مسلمانان عالم کے لیے لائحہ عمل

مولانا محمد عیسی منصوری

جب سے اس دھرتی پر انسان کا وجود ہوا ہے‘ یہاں خیر اور شر کی رزم آرائی اور جنگ مسلسل جاری ہے۔ ہر دور میں خیر کا راستہ آسمانی وحی کی اتباع کا اور شر کا راستہ خواہشات وشہوات کے پیچھے دوڑنے کا رہا ہے۔ خدا کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے دنیا میں خیر کو شر پر غالب کر دیا تھا اور پوری انسانیت کو اس کے خالق کا آخری پیغام پہنچا دیا تھا جو پوری انسانیت کی بقا اور خوش حالی‘ امن وسلامتی‘ ہمہ گیر یک جہتی اور ہر نوع کی دنیوی ودینی ترقیات وفلاح کا ضامن تھا۔ اس پیغام کی بنیاد ایک خالق کی عظمت واطاعت اور تمام انسانوں کی مساوات اور حقوق کی ادائیگی پر تھی۔ ربع صدی کے نہایت مختصر عرصے میں اس دورکی معمور دنیا (ایشیا‘ افریقہ‘ یورپ) کے بڑے حصے پر اس آخری پیغام کی حامل قوم غالب وحاوی ہو کر سترہویں صدی عیسوی تک دنیا میں عالمی قوت بن کر فائق وسربلند رہی۔ اس پورے عرصے میں وہ مخصوص نسل جو اپنے کرتوتوں کے سبب سے خدا کی بارگاہ سے مردود ہوئی تھی‘ جسے تمام آسمانی کتابوں نے مسلسل جرائم ونافرمانی‘ خدا ورسول سے مقابلہ اور خدا کے ہزارہا پیغمبروں کو ستانے اور قتل کرنے کی وجہ سے حزب الشیطان یعنی شیطان کی پارٹی قرار دیا ہے‘ جن کی بنیادی خصلت قرآن کی زبان میں حرام خوری (سود خوری)‘ اقوام عالم کے مابین شر وفتنہ انگیزی اور جاسوسی رہی ہے‘ جن کو تمام آسمانی کتب نے ملعون ومغضوب علیہم یعنی خدا کی رحمت سے دوری اور خدا کے قہر وغضب کے مستحق ہونے کی مہر ثبت کر دی۔ ہزارہا سال سے یہ مخصوص نسل پرست ٹولہ برابر اپنی سازشوں میں مصروف رہا تاکہ پوری انسانیت کو اپنا ہمہ جہتی غلام بنا کر ان پر اپنے خونی پنجے گاڑ دے۔ قرون وسطیٰ میں اس ٹولے کی سازش اور اکسانے پر ہی صلیبی جنگیں برپا ہوئیں۔ اس ٹولے نے انیسویں صدی عیسوی تک مغرب کی مسیحی اقوام کو رام کر لیا اور مذہب کو ختم کر کے مغربی اقوام کو نیشنلزم کے نام پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں کے مختلف طبقات کو باہم ٹکرا کر اپنے شکنجہ میں جکڑ لیا۔ مغربی اقوام پر اس طرح تسلط حاصل کر لیا کہ مغرب کے سیاستدان‘ صنعت کار‘ تاجر‘ کاشت کار‘ مزدور‘ اہل قلم‘ اسکالر‘ دانش ور سب صہیونی مقاصد کے لیے کام کرنے والے مزدور اور چاکر بن کر رہ گئے۔ پھر مغربی اقوام کے کندھوں پر سوار ہو کر بیسویں صدی میں اقوام عالم کو نظریاتی وفکری‘ اقتصادی ومعاشی‘ تمدنی ومعاشرتی طور پر اپنا اسیر بنا لیا۔ اس وقت پوری دنیا کی اقوام مغربی اقوام کے واسطے سے درحقیقت نسل پرست صہیونیوں کے منحوس جال میں پھنس چکی ہیں اور بے بسی کے ساتھ ان کی اطاعت پر مجبور ہیں۔
