مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

درج ذیل مقالہ جنگ گروپ پاکستان کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی:دنیائے اسلام کے لیے ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں ۲۰‘ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ہونے والے عالمی سیمینار میں پڑھاگیا۔
 
میری گفتگو یا موضوع کے دو حصے ہیں:
۱۔ مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے؟
۲۔ اور کیا ہونا چاہیے؟
پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانان عالم کا سرے سے کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک ارب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل سے بھی مالامال ہیں‘ ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل اور تقریباً باہم پیوست ہے جو ایک نہایت عظیم اکائی اور زبردست قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسلمان ممالک کی حیثیت صفر سے زیادہ نہیں۔ وہ ایک تودۂ خاک ہیں جو کسی طوفان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا‘ وہ ایک چراغ رہ گزر ہیں جو باد تند تو کیا باد نسیم کا جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتا‘ وہ گرداب بلا میں پھنسی ایک ڈولتی کشتی ہیں جس سے طوفان بلا خیز کی خوف ناک موجیں اٹھکیلیاں کر رہی ہیں‘ وہ ایک ایسا تنکا ہیں جو سیلابی ریلے کے ساتھ بہنے پر مجبور ہے‘ وہ انسانوں کا ایک ایسا ریوڑ ہیں جس کی کوئی سمت ہے نہ کوئی رکھوالا‘ وہ گم گشتہ راہی ہیں جسے اپنی منزل کا پتہ ہے نہ اس کا کوئی شعور ہی انہیں حاصل ہے‘ وہ بیوہ کا آنچل ہیں جسے کوئی بھی نوچ کر پھینک سکتا ہے‘ وہ یتیم کا آنسو ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں‘ وہ ایک گدائے بے نوا ہیں جس کی کوئی عزت وآبرو نہیں اور وہ ایک شہر خموشاں کی مانند ہیں جس میں زندگی کی کوئی حرارت وتوانائی نہیں۔ بالفاظ دیگر ان کے پاس عصا ہے لیکن کوئی کلیمی کردار ادا کرنے والا نہیں‘ دعوائے ایمان ہے لیکن ضرب ید اللٰہی نہیں‘ حسین سے نسبت پر فخر ہے لیکن رسم شبیری ادا کرنے کی ہمت نہیں‘ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے جذباتی تعلق ووابستگی ضرور ہے لیکن اسوۂ رسول اپنانے کے لیے تیار نہیں اور قرآن کریم جیسا نسخہ کیمیا اور نسخہ شفا ان کے پاس موجود ہے لیکن شدت مرض سے جاں بلب ہونے کے باوجود اسے استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حضرات محترم! یہ مفروضات نہیں‘ الفاظ کے طوطا مینا نہیں‘ پراپیگنڈا کی شعبدہ گری نہیں۔ یہ حقائق ہیں‘ گو تلخ ہیں۔ واقعات ہیں جو ہر شخص کے تجربہ ومشاہدہ کا حصہ ہیں۔ یہ ہمارا وہ کردار ہے جو ’عیاں را چہ بیاں‘ کے مصداق محتاج وضاحت نہیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اسلامیان عالم کا یہ حال ان کے اپنے اخلاق وکردار کا نتیجہ اور ان کے اپنے اعمال کا برگ وبار ہیں ؂
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ 
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے
ورنہ یہی مسلمان تھے جنہوں نے بدر واحد کے معرکے سر کیے‘ قیصر وکسریٰ کی عظیم الشان سلطنتوں کو روند ڈالا تھا‘ ساری دنیا پر اپنی عظمت ورفعت کے پرچم لہرائے تھے اور اپنے تمدن وتہذیب کا سکہ رواں کیا تھا۔ آج اس کے برعکس ایسا کیوں ہے کہ ان کا خون مانند آب‘ ارزاں ہے؟ انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے‘ ایک مسلمان ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی لیکن سارا عالم ’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘ کا مصداق بنا رہا بلکہ ہم نے تو اپنے کندھے اور اڈے بھی یہ کہہ کر پیش کر دیے کہ ؂ تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
ہماری گزشتہ روشن تاریخ کے مقابلے میں عالم اسلام کا حالیہ کردار جس میں پاکستان سرفہرست ہے‘ نہایت حیرت واستعجاب کا باعث ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ جب سندھ میں راجہ داہر کے زیر نگیں علاقے میں بحری قزاقوں نے مسلمانوں پر جبر وظلم کیا تو ایک مسلمان عورت نے ہزاروں میل دور حجاج بن یوسف کو مدد کے لیے پکارا اور یہ پکار اور فریاد جب حجاج کے علم میں آئی تو اسی وقت ا س نے لبیک کہا اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے ایک لشکر جرار روانہ کر دیا جس نے آکر سندھ اور ہند میں اسلامی فتوحات کا دروازہ کھولا۔ آج دنیا نے دوسرا منظر دیکھا کہ وہ طالبان جن کو ان کے اسلامی تشخص کی بنا پر پاکستان نے بھی سپورٹ کیا‘ اور بھی بعض ممالک نے ان سے تعاون کیا اور اس تعاون سے انہوں نے افغانستان کے نوے فی صد حصے پر اسلام کا نفاذ کر دیا‘ شرعی حدود جاری کیں‘ اسلحے اور منشیات‘ بد امنی اور قتل وغارت گری کی وارداتوں سے ملک کو محفوظ کیا‘ عورتوں کی بابت اسلامی تعلیمات کی پابندی کی‘ مخلوط تعلیم‘ مخلوط ملازمت ختم کی اور ان کے لیے مردوں سے الگ بعض شعبوں میں تعلیم اور ملازمت کا انتظام کیا (جو اسلامی تعلیمات کا اور وقت کا اہم تقاضا تھا) اور امن وسکون کا ایک نہایت قابل رشک ریکارڈ قائم کر کے وہ تباہ حال افغانستان کی تعمیر نو کا کام نہایت اخلاص‘ بے لوثی اور برق رفتاری سے کر رہے تھے کہ امریکہ میں ۱۱ ستمبر کو ہونے والی دہشت گردی کی واردات کو بہانہ بنا کر اور بلا ثبوت اسامہ بن لادن کو اس کا ذمے دارٹھہرا کر افغانستان کو اور اس میں قائم اسلامی حکومت کو تہس نہس کر دیا حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی جس میں سرعت‘ ماہرانہ چابک دستی اور سازش کی گہرائی اور گیرائی نے دنیا کو حیرت زدہ اور امریکیوں کو مبہوت کر دیا‘ اسامہ یا اس کی تنظیم القاعدہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہ یقیناًایک ایسے گروہ کی کارروائی ہے جو امریکی ہی ہے اور اسے امریکہ کے خصوصی اداروں تک رسائی بھی حاصل ہے لیکن امریکہ طالبان کو صرف اس لیے ختم کرنا چاہتا تھاکہ مفلس وقلاش ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کی دریوزہ گری کرنی پسند نہیں کی۔ دوسرے‘ صدیوں سے امن سے محروم علاقے میں اسلام کی حکمرانی کے ذریعے سے انہوں نے عملاً امن قائم کر کے دکھا دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیا دہشت گردوں کے ہاتھوں بھی کبھی امن قائم ہوا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے ذریعے سے بھی لوگوں کی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ ہوا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے اقدامات سے بھی کبھی تعمیر وطن کا کام ہوا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہے تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ طالبان دہشت گرد تھے نہ دہشت گردوں کے پشتی بان؟ وہ تو اسلام کے محافظ تھے‘ وطن کے معمار تھے‘ ناقہ ملت کے حدی خواں تھے‘ اسلامی اقدار وروایات کے پاسبان تھے‘ اسلامی تہذیب کے علم بردار اور قرون اولیٰ کے اخلاق وکردار کے حامل تھے۔ اسی لیے وہ عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز تھے ‘ الحاد وزندقہ کی تاریکیوں میں قندیل ربانی تھے‘ ظلمت شب میں صبح درخشاں کی نوید جاں فزا تھے‘ وہ مقاصد فطرت کی نگہبانی کرنے والے بندگان صحرائی اور مردان کہستانی تھے۔ وہ عجم کا حسن طبیعت اور عرب کا سوز دروں تھے اور اس دور میں جب کہ سوائے سعودی عرب کے کوئی بھی اسلامی ملک اسلامی عقیدہ وایمان کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار نہیں‘ وہ سرمایہ ملت کے نگہبان اور علامہ اقبال کے ان اشعار کے مصداق تھے ؂ 
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا ودریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن
نہ مال غنیمت‘ نہ کشور کشائی
افسوس:
وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ڈھونڈا تھا آسماں نے جنہیں خاک چھان کر
مرورِ ایام کی دبیز تہوں اور لیل ونہار کی ہزاروں گردشوں کے بعد چشم فلک نے ایسے حکمران دیکھے تھے جن کا رہن سہن‘ طور اطوار اور طرز بود وباش اسی طرح عام انسانوں کا سا تھا جس کی مثالیں خلفاء راشدین نے قائم کی تھیں۔ شاہانہ کروفر سے دور‘ امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ سے پاک اور مسرفانہ وعیاشانہ طرز زندگی سے نفور۔ سارے وسائل عوام کی فلاح وبہبودکی نذر اور شب وروز کا ہر لمحہ ملک وملت کی خدمت کے لیے وقف۔ انہوں نے فقیری میں بادشاہی کی‘ غریبی میں خود داری کا مظاہرہ کیا‘ تباہ حالی کے باوجود گدائی کا کاسہ اور کشکول نہیں اٹھایا‘ کسی کے سامنے جھولی نہیں پھیلائی‘ غیروں کی دریوزہ گری نہیں کی‘ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے حسین جالوں میں نہیں پھنسے بلکہ فاقہ کشی‘ بھوک‘ قحط اور بے سروسامانی کے باوصف خود انحصاری کی پالیسی اپنائی۔ لیکن افسوس‘ قلب ونظر کی کجی اور نگہ کی نامسلمانی نے ان کی خوبیوں کو برائی سمجھا‘ ان کی غیرت وخود داری کو نادانشی باور کرایا‘ ان کے عزم وایمان کو ایک ناقابل معافی جرم قرار دیا کہ 
؂ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
اور اپنے دین پر استقلال وثابت قدمی کو انتہا پسندی کا عنوان دیا اور ان کی سادگی کو فریب خوردگی سے اور مغرب کی حیا باختہ تہذیب سے نفرت کو بے خبری سے تعبیر کیا اور جب ان طعنوں سے بھی کام نہ بنا اور افغانستان پر ان کی گرفت کمزور ہونے کے بجائے مضبوط تر ہوتی چلی گئی تو بھیڑیے اور میمنے کے مشہور واقعے کی طرح ۱۱ ستمبر کے واقعے کو بہانہ بنا کر ان پر آتش وآہن کی بارش کر دی۔ انہوں نے اگرچہ مردانہ وار مقابلہ کیا اور اپنے خون سے شجاعت ومردانگی کی ایک لازوال تاریخ رقم کر دی لیکن وہ چونکہ نہتے تھے‘ جدید اسلحی وسائل سے محروم تھے اور ان تابڑ توڑ فضائی حملوں کا جواب دینے سے قاصر تھے جو دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد نے ان پر کیے‘ اس وحشیانہ بمباری اور خوں خوارانہ دہشت گردی نے انہیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یوں ان کی خوبیاں ان کے لیے بلائے جان بن گئیں ؂ اے روشنئی طبع تو بر من بلا شدی
اور یہ ظلم‘ وحشت وبربریت کا یہ مظاہرہ اور درندگی وخوں آشامی کی یہ حرکت صرف دشمنوں ہی نے نہیں کی بلکہ اپنے بھی اس میں شریک ہو گئے۔ بے گانوں ہی نے وار نہیں کیے‘ دوستوں نے بھی خنجر گھونپنے سے گریز نہیں کیا۔ اعدائے دین ہی نے انہیں کشتنی قرار نہیں دیا بلکہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے بھی انہیں گردن زدنی ہی سمجھا۔ یہ مظلوم طالبان بزبان حال کہہ رہے ہیں ؂
من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد 
اور بقول حفیظ جالندھری ؂ 
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
