شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے اکتوبر ۲۰۲۰ کے شمارے میں جناب مولانا زاہد الراشدی کا شیعہ سنی کشیدگی کے تناظر میں یہ فرمانا بہت ہی گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے:

’’ہمارا اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرامؒ و اہلبیت عظام کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ و جذبات کا تحفظ کریں، اسی طرح ہماری یہ بھی ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے ہر قیمت پر بچائیں۔‘‘

ان کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں مشرق وسطیٰ کی طرح کی صورت حال پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ اب یہ پاکستان کے شیعہ و سنّی اہل علم کے فہم و بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ عرب و عجم کی عصبیت اور بالادستی کی اسیر قیادتوں کے اپیل پر شیعہ سنی جذباتیت کا شکار ہو کر اپنے پُر امن معاشروں کو بھی اس بدامنی کا شکار کرنا پسند کرتے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں سب دیکھ رہے ہیں یا اپنے تمام تر اختلاف کے باوجود پُرامن بقائے باہمی کا کوئی راستہ اپنے سامنے متعین کرلیتے ہیں۔ اگر اس معاملے کو بر وقت اعتدال و توازن کے ساتھ پاکستان کی شیعہ سنی قیادتوں نے نہ سنبھالا تو یہاں کسی کی بھی جیت کا کوئی امکان نہیں، ہار ہی ہار ہر ایک کا مقدر ہوگی۔ یہ معاملہ ہار جیت کی سوچ کے ساتھ نہیں، معاملات کو حل کرنے کے جذبے کے ساتھ ہی سر کیا جاسکتا ہے ہم اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے جناب مفتی محمد زاہد، شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ (فیصل آباد) کے الفاظ کا سہارا لیں گے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’میرے خیال میں سب سے بڑی مشترکہ بنیاد یہی ہے کہ ہم سب نے اسی کرّے (کرہ زمین) پر اور اسی ملک میں رہنا ہے۔ فی الحال تو زمین کے علاوہ کوئی اور قابل سکونت کرہ دریافت نہیں ہوا، جب سائنس دان ایسے کرّے دریافت کر لیں گے تو غور کر لیا جائے گا۔ ہر مسلک کے لیے سالم گلوب بک کرا لیا جائے، ایک گلوب اہل تشیع کے لیے، ایک اہل سنت کے لیے، اسی طرح ہر ہر فرقے کے لیے الگ کرّہ ہو جائے، لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک تو سب کو یہیں رہنا ہے اور اس ملک میں رہنا ہے۔ سنی نے رہنا بھی سنّی بن کر ہی ہے، شیعہ نے شیعہ بن کر۔ اہل حدیث نے اہل حدیث بن کر اور حنفی نے حنفی بن کر ہی رہنا ہے۔ بس سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے رہنے کی اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ پرُامن اور رہنے کے لیے سازگار کیسے بنانا ہے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو تسنّن بھی پھلے پھولے گا،تشیّع بھی، دیوبندیت بھی، بریلویت بھی،حنفیت بھی اور سلفیت بھی۔ اور اگر اس میں ہم ناکام رہتے ہیں اور خصوصاً ہمارا ملک بدامنی کی لپیٹ میں آکر معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتا ہے تو ان تمام مکاتب فکر کی تنظیموں، جماعتوں، مساجد، مدارس وغیرہ کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے پُرامن بقائے باہمی کے اصول ڈھونڈنا ہم سب کی ضرورت ہے۔‘‘ (۱)

دورِ حاضر کے چند شیعہ علماء کے خیالات بھی اس بقائے باہمی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ علامہ سید افتخار حسین نقوی فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں کے مابین محبتِ رسول، محبتِ آلِ رسولؐ، احترامِ صحابہ کرامؓ اور احترامِ ازواجِؓ پیغمبر کی بنیاد پر قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ہر مسلک کے علمائے کرام کو دوسرے مسلک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔‘‘ (۲)

