مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو پورے ملک میں مساجد و مدارس اور وقف اداروں کا بنیادی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہو کر رہ جائے گا، اور سرکاری یا پرائیویٹ ہر قسم کے اوقاف اور ان پر قائم ادارے براہ راست انتظامیہ کے کنٹرول میں چلے جائیں گے، نیز پرائیویٹ مساجد و مدارس کا سلسلہ بھی انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہو گا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان میں مساجد و مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے اس مبینہ ایجنڈے کی تکمیل کا فیصلہ کن قدم ہو گا جس سے ڈیڑھ سو سال سے دینی تعلیم و عبادت کا جو نظام آزادانہ کردار ادا کر رہا ہے وہ خدانخواستہ باقی نہیں رہے گا۔ قانون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1.  اینٹی منی لانڈرنگ (انسداد منتقلی رقوم)
  2. اینٹی ٹیررازم (انسداد دہشت گردی)
  3. اوقاف کنٹرول پالیسی

اس کے تیسرے جزء میں پنجاب وقف املاک بورڈ ۱۹۷۹ء کو منسوخ کر کے دارالحکومت وقف املاک ایکٹ ۲۰۲۰ء منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق:

  1. وفاق کے زیر اہتمام علاقوں میں مساجد و امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہو گی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔
  2. حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل (آمدن و خرچ) معلوم کرنے اور آڈٹ (احتساب) کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
  3. وقف زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس وفاق کے کنٹرول میں ہوں گے۔
  4. وقف املاک پر قائم عمارتوں کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال لے گی۔
  5. قانون کی خلاف ورزی پر ڈھائی کروڑ جرمانہ اور پانچ سال تک سزا ہو سکے گی۔
  6. حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلٰی تعینات کرے گی۔
  7. منتظم اعلٰی کسی خطاب، لیکچر یا خطبے کو روکنے کی ہدایات دے سکے گا۔
  8. منتظم اعلٰی قومی خودمختاری اور وحدانیت کو نقصان پہنچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔
  9. خطبے یا تقریر کی شکایت کی صورت میں چھ ماہ تک قید رکھا جا سکتا ہے، جس کے لیے وارننگ کی ضرورت ہو گی۔ چھ ماہ تک اس کی ضمانت ہو گی نہ عدالت مداخلت کر سکے گی۔ جرم ثابت نہ ہوا تو چھ ماہ بعد رہائی ملے گی مگر اس حبس بے جا پر سوال نہیں کیا جا سکے گا۔
  10. مسجد اور مدرسے کو چلانے والی انجمن کے تمام عہدیداروں کی مکمل ویریفیکیشن (تصدیق) ہو گی اور ان کا ٹیکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔
  11. مسجد اور مدرسے کو زمین یا فنڈ دینے والے اپنی منی ٹریل بھی دے گا کہ اس نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی۔
  12. مسجد اور مدرسہ کسی وقت اخراجات، فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیل یا منی ٹریل نہ دے سکے گی تو وہ عمارت حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔‘‘

ہم اس موقع پر ملک کے دینی و علمی حلقوں سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں خاموشی درست نہیں ہے، اس کا قانونی، معاشرتی اور فقہی طور پر جائزہ لینا اور مبینہ خدشات و خطرات کا ادراک کرنا ضروری ہے تاکہ دینی مکاتب فکر کی مشترکہ رائے سامنے آئے اور اگر فی الواقع یہ قانون ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے تو اس کے سدباب اور روک تھام کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کیا جائے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ دینی جماعتوں کی قیادتیں اور علمی مراکز اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس سلسلے میں ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک مشاورتی اجلاس گارڈن ٹاؤن لاہور میں جامعہ الاسلامیہ میں منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کے علاوہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی اور مولانا عبد الرؤف ملک نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مذکورہ وقف املاک قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی متعدد شقوں کو شرعی، قانونی اور بین الاقوامی مسلّمات کے منافی قرار دیا گیا اور اس بات کا بطور خاص نوٹس لیا گیا کہ ملک کے عوام بالخصوص علماء کرام اور دینی راہنماؤں کی اکثریت اس قانون کے مندرجات اور نتائج و عواقب سے آگاہ نہیں ہیں جبکہ واضح طور پر یہ قانون دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور مساجد کے آزادانہ دینی ماحول پر اثرانداز ہو رہی ہے اور دینی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ خطبہ و وعظ کو بھی بیوروکریسی کے مکمل کنٹرول میں دے دیا گیا ہے، جو شرعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہماری ملی و معاشرتی روایات سے بھی انحراف ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا اور اس کا راستہ روکنا بہرحال ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد کے علماء کرام اور خطباء مساجد کی اجتماعی مہم کی تحسین کی گئی اور ان سے ہر ممکن تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، دینی مدارس کے مہتممین اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قانون کا فی الفور مطالعہ کر کے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں اور اپنے ماحول میں بیداری پیدا کرنے کا اہتمام کریں۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(نومبر ۲۰۲۰ء)

تلاش

Flag Counter