مجوزہ آئینی ترامیم کا ایک جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

این آر بی کی طرف مجوزہ آئینی ترامیم منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کا پس منظر اور بنیاد صدر پاکستان کا وہ فرمان ہے جس کے مطابق انہوں نے واقعیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’طاقت‘‘ کے تین ستونوں کی نشان دہی کی ہے: صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف۔ صدر محترم کا فرمان ہے کہ ان تینوں کے درمیان ’’توازن‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجوزہ آئینی ترامیم کا سرسری مطالعہ ہی واضح کر دیتا ہے کہ اصل اہتمام صدر کو ’’فنا فی الدستور‘‘ کرنے کا کیا جا رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ترمیمی پیکج تیار کرنے والے ’’تھنک ٹینک‘‘ نے سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے پیش نظر صدر کے فنا فی الدستور ہونے کو توازن قرار دے کر دستوری میدان میں ’’اجتہادی قدم‘‘ اٹھایا ہے۔ رہے معترضوں کے اعتراضات تو وہ حرف غلط کی طرح مٹا دیے جائیں گے۔ کسی کی کج فہمی، لا علمی اور رجعت پسندی کو ’’ترقی اور خوش حالی‘‘ کی راہ میں آخر کیوں حائل ہونے دیا جائے؟

مجوزہ ترامیم میں ’’توازن‘‘ دیکھتے ہوئے ایک سوال فوراً ابھرتا ہے کہ آخر اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بہت سیدھا، شفاف اور حقیقت پسندانہ عمل تو یہ ہے کہ ایسی ترمیم لائی جائے جس کے مطابق وہی شخص صدر پاکستان ہوجو آرمی چیف ہو۔ آخر اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ اگر عالمی برادری میں ’’توا‘‘ لگنے کا ڈر ہے تو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کو صدارتی عہدہ بھی سونپ دیا جائے۔ اس سے سیاست دانوں کو بھی فائدہ ہوگا کہ ’’گھر‘‘ میں لڑائی پڑ جائے گی۔ آرمی چیف کی کوشش ہوگی کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ بھی اس کے پاس رہے لہٰذا مستقبل میں کسی آرمی چیف کو اپنی ایک ’’اضافی ٹوپی‘‘ کسی دوسرے کے سر پر رکھنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی، البتہ ’’اضافیت‘‘ دوسروں کے لیے برقرار رہے گی۔ 

ترمیمی پیکج کی رونمائی سے پہلے اس بات کا اعادہ بھی کیا جا رہا تھا کہ صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختیارات کے حوالے سے ’’روک ٹوک اور توازن‘‘ (Check & Balances) کا نظام قائم کیا جا ئے گا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے سیاسیات کے طالب علم کا ذہن فوراً شمالی امریکہ کی طرف جاتا ہے جہاں حکومت کے تینوں شعبوں یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان روک ٹوک اور توازن قائم کیا گیا ہے تاکہ کوئی شعبہ ’’آمر‘‘ نہ بن سکے۔ مثلاً دیکھیے کہ انتظامیہ کا سربراہ یعنی امریکی صدر امریکی کانگرس پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے:

۱۔ صدر اپنی تجاویز زبانی یا تحریری طور پر کانگرس کو بھیج سکتا ہے۔ صدر جب بھی ضروری سمجھے، دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کر سکتا ہے۔ صدر، کانگرس کے عمومی اجلاس نہیں بلا سکتا لیکن کسی بھی نوعیت کی ہنگامی صورت میں صدر کو خصوصی اجلاس بلانے کی اجازت ہے۔

۲۔ صدر، کانگر س کے منظور کردہ مسودے کی منظوری دیتا ہے۔ وہ چاہے تو حق استرداد (ویٹو) استعمال کرتے ہوئے مسودے کو مسترد کر دے۔ ۱۷۸۹ء سے اب تک امریکی صدور استرداد کا حق سات سو سے زیادہ دفعہ استعمال کر چکے ہیں۔ مسترد شدہ مسودوں میں سے صرف چالیس کانگرس کی دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل کر کے دوبارہ زندگی پا سکے ہیں کیونکہ امریکی سسٹم کے مطابق سادہ اکثریت سے پاس کیے ہوئے مسودے کو اگر امریکی صدر مسترد کر دے تو امریکی کانگرس دو تہائی اکثریت سے ایسے مسودے کو دوبارہ زندگی بخش سکتی ہے۔ اس صورت میں صدارتی منظوری کی ضرورت نہیں رہتی۔

