور ومتعلقات دائرہ غیب سے باہر اور انسانی علم کی مکمل رسائی میں ہیں؟ اس سوال کا واضح جواب قرآن کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔ احکام شریعت کی دائمی حیثیت کی وضاحت اور وکالت کے ضمن میں زمان ومکان کی نسبت سے بعثت محمدی کی حیثیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس سلسلے میں ختم نبوت کی بھی مزید تفہیم درکار ہے کیونکہ بعض ذہنوں کے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب عقل وحواس کی نارسائی انسان کی مستقل کمزوری ہے جس کی تلافی کے لیے وحی الٰہی کی رہنمائی درکار ہے تو تاریخ انسانی کے کسی مرحلے پر اس رہنمائی کا سلسلہ کیوں ختم کر دیا گیا؟ اس سوال اور مذکورہ بالا دوسرے مسائل کا تعلق بالآخر فلسفہ، تاریخ، مزاج شریعت اور تجدید واجتہاد کے تاریخی کردار سے جڑ جاتا ہے۔

قرآن اور سائنس:

مقام وحی ورسالت کے ضمن میں مذہب اور سائنس، یا زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر بھی نئے کام کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر اردو اور عربی میں جو لٹریچر موجود ہے، اس پر زیادہ تر انیسویں صدی کی سائنس کی فکر کی چھاپ پڑی ہے اور وہ الا ماشاء اللہ افراط وتفریط کا شکار ہے۔

اس کی ایک مثال حیاتیاتی ارتقا (Evolution)کا مسئلہ ہے۔ سائنس کا طالب علم اسے حقیقت مانتا ہے مگر قرآن کا مفسر یا تو قرآن کی طرف اس کی قطعی تردید منسوب کرتاہے یا آیات قرآنی سے حیاتیاتی ارتقا کا اثبات کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں ، مطالعہ فطرت میں وحی الٰہی سے بے نیازی برتنے یا قرآن اور سائنس کو دو بالکل علیحدہ خانوں میں رکھنے کا رویہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک دائمی کتاب ہدایت سے تمام سائنٹفک حقائق اخذ کیے جا سکیں یا اس کے بیانات کی تفسیر میں بدلتے رہنے والے نظریات کو فیصلہ کن اہمیت دی جائے۔ مسئلے کے ان نازک پہلوؤں کی پوری رعایت ملحوظ رکھتے ہوئے مسئلہ ارتقا اور اس جیسے دوسرے مسائل کی نسبت سے قرآن کے موقف ومنہاج کی ازسرنو وضاحت ضروری ہے۔

عصر حاضر کے لیے اس کام کی ضرورت بہت زیادہ ہے کیونکہ بعض اوقات ایمان باللہ کے باوجود کسی ایک مسئلے میں شک وریب یا یہ گمان کہ معلوم ومشہود حقیقت وحی ورسالت کے بیان سے ٹکراتی ہے، پوری زندگی کو ایمان کے دور رس اثرات سے محروم کر دیتا ہے اور انسانی ذہن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مذہب کے سلسلے میں ایک غیر عقلی تقلیدی موقف اختیار کرے، جس کا لازمی نتیجہ عام انسانی زندگی سے مذہب کی بے دخلی ہے۔

سنت:

منصب رسالت کی تفہیم کے لیے دوسرا اہم کام سنت کی تنقیح کا ہے۔ سنت اسلامی قانون کا ماخذ اور قرآن کے پہلو بہ پہلو اسلامی تعلیمات کا منبع ہے۔ کسی زیر غور مسئلے میں سنت کی رہنمائی معلوم کرنے کے لیے ہمیں اب جو ذریعہ میسر ہے، وہ احادیث کا ذخیرہ ہے جو صدیوں کی چھان بین اور بحث وتحقیق کے نتائج کے ساتھ ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اصولی طور پر اس ذخیرہ سے استفادہ میں ماضی کی بحث وتحقیق کو حرف آخر سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق وتدبیر کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہ بات روایت ودرایت یا تاریخی تحقیق اور قرآن کریم کی رہنمائی میں عقلی جانچ پرکھ دونوں کے بارے میں صحیح ہے۔ چند مجموعوں میں درج ہر روایت کو لفظاً ومعناً رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے اور مستشرقین کی اتباع میں احادیث کے پورے ذخیرہ کی صحت کو مشکوک سمجھنے کے دو انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان یہی وہ مسلک اعتدال ہے جو تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے اختیار کیا ہے۔ اصل مسئلہ زیر غور مسائل میں اس موقف کو عملاً برت کر دکھانے اور انتہا پسندانہ موقفوں پر علمی تنقید کا ہے۔ یہ کام بھی ازحد تشنہ ہے۔

روایت ودرایت کے اعتبار سے احادیث کی ازسرنو تحقیق اور جدید مسائل کی نسبت سے سنت کی تنقیح کی سب سے زیادہ اہمیت ان دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل میں ہے جن میں دور جدید میں اسلامی موقف کی ازسرنو تعیین اس لیے ضروری ہو گئی ہے کہ متعلقہ احوال وظروف یکسر بدل گئے ہیں۔ اس دائرے میں متعدد مسائل کے ضمن میں یہ سوال بہت اہم ہو گیا ہے کہ سنت ان مقاصد ومصالح کے اعتبار سے اور ان کے حصول کے لیے مزاج شریعت سے مناسبت رکھنے والے طریقے اختیار کرنے کا نام ہے جن کا اعتبار نبی ﷺ نے اپنے زمانے کی دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کی تطہیر وتنظیم میں کیا تھا، یا خود ان متعین قواعد وضوابط کا نام ہے جو آپ ﷺ نے وضع کیے تھے۔

اسلامی تاریخ

دور جدید میں احیاے اسلام کی جدوجہد کے سیاق میں تاریخ اسلام یا مسلمانوں کی تاریخ کا ازسرنو مطالعہ ضروری ہے۔ اپنی جگہ یہ بہت اہم کام ہے کہ کتاب وسنت کے دیے ہوئے معیار پر اس تاریخ کے مختلف ادوار کی قدروقیمت کا تعین (evaluation) ان مختلف انقلابات اور تبدیلیوں کی تعبیر وتوجیہ کے ساتھ ہونا چاہیے جن سے یہ تاریخ گزری ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس تاریخ کے بعض اہم ادوار کا مطالعہ خاصا اختلافی رہا ہے۔ اس کی ایک مثال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت بھی ہے جس پر گزشتہ چند برسوں میں خاصی بحث رہی ہے۔ اس کام کی ا یک اہمیت یہ بھی ہے کہ جدید سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر بحث ومذاکرے کے دوران وسیع پیمانے پر تاریخی نظائر پیش کیے جاتے ہیں۔ کسی مستند evaluation کا فقدان اس طرح کے نظائر کا وزن مشکوک بنا دیتا ہے۔

فقہ 

معاصر اسلامی مفکرین کے درمیان دور جدید کی اسلامی قانون سازی میں حجت ہونے یا رہنما بنانے کے لحاظ سے اس فقہی ذخیرے کے مقام کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں جو شروع کی چند صدیوں میں مرتب ہوا تھا۔ اصولی طور پر اللہ نے ہمیں صرف کتاب وسنت کی پابندی کا مکلف بنایا ہے۔ جدید اسلامی قانون سازی میں ہمیں ماضی کے فقہی ذخیرے سے پورا استفادہ کرنا چاہیے لیکن یہ مخصوص زمان و مکان (time and space) میں انسانی ذہن کی پیداوار ہے جس کی پابندی کی نہ کوئی شرعی اور عقلی دلیل ہے، نہ یہ پابندی عملاً مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر علما کا ایک بڑا طبقہ یہ رجحان رکھتا ہے کہ نئی قانون سازی میں کوئی ایسی راہ نہیں اختیار کی جانی چاہیے جو فقہ کے معروف اسکولوں میں سے کسی اسکول نے نہ اختیار کی ہو۔

اس میدان میں تحریک اسلامی کے رہنما عام طور پر صحیح اصولی موقف کے حامل ہیں مگر جب کسی عملی مسئلے پر بحث چھڑجاتی ہے تو ان کے طرز فکر پر بھی علما کے غالب رجحان کا گہرا اثر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس رجحان کے رد عمل میں احوال وظروف اورمزاج عصر کی بیش از بیش رعایت رکھنے والے دانش وروں میں شبہ پیدا ہوتا ہے کہ علما کتاب وسنت کے ساتھ سلف صالح کے اجتہادات کو بھی شریعت کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ دونوں طبقے ایک دوسرے کو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں اور باہمی تبادلہ خیال اور بحث وتمحیص کے بعد کسی اعتدال پر مجتمع ہوں۔ بد قسمتی سے ان دونوں طبقوں کے درمیان خوش مزاجی اور انکسار طبع کے ساتھ تبادلہ آرا کا رواج نہیں پڑ سکا اور جو بحثیں ہوتی ہیں، ان کا مواد اور لہجہ کسی صحت مند نتیجے تک پہنچنے کے لیے سازگار نہیں ہوتا۔

کلامی مسائل

ہمارے ماضی کے ورثے میں مرتب شدہ فقہ کے ساتھ دینی فکر کے دوسرے اہم اجزا بالخصوص تشریح عقائد، علم الکلام اور صوفیانہ لٹریچر اور تصوف کی روایات کی بڑی اہمیت ہے۔ مسلمان معاشرہ آج جیسا ہے، اس کی تشکیل میں اس لٹریچر نے، ان علماومشائخ کے توسط سے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، فیصلہ کن حصہ لیا ہے۔ ہمارے نزدیک دینی فکر کے ان دوسرے عناصر کے سلسلے میں تحریک اسلامی کے رہنماؤں کا موقف زیادہ واضح اور صاف رہا ہے، یعنی انہوں نے اسے بحیثیت مجموعی، مخصوص احوال وظروف اور زمان ومکان کے مخصوص تقاضوں کے تحت قرآن وسنت کے انسانی فہم کا اظہار سمجھا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اسے دور جدید کے انسان کے لیے حجت نہیں قرار دیتے بلکہ اکثر وبیشتر اسے غیر موزوں اور جدید اسلامی ذہن ومزاج کی تشکیل کے لیے مضر سمجھتے ہوئے تمام متعلقہ مسائل پر کتاب وسنت کی روشنی میں آج کے احوال وظروف اور موجودہ زمان ومکان کے تقاضوں کے پیش نظر ازسرنو فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ 

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عام علما اور مشائخ نے ان کے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہے اور آج بھی مسلمان عوام کے دینی افکار اور ان کے مجموعی مزاج کی تشکیل انہی غیر موزوں اثرات کے تحت ہوتی ہے۔ یہ چیز ایک طرف تو عوام کی مطلوبہ اصلاح میں زبردست رکاوٹ بنتی ہے۔ دوسری طرف پورے مسلم معاشرے میں اس حرکی اقدامی کیفیت کے پیدا ہونے میں مانع ہے جو دور حاضر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ضروری ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا واضح ہے: علما ومشائخ کے غلط موقف پر تنقید، نئی دینی فکر کی جامع ترتیب، اور مسلمان عوام کی نئی فکری تربیت جو انہیں قدیم کلام اور تصوف کے غیر اسلامی اثرات سے پاک کر کے مطلوبہ مثبت مزاج عطا کر سکے۔ اس تقاضے کی تکمیل اہم اسباب کی بنا پر ابھی نہیں ہو سکی ہے۔

ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کو سیکولر دانش وروں کے مقابلے میں اور مسلمان عوام میں نفوذ کے لیے علما ومشائخ کی اہمیت محسوس کر کے ان پر تنقید کا لہجہ نرم کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات سیکولر قیادتوں سے سیاسی کش مکش میں عوامی تائید کی ضرورت نے ان کو اس فکری اصلاح کو نظر انداز یا کم از کم ملتوی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وقتی طور پر یہ طریقہ اختیار کرنا کتنا ہی ناگزیر کیوں نہ نظر آتا ہو، ہمارے نزدیک اس اہم کام کے بغیر خود اس مقصد کا حصول دشوار ہے جس کی خاطر اس کام کو پس پشت ڈالا گیا ہے۔