دوستوں نے اپنوں پر ناوک افگنی کے لیے دلیل یہ پیش کی کہ ہم نے انہیں بہت سمجھایا‘ صورت حال کی نزاکت کا احساس دلایا‘ لیکن وہ سمجھے نہیں اور حالات کی خطرناکی کے ادراک سے قاصر رہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ بات ایسی نہیں ہے جو باور کرائی جا رہی ہے۔ طالبان کا رویہ ہرگز عدم مفاہمت کا نہیں تھا۔ وہ ۱۹۹۸ء سے یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ کے پاس اگر اسامہ کے دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے تو وہ کسی غیر جانب دار عدالت میں پیش کرے‘ ہم اس کے لیے اسامہ کو کسی تیسرے ملک کی تحویل میں دینے کے لیے تیار ہیں لیکن چونکہ اس کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا اور نہ ہے اس لیے مذاکرات کی یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اس کے پاس صرف اتہامات ومفروضات ہیں جنہیں وہ دھونس اور دھاندلی سے ثبوت باور کرانا چاہتا تھا۔ اس کا اصل مقصد تو افغانستان سے ایسی حکومت کا خاتمہ تھا جو دنیا میں اسلامی عدل وانصاف کی مظہر اور اسلامی اخوت ومساوات کا نمونہ تھی۔ بلاشبہ امریکہ کے کچھ اور سیاسی ومعاشی مقاصد بھی ہیں لیکن بڑا مقصد احیائے اسلام اور جہاد کے بڑھتے ہوئے اس جذبے کا خاتمہ تھا جو طالبان کے طرز حکومت اور ان کی منصفانہ پالیسیوں سے پیدا ہو رہا تھا جس کا علاج بقول علامہ اقبال انہوں نے یہی سوچا کہ ؂
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز ویمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ ودمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو
اقبال مرحوم کا یہ کلام ضرب کلیم میں ہے اور اس نظم کا عنوان ہی یہ ہے: ’’ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام‘‘چنانچہ ابلیس کے سارے سیاسی فرزندوں نے مل کر‘ جس کا نام عالمی اتحاد ہے‘ افغانستان کے چمن سے اس کے اس غزل سرا کو نکال دیا ہے جس نے افغانستان کو امن واستحکام عطا کیا تھا جو کسی ملک کی تعمیر نو کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اب افغانستان میں پھر قتل وغارت گری کا بازار گرم اور لوٹ کھسوٹ اور خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہے اور امن واستحکام ایک خواب وخیال بن کر رہ گیا ہے۔ اگر ان عالمی دہشت گردوں کا مقصد افغانستان میں امن واستحکام قائم کر کے اس کی تعمیر نو ہوتا تو یہ کام طالبان سے مفاہمت کر کے ہی ممکن تھا۔ اب یہ مقصد سالہا سال تک حاصل ہوتا نظر نہیں آتا ؂
جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
طالبان کے مخالفین ذرا گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام سے جو کارروائی ہوئی ہے‘ اس سے دہشت گری کا خاتمہ ہوا ہے یا دہشت گردی کا دیو اور زیادہ قوی ہو گیا ہے؟ امن واستحکام قائم ہوا ہے یا اس کے برعکس بد امنی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو گیا ہے؟ اگر یہ تسلیم ہے اور ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے اور آئندہ بھی کم ہونے کا نہیں بلکہ بڑھنے ہی کا امکان ہے تو پھر اس کارروائی کا کیا جواز ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کی ہے؟
دنیائے اسلام کے عام مسلمان بلاشبہ اس المیہ افغانستان پر خون کے آنسو رو رہے ہیں ؂
آسماں را حق بود گرخوں ببارد بر زمیں
بر زوال تو مجاہد اے امیر المومنیں
وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے اور کرنا چاہتے ہیں لیکن بے بس ہیں اور احتجاج واضطراب کی صدا بلند کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ الحمد للہ عوام نے اپنا یہ فرض ادا کیا‘ وہ تڑپتے رہے اور تڑپ رہے ہیں‘ مضطرب وپریشان رہے اور مضطرب وپریشان ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ اضطراب اور پریشان ہونا ان کے ایمان کی علامت اور ان کے جذبہ اخوت اسلامی کا مظہر ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان گرامی ہے:
تری المومنین فی تراحمہم وتوادہم وتعاطفہم کمثل الجسد اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر جسدہ بالسہر والحمی (صحیح بخاری‘ کتاب الادب‘ باب رحمۃ الناس والبہائم‘ حدیث نمبر ۶۰۱۱)
’’تم مومنوں کو ایک دوسرے پر رحم کرنے‘ باہم نرمی اور محبت کرنے میں ایسا دیکھو گے جیسے ایک جسم ہوتا ہے ۔ جسم کا جب کوئی ایک حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم ہی تکلیف محسوس کرتا اور اس کی وجہ سے بیدا ر رہتا اور بعض دفعہ بخار تک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
المومن للمومن کالبنیان یشد بعضہ بعضا (صحیح بخاری‘ کتاب المظالم‘ باب نصر المظلوم‘ حدیث ۲۴۴۶)
’’مومن‘ مومن کے لیے ایسے ہے جیسے ایک دیوار یا عمارت ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ پیوست اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔‘‘
قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت یہ بیان فرمائی ہے:
والمومنون والمومنات بعضہم اولیاء بعض (التوبہ ۹/۷۱)
’’مومن مرد اورمومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔‘‘
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت بیان فرمائی:
لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کانوا آباء ہم او ابناء ہم او اخوانہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمان وایدہم بروح منہ ویدخلہم جنات تجری من تحتہا الانہار خالدین فیہا رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون (المجادلۃ ۵۸/۲۲)
’’تم ایسے لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں‘ ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں‘ چاہے ان وہ کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی خاص رحمت سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے‘ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ یہی اللہ کا گروہ ہے اور اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔‘‘
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کو دوست بنانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرمایا:
انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین آمنوا فان حزب اللہ ہم الغالبون (المائدہ ۵/۵۶)
’’تمہارا دوست تو صرف اللہ‘ اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں ( یاد رکھو) اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔‘‘
ان آیات واحادیث سے واضح ہے کہ:
۱۔ اہل ایمان ایک جسم کی مانند ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں‘ کسی بھی نسل سے ان کا تعلق ہو‘ کوئی بھی زبان وہ بولتے ہوں‘ مشرق میں رہتے ہوں یا مغرب میں۔ ایمان کے رشتے نے ان کو ایک لڑی میں پرودیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے مونس وغم خوار‘ ایک دوسرے کے دست وبازو اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ؂
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
۲۔ یہ اللہ کا گروہ ہیں۔
۳۔ ان کے مقابلے میں کافر شیطان کا گروہ ہیں۔
۴۔ اہل ایمان کی محبت اور دوستی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوتی ہے (جیسے کافر ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں) اور کافروں کے ساتھ ان کی دوستی نہیں ہوتی‘ چاہے وہ ان کے باپ‘ ان کے بیٹے‘ ان کے بھائی یا ان کے خاندان اور قبیلے کے فرد ہوں۔
۵۔ فلاح وغلبہ ایسے ہی مومنوں کا حق ہے۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر (الانفال ۸/۷۳)
’’کافر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے (یعنی تم مسلمان بھی اگر ایک دوسرے کے دوست نہیں بنو گے) تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوگا۔‘‘
اور وہ فتنہ وفساد یہی ہے کہ اس صورت میں کافروں کے حوصلے بڑھ جائیں گے‘ مسلمان مغلوب ہو جائیں گے اور اللہ کا کلمہ بلند ہونے کے بجائے پست ہو جائے گا۔ اس اعتبار سے اہل ایمان کی یہ صفت کہ وہ ایک دوسرے کے دوست اور ایک دوسرے کے معاون اور انصار ہیں‘ مسلمانوں کی ایک پالیسی اور مقصد زندگی ہے اور ہونا چاہیے‘ اس لیے کہ اسی پالیسی میں اللہ کے دین کی بلندی کا راز مضمر ہے۔
عوام کی حد تک تو اہل ایمان نے اس پالیسی کا بلاشبہ اظہار کیا لیکن مسلم حکمرانوں نے اس کے برعکس پالیسی اختیار کر کے ایک جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان میں سے کچھ نے تو امریکہ کو سب کچھ پیش کر دیا۔ ان کو معلومات فراہم کیں جن کی اس دور میں بہت زیادہ اہمیت ہے‘ اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی‘ فوجی نقل وحرکت اور دیگر جنگی ضروریات ومقاصد کے لیے اپنے اڈے تک انہیں دے دیے‘ اور بھی انہوں نے جس چیز کا مطالبہ کیا‘ انہوں نے پیش کرنے میں تامل نہیں کیا اور یوں چند ڈالروں کے وعدۂ فردا پر اپنے لیے ایمان کش اور غلامانہ کردار پسند کیا۔ آہ ؂ قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند۔
انہوں نے ملت فروشوں میں اپنا نام لکھوا کر ذلت ورسوائی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ؂
جعفر از بنگال وصادق از دکن
ننگ آدم‘ ننگ دیں‘ ننگ وطن
اور کچھ مسلمان ملکوں نے اپنے اڈے تو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اپنے بعض ذہنی تحفظات کی وجہ سے امریکی کارروائی کو خاموشی سے دیکھنے پر قناعت کی اور بعض مسلمان ملکوں نے دبے لفظوں میں اسے صرف جلد بازی سے تعبیر کیا لیکن کسی مسلمان ملک کو اس جرات رندانہ کی توفیق نہ ہوئی کہ وہ امریکہ سے یہ مطالبہ کرتا کہ پہلے ہمیں اسامہ کی دہشت گردی کا واضح ثبوت دکھلاؤ‘ اس کے بغیر تمہاری کارروائی بجائے خود دہشت گردی ہوگی حتیٰ کہ اس نازک موقعے پر اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس تک بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ صرف وزرائے خارجہ کی حد تک‘ وہ بھی جب چڑیاں سارا کھیت چگ گئیں‘ ایک اجلاس ہوا اور اس میں بھی نشستند وگفتند وبرخاستند سے زیادہ کچھ نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک قرارداد مذمت تک پاس نہیں ہوئی۔ گویا سارے مسلمان ممالک اس وقت امریکہ کے غلام ہیں اور ان سب کا آقائے ولی نعمت امریکہ ہے۔ وہ جو چاہے کرے‘ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اقوام متحدہ سے کچھ لوگ امیدیں وابستہ کرتے ہیں لیکن اس کا کردار بھی ایک امریکی لونڈی سے زیادہ نہیں۔ امریکہ اسے بھی صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور یوں اس کا کردار بھی اپنی پیش رو لیگ آف نیشنز سے مختلف نہیں رہا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ؂
من ازیں بیش نہ دانم کہ کفن دزدے چند 
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
یہ سارے مسلمان ممالک اقوام متحدہ سمیت اس شعر کا مصداق ہیں ؂ 
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کرے ہیں‘ ہم کو عبث بدنام کیا
یہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے ڈوب مرنے کے مقام ہے۔ ہمارا وجود ایک مجسم عبرت ہے‘ ذلت ورسوائی کا عجیب وغریب نمونہ ہے۔ بقول حالی مرحوم ؂
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
یا بقول اقبال مرحوم ؂
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
ایک اور شعر میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی‘ مرا ایماں ہے زناری
مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہونا چاہیے؟
بہرحال اس وقت مسلمانوں کا عالمی کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب اس موضوع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ان کا عالمی کردار کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب بھی واضح ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے‘ مغلوب ہونے کے لیے نہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: الاسلام یعلو ولا یعلی
