صدر پاکستان کی خدمت میں ایک ضروری عرض داشت

ادارہ

۱۸۔۱۹ جنوری ۲۰۰۲ء کو وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ علماء ومشائخ کانفرنس کے موقع پر مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے انہیں اہم معاملات میں دینی حلقوں کے جذبات سے آگاہ کیا اور مندرجہ ذیل تحریری عرض داشت پیش کی۔
 
بخدمت محترم جناب جنرل پرویز مشرف صاحب چیف ایگزیکٹو وصدر پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
۱۶ جنوری ۲۰۰۲ء کو حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا کہ آئندہ ہونے والے قومی‘ صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے انتخابات مخلوط بنیادوں پر ہوں گے۔ اس اعلان سے پاکستان کے مسلمانوں میں عموماً اور علماء اسلام کے حلقوں میں خصوصاً تشویش واضطراب کی ایک بہت بڑی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو یہ بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو آج کے خطاب میں واپس لینے کا اعلان کیا جائے اس لیے کہ یہ اعلان قیام پاکستان کی اساس‘ دو قومی نظریہ اور ’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے خلاف ہے۔
آئین پاکستان کی قائم اسلامی دفعات‘ قرارداد مقاصد جو آئین کی دفعہ ۲۔ الف کی رو سے دستور کا موثر حصہ ہے‘ جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو اختیار واقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا‘ وہ ایک مقدس امانت ہے جس کا معنی یہ ہے کہ قرآن پاک اور پیغمبر پاک کی سنت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے‘ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود اور قرآن وسنت کی رو سے مسلمان الگ امت ہیں اور کفار الگ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون (الانبیاء ۹۲)
’’یقیناًیہ تمہاری امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘
وکذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا (البقرہ ۱۴۳)
’’اور اس طرح ہم نے تمہیں ایک امت معتدل بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر تم پر گواہ بنے۔‘‘
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتومنون باللہ 
’’تم تمام امتوں سے بہتر امت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے ۔ تم معروف کا حکم کرتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
یا ایہا النبی اتق اللہ ولا تطع الکافرین والمنافقین (الاحزاب ۱)
’’اے نبی‘ اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘
ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ہواہ وکان امرہ فرطا (الکہف ۲۸)
’’اور نہ اطاعت کرنا اس شخص کی جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے۔‘‘
یا ایہا الذین آمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا (آل عمران ۱۱۸)
’’اے ایمان والو‘ کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدان نہ بنانا۔ یہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانے اور فتنہ انگیزی میں کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘
یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء ۵۹)
’’ایمان والو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے صاحب امر لوگوں کی۔‘‘
ان آیات میں اس بات کی تصریح ہے کہ مسلمانوں کے معاملات چلانے کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کسی نظام کو چلانے والے وہی لوگ ہوں جو اس نظام کو مانتے ہوں‘ اس نظام کو جانتے ہوں اور اس کے مطابق معاشرے کو استوار کرنا چاہتے ہوں۔ آئین پاکستان کی رو سے پاکستان کا نظام قرآن وسنت ہے لہذا پاکستان میں حکومتی عہدوں پر‘ جن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کی رکنیت بھی شامل ہے‘ صرف مسلمانوں کو فائز کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح احادیث رسول ﷺ میں مسلمانوں کو ایک جسد اور ایک عمارت کی طرح قرار دیا گیا ہے کہ غیر مسلم اس عمارت کا حصہ نہیں ہیں۔ فقہاء اسلام کا بھی اس پر اجماع ہے کہ کافر مسلمانوں کے حکام اور اولی الامر نہیں ہو سکتے۔
اسلامی نظریاتی کونسل جو ایک آئینی ادارہ ہے‘ اس نے بھی جداگانہ طریق انتخاب کو ہی اسلام کے مطابق قرار دیا ہے اور قرارداد مقاصد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو قرآن وسنت کی تعلیم کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ تاریخ اسلام میں مخلوط بنیادوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ مخلوط انتخاب کے نتیجے میں تو پاکستان بھی دو ٹکڑے ہوا۔ البتہ غیر مسلموں کو اپنے معاملات اپنے مذہب کے مطابق چلانے کی آزادی اسلام نے دی ہے۔ اس لیے وہ اپنی کمیونٹی کی فلاح وبہبود کی خاطر اپنے نمائندے الگ سے منتخب کر سکتے ہیں تاکہ مسلمان ان کے معاملات کو ان کے نمائندوں کی وساطت سے چلا کر ان کے حقوق کو ٹھیک طرح سے ادا کر سکیں۔ انہی وجوہ سے اب تک پاکستان میں جداگانہ طرز انتخاب رائج تھا اس لیے پاکستان کی جو عمارت اسلامی بنیادوں پر اب تک استوار ہے‘ ان میں سے کسی بنیاد کو گرانے کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اگر آپ نے بقول خود اسلام اور آئین پاکستان کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا فریضہ سرانجام دیا تو علما آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ بصورت دیگر ایک لاحاصل کشمکش کا شدید خطرہ ہے جس سے ملک کی سلامتی اور استحکام کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ اللہ کرے کہ پاکستان اسلامی معاشرہ کا نمونہ اور قائم ودائم رہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل