امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعہ ابن جریر  اور اس کی تاریخی حقیقت شیعہ  کتب کی روشنی میں

اہلسنت کی کتب کی روشنی میں درج بالا بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ  ابن جریر شیعہ  کی شخصیت  محض "افسانوی" ہے،  ابوعثمان المازنی کے ایک شاگرد ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری کو ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری بنا دیا گیا ۔اور اس بے چارے کے ذمے ایسی کتب لگ دی گئیں ،جن کا ذکر کتب رجال سے لیکر فہارس الکتب تک ان (ابو عثمان المازنی کے شاگرد)کے حالات میں نہیں ملتا ۔اسی وجہ سے شیعہ کتب میں بھی ابن جریر کے ذکر کے حوالے سے خاصا تضاد پایا جاتا ہے ،ہم پہلے اس تضاد کا ذکر کرتے ہیں ،پھر اس تضاد کو حل کرنے کے لیے متاخرین شیعہ علماء کی تطبیق پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

ہانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم احمد بن علی النجاشی اپنی کتاب"رجال النجاشی"میں لکھتے ہیں:

محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي أبو جعفر، جليل، من أصحابنا، كثير العلم، حسن الكلام، ثقۃ في الحديث. لہ كتاب المسترشد في الإمامۃ. أخبرناہ أحمد بن علي بن نوح، عن الحسن بن حمزۃ الطبري قال حدثنا محمد بن جرير بن رستم بھذا الكتاب وبسائر كتبہ۔1

عباس القمی اپنی کتاب "الکنی و الالقاب"میں لکھتے ہیں:

واما ابن جرير الطبري الشيعي فھو ابوجعفر محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي من اعاظم علمائنا الاماميۃ في المائۃ الرابعۃ، ومن اجلائھم وثقتھم، صاحب كتاب دلائل الامامۃ والايضاح والمسترشد۔2

ترجمہ:ابن جریر طبری شیعہ چوتھی صدی ہجری کے ہمارے جلیل القدر اور معتمد علماء میں سے ہیں ۔جن کی کتب میں دلائل الامامۃ ،الایضاح اور المسترشد شامل ہیں ۔

ان دو علماء کی عبارات سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر شیعہ چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں۔ عباس القمی نے صراحۃ المائۃ الرابعۃ کہا ،جبکہ نجاشی صاحب نے ان کے تلامذہ میں حسن بن حمزہ طبری کا ذکر کیا ہے، اور حسن بن حمزہ طبری کی وفات خود نجاشی کے نزدیک ۳۵۸ھ ہے ۔اس کے علاوہ عباس القمی کی عبارت سے ان کی تصنیفات میں تین کتب دلائل الامامۃ ،الایضاح اور المسترشد ملتی ہیں ۔ چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے ماننے کی صورت میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر شیعہ ابن جریر سنی کے ہم عصر ہیں ،کیونکہ ابن جریرسنی کی وفات بھی چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں ہوئی ہے ۔بعض کتب شیعہ میں ہم عصر ہونے کا ذکر صراحۃ بھی ملتا ہے ۔

معاصر شیعہ عالم "حسین عبد اللہ الراضی "اپنی کتاب"تاریخ علم الرجال "میں لکھتے ہیں:

محمد بن جرير بن رستم الطبري الكبير يكنی (أبا جعفر) دين فاضل، وليس ھو صاحب التاريخ فانہ عامي المذھب. والمترجم معاصر لسميہ محمد بن جرير الطبري صاحب تاريخ الأمم والملوك وصاحب التفسير الكبير۔3

اس میں مصنف نے تصریح کر دی ہے کہ ابن جریر شیعہ ابن جریر سنی کے ہم عصر تھے۔

دوسری طرف کتب شیعہ ہی میں کچھ ایسے اشارات بھی ملتے ہیں ،جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن جریر شیعہ، سنی ابن جریر سے تقریبا ایک یا ڈیڑھ صدی متاخر ہیں۔

بارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ مورخ و محقق سید ہاشم البحرانی اپنی کتاب "مدینۃ المعاجز" میں ابن جریر طبری کے طریق سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

أبو جعفر محمد بن جرير الطبري: قال: نقلت ھذا الخبر من أصل بخط شيخنا أبي عبد اللہ الحسين بن عبيد اللہ الغضائري - رحمہ اللہ - قال: حدثني أبو الحسن علي بن عبد اللہ القاساني4

ترجمہ:ابو جعفر محمد بن جریر طبری کہتے ہیں کہ یہ خبر میں نے اپنے استاد ابو عبد اللہ الحسین الغضائزی کے لکھے گئے اصل (کتاب)سے نقل کی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو الحسن القاسانی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔

اس روایت میں ابن جریر طبری نے الغضائری کو اپنا استاد کہا ،جبکہ الغضائری کے بارے میں شیعہ کتب میں لکھا ہوا ہے کہ ۴۱۱ھ تک وہ حیا ت تھے5 ،اس طرح سے اس روایت سے ابن جریر شیعہ کا  تعلق چوتھی صدی کی بجائے پانچویں صدی کے طبقے (یعنی سنی ابن جریر سے پور ی ایک صدی متاخر) سے بنتا ہے ۔

عراق کے مشہور شیعہ عالم و مجتہد  شیخ عبد اللہ المامقانی نے اپنی ضخیم کتاب"تنقیح المقال فی علم الرجال"میں ابن جریر شیعہ کو مشہور شیعہ عالم اور شیعہ کے چار بنیادی مراجع میں سے دو کے مصنف محمد بن الحسن الطوسی کا ہمعصر لکھا ہے ۔اور شیخ طوسی کی وفات ۴۶۰ھ ہے ۔اس طرح سے ابن جریر شیعہ سنی ابن جریر سے تقریبا ڈیڑھ صدی متاخر بنتے ہیں ۔ابن جریر شیعہ پر مفصل بحث کے بعد لکھتے ہیں :

فتحقق مما ذكرنا كلہ أن محمد بن جرير بن رستم الطبري من أصحابنا إثنان، كبير وھو السابق، وصغير وھو ھذا، وكلاھما ثقتان عدلان مرضيان، ولكل منھما كتاب في الامامۃ، فللاول كتاب "المسترشد "، وللثاني كتاب دلائل الامامۃ۔6

شیعہ کتب میں ابن جریر کے طبقے  اور زمانہ کی تعیین سے متعلق یہ تضاد ابن جریر شیعہ کے افسانوی ہونے پر روز روشن کی طرح دلالت کرتا ہے ۔ البتہ معاصر شیعہ محققین نے اس تضاد کو بھانپ لیا ۔اور تطبیق دیتے ہوئے ابن جریر شیعہ کو ایک شخص کی بجائے دو شخص مانے ۔(مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی )اس طرح سے گویا کل تین ابن جریر ہوئے ۔ایک سنی ابن جریر (مصنف تاریخ طبری و تفسیر طبری)دوسرے شیعہ ابن جریر،جو  سنی کے ہم عصر ہیں  اور تیسرے ڈیڑھ صدی کے بعد آنے والے شیخ طوسی کے ہم عصر ۔یہ تطبیق شیعہ کتب و علماء کی سب سے بڑی بائیو گرافی لکھنے والے شیعہ محقق آغا بزرگ طہرانی نے "الذریعہ الی تصانیف الشیعہ"میں دی ہے ۔لکھتے ہیں:

الايضاح  في الامامۃ للشيخ أبي جعفر محمد بن جريربن رستم بن جرير الطبري الآملي الامامي الموصوف بالكبير في فھرس الشيخ الطوسي تمييزا لہ عن محمد بن جريرالمتأخر عنہ الذي كان معاصر الشيخ الطوسي والنجاشي ومشاركا معھما في الروايۃ عن مشايخھما في كتابہ دلائل الامامۃ وكان محمد بن جرير الكبير الامامي المتقدم معاصرا لسميہ محمد بن جرير بن كثير بنغالب الطبري العامي صاحب التاريخ والتفسير الكبيرين الذي توفي سنۃ 310 ، ولابن جرير الكبير مؤلف الايضاح  ھذا أيضا كتاب المسترشد۔7

ترجمہ :ایضاح فی الامامۃ ابو جعفر محمد بن جریر طبری املی کی تصنیف ہے ،جسے "کبیر"کہا جاتا ہے ،شیخ طوسی کی (الفہرست میں اس کا ذکر ہے ۔کبیر کہنے کی وجہ اسے بعد میں انے والے  محمد بن جریر سے ممتاز کرنا ہے ،جو طوسی و نجاشی کے ہم عصر ہیں ،اور اپنی کتاب دلائل الامامۃ میں انہی حضرات سے روایت کرتے ہیں ،جو مذکورہ دو حضرات (طوسی و نجاشی)کے شیوخ و اساتذہ ہیں۔محمد بن جریر کبیر سنی ابن جریر کے ہم عصر ہیں ۔ان کی کتب میں ایضاح کے ساتھ المسترشد بھی ہیں۔

آخر میں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ شیعہ کتب  تراجم میں ابن جریر کبیر کا سن ولادت اور سن وفات کا ذکر ہی سرے سے نہیں ہے ۔سن ولادت کا تو عدم ذکر سمجھ میں آتا ہے ،پر سن وفات کا ذکر نہ ہونا اور معلوم نہ ہونا (خواہ احتمالا ہی ہو)  سمجھ سے بالاتر ہے، خصوصا ایسا شخص جن کے ساتھ شیعہ کتب میں "من اعاظم علمائنا" جیسے الفاظ ملتے ہیں ۔چنانچہ "المسترشد"کے محقق شیخ احمد المحمودی لکھتے ہیں:

بقی ھنا شئ وھو: أني لم أشر إلی سنۃ ولادۃ المؤلف ولا عام وفاتہ إذ لم يتعرض أحد من المترجمين في رجالھم، وھذا أيضا من حظ المؤلف، إذ ترجمہ من ھو أقرب العھد إليہ كالنجاشي والشيخ الطوسي و المفيد، مع عنايتھم التامۃ بشأنہ ومؤلفاتہ، ومع ذلك لم يتعرضوا لذكرعام ولادتہ وحتی سنۃ وفاتہ شيئا۔8

جبکہ ابن جریر صغیر کے بارے میں علامہ مامقانی نے لکھا ہے: وليس لہ ذكر في كلمات أصحابنا الرجاليين9 یعنی اس کا ذکر ہی ذخیرہ رجال میں نہیں ہے ۔

البتہ  پورے ذخیرہ رجال میں ذکر نہ ہونے کے باوجود ان کی (طرف منسوب )کتاب "دلائل الامامۃ "چھپی ہے اور شیعہ حلقوں میں متداول ہے۔یا للعجب

بحث کا ماحصل

اس پوری بحث کا حاصل قارئین کے سامنے نکات کی شکل میں پیش کرنا چاہوں گا ۔اور آخر میں اس سلسلے میں ایک اہم اشکال پیش کر کے اجازت چاہوں گا۔

۱۔سنی ابن جریر کے ہم نام ،ہم عصر ،ہم ولدیت اور ہم وطن جس ابن جریر کاذکر کیا جا رہا ہے ،اس کا اولین ذکر ابن جریر کے تقریبا چار سو سال بعد علامہ ذہبی و عسقلانی کی بعض کتب میں ملتا ہے ۔

۲۔ہر دو حضرات سےقبل اہلسنت کے پورے ذخیرے میں ،خواہ کتب رجال و تراجم  ہو یا فہارس الکتب ،کسی میں بھی شیعہ ابن جریر کا مستقلا یا تبعا تذکرہ نہیں ملتا ۔

۳۔علامہ ذہبی و عسقلانی نے شیعہ ابن جریر کے تذکرے میں ایک خاص بات یہ ذکر کی ہے کہ وہ ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہیں ۔

۴۔ابو عثمان المازنی کے شاگردوں میں ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری کے نام سے تو کوئی شخص نہیں ہے، البتہ ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان طبری ملتا ہے ۔ جنہیں مختصرا ابو جعفر بن رستم کہا جاتا ہے ۔

۵۔متعدد قرائن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے ،کہ ابن جریر کے ہم نام شخصیت سے مراد یہی ابو جعفر بن رستم مراد ہیں ۔لیکن یہ شخص نام ،ولدیت میں ابن جریر سنی کے مشابہ نہیں ہے ۔نیز ابو جعفر بن رستم  ایک خالص لغوی، نحوی اور قراءات قرانیہ کے ماہر عالم ہیں ۔اور انہی موضوعات کے گرد ان کی تصنیفات گھومتی ہیں ۔جبکہ شیعہ ابن جریر کے بارے میں یہ ملتا ہے کہ وہ ایک خالص مسلکی عالم تھے ۔اور مسلکی موضوعات پر ان کی کتب ہیں ۔نیز علامہ ذہبی و عسقلانی اور شیعہ کتب میں جن تصنیفات کو ان کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے ،ان میں سے کسی بھی کتاب کا ذکر ابو جعفر بن رستم کے ترجمے میں نہیں ملتا ۔

۶۔ مذکورہ شخص مراد لینے کا  ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہونے کے علاوہ سب سے بڑا قرینہ یہ ہے کہ شیعہ کتب میں ابن جریر شیعہ کے تذکرے میں یہ بات ملتی ہے کہ ابن ندیم نے ان کی ایک کتاب "غریب القران"کا ذکر کیا ہے، اور ابن ندیم نے ابو جعفر بن رستم کی غریب القرآن کا ذکر کیا ہے ۔شیعہ ابن جریر یعنی ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری کا ذکر ابن ندیم نے نہیں کیا ہے ۔

۷۔شیعہ کتب میں ابن جریر شیعہ کے تذکرے میں ایک تضاد تو یہ پایا جاتا ہے کہ بعض علمائے شیعہ نے اسے ابن جریر سنی کا ہم عصر اور چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے بتایا ہے ۔جبکہ دوسرے کچھ شیعہ علماء نے اسے پانچویں صدی ہجری یعنی سنی ابن جریر سے ایک یا ڈیڑھ صدی متاخر بتا یا ہے ۔

۸۔اس تضاد کو معاصر شیعہ محققین نے یوں حل کیا ہے کہ خود شیعہ ابن جریر دو بنالیے ہیں ۔جو دو نوں ہم نام ،ہم کنیت۔ ہم ولدیت ،ہم وطن ہیں ۔طرفہ تماشا یہ کہ ان دونوں کے دادا کا نام بھی ایک ہے ۔ان میں فرق صرف کبیر و صغیر کا ہے ۔سنی ابن جریر کے ہم عصر کو ابن جریر کبیر اور پانچویں صدی کے  ابن جریر کو صغیر کہا جا تا ہے ۔

۹۔ ان دو میں سے کونسی تصنیف کس ابن جریر کی ہے ؟خود اس سلسلے میں بھی علمائے شیعہ کے مختلف بیانات ہیں۔ عباس القمی کے نزدیک دلائل الامامۃ ،الایضاح اور المسترشد ابن جریر کبیر کی تصنیفات ہیں ۔ جبکہ محقق طہرانی کے نزدیک دلائل الامامۃ ابن جریر صغیر کی تصنیف ہے ۔جبکہ بعض شیعہ علماء کے نزدیک یہ دو کی بجائے ایک کتاب ہے جسے کبھی المسترشد ،کبھی المسترشد فی الامامۃ اور کبھی دلائل الامامۃ کہا جاتا ہے ۔(اس کتاب پر مستقل بحث آگے آرہی ہے )

۱۰۔ابن جریر شیعہ کے نام سے کبیر و صغیر دو شخصیات کا مسئلہ شیعہ علمائے تراجم میں متفقہ نہیں  ہے ۔بعض صرف ایک ہی ابن جریر شیعہ کے قائل ہیں ۔جو ابن جریر سنی کے ہم عصر ہیں ۔جبکہ کچھ شیعہ علماء کے نزدیک ابن جریر شیعہ کے نام سے  کبیر و صغیر دو شخصیات ہیں ۔ چنانچہ عباس القمی نے الکنی و الالقاب میں صرف ایک ابن جریر شیعہ کا ذکر کیا ہے ۔اور دلائل الامامۃ(جو دو ابن جریر شیعہ ماننے والوں کے نزدیک دوسرے ابن جریر کی تصنیف ہے)کو بھی ابن جریر کبیر یعنی  سنی ابن جریر کے ہم عصر کی تصنیف قرار دیا ہے ،جبکہ  آغا بزرگ طہرانی کے نزدیک ایک کی بجائے دو ابن جریر شیعہ ہیں ۔اور دلائل الامامۃ پہلے کی بجائے دوسرے متاخر ابن جریر کی تصنیف ہے ۔