اس لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ہم اس کے برعکس غالب ہونے کے بجائے مغلوب کیوں ہیں؟ فاتح کے بجائے مفتوح کیوں ہیں؟ سربلند وسرخ رو ہونے کے بجائے ذلیل ورسوا کیوں ہیں؟ دنیا کے قائد ہونے کے بجائے مقتدی کیوں ہیں؟ 
اس کے اسباب ووجوہ مخفی نہیں‘ ڈھکے چھپے نہیں‘ کوئی سربستہ راز نہیں‘ بلکہ ہر شخص پر واضح اور آشکار ہیں۔اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا سبب ایمان ویقین کی کمی‘ اپنے نظریے اور عقیدے سے انحراف‘ اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ وبقا کے جذبے سے مجرمانہ حد تک غفلت واعراض اور غیروں کی تہذیب کو اپنانے کا شوق فراواں اور ان کی نقالی پر فخر کرنا ہے۔ اسے علامہ اقبال علیہ الرحمۃ نے ایک شعر میں یوں سمو دیا ہے ؂
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
ٹی وی پر اسی مغرب کی حیاباختہ تہذیب کی یلغار ہے‘ ہمارے قومی اخبارات اسی تہذیب کو پھیلانے میں نہایت موثر کردار ادا کر رہے ہیں اور یوں بڑی تیزی سے ہم اسلامی تہذیب اور اس کے حیا وعفت کے تصور اور ایمان ویقین کی دولت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اقبال نے اس بات کو ظریفانہ انداز سے اس طرح بیان کیا تھا ؂
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مد نظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین؟
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
اقبال نے یہ اشعار اس وقت کہے تھے جب بے پردگی اور غیروں کی نقالی کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا۔ اسی دور میں اکبر الٰہ آبادی نے بھی کہا تھا ؂
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے پردہ تمہارا‘ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اب اس ڈرامے کے سارے سین سامنے آگئے ہیں‘ پردہ اٹھ گیا ہے اور بقول اقبال بے حجابی کا وہ زمانہ آ گیا ہے جس میں دیدارِ یار عام ہے۔
حضرات محترم! مسئلہ انگریزی زبان کے پڑھنے یا نہ پڑھنے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ تہذیبی شناخت اور نظریاتی تشخص کا ہے۔ انگریزی زبان اس وقت بین الاقوامی نیز سائنسی علوم کی زبان ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت وضرورت اور افادیت وناگزیریت سے مجال انکار نہیں۔ بنا بریں بحیثیت زبان کے اور بطور علم وفن کے اس کے سیکھنے کو کوئی ناجائز نہیں کہتا لیکن کیا اسے پڑھنے اور سیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم انگریزی زبان کواپنا اوڑھنا بچھونا ہی بنا لیں‘ ہماری کوئی گفتگو بلا ضرورت انگریزی الفاظ کی بھرمار کے بغیر نہ ہو‘ ہماری دکانوں کے سائن بورڈ انگریزی ہی میں ہوں‘ ہمارے گھروں کے باہر ناموں کی تختیاں انگریزی ہی میں ہوں‘ ہماری تقریبات کے دعوت نامے انگریزی ہی میں ہوں حتیٰ کہ ہمیں اب اپنی زبان کے امی جان‘ ابو جان‘ چچا جان‘ ماموں جان اور خالہ جان وغیرہ الفاظ بھی پسند نہ ہوں اور ان کی جگہ ڈیڈی‘ پاپا‘ ماما‘ ممی‘ انکل اور آنٹی وغیرہ محبوب ہوں؟ عام لوگ شاید ان باتوں پر چیں بہ چیں ہوں گے یا اسے بے وقت کی راگنی قرار دیں گے یا غیر اہم سمجھتے ہوں لیکن میں عرض کروں گا کہ ان باتوں پر چیں بہ چیں ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ بے وقت کی راگنی بھی نہیں ہے اور اسے غیر اہم بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تہذیبی شناخت کا مسئلہ ہے‘ نظریاتی تشخص کا مسئلہ ہے‘ قومی غیرت اور حمیت کا مسئلہ ہے۔ اگر آپ دنیا میں اپنا وجود منوانا چاہتے ہیں‘ اقوام دنیا میں عزت ووقار کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ اپنی عظمت رفتہ کے حصول کی کوئی تمنا اور آرزو رکھتے ہیں تو آپ بلاشبہ انگریزی زبان میں خوب مہارت حاصل کریں لیکن آپ کو اپنی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنا ہوگا‘ اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت کرنی ہوگی اور ملی غیرت وحمیت کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس کے لیے اپنی قومی زبان‘ اپنا قومی لباس اور اپنا مسلم تمدن اپنانا ہوگا۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھیے‘ تہذیبوں کے موجودہ تصادم اور نظریات کے ٹکراؤ میں آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور آپ حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے جائیں گے۔ بقول اکبر الٰہ آبادی
تم شوق سے کالج میں پڑھو‘ پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو
لیکن یہ سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
بہرحال دنیا میں عزت ووقار کا مقام حاصل کرنے کے لیے پہلی بات اپنے ایمان وعقیدے کی حفاظت اور اپنے نظریاتی تشخص کا احساس اور دینی وملی غیرت کی بقا اور اس کا اظہار ہے۔ اس کے لیے نصاب تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ضروری ہے‘ ٹی وی کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے اور قومی اخبارات کے مالکان ومدیران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا رویہ بدلیں اور قوم کے اسلامی تشخص کے تحفظ وبقا کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ہماری پستی اور زبوں حالی کا دوسرا سبب خود انحصاری کے بجائے آئی ایم ایف وغیرہ کے قرضوں پر معیشت کا ڈھانچہ استوار کرنا ہے۔ جو حکومت بھی آتی ہے‘ وہ خود انحصاری کا ڈھنڈورا تو خوب پیٹتی ہے اور کشکول توڑنے کااعلان کرتی ہے لیکن ساری دنیا میں کشکول لیے پھرتی ہے اور جب وہ حکومت رخصت ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ بوجھ اور بڑھ گیا ہے۔ غلامی کی زنجیریں اور بوجھل ہو گئی ہیں اور قرض کی مے پی پی کر ہماری فاقہ مستی خوب رنگ لا رہی ہے۔ جب تک ہماری حکومتیں بیرونی قرضوں پر اپنا انحصار ختم نہیں کریں گی‘ ہم دنیا میں سر اٹھا کر چلنے اور ان کے ناجائز دباؤ کو نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔
تیسرا سبب مسلمان ملکوں کا باہمی اختلاف اور ان کے مابین اتحاد کا فقدان ہے۔ اسی اختلاف اور عدم اتفاق نے ان کی قوت کو منتشر اور پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ اگر یہ سارے ملک اسلام کی بنیاد پر متحد ہو جائیں‘ ان سب کی آواز ایک ہو جائے تو اقوام متحدہ من مانی کر سکتی ہے نہ امریکہ وبرطانیہ کو مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی ہمت ہو سکتی ہے۔ ۱۱ ستمبر کے بعد جیسے ساری دنیائے اسلام نے امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی تھی‘ اسی طرح اگر وہ اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی متحدہ موقف اختیار کرتی اور امریکہ سے ثبوت مانگتی یا ہمارے صدر محترم امریکی صدر سے مہلت لے کر تمام اسلامی سربراہوں سے رابطہ کر کے انہیں صورت حال اور معاملے کی سنگینی اور نزاکت سے آگاہ کرتے تو یقیناًاس المیے سے بچا جا سکتا تھا جو عالم اسلام کی بے حسی‘ مجرمانہ سکوت اور ہمارے بزدلانہ اور غیر دانش مندانہ فیصلے کی وجہ سے رونما ہوا۔ آئندہ ایسے المیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام میں باہم اتحاد واتفاق ہو‘ اسلامی سربراہی کانفرنس موثر اور فعال ہو اور آپس کی تلخیاں اور کشیدگیاں دور ہوں۔ پورا عالم اسلام ایک جسدِ واحد کی طرح اور ایک بنیان مرصوص ہو۔ عالمی مسائل بالخصوص مسلمانوں سے متعلق پالیسیوں میں ان کا موقف ایک اور اسلامی تعلیمات کا مظہر ہو۔
ہماری پستی اور کمزوری کا چوتھا سبب منصوبہ بندی کا فقدان اور اپنے مسائل ووسائل کا عدم شعور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی ملکوں کو ایک تو افرادی قوت سے نوازا ہے۔ دوسرے ہر قسم کے قدرتی وسائل انہیں وافر مقدار میں عطا کیے ہیں لیکن منصوبہ بندی کے فقدان اور خداداد وسائل کی قدروقیمت کے عدم احساس کی وجہ سے ہم پستی کا شکار اور غیروں کے محتاج ہیں۔ ہمارے اہل علم وہنر دیار غیر میں کام کر رہے ہیں اور ان کی ترقی میں ان کے ساتھ خوب تعاون کر رہے ہیں۔ ہم انہیں معقول تنخواہ اور مراعات دے کر ان کو ملکی ترقی میں حصہ دار بنانے کے لیے تیار نہیں حتیٰ کہ اگر کوئی خود ملی اور قومی جذبے کے پیش نظر اپنے ملک میں رہ کر اپنے ملک کو سائنسی وایٹمی ٹیکنالوجی یا دیگر اہم شعبوں کو رفعت بہ کنار کرنا چاہتا ہو تو ہمیں اس کی خدمات قبول نہیں یا اس کی قدر ومنزلت کا اہتمام کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا اور اس کی تذلیل وتوہین کرنا ہمارا شعار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بالآخر وہ پھر دیار غیر ہی کو اپنا مسکن اور غیروں ہی کی خدمت کو اپنا مقصد زندگی بنا لیتا ہے یاخاموشی اور گم نامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہمارے دو ایٹمی سائنس دانوں کے ساتھ موجودہ حکومت کا رویہ ہے جو اس نے اپنے آقائے ولی نعمت امریکہ کے کہنے پر ان کے ساتھ کیا ہے ؂ شرم تم کو مگر نہیں آتی
اسی طرح خداداد وسائل کا معاملہ ہے۔ ہمیں ان کی قدر وقیمت کا اورانہیں ترقی دے کر ان سے استفادہ کرنے کا صحیح شعور واحساس ہی نہیں ہے ورنہ اگر عالم اسلام مل کر اپنے وسائل ومسائل کے بارے میں اجتماعی سوچ اور فکر کو بروئے کار لائے اور ایک دوسرے سے اخذ واستفادہ کر کے انہیں ترقی دے اور انہیں صحیح طریقے سے استعمال کرے تو اس سے ان کے مسائل بھی بہت حد تک حل ہو سکتے ہیں اور بہت جلد ترقی سے بھی ہم کنار ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ہماری جو صورت حال ہے‘ ا س کا نقشہ علامہ اقبال نے اس طرح کھینچا ہے ؂
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن‘تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن‘ تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن‘ تم ہو
ہماری کمزوری وزبوں حالی کا پانچواں سبب ہمارا اپنے دفاع سے غفلت برتنا ہے۔ عالم اسلام کی دفاعی حالت یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ مال دار ملک کویت اور سعودی عرب اور عرب امارات اپنے دفاع کے لیے مغربی ممالک کے محتاج ہیں۔ آج سے چند سال قبل صدام حسین نے کویت پر جارحانہ قبضہ کر لیا اور سعودی عرب پر بھی جارحیت کے ارتکاب کا اظہار کیا تو ان دونوں ممالک نے امریکہ وبرطانیہ وغیرہ سے امداد طلب کی اور انہوں نے آکر صدام کی جارحیت سے ان دونوں کو بچایا جس کی بہت بھاری قیمت ان کو چکانی پڑی بلکہ ابھی تک چکا رہے ہیں جس نے ان کی معیشت کو نیم جان کردیا ہے۔ اسی طرح ۵۴ سال سے اسرائیل نے عربوں کی ناک میں دام کر رکھا ہے حالانکہ عربوں کے مقابلے میں وہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کے باشندگان کی تعداد بھی ۳۰ لاکھ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ عرب ۱۱ کروڑ کی تعداد میں ہیں اور دنیاوی وسائل سے مالامال بھی ہیں لیکن چونکہ وہ اپنا موثر دفاع کرنے کے قابل نہیں اس لیے اسرائیل سے مسلسل مار کھا رہے ہیں بالخصوص فلسطینی مسلمانوں پر اس نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لیکن کوئی اسلامی ملک اس کا ہاتھ پکڑنے اور اسے سبق سکھانے کے قابل نہیں۔ تیسری مثال اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی ہے۔ مسلم حکمران امریکہ کے دباؤ پر یا اپنے ذہنی تحفظات کی وجہ سے انہیں جو چاہیں کہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو دہشت گرد کہنا ایک بہت بڑا جھوٹ اور دہشت گرد سمجھنا بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ دونوں اسلام کے مجاہد اور ملت اسلامیہ کے عظیم ہیرو ہیں۔ اسامہ اسلامی جہاد کی علامت ہے۔ اس نے عالم اسلام میں جہاد کی ایک لہر پیدا کی ہے جس سے عالم کفر لرزاں ہے۔ اس نے مسلم نوجوانوں کو ایک ولولۂ تازہ دیاہے۔ ان کے اندر چٹانوں کا سا عزم اور حوصلہ پیدا کیا ہے۔ اسلام کی خاطر مر مٹنے کا جذبہ اور شعور بیدار کیا ہے جس کی وجہ سے ممولے کے اندر شہباز سے لڑنے کی اور کنجشک فرومایہ کے اندر ہم پایہ سلیمان جیسے لوگوں سے ٹکرانے کی قوت وتوانائی پیدا ہوئی ہے۔ ملا عمر حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے بعد تاریخ اسلام کا وہ تیسرا عمر ہے جس نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں وسائل کی قلت اور مسائل کی بھرمار کے باوجود اسلامی حکومت اور اس کے عدل وانصاف اور مساوات کا وہ نمونہ عملی طور پر پیش کر کے دکھا دیا جس نے خلافت راشدہ کے دور کی یاد تازہ کر دی جس کے قیام کی ہر مسلمان اپنے دل میں آرزو رکھتا ہے۔ ان دونوں دانائے راز شخصیتوں کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں شہید یا گرفتار ہو جانا عند اللہ تو یقیناًان کے لیے اعزاز واکرام کا باعث ہوگا لیکن ہم مسلمانوں کے لیے وہ دن ایک نہایت الم ناک دن اور ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ عالم اسلام کی یہ بے بسی کہ وہ ملت اسلامیہ کے ان بے گناہ عظیم سپوتوں کو اس وقت پناہ مہیا کرنے سے قاصر ہے‘ قابل عبرت تو ضرور ہے لیکن ناقابل فہم ہرگز نہیں۔ اور ہماری غلامی کی انتہا یہ ہے کہ حکومت نے اوقاف کی مسجدوں میں ائمہ کرام کو امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کے خلاف قنوت نازلہ پڑھنے یعنی ان کے لیے بددعا کرنے سے حکماً روک دیا ہے۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ اقبال نے سچ ہی کہا تھا ؂ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ بلکہ شاید ضمیر نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہتی اور صرف یس سر کہنا ہی یاد رہ جاتا ہے۔
وجہ اس بے بسی کی یہی ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے حتیٰ کہ سارا عالم اسلام مل کر ان کا مقدمہ بھی اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی ہمت نہیں رکھتا چہ جائیکہ وہ انہیں پناہ دے سکے جب کہ ان مغربی ممالک کا اپنا کردار یہ ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے دہشت گردوں اور بڑے بڑے اخلاقی مجرموں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔
ان مثالوں سے مقصد اس نکتے کی وضاحت ہے کہ عالم اسلام اپنے دفاع سے یکسر غافل ہے حالانکہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے:
واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم وآخرین من دونہم (التوبہ ۱۸/۶۰)
’’جتنی طاقت تم تیار کر سکتے ہو‘ تیار کرواور گھوڑے بھی باندھے ہوئے تیار رکھو ۔ تم اس کے ذریعے سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو ڈراؤ۔‘‘
حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
الا ان القوۃ الرمی الا ان القوۃ الرمی الا ان القوۃ الرمی (صحیح مسلم ‘ الامارۃ‘ باب فضل الرمی والحث علیہ‘ حدیث نمبر ۱۹۱۷)
’’سن لو‘قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔ ‘قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔ ‘‘
یعنی نبی کریم ﷺ نے قوت سے مراد تیر اندازی لی ہے۔ گویا اس طرح تیز اندازی کے سیکھنے کی اہمیت کو واضح فرمایا کیونکہ اس وقت جنگ میں تیر اندازی ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں قوت تیار کرنے اور قوت مہیا رکھنے کا جو حکم ہے تو اس سے مراد اپنے وقت کے وہ ہتھیار اور اسلحی وسائل ہیں جو جنگ میں زیادہ سے زیادہ موثر اور دشمن کو زیر کرنے میں کارگر ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے آج کل بری‘ بحری اور فضائی تینوں شعبوں میں جو نئے نئے ہتھیار تیار ہوئے ہیں‘ بے آواز جہاز سے لے کر میزائل اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموں تک تمام ہتھیاروں کی تیاری اور انہیں مہیا کر کے اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ یہ قرآن اور پیغمبر اسلام کا فرمان ہے اس لیے علماء اسلام کا متفقہ موقف ہے کہ سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں کیونکہ ایٹمی قوت کے حصول اور اس میں پیش رفت حکم قرآنی کا تقاضا ہے اور اس سے انحراف قرآن وحدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔
لیکن افسوس مسلمان ممالک اس حکم قرآنی سے غافل رہے اور غافل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج امریکہ اور اس کے اتحادی جو چاہیں کریں‘ مسلمان ممالک ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں‘ وہ ان کے حکم سے سرتابی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ وہ ملت اسلامیہ کے عظیم مجاہد اور ہیرو کو دہشت گرد کہیں‘ وہ اسلام کے ایک بے داغ اور مثالی حکمران کو دہشت گردوں کا پشتی بان قرار دیں تو ہمارے اندر ان سے اختلاف کرنے کی ہمت نہیں۔ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑیں اور ان کے ساتھ دیگر بہت سے معصوم اور بے گناہوں پر تابڑ توڑ حملے کریں تو ہم اس مسلم کشی میں ان کے دست وبازو بن جائیں اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیں جیسا کہ المیہ افغانستان کے پس منظر میں بے گانوں کی ستم رانی کے ساتھ اپنوں کی کرم فرمائی واضح ہے ؂