ملت اسلامیہ جن کا باہمی تعلق ورشتہ خون کے رشتے سے زیادہ مضبوط تھا‘ جن کے نزدیک رنگ ونسل‘ وطنی وطبقاتی فرق وامتیاز کی کوئی حیثیت نہیں تھی‘ گزشتہ صدیوں میں انہیں مغرب نے نظریاتی وفکری انتشار میں مبتلا کرکے خدا کی آخری وحی سے دور کر دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ تین صدیوں میں مغرب میں جتنی فکری ونظریاتی تحریکیں اٹھیں‘ وہ سب صہیونی نسل پرستوں کی منصوبہ بندی کے تحت اٹھیں اور مغرب کے اکثر مفکر نسلاً یہودی تھے۔ ان سب کا مشترکہ مقصد آسمانی وحی (مذہب) سے کاٹ کر خواہشات وشہوات کی راہ پر ڈالنا تھا۔ پہلے نیشنلزم (وطنیت) کے نام پر ملت اسلامیہ کے پچاسوں ٹکڑے کیے۔ پھر ان میں نظریاتی وطبقاتی جنگ تیز کر کے ایک ہی ملک کے مختلف طبقات کو باہم لڑایا اور ہر طبقہ میں اپنے فکری‘ تمدنی وسیاسی غلبہ کے ہم نوا افراد کومسلط کیا پھر ان کے ذریعے سے پورے عالم اسلام کو ایک ایسی مردہ لاش میں تبدیل کر دیا کہ جس طرح چاہیں‘ یہودی اور ان کے غلام (مغربی اقوام) نوچ کھسوٹ کریں اور وہ اف نہ کر سکیں۔ اس شیطانی پارٹی نے پوری منصوبہ بندی کر لی ہے کہ مستقبل میں کبھی مسلمان اور مسیحی ان کی ہمہ گیر غلامی کے چنگل سے نہ نکلنے پائیں۔ خاص طور پر ملت اسلامیہ باہم متحد ومتفق نہ ہونا پائے۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی حزب الشیطان (یہودیوں) کا ہمہ جہتی غلبہ وتسلط ہے جو ملت اسلامیہ کے تمام مسائل ومشکلات‘ ذلت وخواری کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اگر اب بھی اس شیطانی جال سے نکلنے کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ان کی بدترین غلامی کی دلدل میں مزید دھنستی چلی جائیں گی اور دنیا سے خیر اور آسمانی وحی کی برکات معدوم ہو کر مکمل طور پر خواہشات کی شیطانی حکمرانی قائم ہو جائے گی۔ ملت اسلامیہ گزشتہ دو صدیوں میں اپنی ناسمجھی اور بے دانشی کے سبب سے مغرب کی ذہنی‘ تمدنی‘ تعلیمی اور معاشرتی اقتدا کر کے جانکنی کی حالت کو پہنچ گئی ہے۔ 
اس انسانیت ومذہب دشمن ٹولے نے پوری دنیا کو باکسنگ کا گراؤنڈ بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس طرح باکسنگ کے کھیل میں غالب آنے والا باکسر پچھڑ جانے والے باکسر کو دوبارہ اٹھنے نہیں دیتا‘ جب بھی وہ ہوش میں آنے یا اٹھنے کی کوشش کرتا ہے‘ تو غالب باکسر اس کے سر پر گھونسہ رسید کر کے دوبارہ سلا دیتا ہے۔ اب ہارنے والے باکسر کی سمجھ داری ہے کہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے یا مزید ہڈیاں تڑوانے کے بجائے وقتی طور پر اپنی شکست تسلیم کر کے اگلے راؤنڈ کے لیے تیاری کرے۔ اس وقت دنیا کے گراؤنڈ پر کوئی مسلم ملک اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے اسی طرح ٹھکانے لگا دیا جائے گا جیسے شاہ فیصل شہید‘ جنرل ضیاء الحق یا ماضی قریب میں صدام حسین اور مہاتیر محمد کا حشر کیا جا چکا ہے۔ اس لیے ملت اسلامیہ کے لیے اپنی تقدیر بدلنے یا دنیا پر غالب شیطانی ٹولے سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ وہ ہے خاموشی وصبر اور حکمت ودانش مندی کے ساتھ طویل جدوجہد جس کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:
۱۔ مسلم ممالک آپس میں میل جول‘ تبادلہ خیالات کے ذریعے سے باہمی مفاہمت‘ ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے قریب آنے کی طرح ڈالیں۔ تمام ممالک اپنی سائنسی‘ صنعتی‘ علمی اور تکنیکی پسماندگی دور کرنے کے لیے مل جل کر تعلیمی‘ ٹیکنیکل اور سائنسی ادارے اور ریسرچ مراکز قائم کریں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے جگر گوشوں اور بہترین صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو مغربی یونیورسٹیوں اور اداروں میں اسلام دشمن نظریات ‘ معاشرت اور کلچر کے حوالے کرنے کے بجائے مسلم ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے سائنسی وٹیکنیکل ادارے قائم کیے جائیں۔ ہر مسلم ملک کسی ایک شعبہ میں اعلیٰ ترین تعلیم وتربیت کی ذمہ داری قبول کرے۔ اس میں تمام مسلم ممالک کے علاوہ افریقہ وایشیا کی تیسری دنیا کی پس ماندہ اقوام وممالک کو اپنے ساتھ شریک کر کے ان کی بھی مدد وکفالت کی جائے۔
۲۔ مسلم ملکوں کو غذائی اجناس میں خود کفیل بنانے کے لیے زراعت پر خصوصی توجہ دی جائے جس طرح اسرائیل نے جدید سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کر کے اپنے صحراؤں کو گلشن بنا کر یورپ کے ممالک کو سبزیوں‘ فروٹ اور فروٹ جوس سے بھر دیا ہے۔ بہت سے مسلم ممالک کے پاس وسیع زمینیں ہیں مگر وسائل نہیں اور بہت سے مسلم ممالک وسائل سے مالامال ہیں۔ زراعت میں باہمی تعاون واعانت کے تمام ممکن طریقے اختیار کیے جائیں۔ 
۳۔ مسلم ممالک زیادہ سے زیادہ باہمی تجارت کو فروغ دیں۔ اس وقت مسلم ملکوں کی نوے فی صد سے زیادہ تجارت ان ملکوں کے ساتھ ہے جو اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں۔ جو چیز کسی مسلم ملک سے مل سکتی ہو‘ اسے ہر قیمت پر مسلم ملک ہی سے خریدیں۔ تجارت میں مسلم ممالک باہمی ترجیحی بنیادوں پر رعایت دیں۔
۴۔ تمام مسلم ممالک مل کر اپنے ڈیفنس اور اسلحہ سازی کے لیے مربوط پروگرام وضع کریں۔ مثلاً ہر مسلم ملک کسی ایک چیز میں اعلیٰ سے اعلیٰ فنی مہارت حاصل کرے اور اس کی صنعت ڈالنے پر پوری توجہ منعطف کرے۔ کوئی مسلم ملک ٹینک سازی‘ کوئی توپ سازی‘ کوئی لڑاکا طیاروں کی تیاری‘ کوئی میزائل سازی‘ کوئی خلائی سیاروں کی تیاری‘ کوئی نیوی اور میزائل بردار کشتیوں کی تیاری اور کوئی اسلحہ اور کوئی چھوٹے اسلحہ سازی کی فنی مہارت حاصل کرنے اور صنعت ڈالنے پر اپنی توانائی صرف کرے۔ یہ اسلحہ سازی اور فنی مہارت کا حصول نہ صرف ۵۶ مسلم ممالک کے لیے ہو بلکہ افریقہ وایشیا کے پس ماندہ ملکوں اور قوموں کو سہارا دے کر انہیں مغرب کے ظالم شکنجے سے نکلنے میں مدد دی جائے۔
۵۔ آج کا دور ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ روس کو شکست امریکی اسلحہ نے نہیں دی بلکہ سیٹلائیٹ نے دی ہے۔ جدید کمیونی کیشن ورابطہ کے لیے کمپیوٹر‘ انٹرنیٹ اور سیٹلائیٹ کی اعلیٰ فنی تعلیم ان چیزوں کی تیاری میں مل جل کر منصوبہ بندی کی جائے۔ مسلم ممالک میں نہ ٹیلنٹ کی کمی ہے نہ وسائل کی۔
۶۔ دنیا میں معدنیات‘ پٹرول‘ ربر‘ سونا‘ پیٹل‘ تانبہ‘ لوہا حتیٰ کہ یورینیم کے ستر فیصد سے زیادہ ذخائر عالم اسلام کے پاس ہیں۔ ا س وقت دنیا کی ترقی یافتہ اقوام ہم سے کچا مال کوڑیوں کے دام خرید کر پھر انہیں سونے کے دام لوٹا رہی ہیں۔ معدنیات کے نکالنے اور ان کی تیاری کا انتظام اپنے ہی ملکوں میں ہونا چاہیے۔
۷۔ مسلم دنیا کے مختلف طبقات سائنس دان‘ جدید علوم وٹیکنالوجی کے ماہرین‘ اسکالر‘ صحافی ودانش ور‘ صنعت کار‘ سیاست دان‘ مذہبی علماء ومفکرین کے میل جول اور تبادلہ خیالات کے لیے زیادہ سے زیادہ مجالس‘ کانفرنسیں‘ سیمینار اور پروگرام رکھے جائیں تاکہ ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات باہمی علمی وفکری استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دلی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔
۸۔ یہود اور ان کے آلہ کار مغرب کے اسلام دشمن ممالک کی فکری یلغار‘ الحادی فلسفوں‘ تزویراتی حربوں اور سازشوں کے توڑ کے لیے دنیوی اور دینی علوم کے ماہرین پر مشتمل ایک علمی کونسل ہر مسلم ملک میں قائم کی جائے اور سال میں کم از کم دو مرتبہ مسلم ممالک کے علماء ومفکرین اور دانش وروں کو اعدائے اسلام کی علمی وفکری یلغار وسازشوں پر غور وخوض کے لیے مجتمع کیا جائے۔ ہر مسلم ملک میں جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے دشمن کی طرف سے آنے والے گمراہ کن علمی وفکری سیلاب ونشراتی اداروں (پرنٹ والیکٹرانک میڈیا) کے نام نہاد دانش وروں اور اسکالرز پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ان کی پھیلائی ہوئی گم راہیوں اور زہریلے افکار وکلچر کا موثرجواب فراہم کیا جائے۔
۹۔ نئی نسل کو ذہنی وفکری گم راہیوں‘ بے راہ روی‘ خواہشات وشہوت پرستی اور تخریبی امور سے بچانے کے لیے اسلام کی بنیادی اعلیٰ‘ آفاقی وتعمیری تعلیمات سے واقفیت کے لیے عصری درس گاہوں میں ابتدا ہی سے انتظامات کیے جائیں تاکہ نئی نسل بے راہ رو نہ ہونے پائے اور اسلام دشمن تحریکیں اور عناصر انہیں شکار نہ کر سکیں۔
۱۰۔ قرآن نے پوری انسانیت کی بہبود وبھلائی اور دنیا وآخرت کی فلاح کے لیے جو تعلیمات‘ پیغام‘ ہدایات اور پروگرام دیا ہے‘ جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے انہیں دنیا کے ہر انسان تک پہنچانے کی سعی کی جائے۔
۱۱۔ دشمنان اسلام کا اصل ہتھیار اور طاقت لذات وشہوت پرستی‘ فحش وبے حیائی کی گندی معاشرت‘ فیشن وتعیش پسندی کا مغربی کلچر ہے جو خدا فراموشی اورآخرت سے غفلت کا کلچر ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو سادگی‘ جفا کشی کی مجاہدانہ زندگی کا عادی بنایا جائے۔
اس حقیقت پر کڑی نظر رکھنی ہوگی کہ ہر مسلم ملک میں این جی اوز کے نام سے دشمنان اسلام کے بے شمار افراد وتنظیمیں کام کر رہی ہیں جو فلاحی کاموں اور رفاہ عامہ وخدمت خلق کے کاموں کے پردے میں درحقیقت مغربی آقاؤں کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں اور ان کے ناپاک مقاصد کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ناسور وکینسر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ تمام مسلم ممالک اور ان کے سربراہوں کو یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہود ونصاریٰ اور کافر کبھی کسی مسلمان کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ اس پر پوری تاریخ شاہد ہے۔ اس وقت بھی فلسطین‘ بوسنیا‘ چیچنیا اور کشمیر میں پورا عالم کفر مسلمانوں کے مقابلے پر جس طرح ملت واحدہ بنا ہوا ہے‘ یہ منظر حقائق سمجھانے کے لیے کافی ہے۔

عالم اسلام اور مغرب