سنی اور شیعہ کے مابین استحقاق خلافت کے بارے میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے بلکہ ان کے مابین ایک عقیدہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس کا عملی حل اب کیا ہے؟ اس بارے میں مولانا افتخار حسین نقوی کہتے ہیں:

’’جہاں تک خلافت کے مسئلے پر اختلاف کا تعلق ہے، میں کہتا ہوں کہ زمانہ بدل گیا، ہمیں حقائق سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی حکومت حضرت ابوبکرؓ، ان کے بعد عمرؓ اور ان کے بعد عثمانؓ کے ہاتھ رہی، ان کے بعد لوگوں نے جمع ہو کر حضرت علیؓ کو حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کیا۔۔۔ اگر امت مسلمہ کی اکثریت ان خلفاء کو اپنا رہبر و رہنما مانتی ہے تو کسی کو ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے کسی کی دلآزاری ہو یا توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ خود حضرت علیؓ نے اختلاف رائے کے باوجود اسلام کے عظیم تر مفاد میں خلفائے ثلاثہ (ابو بکر و عمر و عثمان) کا ساتھ دیا اور جب بھی ان میں سے کسی نے مشورہ طلب کیا تو آپؓ نے دریغ نہ کیا۔ حضرت علیؓ کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اسلام اور امت اسلامیہ کے عظیم تر مفاد میں سوچیں اور عمل کریں، ہمیں حضرت علیؓ اور آل رسولؐ سے قدم آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔‘‘ (۳)

علامہ عارف الحسینی اہل تشیع کے ایک اجتماع کی یوں تربیت فرماتے ہیں:

’’آپ جب کسی عالم کے پاس جاتے ہیں، وہاں وہ کہتا ہے کہ آج فلاں جگہ جھنگ سے فلاں فلاں آیا تھا اور اس نے شیعوں کے خلاف بڑے سخت الفاظ استعمال کیے، یہ آپ کو بُرا لگتا ہے یا نہیں لگتا۔پھر آپ شیعہ امام باڑے میں، شیعہ مسجد اور شیعہ اجتماع میں ان کے خلاف تقریر کریں گے تو کیا ان کے احساسات اس سے مجروح ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ تو جس طرح آپ کو یہ برا لگتا ہے کہ آپ کے مقدّسات اور آپ کے پیشوائوں کے خلاف کوئی نازیبا الفاظ استعمال کرے تو بھی آپ ان کے پیشوائوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں۔‘‘(۴)

تحریک جعفریہ کے قاید علامہ عارف الحسینی باہمی اتحاد کی صورت یوں بیان کرتے ہیں:

’’اتحاد سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ شیعہ اپنے تشخص کو برقرار کھے، سنّی اپنے تشخص کو برقرار رکھے۔ سُنّی اپنے مسلک اور فقہ کے مطابق عمل کرتے رہیں اور شیعہ اپنی فقہ اور تعلیمات اہل بیت کے مطابق زندگی گزارتے رہیں۔ ایک دوسرے کے امور میں مداخلت نہ کریں۔ ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔ اس کے بعد مشترکہ طور پر دشمنانِ اسلام کے خلاف متحد ہو جائیں۔‘‘ (۵)

ایک خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تقریر میں دینی مصلحت کو مدّنظر رکھے۔ علامہ عارف الحسینی کے بقول:

’’کتنے دکھ کی بات ہے کہ یہ منبر خواہ اس پر شیعہ مجلسِ حسینی کے لیےبیٹھے یا سُنّی مسجد میں ایک خطیب خطبۂ جمعہ دے، یہ منبر اس لیے ہے کہ اس پر قرآن سے متعلق کہا جائے، اسلام سے متعلق کہا  جائے، مسلمانوں کی مصلحت سے متعلق کہاجائے۔ سامراج و استعمار کی سازشوں کو ناکام بنانے سے متعلق کہا جائے۔ اگر یہ منبر خواہ شیعہ امام باڑے یا مسجد میں ہو یا سُنّی مسجد میں ہو، اگر اس منبر پر بولنے والا کوئی ایسی بات کرے کہ جس کے نتیجے میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کا دشمن بن جائے، مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو جائے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اس بولنے والے نے اس منبر کے ساتھ بھی خیانت کی ہے اور مسلمانوںکے ساتھ بھی اس نے خیانت کی ہے۔‘‘(۶)

جامعۃ النجف ڈیرہ اسماعیل خاں کے مدیر اورتحریک جعفریہ خیبر پختونخواہ کے صوبائی رہنما علامہ محمد رمضان توقیر کا بیان ہے:

’’اگر میں حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکر ؓسے افضل سمجھتا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں حضرت ابو بکرؓ کی معاذ اللہ نفی کر رہا ہوں، وہ صحابی رسول ہیں، ان کی خدمات ہیں، لوگ پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ تقیّہ کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔ میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کرتا ہوں جب کہ ان کو تقیّہ کی تعریف کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ تقیّہ کیا ہوتا ہے۔ تقیّہ کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا صحابہ کرام با وجود اختلاف کے ایک دوسرے کا احترام نہیں کرتے تھے؟ آپس میں مشاورت نہیں کرتے تھے؟ کیا سنی شیعہ کتب میں یہ ذکر نہیں کہ جب مولا علیؓ نے حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا تو حضرت عمرؓ نے کہا: لَو لَا عَلي لَھلَک عمُر ’’اگر حضرت علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ آج ہلاک ہو جاتا۔‘‘ جب صحابہ کرام اکٹھے بیٹھتے تھے تو ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، آپس میں مشاورت کرتے تھے، اسلام کی سر بلندی کے لیے متحد تھے تو ہم ان کے نام لیوا کیوں متحد نہیں ہیں۔‘‘(۷)

ممتاز شیعہ عالم علامہ محمد رمضان توقیر کے بقول:

’’جتنے بھی ہمارے فقہی مسائل ہیں، کیا ان میں کوئی بنیادی اختلاف ہے؟ کون مسلمان ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہے اور نماز پنجگانہ کو واجب نہیں سمجھتا۔ کون سا شیعہ، کونسا سنی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہے؟ پانچ نمازوں کو تو چھوڑیے جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ صبح کی دو رکعت فرض ہیں، کون سے مسلک سے تعلق رکھنے والا ایسا مسلمان ہے جو عقیدہ نہیں رکھتا کہ ظہر کی چار رکعات ہیں، عصر کی چار رکعات فرض ہیں، کون سا مسلمان ہے، سنی یا شیعہ، جو یہ ایمان نہیں رکھتا کہ حج ہم پر فرض ہے۔ ماہ رمضان کے روزے رکھنا واجب ہے۔ جہاد ہم پر واجب ہے۔ سب کا یہ عقیدہ ہے۔ البتہ جزئیات میں اختلاف ہے۔ پچانوے سے زیادہ مشترکات ہیں۔ اگر جزئیات میں اختلاف ہے، پچانوے سے زیادہ ہمارے مشترکات ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہیں، تو وہ بھی مستحبات میں ہیں نہ کہ واجبات میں۔ اور پچانوے مشترکات کو کنارے پر رکھ کر پانچ فی صداختلافات کو اچھال کر ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جانا، اور انھی تھوڑے سے اختلافات پر ساری توانائیاں خرچ کرنا، ساری طاقت خرچ کرنا کون سی دانش مندی ہے۔‘‘(۸)

تحریک جعفریہ پاکستان کے سابق سربراہ علامہ عارف حسین الحسینی کہتے ہیں:

’’میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے اپنے شیعی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف اخوت کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔ خواہ وہ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتا ہو یا اہل حدیث ہو یا دیوبندی ہو۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا ہو یا جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مربوط ہو یا جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ۔ ہماری نظروں میں یہ نام اہم نہیں ہیں بلکہ اسلام اہم ہے۔ جو بھی اپنے سینے میں اسلام کی محبت رکھتا ہو، جس کا بھی دل قرآن کے لیے تڑپتا ہو، جو بھی اپنے دل میں روس و امریکہ سے نفرت رکھتا ہو، ہم اس کی طرف اتحاد و اخوت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘‘(۹)