۳۔ امریکی کانگرس میں ’’کمیٹیاں‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ انہیں Little Legislatures کہا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ قانون سازی اصل میں یہی کمیٹیاں کرتی ہیں۔ امریکی صدر ان کمیٹیوں کے ارکان سے رابطہ رکھتا ہے جس سے قانون سازی کے معاملات میں صدر کا بھی کچھ نہ کچھ عمل دخل ہو جاتا ہے۔

۴۔ امریکی کانگرس میں صدر کی سیاسی جماعت کے ارکان بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے ذریعے سے بھی امریکی صدر، کانگرس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس مختصر جائزے سے معلوم ہوا کہ کانگرس قانون سازی کے معاملات میں ’’آمر‘‘ نہیں بن سکتی۔ امریکی صدر آمرانہ رجحانات کو روکنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کانگرس، امریکی صدر کو کیسے کنٹرول کرتی ہے؟

۱۔ امریکی صدر اعلیٰ عہدے داروں کا تقرر کرتا ہے۔ ان تمام تقرریوں کی حتمی منظوری امریکی کانگرس کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے ارکان کی دو تہائی اکثریت دیتی ہے۔ سینٹ اب تک کئی صدارتی تقرریوں کو مسترد کر چکی ہے۔

۲۔ امریکہ دوسرے ممالک سے جو معاہدے کرتا ہے، ان کی حتمی منظوری امریکی سینٹ دیتی ہے۔ وڈرو ولسن نے ۱۹۱۹ء میں معاہدۂ وارسائے پر دستخط کر دیے تھے لیکن امریکی سینٹ نے توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے امریکہ لیگ آف نیشنز کا ممبر نہیں بن سکا تھا۔ سینٹ کی منظوری کے بغیر امریکی صدر جنگ یا صلح کا اعلان نہیں کر سکتا اور نہ امریکی فوج کو بیرون ملک بھیج سکتا ہے۔

۳۔ صدارتی ویٹو کو کانگرس دو تہائی اکثریت سے بے اثر کر سکتی ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔

۴۔ صدر کے کسی بھی انتظامی حکم نامے اور پالیسی کو ختم کرنے کے لیے کانگرس ’’قانون‘‘ بنا کر صدر کو بے بس کر سکتی ہے۔

۵۔ صدر کے مواخذے کا اختیار بھی امریکی کانگرس کے پاس ہے۔

۶۔ صدارتی انتخابات میں اگر کوئی امیدوار واضح اکثریت نہ لے سکے تو زیادہ ووٹ لینے والے تین صدارتی امیدواروں کے نام ’’ایوان نمائندگان‘‘ جو کہ کانگرس کا ایوان زیریں ہے، کے رو برو پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ایوان، صدر کا انتخاب کرتا ہے۔

۷۔ صدر کے ماتحت تمام محکموں اور ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کی منظوری کانگرس دیتی ہے۔ 

ان طریقوں سے کانگرس، صدر کو خاصی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے۔

جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے، اسے بھی روک ٹوک اور توازن کے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہے، سینٹ اس کی منظوری دیتی ہے اور ججوں کو معزول کرنے کا اختیار کانگرس کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ صدر کے نافذ کردہ احکام اور کانگرس کے بنائے ہوئے قوانین کو ’’آئین سے متصادم‘‘ ہونے کی صورت میں کالعدم قرار دے۔ تقریباً ۸۴ وفاقی اور ریاستی قوانین کو اس طرح ختم کیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر کے بعض پہلوؤں پر گرفت کرتے ہوئے جزوی طور پر ختم کیا گیا۔ اس کے علاوہ تقریباً ۳۵ صدارتی احکام کو آئینی مقام دینے سے انکار کر دیا گیا۔

اس مختصر سے جائزے سے یہ واضح ہوا کہ روک ٹوک اور توازن کسے کہتے ہیں؟ این آر بی کا یہ دعویٰ کہ آئینی ترامیم کے نئے پیکج میں صرف ناگزیر ترامیم کرتے ہوئے وز یر اعظم کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا ہے، خاصا حیران کن ہے۔ این آر بی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’’کسی کے اختیارات پر اثر انداز ہوئے بغیر‘‘ اچھی حکومت (Good Governance) کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ این آر بی کے کارپردازوں کی قابلیت اور بیانات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ’’تجاہل عارفانہ‘‘ کا فن ان پر ختم ہے۔

اگر صدر محترم ’’فنا فی الدستور‘‘ ہونے سے بچنا چاہتے ہیں تو نہایت مودبانہ گزارش ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے بجائے سوئٹزر لینڈ کی طرز پر ’’وفاقی کونسل‘‘ قائم کی جائے جس کے سات ارکان ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کی وفاقی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی کونسل کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ ارکان کی میعاد چار سال ہے۔ عموماً ایک بار منتخب ہونے والے کونسلرز بار بار منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ بعض ایسے کونسلرز بھی ہوئے ہیں جنہیں بیس سے تیس سال تک وفاقی کونسل میں بار بار منتخب کیا جاتا رہا۔ وفاقی کونسل کے سات ارکان میں سے کسی ایک کو وفاقی اسمبلی ایک سال کے لیے سوئٹزر لینڈ کا صدر اور دوسرے کو نائب صدر منتخب کرتی ہے۔ کوئی فرد مسلسل دو سال صدر یا نائب صدر منتخب نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کونسل کی صدارت کرتا ہے۔ تمام فیصلے سات کونسلروں کی مرضی سے طے پاتے ہیں۔ صدر کو فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ صدر رسمی موقعوں پر قوم کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اسے غیر معمولی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، البتہ اسے First among equals کہا جاسکتا ہے۔ کیا یہ نظام مجوزہ آئینی پیکج سے بہتر نہیں ہے؟ اگر تو پاکستان عوام کا ہے تو اس نظام سے ملتا جلتا نظام ہی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پاکستان، صدر پاکستان کا ہے تو مجوزہ آئینی پیکج ہی آئیڈیل ہے۔ ویسے بھی عوام نہ ’’تین‘‘ میں ہیں نہ تیرہ میں۔ لہٰذا ’’تین‘‘ کے مابین توازن کا مجوزہ نظام بہترین ہے۔

پارلیمانی نظام میں سینٹ کے مالیاتی اختیارات

ایک خبر کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ کی نشستوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسے بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ کل نشستیں ۱۳۰ کر دی جائیں گی اور ان میں سے ۳۰ نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ مورخہ ۲۰۰۲ء کو روزنامہ پاکستان کے ’’جلسہ عام‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے جناب مجیب الرحمن شامی نے بجٹ کی منظوری سے متعلق سینٹ کو اختیارات دینے کی بابت چند خدشات کا اظہار کیا ہے۔ شامی صاحب کا موقف یہ ہے کہ پارلیمانی نظام میں ایوان زیریں ہی براہ راست عوام کا منتخب کردہ اور با اختیار ایوان ہوتا ہے۔ ایوان بالا کی اختیارات کے معاملے میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو وزیر اعظم کے مقابلے میں صدر کی۔ شامی صاحب کے کالم کا عنوان ہی ان کے موقف کو واضح کر دیتا ہے: ’’پارلیمانی نظام کو قتل کرنے کی تیاریاں‘‘۔