ایک اہم اشکال  اور اس کا ممکنہ جواب

مندرجہ بالا بحث سے قاری کے ذہن میں خود بخود ایک اشکال پیدا ہوتا ہے ،کہ ابن جریر سنی کے ہم نام ایک اور افسانوی شخصیت گھڑنے کے  کیا مقاصد ہیں ؟ایک ابن جریر سے دو اور دو سے تین بنانے میں کیا راز مضمر ہے؟

اس سوال کا تحقیقی و تسلی بخش جواب تو وہی لوگ دے سکتے ہیں ،جنہوں نے یہ فرضی شخصیت بنانے اور وضع کرنے کا عمل سر انجام دیا۔ البتہ قرائن کی روشنی میں اس کے کچھ ممکنہ جوابات دیے جاسکتے ہیں ۔ہماری نظر میں اس پورے تاریخی عمل کے بنیادی طور پر دو بڑے مقاصد معلوم ہوتے ہیں :

۱۔تاریخ طبری و تفسیر طبری کے مصنف امام محمد بن جریر طبری اپنی جلالت شان ،وسعت علم اور گوناگوں خصوصیات کے باوصف اپنے معاصرین ،خاندانی حضرات اور بعد میں آنے والے اجلہ علماء کے اس تبصرے سے نہ بچ سکے کہ موصوف میں  "تشیع و رفض" کے اثرات تھے  ۔(جس کے حوالے ماقبل میں گزر چکے ہیں )اور اس الزام کی کچھ نہ کچھ تائید ان کی  تفسیر اور خاص طور پر تاریخ سے  ہوتی ہے ۔خصوصا تاریخ میں صدر اول کے المناک حوادث میں اس وقت کے غالی شیعہ مورخین و رواۃ پر کلی اعتماد اس تاثر کو مزید قوی کرتا ہے ۔ تاریخ کے مقدمہ میں اگرچہ موصوف نے یہ کہہ کر اپنے تئیں  اپنے آپ کو بری کر دیا کہ اگر کچھ ناگوار باتیں اس کتاب میں ملیں ،تو وہ ہمارے پاس رواۃ کی طرف سے آئی ہیں ،ہم صرف اس کے ناقل ہیں ۔10مقدمہ میں یہ وضاحت اس بات کی خبر دیتا ہے کہ خود مصنف کو بھی اس کا احساس تھا کہ اس کے بعض مقامات اہلسنت و الجماعت کے بنیادی نظریے اور فریم ورک کے منافی ہیں ۔اس لیے مقدمہ میں اپنے آپ کو بری کرنے کی صراحت ضروری سمجھی۔

لیکن اس وضاحت کے باوجود یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ جب مصنف کا مقصد تاریخی روایات کی  محض جمع و ترتیب تھی  ،تو  صدر اول کے واقعات میں محض غالی شیعہ و رافضی روایات ذکر کرنے پر کیوں اکتفاء کیا گیا؟ اس وقت کے منصف اور اہلسنت و الجماعت کے  معتمد رواۃ سے صدر اول کے واقعات کی صحیح نقل سے اعراض کیوں برتا گیا؟حالانکہ جمع و ترتیب کا تو تقاضا تھا کہ صحیح و غلط دونوں قسم کی روایات کو کتاب میں جگہ دی جاتی ۔ صدر اول کی المناک داستانوں کا صرف ایک رخ پیش کرنے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالم عرب سے دو محققین(محمد بن طاہر البرزنجی اور محمد صبحی حسن حلاق) کی تحقیق سے صحیح و ضعیف طبری چھپی ہے ،اس میں جمل و صفین دونوں کو ملا کر صحیح اور معتمد راویوں کی کل روایات تقریبا بارہ بنتی ہیں ،جن کا حجم محض بیس صفحات ہیں11،جبکہ ضعیف ،موضوع اور ناقابل اعتماد راویوں کی روایات کا کل حجم  تقریبا دو سو صفحات ہیں12۔بیس اور دو سو کا یہ تفاوت بتاتا ہے کہ کس طرح اس دور کے واقعات کو یک رخا پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔

ابن جریر طبری صاحب پر تشیع و رفض کے اتہامات اور تاریخ میں اکثر مقامات پر شیعہ نقطہ نظر پیش کرنے کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان تھا کہ ان کی تاریخ  بعد میں  شجر ممنوعہ قرار پاتی ،اور شیعی نقطہ کی ترجمان سمجھی جاتی ۔اس لیے ابن جریر طبری سے اس اتہام کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے ابن جریر کا فسانہ گھڑا گیا ،تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ کہ مذکورہ اتہامات دوسرے ہم نام کے بارے میں ہیں ،غلط فہمی سے ابن جریر سنی کے بارے میں سمجھ لیے گئے ۔یہی وجہ ہے کہ  تشیع و رفض کا صرف اور صرف یہی جواب ہمیں کتب رجال میں ملتا ہے ۔ کہ یہ اتہامات دوسرے ابن جریر کے بارے میں ہیں ۔جب علماء کے اتہام کا دوسرے ابن جریر کی صورت میں  اچھے طریقے سے دفعیہ ہوگیا ،تو ان کی کتب خود بخود ایک معتمد عالم کی کتب کی حیثیت سے ہاتھوں ہاتھ لی گئیں ۔اور وہ روایات اہلسنت کے مصادر میں اس طرح سے گھل مل گئیں ،کہ محتاط ترین مفسرین  حافظ ابن کثیر و ابن خلدون جیسے حضرات بھی ان روایات سے اپنا دامن نہ چھڑا سکے ۔الغرض دوسرا ابن جریر بنانے کی پہلی وجہ قرائن کی روشنی میں ابن جریر صاحب سے تشیع و رفض کے اتہامات کی براءت یا کم از کم اس کی شناعت و قباحت میں تخفیف تھی ۔اور اس میں ان لوگوں کو قطعی طور پر کامیابی ملی ،کہ حافظ ابن حجر سے لیکر عصر حاضر تک اگر کوئی ابن جریر کے تشیع و رفض کی بات کرتا ہے ،تو فورا یہ کہہ کر اسے رد کردیا جاتا ہے کہ یہ الزمات  سنی ابن جریر کی بجائے شیعہ ابن جریر کے بارے میں ہیں ۔یا درہے ہمارا مقصد ابن جریر سنی کو شیعہ ثابت کرنا نہیں ،اور نہ ہی ابن جریر کی جملہ تصانیف کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے ،بلکہ مدعا صرف اتنا ہے کہ صدر اول کے المناک حوادث کے بارے میں ان کی فکر اور سوچ کے دھارے اہلسنت و الجماعت کے محتاط مسلک کی بجائے شیعہ و روافض کی تنقیصی سوچ سے ملتے ہیں ۔اور اسی وجہ سے وہ قابل قدر علمی کارناموں کے باجود تشیع و رفض کے اتہام سے نہ بچ سکے ۔

۲۔ ابن جریر کے ہم نام جن دوشیعہ شخصیات کبیر و صغیر ابن جریر کو مانا گیا ،علمائے شیعہ نے  ان کے تذکرے میں متعدد کتب کا ذکر کیا ہے ۔ان میں سے موجودہ دور میں ایک کتاب "دلائل الامامۃ"چھپی ہے ۔تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ائمہ اثنا عشر کی امامت کے اثبات پر آثار و روایات سے دلائل ذکر کیے گئے ہیں ۔اس کتاب کے بارے میں علمائے شیعہ میں ایک بحث تو یہ چھڑی ہے کہ یہ کتاب ابن جریر کبیر (سنی ابن جریر کے ہم عصر)کی تصنیف ہے یا ابن جریر صغیر کی ،چنانچہ عباس القمی نے اس کتاب کا ذکر ابن جریر کبیر کی تصانیف کے ذیل میں کیا ہے ۔جبکہ دیگر علماء خصوصا آغا بزرگ طہرانی  کے ہاں یہ ابن جریر صغیر کی تصنیف ہے۔ (دونوں حوالے ما قبل میں گزر چکے ہیں )طہرانی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ  ابن جریر کبیر کی تصانیف میں امامت پر کتاب کانام "المسرشد "ہے ۔ مصنف کے اختلاف کے ساتھ اس کتاب کے نام میں بھی اختلاف ہے ۔شیعہ کی بعض کتب میں المسترشد اور دلائل الامامۃ ایک ہی کتاب کے نام ذکر کیے گئے ہیں ۔چنانچہ اعجاز حسین کنتوری اپنی  کتاب "کشف الحجب و الاستار عن اسماء الکتب و الاسفار "میں لکھتے ہیں:

دلائل الامامۃ للشيخ الجليل محمد بن جرير الطبري الامامي ويسمي بالمسترشد۔13

اس کے علاوہ معروف شیعہ محدث علامہ باقر مجلسی بحارالانوار میں لکھتے ہیں:

وكتاب دلائل الامامۃ للشيخ الجليل محمد بن جرير الطبري الامامي ويسمی بالمسترشد۔14

دلائل الامامۃ اور المسترشد ایک ہی کتاب کانام ہے یا دو الگ الگ کتب ہیں؟ نیز دونوں ایک ابن جریر (کبیر)کی تصنیف ہے یا دونوں کے مصنف الگ الگ ہیں؟ یہ بحثیں جاری تھیں کہ ایران سے المسترشد کے نام سے کتاب چھپ گئی ۔جس کے محقق احمد المحمودی نے اس کے شروع میں ایک ضخیم مقدمہ لکھا ،جس میں دلائل الامامۃ اور المسترشد کے ایک یا دو کتب ہونے پر بھی بحث کی ،لیکن بالاخر الگ الگ ہونے پر کوئی قابل ذکر قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے محقق مذکور نے یہ اعتراف کر لیا:

أقول: ومن ھذا الكلام أيضا يستفاد أن دلائل الامامۃ يعتبر المجلد الثاني لكتاب المسترشد فتأمل جدا۔15

ایک اور جگہ معتمد علمائے شیعہ کے شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

و احتمل بعض العلماء من وضع الکتاب ان یکون المجلد الثانی للمسترشد کما تقدم و لعلہ ھو الصواب۔16

طرفہ تماشا یہ کہ یہی اقرار خود اس سے پہلے دلائل الامامۃ کے ناشران نے بھی اس کے مقدمے میں کیا تھا ،ایک یا الگ الگ کتاب پر بحث کے بعد لکھتے ہیں:

و ھذا یفید ان الکتابین عندہ لرجل واحد و انما ھما جزان کل منھما باسم علی حدۃ۔17

درج بالا بحث سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ دلائل الامامۃ اور المسترشد دونوں ایک ہی کتاب کے دونام اور ایک ہی کتاب کے دو جزء ہیں ۔اہل علم جانتے ہیں کہ کسی کتاب کے محقق کی بات کتاب سے متعلق  بڑی اہم سمجھی جاتی ہے ،اس سلسلے میں متعدد علمائے شیعہ کے اعتراف کے ساتھ  دونوں کتب کے محققین نے  بھی اس کے ایک ہونے کو راجح قرار دیا ہے ۔ اور  یہ بات بھی  ثابت شدہ ہے کہ شیعہ کتب کے مطابق  المسترشد ابن جریر کبیر یعنی سنی ابن جریر کے ہم عصر کی تصنیف ہے ۔لھذا دلائل الامامۃ جب اس کا ایک جزو اور حصہ قرار پایا ،تو یہ بھی اسی مصنف کی کتاب ہے۔

ابن جریر کبیر یعنی سنی ابن جریر کے ہم عصر شخصیت کی حقیقت اور اس کے افسانوی وجود سے ما قبل میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ اس نام کی کؤئی شخصیت تاریخ میں نہیں گزری ،ابو عثمان المازنی کے ایک شاگرد ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم طبری کو ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری بنا یا گیا ۔جب ابن جریر کبیر کے نام سے کوئی شیعہ عالم کا وجود نہیں ہے ،تو لا محالہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر مذکورہ کتاب کس کی لکھی ہوئی ہے؟اور ا سکا مصنف کون ہے؟

فہار س الکتب میں اس نام کی کتاب  ہمیں سنی ابن جریر کے تذکرے میں ملتی ہے ۔یہ بات درجہ ذیل حضرات نے ذکر کی ہے:

۱۔ابن ندیم نے اپنی کتاب "الفہرست "میں المسترشد کو محمد بن جریر طبری (سنی)کی تصنیف قرار دیا ہے ۔ابن جریر کی کتب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

كتاب المسترشد كتاب تھذيب الآثار ولم يتمہ۔18

۲۔ساتویں صدی ہجری کے عالم   ابن ساعی "الدر الثمین فی اسماء المصنفین"میں ابن جریر کی کتب کے ذیل میں لکھتے ہیں:

كتاب الخفيف في الفقہ، وكتاب المسترشد۔19

۳۔صاحب ھدیۃ العارفین امام ابن جریر کی تصنیفات گنواتے ہوئے لکھتے ہیں:

كتاب المحاضر والسجلات،كتاب المسترشد۔20

جب المسترشد ابن جریر سنی کی کتاب ہے،تو کوئی بعید نہیں کہ اس کتاب اور اس کے مصنف دونوں کو بچانے کے لیے ایک اور ابن جریر  کی شخصیت ایجاد کی گئی ہو ،تاکہ محمد بن جریر طبری صاحب  "کان یضع للروافض" (یہ نقد معروف محدث احمد السلیمانی نے ابن جریر صاحب پر کیا ہے ،المسترشد کی مذکورہ کہانی اور اس نقد میں گہرا ربط معلوم ہوتا ہے )کی تہمت سے بھی بچیں اور کتاب بھی محفوظ رہے ۔واللہ اعلم بالصواب


حواشی

  1.  النجاشی ،ابو العباس ،احمد بن علی ،رجال النجاشی ،قم ،موسسۃ النشر الاسلامی ۱۴۱۶ھ،ص۳۷۶
  2.  القمی ،عباس ،الکنی و الالقاب ،طہران ،مکتبۃ الصدر ،ج۱ص۲۴۲
  3.  الراضی ،حسین عبد اللہ ،تاریخ علم الرجال ،ص۷۸ (نسخہ اکترونیۃ )
  4.  البحرانی ،سید ہاشم ،مدینۃ المعاجز ،قم ،موسسۃ المعارف الاسلامیہ ۱۴۱۶ھ،ج۸ص۱۲۲
  5.  الطوسی ،شیخ الطائفۃ ،محمد بن حسن ،رجال الطوسی ،قم ،موسسۃ النشر الاسلامی ۱۴۱۵ھ،ص۴۲۴
  6.  المامقانی ،عبد اللہ ،تنقیح المقال فی علم الرجال بحوالہ المسترشد فی الامامۃ،قم ،موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ ،ص۴۰
  7.  الطہرانی ،الشیخ آغا بزرگ ،الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،بیروت ،دارالاضواء،ج۲ص۴۸۸
  8.  الطبری ،محمد بن جریر بن رستم ،المسترشد فی الامامۃ ،قم ،موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ ،ص۸۷
  9.  ایضآ ،ص۳۸
  10.  الطبری ،ابو جعفر ،محمد بن جریر ،تاریخ الامم و الملوک ،قاہرہ ،دار المعارف ۱۳۸۷ھ،ج۱ص۸
  11.  الطبری ،ابو جعفر ،محمد بن جریر ،صحیح تاریخ طبری ،بیروت ،دار ابن کثیر ۱۴۲۸ھ،ج۳ص۳۷۷تا۳۹۷
  12.  الطبری ،ابو جعفر ،محمد بن جریر ،ضعیف تاریخ طبری ،بیروت ،دار ابن کثیر ۱۴۲۸ھ،ج۸ص۶۲۹تا۸۱۵
  13.  الکنتوری ،اعجاز حسین ،کشف الحجب و الاستار ،قم ،مکتبۃ ایۃ العظمی المرعشی ۱۴۰۹ھ،ص۲۱۴
  14.  المجلسی ،محمد باقر ،بحار الانوار ،بیروت ،موسسۃ الوفاء ۱۴۰۳ھ،ج۱ص۱۹
  15.  الطبری ،ابو جعفر ،محمد بن جریر بن رستم،قم ،موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ ،ص۸۱
  16.  ایضا
  17.  الطبری ،ابو جعفر ،محمد بن جریر بن رستم ،بیروت ،موسسۃ الاعلمی للمطبوعات۱۴۰۸ھ،ص۴
  18.   ابن ندیم ، الفہرست ، ص۳۲۷
  19.  البابابی ،اسمعاعیل بن محمد امین ،ھدیۃ العارفین ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی،ج۲ ص۲۷۱
  20.  ابن ساعی ،علی بن انجب،الدر الثمین ،تیونس ،دار الغرب الاسلامی ۱۴۳۰ھ،ص۹۴


شخصیات

Flag Counter