ہماری نظر میں شیعہ اکابرین کے درج بالا خیالات شیعہ سنّی منافرت کے خاتمے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ سُنّی علماء میں سے  سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جن کی عبارتوں کو شیعہ علما اپنے موقف کی حمایت میں حوالہ بناتے ہیں، ہم ان کی ایک عبارت کو اپنے شکوے کے ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیعہ سنّی تنازعات کے ضمن میں وہ لکھتے ہیں:

’’اس معاملے میں سنّیوں اور شیعوں کی پوزیشن میں ایک بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ خاطر رکھ کر ہی فریقین کے درمیان انصاف قائم کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ شیعہ جن کو بزرگ مانتے ہیں، وہ سنّیوں کے بھی بزرگ ہیں اور سنّیوں کی طرف سے ان پر طعن و تشنیع کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس سنّیوں کے عقیدے میں جن لوگوں کو بزرگی کا مقام حاصل ہے، ان کے ایک بڑے حصے کو شیعہ نہ صرف برا سمجھتے ہیں بلکہ انھیں برا کہنا بھی اپنے مذہب کا ایک لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔ اس لیے حدود مقرر کرنے کا سوال صرف شیعوں کے معاملے میں پیدا ہوتا ہے۔ انھیں اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ بد گوئی اگر ان کے مذہب کا کوئی جزو لازم ہے تو اسے اپنے گھر تک محدود رکھیں، پبلک میں آ کر دوسروں کے بزرگوں کی برائی کرنا کسی طرح بھی ان کا حق نہیں مانا جا سکتا۔

میرا خیال یہ ہےکہ اس معاملہ کو اگر معقول طریقے سے اٹھایا جائے تو خود شیعوں میں سے بھی تمام انصاف پسند لوگ اس کی تایید کریں گے اور ان کے شر پسند طبقے کی بات نہ چل سکے گی۔ حکومت کو بھی بآسانی اس بات کا قائل کیا جا سکتا ہے کہ شیعہ حضرات کو ان کے مذہبی مراسم کی ادایگی کے معاملے میں جہاں تک کہ پبلک میں ادا کرنے کا تعلق ہے، حدود کا پابند بنانے کی ضرورت ہے، یہ حدود بھی گفت و شنید سے طے ہو سکتے ہیں، اس مسئلے کو کسی ایجی ٹیشن کی بنیاد بنانے کی بجائے اس طریقے سے حل کرنا زیادہ مناسب ہے‘‘۔ (۱٠)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جنھیں بعض سنّی علما اس لیے مطعون کرتے ہیں کہ ان کی بعض باتیں شیعی موقف کو تقویت پہنچاتی ہیں، جب ان سے صحابہ کرام پر بعض شیعہ کی برسر عام تبرا بازی سے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے کہا :

’’شیعہ حضرات کا یہ حق تو تسلیم کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی مراسم اپنے طریقے پر ادا کریں، مگر یہ حق کسی بھی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرے لوگ جن بزرگوں کو اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں، ان کے خلاف وہ برسر عام زبان طعن دراز کریں، یا دوسروں کے مذہبی شعائر پر حملے کریں۔ ان کے عقیدے میں اگر تاریخ اسلام کی بعض شخصیتیں قابل اعتراض ہیں، تو وہ ایسا عقیدہ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھروں میں بیٹھ کر وہ ان کو جو چاہیں کہیں، ہمیں ان سے تعرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کھلے بندوں بازاروں یا پبلک مقامات پر انھیں دوسروں کے مذہبی پیشوائوں پر تو درکنار، کسی کے باپ کو بھی گالی دینے کا حق نہیں ہے اور دنیا کے کسی آئین و انصاف کی رُو سے وہ اسے اپنا حق ثابت نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں اگر حکومت کوئی تساہل کرتی ہے تو یہ اس کی سخت غلطی ہے اور اس تساہل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ یہاں فرقوں کی باہمی کش مکش دبنے کی بجائے اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ دشنام طرازی کا لائسنس دینا اور پھر لوگوں کو دشنام طرازی کے سننے پر اس بنا پر مجبور کرنا کہ اس کا لائسنس دیا جا چکا ہے،حماقت بھی ہے اور زیادتی بھی۔ حکومت کی یہ سخت غلطی ہے کہ وہ شیعہ حضرات کے مراسم عزاداری اور اس سلسلے کے جلسوں ، جلوسوں کے لیے معقول اور منصفانہ حدود مقرر نہیں کرتی اور پھر جب بے قید لائسنسوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی بدولت جھگڑے رونما ہوتے ہیں تو فرقہ وارانہ کش مکش کا رونا روتی ہے‘‘۔ (۱۱)

اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ واہل بیت پر تبرّا بازی کا آغاز بنو امیّہ کی طرف سے ہوا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پر پابندی بھی ایک اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے لگائی اور آیات قرآنی کو خطبہ کا حصہ بنایا جو آج تک سنّی خطبے کا حصہ ہے۔ اب یہ اہل تشیع کے سمجھ دار لوگوں کا انتخاب ہے کہ وہ اپنے نادان لوگوں کی اس غلط روایت کو جاری رکھتے ہیں جو حضرت علیؓ کے مخالفوں نے شروع کی تھی یا کہ حضرت علیؓ کا اسوہ اپناتے ہیں۔

ہمارے شیعہ بھائی اقلیت ہونے کی بنیاد پر اپنی مظلومیت کا رونا بھی روتے ہیں لیکن کیا وہ اس حقیقت کا انکار کر سکتے ہیں کہ ان کے ایک چھوٹے سے جلوس کی سیکورٹی کے لیے پورا پورا دن بڑی بڑی سڑکیں، چوراہے مارکیٹیں اورکاروباری مراکز، تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ سنّی عوام اس کو خندہ پیشانی سے یا مجبورًا برداشت کرتی ہے۔تمام سرکاری و نجی ٹی وی چینلز جس قدر محرم کے احترام میں اپنی تفریحی نشریات محدود کر دیتے ہیں، اتنا تو رمضان المبارک کے احترام میں بھی نہیں ہوتا۔ حالانکہ سنّی اہل علم کے ہاں رمضان کی مشروعیت تو ہے، محرم کے سوگ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود سنّی عوام محرم کا بھی دل و جان سے احترام کرتے  ہیں۔

1963ء میں شاہ ا یران کے دور میں جب امام خمینی کو سیاسی پابندیوں  کا سامنا کرنا پڑا تو سیدابوالاعلیٰ مودودی کی زیر ادارت ماہنامہ ترجمان القرآن نے امام خمینی کے حق میں آواز بلند کی۔  1979ء میں ایران میں امام خمینی کا انقلاب آیا، تو انقلاب کے شیعہ پس منظر کے باوجود بہت سی سنّی شخصیات اور تنظیموں خصوصاً جماعت اسلامی نے اس کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ جماعت ا سلامی کی ذیلی تنظیموں نے انقلاب ایران کی فلمیں شہر شہر دکھائیں۔ انقلاب کے حق میں رائے عامہ ہموار کی، انقلاب ایران کی حمایت کرنے پر جماعت اسلامی دیگرفرقہ پرستوں کی طرف سے مطعون بھی رہی۔