میرا خیال ہے کہ پاکستان میں سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے سے متعلق ایسے تحفظات کا اظہار کہ اس طرح پارلیمانی جمہوریت کی روح قبض کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مناسب نہیں۔ ہم لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دستور کے تحت صرف پارلیمانی نظام ہی نہیں اپنایا گیا بلکہ وفاقی نظام بھی اپنایا گیا ہے۔ جب سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے کی بات چلے گی تو اس کا تعلق حقیقت میں دستور کے وفاقی پہلو سے ہوگا نہ کہ پارلیمانی پہلو سے۔ اگر ہم برطانیہ کی مثال پیش نظر رکھیں تو بات نہیں بنے گی کیونکہ برطانیہ میں پارلیمانی اور وحدانی نظام ہے۔ وہاں پاکستان کی طرز پر ’’دستوری حیثیت‘‘ کے مالک صوبے نہیں ہیں اس لیے آبادی کی بنیاد پر عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب شدہ ایوان یعنی دار العوام ہی بااختیار ادارہ ہے بلکہ حقیقت میں یہی ایوان، پارلیمنٹ ہے۔ دار الامرا کی کوئی حیثیت نہیں۔

شمالی امریکہ میں صدارتی اور وفاقی نظام ہے۔ اسی طرح کینیڈا، آسٹریلیا، سوئٹزر لینڈ وغیرہ میں بھی وفاقی نظام ہے۔ تقسیم اختیارات کی بحث وفاقی نظام میں چلتی ہے نہ کہ پارلیمانی نظام میں۔ وفاقی دستور سازی میں سب سے کٹھن مرحلہ ہی تقسیم اختیارات کا ہوتا ہے، یعنی کون سے اختیارات صوبوں کو دیے جائیں اور کون سے مرکز کو۔ اختیارات کی تعداد سے زیادہ اختیارات کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مالیاتی اختیارات کلیدی ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں وفاقی نظام صحیح معنوں میں اپنی روح کے مطابق چل رہا ہے، وہاں صوبوں کو مالیاتی خود مختاری بھی دی گئی ہے۔

وفاقی نظام میں دوسری اہم بات مرکزی مقننہ کے دونوں ایوانوں میں صوبوں کی نمائندگی کی نوعیت اور دونوں ایوانوں کے مابین اختیارات کی تقسیم ہے۔ عام طو رپر ایوان بالا میں ہر صوبے کے لیے برابر نشستیں رکھی جاتی ہیں اور ایوان زیریں میں آبادی کی بنیاد پر نمائندگی دی جاتی ہے۔ امریکی سینٹ میں ہر وفاقی اکائی کی دو نشستیں ہیں۔ ۱۹۱۳ء سے پہلے سینٹرز کا انتخاب ریاستی اسمبلیاں کرتی تھیں یعنی بالواسطہ طریقہ انتخاب تھا جیسا کہ آج کل پاکستان میں ہے لیکن ۱۹۱۳ء میں دستور میں سترہویں ترمیم کرکے سینٹرز کے انتخاب کا حق براہ راست عوام کو دے دیا گیا۔ امریکی مقننہ کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان میں ہر ریاست کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے۔ دلیور، الاسکا اور نوادا سے بمشکل ایک ایک نمائندہ ہی ایوان میں پہنچتا ہے جبکہ کیلی فورنیا، ٹیکساس، نیو یارک جیسی بڑی ریاستوں سے ۴۵، ۲۷، ۳۴ ارکان پہنچتے ہیں۔

صدارتی اور پارلیمانی کی بحث کو چھوڑ کر معروضی انداز میں جائزہ لیں کہ اگر امریکہ میں ایوان زیریں کو طاقت ور بنایا جاتا تو کیا ’’انصاف‘‘ ہوتا؟ کیا بڑی آبادی والی ریاستوں کی اجاری داری قائم نہ ہو جاتی؟ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ اگر شمالی امریکہ میں،جہاں تمام وفاقی اکائیوں کی مساوی نمائندگی ہے، ایوان بالا کو طاقت ور نہ رکھا جاتا تو امریکہ بھی ہمارے جیسے مسائل سے دوچار ہوتا۔ ہمارا تو ریکارڈ ہی عجیب ہے۔ غالباً پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے وفاتی دساتیر کے تحت ’’یک ایوانی مقننہ‘‘ قائم کی گئی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں ابھی تک صوبائی عصبیتوں کا سامنا ہے۔ کالاباغ ڈیم بھی عصبیت کی نذر ہو گیا۔ ہمیں ابھی نجانے کتنے اور ’’نذرانے‘‘ دینے ہوں گے۔

درج بالا سطور میں عرض کیا گیا کہ امریکی سینٹ کا طریقہ انتخاب بھی ۱۹۱۳ء میں براہ راست کر دیا گیا تھا۔ امریکیوں نے واقعی درست سمت میں پیش قدمی کی۔ پاکستان میں بھی اس کی ضرورت ہے کہ سینٹ کے انتخابات براہ راست کر دیے جائیں اور اسے اختیارات کے اعتبار سے قومی اسمبلی کے کم از کم برابر لازماً کر دیا جائے۔ قومی سلامتی کونسل کو دستوری حیثیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سینٹ سے ہی قومی سلامتی کونسل کا کام بھی لیا جائے۔

امریکی وفاق اور پاکستانی وفاق کی نوعیت میں فرق ہے۔ مثلاً شمالی امریکہ میں آزاد، مقتدر او رخود مختار ریاستوں نے باہم مل کر وفاق بنایا یعنی خارجی اقتدار اعلیٰ سے دست برداری اختیار کر لی۔ یہ قدرتی بات تھی کہ ریاستوں نے مرکز کو زیادہ اختیار دینے کے بجائے اپنے پاس زیادہ اختیارات رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان میں مرکز نے صوبوں کو جنم دیا ہے لہٰذا قدرتی بات ہے کہ زیادہ اختیارات مرکز نے اپنے پاس رکھے ہیں لیکن اس عمل میں کچھ ایسی کوتاہیاں ہوئیں کہ معاملات سنگین ہو گئے۔ اگر ہم اپنے سفر کے آغاز سے ہی معروضی انداز میں وفاقی مسائل کو ایڈریس کرتے تو بات اتنی نہ بڑھتی۔اب جبکہ بات بڑھ چکی ہے تو ان کا جرات مندی سے سامنا کرنا ہی واحد حل ہے۔

شامی صاحب نے پارلیمانی روایت کا بھی ذکر کیا ہے کہ اگر وزیر اعظم بجٹ منظور نہ کرا سکے تو اسے اس کے خلاف عدم اعتماد سمجھا جاتا ہے اور اسے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ پارلیمانی ڈھانچے کو وفاقی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں بھی صدارتی اور پارلیمانی نظاموں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ چاروں صوبوں کو مطمئن کرنے اور قومی وحدت کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔ خود برطانیہ میں پارلیمانی نظام ارتقائی مراحل سے گزرا ہے اور اپنی قومی ضروریات اور مزاج کے مطابق موجودہ صورت میں متشکل ہو کر بھی ارتقا پذیر ہے۔ برطانیہ میں اس طرح کی بحثیں اٹھتی رہتی ہیں کہ دار الامرا کو ختم کر دیا جائے،وزیر اعظم کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ نظام وزارتی کے بجائے وزیر اعظمی بنتا جا رہا ہے۔ لہذا پارلیمانی نظام کی ’’برطانوی روح‘‘ سے چمٹے رہنا دانش مندی نہیں، بالخصوص اس تناظر میں کہ برطانیہ میں وفاقی کے بجائے وحدانی نظام ہے۔

البتہ شامی صاحب کے اس نکتے سے سو فیصد اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ آئین میں ترامیم کا عمل فوجی حکومت کے بجائے منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے سے انجام پانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ غیر دستوری سیٹ اپ میں وفاقی نظام عملاً وحدانی نظام بن چکا ہے لہذا ترامیم میں ’’مرکز مائل‘‘ رجحانات ہی دیکھنے کو ملیں گے۔ اس اعتبار سے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ مرکز میں صوبوں کو مطمئن کرنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ ’’مرکزیت‘‘ کے باوجود مساوی حیثیت کا احساس ’’لامرکزیت‘‘ کا متبادل بن سکے۔

حالات و مشاہدات

(جولائی ۲۰۰۲ء)

Flag Counter