قریب یارو ہے رو زمحشر‘چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر؟
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
اس لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام اپنے وسائل جمع کرے۔ جس کے پاس مال ودولت ہے‘ وہ مال دے۔ جس کے پاس علم وہنر ہے‘ وہ اپنا علم وہنر پیش کرے۔ جس کے پاس جذبہ وتوانائی ہے‘ وہ اسے بروئے کار لائے۔ یوں وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں جمع کر کے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے تاکہ اس المیے کا اعادہ نہ ہو سکے اور اس تہذیبی تصادم میں مسلمان ممالک بھی اپنی تہذیب کو بچانے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔
چھٹا سبب مغرب کے مقابلے میں ہمارے اخلاق وکردار کی پستی ہے۔ مغرب بے دین ہونے اور بے حیائی کو تہذیب کے طور پر اپنانے کے باوجود عمومی زندگی میں اخلاقی قدروں کا پاسبان ہے‘ امانت ودیانت اس کا شعار ہے۔ اس نے زندگی گزارنے کے لیے جو معاشرتی اصول اور ضابطے وضع کیے ہیں‘ ان کی پابندی کرنے والا ہے۔ محنت‘ لگن اور جدوجہد کرنے والا ہے۔ علم وہنر کا حامل اور اہل علم وہنر کا قدر دان ہے۔ اپنی ان خوبیوں کا وہ صلہ پا رہا ہے‘ دنیا میں اس کی تجارتی ساکھ قائم ہے‘ پوری دنیا اس کی مصنوعات کی منڈی ہے اور گراں سے گراں تر ہونے کے باوجود لوگ انہیں آنکھیں بند کر کے لے لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ و ہ خوبیاں ہیں جن کی تلقین ہمارے مذہب نے کی ہے۔ ان خوبیوں میں ہمیں ممتاز ہونا چاہیے تھا۔ اخلاق وکردار کی یہ بلندی ہمارا شعار ہونا چاہیے تھی لیکن بد قسمتی سے معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہم مذکورہ خوبیوں سے محروم اور اخلاقی پستیوں میں مبتلا ہیں اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ہم آج کل مغرب کی تقلید اور اس کی نقالی کرنے میں فخر تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی مذکورہ خوبیاں اپنانے کے لیے پھر بھی تیار نہیں۔ گویا ہم نے اس کی تقلید بھی کی ہے تو ایسی باتوں میں جو ہمارے مذہب کے خلاف ہیں اور ان کا کوئی تعلق مادی وسائنسی علوم اور ترقی سے نہیں ہے۔ ہم شوق سے کتے پالتے ہیں‘ ڈاگ شو اور فیشن شو منعقد کرواتے ہیں۔ کس لیے؟ کہ فرنگی اس کا شوق رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنی عورتوں کو بے پردہ کر دیا‘ محض اس لیے کہ ان کی عورتیں بے پردہ ہیں۔ ہم نے ان کا سا لباس اختیار کر لیا‘ تاکہ ہم بھی ماڈرن اور مہذب لگیں یا کہلوائیں لیکن کوئی بتلائے کہ ان چیزوں کا کوئی تعلق ان کی ترقی اور ان کے علوم وفنون کی مہارت سے ہے؟ کیا ان کی ترقی کتوں سے پیار کرنے کی مرہون منت ہے؟ یا کوٹ پتلون اور ٹائی کا اس میں دخل ہے؟ کیا عورتوں کی عریانی ان کی ترقی کی بنیاد ہے؟ نہیں‘ ہرگز نہیں۔ پھر ان چیزوں میں ان کی تقلید کا کیا فائدہ؟ اور اپنے تہذیبی تشخص اور مذہبی انفرادیت کو ختم کرنے کا کیا مطلب؟ ان کی ترقی کا راز تو علم وہنر‘ ان کی محنت اور لگن‘ امانت ودیانت اور ان تھک جدوجہد میں مضمر ہے۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ نے‘ جنہوں نے خود مغرب میں رہ کر ہر چیز کا مشاہدہ کیا تھا‘ وہ یورپ کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں ؂
قوت مغرب نہ از چنگ ورباب
نے زرقص دختران بے حجاب
نے زسحرِ ساحران لالہ رو است
نے زعریاں ساق نے از قطع مو است
محکمی او نہ از لا دینی است
نے فروغش از خط لاطینی است
قوت افرنگ از علم وفن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع وبرید جامہ نیست
مانع علم وہنر عمامہ نیست
حضرات محترم! ہماری پستی اور کمزوری کے یہ چند اسباب ہیں۔ جب تک ہم اپنی مذکورہ کمزوریوں کا ازالہ نہیں کریں گے اور مذکورہ خطوط پر اپنی پالیسیوں کو استوار نہیں کریں گے‘ ہم موجودہ تہذیبی تصادم میں اپنا وہ عالمی کردار ادا نہیں کر سکیں گے جو ہماری عظمت رفتہ کا بھی آئینہ دار ہو اور روشن مستقبل کا مظہر بھی۔ بقول علامہ اقبال:
سبق پھر پڑھ صداقت کا‘ عدالت کا‘ شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو‘ زمانہ چال قیامت کی چل گیا
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ’’اے اسلام والو تم‘‘
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل‘ عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
جو کرے گا امتیاز رنگ وخوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر
تا خلافت بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر
علامہ اقبال مزید فرماتے ہیں:
ناموس ازل را تو امینی تو امینی
دارائے جہاں را تو یساری تو یمینی
اے بندہ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش واز دیر گماں خیز
از خواب گراں‘ خواب گراں‘ خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز
فریاد زافرنگ ودل آویزی افرنگ
فریاد زشیرینی وپرویزی افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ زچنگیزی افرنگ
معمار حرم! باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں‘ خواب گراں‘ خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز

عالم اسلام اور مغرب

Since 1st December 2020

Flag Counter