فوج داری قوانین کا مسئلہ

اسلام کے فوج داری (criminal) قوانین پر عربی میں اچھا کام ہوا ہے جس میں سے بعض چیزیں اردو میں منتقل بھی کی جا رہی ہیں۔

بعض مخصوص شرعی سزاؤں کے سلسلے میں مختلف پہلوؤں کی مزید تحقیق ووضاحت درکار ہے کیونکہ جرم وسزا کے بارے میں جدید فلسفوں اور جدید انسان کے مزاج نے حدود شرعیہ کی نسبت سے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اس وضاحت کا ایک پہلو خود فلسفوں کے تنقیدی جائزے اور اس بارے میں اسلامی فکر کے بیان اور ان حقائق کی یاد دہانی سے تعلق رکھتا ہے جن کی طرف پہلے دو مسائل کے بیان میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ دوسرا پہلو ہر شرعی سزا پر علیحدہ تفصیلی بحث کا متقاضی ہے۔ چور، زانی، زنا کی تہمت لگانے والے اور برسرجنگ باغیوں کی سزا قرآن میں مقرر کر دی گئی ہے لیکن معاصر اسلامی مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سزائیں اسلامی معاشرہ برپا ہو جانے کے بعد ہی نافذ کی جانی چاہییں۔ اس اتفاق رائے کی بنیاد یہ ہے کہ ابتدا میں بھی یہ قوانین اسلامی معاشرے کے برپا ہونے کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ نیز سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ غیر معمولی حالات میں بعض شرعی سزاؤں کا نفاذ روک دیا گیا تھا۔ اس اجمالی موقف کی مزید تشریح کے طور پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ دور جدید میں ان سزاؤں کا نفاذ کن شرائط کی تکمیل کے بعد کیا جا سکے گا۔

قرآن کریم میں شراب پینے والے کو سزا دینے کا ذکر نہیں مگر یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ نبی ﷺکا شراب خور کو سزا دینا ثابت ہے مگر سزا کی جو کیفیت اور مقدار فقہ مرتب میں بیان ہوئی ہے، اس کی بنیاد خلفاے راشدینؓ کا عمل اور صحابہ کا فیصلہ ہے۔ مذکورہ بالا مباحث کی روشنی میں یہ امر قابل غور ہے کہ جدید اسلامی قانون سازی میں اس بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔

شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے جن متعین مجرموں کے سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کیا، ان کے جرم کی نوعیت کی ازسرنو تحقیق درکار ہے تاکہ یہ بات صاف ہو سکے کہ یہ سزا صرف احصان کے باوجود زنا کے ارتکاب کی تھی یا جرم کی نوعیت زیادہ پیچیدہ تھی۔ پھر یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اصل سزا سزائے موت ہے یا یہ مخصوص طریقہ سزا بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کریم میں مرتد کی سزا نہیں بیان ہوئی ہے۔ مرتد کی جو سزا سنت سے ثابت ہے، اس کے ساتھ ہی حضرت عمرؓ کے ایک مشہور اثر کی بنا پر اکثر فقہا مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دینے اور اس طرح اس کے شکوک وشبہات کا ازالہ کر کے اسے اسلام کی طرف واپس لانے کی کوشش کو واجب یا کم از کم مستحب قرار دیتے ہیں۔ آزادی ضمیر کی ضمانت دینے کے باوجود ارتداد کو قابل سزا جرم قرار دینا اور اس جرم کی ایک ایسی سزا دینا جو آئندہ اصلاح کے مواقع ختم کر دے، بہت نازک مسئلہ ہے۔ فساد عقیدہ اور بنیادی امور میں اختلاف نیز اہل قبلہ کی تکفیر کے بارے میں موجودہ علما کا طرز عمل اس مسئلے کی سنگینی میں اور اضافہ کر دیتے ہیں کہ مرتد کی تعریف کیا ہوگی اور اس کو کن شرائط کی تکمیل پر سزا دی جا سکے گی؟ اس صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا جب ملزم کو اس بات پر اصرار ہو کہ وہ مرتد نہیں ہوا ہے؟

ترک اسلام کے ساتھ اسلامی ریاست سے بغاوت اور اسلام دشمنی کا مسئلہ علیحدہ ہے۔ نازک تر مسئلہ مجرد تبدیلی دین اور ترک اسلام کی سزا کا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ قتل اس جرم کی آخری سزا ہے یا واحد سزا۔ کیا وجہ ہے کہ مرتد کے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے تین ہی دن کا موقع دیا جائے، مزید وقت دینے میں کون سی دلیل شرعی مانع ہے؟ اور ایک جدید اسلامی ریاست اس بارے میں کوئی قانون بناتے وقت اس حقیقت کو کتنا وزن دے گی کہ اسلامی نظام عرصہ سے معطل رہا ہے اور عہد جدید کے انسان پر حجت اس طرح نہیں تمام ہوئی ہے جس طرح اہل عرب پر ہوئی؟

اقدار کا موضوع

اسلامی تعلیمات کا مدار اخلاقی قدروں پر ہے، شریعت انہی قدروں کی تحصیل متعین احکام وہدایات کے ذریعے کرتی ہے اور یہی قدریں زندگی کے نت نئے مسائل میں انسان کی صحیح راہنمائی کرسکتی ہیں۔

انفرادی اور اجتماعی کردار کی تعمیر، سماجی اداروں کی تشکیل اور جدید مسائل میں نئی اسلامی قانون سازی میں ان قدروں کی رہنما اہمیت مسلم ہے۔ پھر یہی قدریں نظام تعلیم وتربیت میں مقاصد کا درجہ رکھتی ہیں اور مطالعہ حیات میں اسلامی ادیب کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔ اخلاقی قدروں کی اس کلیدی اہمیت کے پیش نظر ان کے مطلق یا اضافی ہونے کی بحث بہت اہم ہے۔