بالآخر انقلاب ایران کا شیعی پہلو غالب آیا اور یہ فطری بات بھی تھی لیکن شکوہ یہ ہے کہ شیعہ ذاکرین کی غیر محتاط گفتگو کے باعث سنی عوام اور علما میں اضطراب پیدا ہوا جس کے باعث دونوں طرف کے عوام پُر تشدد تنظیموں کا حصہ بنتے چلے گئے۔ انقلاب ایران کے باعث پاکستان میں شیعہ کمیونٹی اتنی ایگریسو ہوئی کہ اس کے نتیجے میں پاکستان عرب و عجم کی کش مکش کا میدان بن گیا۔وہ ایمانداری اور غیر جانبداری سے اس بات پر بھی غور کر لیں کہ وہ پاکستان میں اپنے لیے جتنے حقوق چاہتے ہیں کیا وہ ایران میں سنی کمیونٹی کو اتنے حقوق دینے کے لیے تیار ہیں؟

آج سے بیس سال پہلے شیعہ پس منظر کی حامل لبنانی جہادی تنظیم حزب اللہ اسرائیل کے خلاف سرگرم نظر آئی تو عرب ممالک کے سنّی عوام نے بھی اس کی تحسین کی اور سرگرم تعاون کیا لیکن شام میں بشار الاسد نے ا پنے اقتدار کے استحکام کے لیے لاکھوں سنّی مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اس صریح ظلم میں حزب اللہ اور پاسداران انقلاب اس کے معاون بنے۔سنّی اکثریت کو در بدر بھٹکنے پر مجبور کردیا۔ شہروں کے شہر مٹی کے ڈھیر بنا دیے گئے۔ پہلی صدی ہجری کے شامی حکمرانوں کی یزیدیت کی مذمت بجا لیکن موجودہ شامی حکمران کی یزیدیت کی مذمت کا سوال اپنی جگہ قائم ہے۔

افغانستان و عراق میں ’’بزرگ شیطان‘‘ کو کس نے اپنا کندھا پیش کیا ۔یہ باتیں اس لیے لکھی گئی ہیں کہ انقلاب کے بعد سے آج تک سب سے زیادہ وحدت امت کی تکرار انقلابی حکومت اور شیعہ علما اور دانش ور کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔ ایران سے عقیدت رکھنے والے شیعوں کو اور سعودی عرب سے جذباتی تعلق رکھنے والے سنیّوں کو اپنے ہاں کے معروضی حالات کا تجزیہ کر کے خود ایسی راہِ عمل کا تعیّن کرنا ہو گا کہ وہ اپنے ملک میں پُرامن بقائے باہمی (Co-existance) کے اصول پر زندگی گزار سکیں۔ یہاں نہ سنّی شیعوں کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ شیعہ سنیوں کے ساتھ کسی جھگڑے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ پھر کیا یہ دانش مندی ہو گی کہ اپنے پُرامن ماحول کو ہم اپنے جذباتی رویّوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھا دیں۔

حوالہ جات

(۱)   بین المسالک ہم آہنگی،(مرتب: معصوم یاسین زئی) ص:20-21بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد، 2016ء  

(۲)    ثاقب اکبر:  پاکستان کے دینی مسالک، ص: 284البصیرہ اسلام آباد

(۳) پاکستان کے دینی مسالک، ص:285      

(۴)   آداب کارواں، ص: 147، بحوالہ نثار ترمذی : نقیب وحدت علامہ عارف الحسنی،ص:152البصیرہ اسلام آباد

(۵)  میثاق خون، ص:229، نقیب وحدت۔ علامہ عارف الحسینی، ص:63

(۶)    گفتار صدق، ص: 80-81، بحوالہ نقیب ۔وحدیث علامہ عارف الحسینی، ص:87  

(۷)     بین المسالک ہم آہنگی،ص:31-32

(۸) بین المسالک ہم آہنگی ،ص:28    

(۹)  ميثاق خون، ص:۲۱۲، المعارف اکیڈمی، لاہور، ۱۹۹۷ء

(۱٠)     سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ: رسائل و مسائل، ج:3، ص:217، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، 2006  

(۱۱)  رسائل و مسائل: ج:3، ص 216-217


آراء و افکار

(نومبر ۲۰۲۰ء)

Flag Counter