اسلامی مفکرین جب اخلاقی قدروں کے مطلق ہونے پر زور دیتے ہیں تو ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ کیا اخلاقی قدروں کا مفہوم احوال وظروف کی تبدیلی کے ساتھ نہیں بدلتا اور ان قدروں کے عملی اظہار کے طریقوں میں تبدیلی نہیں ہوتی؟ کیا انہی باتوں کی تعبیر اس طرح مناسب نہ ہوگی کہ اخلاقی قدروں کے تصور میں ارتقا ہوتا رہتا ہے اور اس ارتقا کے امکانات لامحددود ہیں؟ دور جدید میں نظام تعلیم، قانون، ادب اور سماجی علوم کی تشکیل جدید کے ضمن میں اس بنیادی بحث کا حق نہیں ادا کیا گیا ہے۔

اسلامی فلسفہ تاریخ

اسلام کے نظام فکر وعمل میں اخلاقی قدروں کی اہمیت کے ضمن میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اسلامی مبصر کی نگاہ میں تاریخ انسانی میں اصل کارفرما قوتیں کیا ہیں جن کے حوالے سے ماضی کی توجیہ وتعبیر اور مستقبل کی تعمیر میں رہنمائی حاصل کی جا سکے؟

اسلامی فلسفہ تاریخ کی ترتیب تاریخ انسانی کو ایک مخصوص رخ پر لے جانے کی کوشش کرنے والی اسلامی تحریک کی ایک ناگزیرضرورت ہے۔ اس ضرورت کی تکمیل ہی اس کے طریق کار میں حقیقت پسندی، خود اعتمادی اور اس کی صفوں میں اپنی بالآخر کامیابی کا یقین پیدا کر سکتی ہے۔ اسلامی فلسفہ تاریخ کی ترتیب اور اس کی روشنی میں پوری انسانی تاریخ کی نئی تدوین اس لیے بھی ضروری ہے کہ معاصر فکری مزاج کی تشکیل میں تاریخ کی مادی تعبیر نے اہم حصہ لیا ہے۔

آج تاریخ کا مطالعہ انسانی تاریخ میں روحانی قوتوں اور اخلاقی مقاصد کے عمل سے غفلت برتتا ہے اور ثانوی درجے کے دوسرے عوامل ہی کو فیصلہ کن اہمیت دیتا ہے۔ تاریخ کے اس مطالعہ کو رد کر کے ایک نیا تاریخی شعور حاصل کیے بغیر انسانوں سے کسی تہذیبی انقلاب کی توقع لاحاصل ہے۔

افسوس کہ اس عظیم کام کے سلسلے میں جو ابتدائی کوششیں کی بھی گئی ہیں، ان کا بہت کم نوٹس لیا گیا ہے اور بظاہر اس کام کے آگے بڑھنے کے کوئی آثار نہیں نظر آتے۔ اسلامی مفکرین کی توجہات زیادہ تر ان مسائل پر مرکوز ہیں جو مخصوص سیاسی یا کلامی فضا کی وجہ سے فوری اہمیت حاصل کر گئے ہیں مگر جب تک اسلامی انقلاب کی اس جیسی بنیادی فکری ضرورتوں کو نہیں پورا کیا جاتا، عصر حاضر کے مزاج کی اصلاح ناممکن ہوگی۔

معاشرتی مسائل

پردہ:

معاشرے میں عورت کے مقام اور اس کے سیاسی اور سماجی حقوق کے سلسلے میں تحریک اسلامی کے صف اول کے مفکرین کے درمیان بھی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ الاخوان المسلمون کے رہنما مصر وشام کے دوسرے علما کی طرح عورت کے لیے اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھلا رکھنے کو جائز سمجھتے ہیں اور یہی ان کے نزدیک اصل شرعی حکم ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما صرف ضرورت کی بنا پر ایسا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور عام حالات میں چہرے کے پردے کے قائل ہیں۔ جو لوگ اس اختلاف سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ بڑا دشوار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے علما کی رائے کو خدا کی شریعت کا درجہ دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص خود کتاب وسنت سے مسئلے کی پوری تحقیق نہیں کر سکتا۔

یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعلیمی، سماجی اور بسا اوقات معاشی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں نے اسے اور زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ دونوں رائیں اپنے دلائل کے ساتھ سامنے آئیں۔ اسلامی تحریکیں بالخصوص اور مسلمان معاشرہ بالعموم ایک ایسا مزاج اختیار کرے جو مخلص مسلمانوں کو اختلافی مسائل میں اس بات کی پوری آزادی دے کہ وہ جس رائے کو زیادہ وزنی پائیں، اسے عمل کی بنیاد بنائیں۔ رواج کے قہر یا سماج کے دباؤ کے ذریعے کسی ایک رائے کا نفاذ اسلامی تحریک اور مسلمان معاشرے کے لیے نہ صرف نتیجے کے اعتبار سے مہلک ہوگا بلکہ دینی اعتبار سے بھی غلط ہوگا۔

اس سیاق میں یہ بات قابل افسوس ہے کہ مسلمانوں کی کسی دینی یا اصلاحی تحریک نے اپنی قوتوں کا کوئی قابل لحاظ حصہ اس اہم کام پر صرف نہیں کیا کہ ایسی صاحب علم خواتین تیار کرے جو پوری ذمہ داری کے ساتھ ان جیسے مسائل پر غور وفکر اور تحقیق کا حق ادا کر سکیں اور کسی ایک رائے تک پہنچنے میں مدد کر سکیں۔ جب تک یہ کمی پوری نہیں ہوتی، ان مسائل پر غور وفکر کرنے والوں کی ایک مخصوص ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ دور جدید کی مسلمان عورت کی علمی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی ضروریات اور حوصلوں کی پوری رعایت ملحوظ رکھیں۔

عورت کے سیاسی حقوق:

عورت کے سیاسی حقوق پر غور کرتے وقت ہم اس ضرورت کو زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ مسلم ممالک میں تحریک اسلامی کے مفکرین نے اس مسئلے میں مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔

انتخابات میں رائے دہی، مجالس قانون ساز کی رکنیت، مناصب حکومت پر تقرر، ہر مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور گزشتہ ۵۰ برسوں میں تبدیلی رائے کی بھی دل چسپ مثالیں ملتی ہیں۔ مسئلے کو سلجھانے کے لیے چند بنیادی امو رپر ازسرنو غور ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ آیت قرآنی: وامرہم شوری بینہم میں ہم کی ضمیر صرف مسلمان مردوں کی طرف راجع ہے یا مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف۔

یہی سوال قرآن وسنت کے بعض دوسرے نصوص کی تعبیر کے سلسلے میں بھی پیدا ہوگا۔ عہد نبوت اور خلافت راشدہ کا تعامل بھی تحقیق طلب ہے اور یہ مسئلہ بھی تنقیح کا محتاج ہے کہ اگر اجتماعی امور پر مشورے میں مردوں کی نسبت عورتوں کی شرکت کم رہی تھی تو اس کے اسباب مقامی اور عارضی تھے یا شارع جل شانہ کے کسی دائمی منشا کی تکمیل کے لیے ایسا کرنا ضروری سمجھا گیا تھا۔

یہی سوال اس دور کے سیاسی، سماجی، معاشی اور زندگی کے بعض دوسر ے مظاہر کی نسبت سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اتنے اہم مسائل جن کا تعلق انسانوں کی نصف تعداد کے اہم حقوق سے ہو، بڑی ذمہ داری اور باریک بینی کے متقاضی ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہمارے فیصلے کا مدار کتاب وسنت پر ہو۔

اگر کوئی مفکر نفسیاتی، حیاتیاتی مطالعے کی روشنی میں اور متعلقہ مصالح کے ذاتی فہم کی بنا پر کوئی رائے رکھتا ہے تو اس رائے کو صرف اس دائرے میں کوئی وزن دیا جا سکتا ہے جس میں کتاب وسنت سے کوئی واضح رہنمائی نہ ملتی ہو۔ ہمارے نزدیک اس مسئلے اور متعلقہ مسائل پر غور وبحث کے دوران میں یہ فرق ملحوظ نہیں رکھا جا سکا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ مزید بحث وتحقیق کے ذریعے کسی رائے تک پہنچا جائے۔

جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں، اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ اس غور وبحث میں مرد علما اور اصحاب رائے کے ساتھ ہی ساتھ صاحب علم وبصیرت، دین دار خواتین بھی پور احصہ لیں۔ اگر آج ایسی خواتین کی کمی ہے تو ہمیں ان کی ضرورت واہمیت محسوس کر کے ایسے اقدامات کرنے چاہییں کہ یہ کمی جلد از جلد پوری ہو۔

ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر اس ضرورت کی عدم تکمیل کے سبب ہم نے اسلامی معاشرے کو اس انداز پر تشکیل دینا چاہا جسے خود دین دار خواتین بھی دل سے قبول نہ کرتی ہوں تو خطرناک نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔ ان خطرات کے سدباب کا واحد محفوظ طریقہ عورتوں میں علم وبصیرت پیدا کرنا اور ان مسائل کی بابت کیے جانے والے فیصلوں میں ان کی شرکت ہے۔

عائلی قوانین میں اصلاح:

اسلام کی عائلی قوانین یا پرسنل لا کی جو دفعات کتاب وسنت سے ماخوذ اور متفق علیہ ہیں، ان کی حکمتوں اور مصالح کے بیان پر نیز ان پر مغرب کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں اردو اور عربی میں خاصا لٹریچر موجود ہے جو کسی حد تک جدید ذہن کو مطمئن بھی کر سکتا ہے مگر جو چیز کھٹکتی ہے، وہ ایسا اختلاف ہے جو جزئی امور میں اصلاح وترمیم، اور ریاست کی مداخلت اور نئی ضابطہ بندی کے ذریعے عدل وانصاف کی ضمانت دینے کے باب میں تحریک اسلامی کے مفکرین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ کسی حد تک اختلاف سے تو مفر نہیں مگر جتنا اختلاف اس باب میں نظر آتا ہے، وہ بہت کچھ کم ہو جاتا اگر ایک دوسرے کی رایوں سے واقف ہو کر بحث ومذاکرے کے ذریعے اختلافات میں کمی کی کوشش کی جاتی۔

یہاں تفصیل کا موقع نہیں، صرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان میں علما اور جماعت اسلامی نے جو موقف اختیار کیا، وہ اپنی تفصیلات میں اس موقف سے بہت مختلف ہے جو مصر، شام اور مراکش وغیرہ کے بعض علما اور الاخوان المسلمون کے رہنماؤں نے اختیار کیا ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ 

تعدد ازدواج کے حق کی تحدید اور ضابطہ بندی، طلاق کے اختیار کو بعض آداب کا پابند بنانا، حق خلع کی تجدید، مطلقہ کے حقوق، ایک ساتھ تین طلاقوں کامسئلہ، صغیرہ کے نکاح، ولایت اجبار اور خیاربلوغ کے مسائل، نیز یتیم پوتے کی وراثت کے ضمن میں جبری وصیت کا مسئلہ اس دائرے کے چند ایسے مسائل ہیں جن پر غور وفکر ضروری ہے۔

غیر مسلموں کے سیاسی حقوق

دور جدید میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے سیاسی اور مدنی حقوق کا مسئلہ بھی نازک اور اہم ہے۔ اگرچہ تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے اس بارے میں خاصاحقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا ہے مگر عام ذہنوں پر مغرب کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا کافی اثر ہے۔

موجودہ موقف یہ ہے کہ رائے دہندگی اور مجالس قانون ساز کی رکنیت نیز دوسرے مدنی حقوق میں ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ برتا جائے گا البتہ یہ مجالس ازروے دستور اس بات کی پابند ہوں گی کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتیں۔ اسلامی ریاست کا صدر مملکت لازماً مسلمان ہوگا اور اس کی شوریٰ صرف مسلمانوں پر مشتمل ہوگی۔ غیر مسلموں سے جزیہ لینا ضروری نہیں اور انہیں فوجی خدمات سے مستثنیٰ رکھنا مناسب ہوگا۔

ان میں سے پہلی بات یعنی صدر ریاست کا مسلمان ہونا متفق علیہ اور ہر ایک کے لیے قابل فہم ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جس دستوری پابندی کے تحت مجالس قانون ساز میں غیر مسلموں کی شرکت روا رکھی گئی ہے، اسی دستوری پابندی کے تحت کابینہ یا شوریٰ کی کسی دوسری شکل میں ان کی شرکت کیوں نہیں روا رکھی جا سکتی ہے؟

فوجی خدمات کو کسی حالت میں بھی غیر مسلمانوں کے لیے لازمی نہ قرار دینا ایک معقول بات ہے لیکن اگر وہ خود کو اس خدمت کے لیے پیش کریں تو ان کے لیے اس کا دروازہ بند کرنا ضروری نہیں معلوم ہوتا۔ یہ بات زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے کہ فوجی خدمت اور دوسرے مناصب پر تقرر کا معیار دستور سے وفاداری کو بنایاجائے اور اس اصولی موقف کے ساتھ عملی طور پر انتخاب یا تقرر میں متعلقہ غیر مسلم افراد کے واقعی رجحانات اور کردار کو بھی نظر میں رکھا جائے۔

اسی طرح مسلمانوں اور اسلام کے کسی اہم مفاد کو مجروح کیے بغیر غیر مسلموں کو ان تمام سیاسی اور مدنی حقوق کی ضمانت دی جا سکتی ہے جو دور جدید کی کسی ریاست کے شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں یا جن کا شمار مجلس اقوام متحدہ نے بنیادی انسانی حقوق میں کیا ہے۔ اپنے موقف کی تعیین اور اس کے بیان میں مزاج عصر کی رعایت رکھنے میں اس حد تک کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا جس حد تک نہ کسی متعین شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم آتی ہو، نہ اسلام اور مسلمانوں کا کوئی اہم مفاد مجروح ہوتا ہو۔

اس بارے میں مسلم ممالک میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کے موقف کی تعیین میں دنیا کی رائے عامہ اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والی مسلمان اقلیتوں کے مفاد ومصالح کی رعایت رکھنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلام کے مجموعی مفاد کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو جملہ سیاسی اور مدنی حقوق اور اسلام کی طرف دعوت دینے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ زیر غور مسئلہ میں، شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے فراخ دلانہ پالیسی اختیار کرنے اور اس کو مزاج عصر سے مناسبت رکھنے والے انداز میں سامنے لانے سے اس مفاد کے تحفظ میں مددملے گی۔

مسلمان اقلیتوں کا سیاسی مسلک

غیر مسلم اکثریت والے آزاد ممالک میں بڑی تعداد میں رہنے والے مسلمانوں کے اپنے ملک کے سیاسی نظام سے تعلق کی نوعیت بھی مذکورہ بالا مسئلے سے کم اہم نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تعلق ان کی سیاسی قوت اور اس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی اور معاشی حالت پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔ ان مسلمانوں کی سیاسی قوت، تعلیمی اور معاشی حالت کی اس داعیانہ کردار کے لیے بھی اہمیت ہے جو انہیں ان ملکوں میں اختیار کرنا چاہیے ۔ اب تک یہ سمجھا گیا ہے کہ انسانوں کو حاکمیت الٰہ کی طرف دعوت دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ جس ملک میں حاکم اعلیٰ جمہور کو قرار دیا گیا ہو، اس کے سیاسی نظام سے کنارہ کش رہا جائے۔ یہ موقف نظر ثانی کا محتاج ہے۔ قانون سازی، تشکیل حکومت اور انتظام ملکی میں فعال حصہ لے کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ اور تعلیمی ومعاشی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ خود ملک کی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا زیادہ آسانی سے ممکن ہوگا۔

ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حاکمیت الٰہ کا عقیدہ اور اس کی طرف دعوت، اصولی طور پر ایسا کرنے میں مانع ہے۔ اس مسئلے پر کھل کر بحث ومذاکرہ ہونا چاہیے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ بحث مسلم ممالک کے اسلامی مفکرین کی شرکت سے محروم رہے۔ اگر مستقبل میں اسلامی تحریکوں کا منتہائے نظر صرف مسلم ممالک میں اسلامی نظام کا قیام نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی انقلاب ہے تو اس مسئلے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

معاشی مسائل

اسلام اور معاشی ترقی:

اگرچہ معاصر اسلامی فکر کے بعض توجہ طلب پہلوؤں کی نشان دہی میں ہم معاشی مسائل کا ذکر سب سے آخر میں کر رہے ہیں، مگر یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دور جدید میں ان مسائل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

بہت سے جدید ذہنوں کی اسلام اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں بے دلی یا مخالفت ان مسائل سے وابستہ ہے۔ بہت سے مسلم دانش ور یہ احسا س رکھتے ہیں کہ بعض اسلامی تعلیمات معاشی ترقی کے لیے ناسازگار ہیں اور اسلام تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے ایجابی طور پر سازگار فضا پیدا نہیں کر سکتا۔ مسلمان ماہرین معاشیات نے اپنے مغربی اساتذہ سے یہ سیکھا ہے کہ صنعتی ترقی کا ایک لازمی نتیجہ اور تیز رفتار ترقی کی ایک شرط روایتی سماج کے شیرازے کا منتشر ہونا ہے۔ ان دانش وروں کا تصور اسلام روایتی مذہب کے تصور سے زیادہ نہیں اور اسلام کے مطالعے کی کمی کے سبب وہ مشرق کے مسلمان ممالک کے روایتی سماج ہی کو اسلامی سماج سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ان کا ذہن یہ بات بھی تقریباً قبول کر چکا ہے کہ اسلام تیز رفتار معاشی ترقی کے صدمات نہ سہہ سکے گا۔

اگر تحریک اسلامی کو نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنے ماہرین معاشیات کا تعاون حاصل کرنا ہے تو ان کی ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔ معاشی ترقی کے حقیقی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اسلام کے حرکی رجحانات کی مخفی قوتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ معاشی ترقی کے لیے سازگار فضا بناتے ہیں۔ قدرتی طورپر ہمیں ان امور سے بھی بحث کرنی ہوگی کہ اسلام میں ترقی آخری مقصود کا نہیں بلکہ فلاح انسانی کا درجہ رکھتی ہے۔

اس ذیل میں بیش از بیش سامان حیات پیدا کرنے، معیار زندگی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ چاہنے، انسانی ضروریات میں بے تحاشا وسعت پیدا کرتے چلے جانے اور فرد انسانی کو مزید سامان حیات کی کبھی نہ تشفی پانے والے طلب کے دباؤ کے تحت مصروف محنت رکھنے کے معاصر مقاصد ومناہج پر تنقید بھی ضروری ہوگی۔ زندگی کے روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی پہلوؤں کے اہم تقاضوں پر زور دیتے ہوئے معاشی ترقی کے سلسلے میں ایک ایسا معتدل نقطہ نگاہ سامنے لانا ہوگا جو مقام انسانیت کے شایان شان ہو۔

اسلام کے مجموعی نظام اقدار کے پس منظر میں معاشی قدروں کے صحیح مقام کی تعیین کے بعد یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ اسلام مطلوبہ معاشی ترقی کے لیے قوی محرکات فراہم کرتا ہے اور اس کا اجتماعی نظام اس کے اہتمام کا ذمہ دار ہے۔ اس موضوع پر اب تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ موجودہ لٹریچر عام لوگوں کے لیے کچھ مفید ہو سکتا ہے مگر معاشیات کے ماہرین کے لیے تشفی بخش نہیں ہے۔

پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی بحث:

دور جدید میں معاشی ترقی، معاشی عدل کے قیام اور فی الجملہ زندگی کی تنظیم میں انفرادی اور نجی کوششوں کی اہمیت روز بروز کم ہوتی جاتی ہے اور تعاون باہمی پر مبنی اداروں نیز ریاست کا دائرہ عمل وسیع تر ہوتاجا رہا ہے۔ یہ کسی مخصوص فلسفے کا اثر نہیں بلکہ جدید ٹکنالوجی کا نتیجہ ہے جو اشیا کی پیداوار کے لیے بڑے پیمانے پر اہتمام، طویل عرصہ پیداوار اور اس کے تقاضے کے طور پر پیداواری منصوبہ بندی اور کامیاب منصوبہ بندی کے لیے رسد اور طلب نیز خام اشیا اور تیار شدہ سامانوں کی قیمتوں میں یک گونہ استقرار کی طالب ہے۔ ایک اسلامی معیشت میں پبلک سیکٹر، کوآپریٹو سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے اضافی مقامات پر اور صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے یا نہ لینے کے مسئلے پر غور کرتے وقت انفرادی حقوق اور شورائی نظام کے تقاضوں کے ساتھ جدید ٹکنالوجی کے ان تقاضوں کو بھی پوری طرح سامنے رکھنا ہوگا۔ متعلقہ عملی مسائل میں فیصلہ کا مدار مصالح کو بنانا چاہیے اور یہ ظاہر ہے کہ اکثر اوقات بالاتر مصالح کے حصول کے لیے کم تر مصالح کی قربانی یا ان کے تحفظ کے لیے دوسری تدابیر اختیار کرنا بھی لازم آئے گا۔

اس مسئلے پر جو لٹریچر ہمارے سامنے ہے، اس کا بیش تر حصہ مستقبل کی اسلامی ریاست کے متوقع مسائل کو سامنے رکھ کر تیار نہیں ہوا ہے، بلکہ غیر اسلامی معاشی نظاموں کے رد میں تیار ہوا ہے۔ اصل ضرورت ایک ترقی پذیر اسلامی ریاست کے لیے موزوں معاشی پالیسی مرتب کرنے کی ہے اور اس مسئلے میں اصل اہمیت اصطلاحوں کے ترک وقبول کی نہیں بلکہ پالیسی کے ایسے رہنما اصول وضع کرنے کی ہے جو قومی ملکیت میں لینے، تحدید ملکیت، مسئلہ ملکیت زمین، آزادی کاروبار کے حدود اور معاشی منصوبہ بندی جیسے امور میں موزوں فیصلوں کی بنیاد بن سکیں۔

بلاشبہ اس کام کا حق تو اس وقت ادا کیا جا سکے گا جب کسی ملک میں اسلامی نظام عملاً قائم ہو جائے مگر خود ایسا ہونا اب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم مسلمان دانش وروں اور ماہرین معاشیات کو خصوصاً اور دور جدید کے انسان کو عموماً اس بات پر مطمئن کر سکیں کہ اس سلسلے میں تحریک اسلامی ایک واضح، حقیقت پسندانہ اور حرکی موقف اختیار کرتی ہے۔

غیر سودی معیشت:

اسلام میں سود کی حرمت اور معاصر معاشی نظاموں میں سود کی کلیدی اہمیت اکثر جدید تعلیم یافتہ افراد کو الجھن میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سود کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بعد بنک کاری، نظام زر وکریڈٹ، تجارت خارجہ، بین الاقوامی مالی تعلقات کن بنیادوں پر منظم کیے جا سکیں گے؟ بہت سے مسلمان بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ بنک کا سود ان خرابیوں سے پاک ہے جو قرآن کے حرام کیے ہوئے ربا میں پائی جاتی ہیں۔ اس غلط فہمی کے ازالے، حرمت سود کی حکمتوں کے بیان اور مذکورہ بالا امور کی تنظیم کے لیے متبادل بنیادوں کی وضاحت پر جو کام اب تک کیا گیا ہے، وہ ابتدائی معیار کا ہے۔ مزید تفصیلات پر غور اور متبادل نظام کی فنی وضاحت درکار ہے۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ تاریخ انسانی میں بالعموم اور معاصر دنیا میں بالخصوص سودکے کردار اور اس سے پیدا ہونے والی حق تلفیوں، عدم توازن اور فساد پر گہرا تجزیاتی اور معلوماتی کام کیا جائے۔ ساتھ ہی سود کی وضاحت کرنے والے اور اس کا جواز فراہم کرنے والے علمی نظریات پر علمی تنقید کا کام بھی آگے بڑھانا چاہیے۔

انشورنس:

صنعتی دور میں انشورنس ایک اہم کاروباری ضرورت ہے۔ انشورنس کارخانہ دار کے لیے یہ ممکن بنا دیتی ہے کہ وہ ایک متعین سالانہ صرفہ برداشت کر کے ناگہانی خطرات کے مالی عواقب سے بے نیاز ہو جائے۔ اس تحفظ کے بغیر وسیع پیمانے پر صنعتی پیداوار کی تنظیم دشوار ہے۔ یہی ضرورت زندگی کے دوسرے دائروں میں بھی پیش آتی ہے۔ موت کے وقت کے عدم تعین کے سبب افراد زندگی کی انشورنس کے ذریعے موت کے مالی عواقب سے تحفظ چاہتے ہیں۔

ان تمام صورتوں میں تحفظ کی بنیاد یہ فنی حقیقت فراہم کرتی ہے کہ جس خطرے کا وقوع افراد کے لیے مجہول اور غیر متعین ہوتا ہے، اسی خطرے کا افراد کے ایک بہت بڑے مجموعے میں وقوع حسابی طور پر معلوم اور متعین ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر تعاون باہمی کے اصول پر افراد کے مجموعے خطرات کے مالی عواقب برداشت کرنے اور فرد واحد کے لیے ان کی شدت کم کرنے کا اہتمام کر سکتے ہیں اور اسی بنیاد پر تجارتی کمپنیاں بڑی تعداد میں افراد سے انشورنس کے معاہدے کر کے مذکورہ بالامقاصد حاصل کرنے کے ساتھ خود نفع کماتی ہیں اور اسی بنیاد پر اجتماعی نظام سوشل انشورنس کی مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔

ان حقائق کے پیش نظر اسلامی معاشرے کے لیے چند بنیادی سوالات غور طلب ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ وہ اس ضرورت کو زندگی کے تمام دائروں میں اجتماعی نظام کے زیر اہتمام پورا کرے گا یا بعض دائروں میں ایسا کرے گا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہر دائرے میں اس ضرورت کی تکمیل کا اہتمام ریاست کے سپرد نہ کیا جا سکتا ہو تو ایسے دائروں میں صرف تعاون باہمی پر مبنی اداروں کو روا رکھا جائے گا یا تجارتی انشورنس کو بھی بعض دائروں میں گوارا کیا جائے گا؟

انشورنس کا موجودہ نظام سود سے ملوث ہے مگر سود کے بغیر انشورنس کی تنظیم جدید اس سے کہیں زیادہ آسان ہے جتنی بنک کاری کی تنظیم جدید۔ اس حقیقت کو سامنے نہ رکھنے اور بڑی حد تک انشورنس کمپنی کی فنی بنیادوں سے ناواقفیت کی وجہ سے اس موضوع پر ظاہر کی جانے والی آرا میں بہت کم وزن ہے۔ اردو میں اس پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں عربی میں ا س پر کئی مقالات لکھے گئے ہیں مگر اب تک مسئلہ صاف نہیں ہوا ہے۔ انشورنس کمپنی کی فنی بنیادوں کے پیش نظر بعض علما کی یہ رائے کہ اس میں قمار پایا جاتا ہے، نظر ثانی کی محتاج معلوم ہوتی ہے۔ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی مزید تحقیق اور جامع بحث کی ضرورت ہے۔

نظام محاصل:

دور جدید کی اسلامی معیشت کے نظام محاصل پر کسی جامع کام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ متعدد معاصر فقہا ومفکرین نے مال کی نئی قسموں مثلاً کمپنیوں کے حصص، مشینوں اور کارخانوں اور کرایہ پر دیے جانے والے مکانات وغیرہ کے سلسلے میں زکوٰۃ کے وجوب پر روشنی ڈالی ہے، مگر ابھی اس سلسلے کے تمام مسائل کا احاطہ نہیں کیا جا سکا اور زیر غور مسائل میں اختلاف رائے کم کرنے کے لیے بحث وفکر کی رفتار بہت سست ہے۔

مثال کے طور پر یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ کاروباری پیمانے پر کی جانے والی زراعت کے سلسلے میں شرعی محصول کیا ہوگا؟ عشر وزکوٰۃ کے مصارف اور جدید حالات میں ان کے مطابق عمل کی صورتیں کیا ہوں گی؟ اس بارے میں بھی مزید غور وبحث کی ضرورت ہے۔ اس سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ شرعی محاصل اور مزید محاصل، مالیاتی پالیسی (fiscal policy) اور سماجی تحفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے غیر سودی اسلامی معیشت کے پس منظر میں ایک جامع نظام تجویز کیا جائے۔

تحدید نسل:

آج کل کم ترقی یافتہ ممالک کی معاشی پالیسی میں تحدید نسل نے بھی ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ انفرادی سطح پر ضبط ولادت کا مسئلہ قومی پیمانے پر آبادی کو کنٹرول کرنے کے مسئلے سے بڑی حد تک علیحدہ ہے لیکن اس موضوع پر معاصر بحث ومذاکرہ اول الذکر مسئلے کے زیر سایہ شروع ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مفکرین اس بارے میں غیر معمولی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ جہاں تک پہلے مسئلے کا سوال ہے، اس پر اس بڑے مسئلے کے پس منظر میں غور کرنا چاہیے جس کا ذکر معاشی ترقی کے تصور اور مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر مزید تحقیقی کام کی اور بحث ومذاکرے کے ذریعے موجودہ اختلاف رائے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور)

اسلام اور عصر حاضر

(جولائی ۲۰۰۲ء)

Flag Counter