نومبر ۲۰۲۰ء

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیر

― محمد عمار خان ناصر

مذاہب کی روایت میں مختلف قسم کے اعتقادی وعملی اختلافات کا پیدا ہونا تاریخ کا ایک معمول کا عمل ہے جس سے کوئی مذہبی روایت مستثنی ٰ نہیں۔ ان اختلافات میں مستند اور غیر مستند عقیدہ وعمل کی تعیین کی بحثیں بھی فطری ہیں اور ہر مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔ تاہم گروہی شناخت کے نقطہ نظر سے یہ اختلافات دو میں سے ایک شکل اختیار کر سکتے ہیں اور اس کی مثالیں بھی کم وبیش ہر مذہبی روایت میں موجود ہیں۔ کسی ایک شکل کی تعیین کا عمل اصلا اختلاف کی نوعیت اور مختلف تاریخی عوامل کے تحت ہوتا ہے، جبکہ اعتقادی اور مذہبی بحثوں کا کردار اس میں ضمنی اور ثانوی ہوتا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷٠)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(219) سورة الصافات کی قسموں کا ترجمہ۔ سورة الصافات کے شروع میں تین صفتوں کو مقسم بہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان صفتوں کا موصوف ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں، اس سلسلے میں مختلف رائیں ہیں، تاہم مشہور رائے یہ ہے کہ موصوف ملائکہ یعنی فرشتے ہیں۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اسی سورہ کے آخر میں فرشتوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا گیا جس میں انھی صفات کو ترتیب اور الفاظ بدل کر ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا: وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ۔ (الصافات: 164-166) اہم بات یہ بھی ہے کہ شروع...

تدبرِ کائنات، اسلامی ایمانیات اور قرآنِ مجید کا طریقِ استنباط

― مولانا محمد عبد اللہ شارق

یہ کائنات اسلامی ایمانیات کی ایک نہایت محکم ومکمل دلیل ہے اور اسلامی دعوت وپیغام کی صداقت وحقانیت کے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے، نیز جب کسی فرد پر کائنات کی یہ گواہی منکشف ہوتی ہے تو کائنات کا ہر ایک ذرہ اور ہر ایک رنگ اس کے لیے ایمان کی تقویت کا زبردست ذریعہ بنتا ہے، ہمارا مقصود اپنی اس تحریر میں اسی موضوع کے حوالہ سے کچھ معروضات پیش کرنا ہے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ کہ کائنات کی اس شہادت کو پورا پورا سمجھنے کی توفیق انسان کو عموما انبیاء کی دعوت سننے اور تدبرِ کائنات کا صحیح منہج انہی سے سیکھ لینے کے بعدملتی ہے۔...

مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو پورے ملک میں مساجد و مدارس اور...

شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہ

― ڈاکٹر اختر حسین عزمی

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے اکتوبر ۲۰۲۰ کے شمارے میں جناب مولانا زاہد الراشدی کا شیعہ سنی کشیدگی کے تناظر میں یہ فرمانا بہت ہی گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے: ’’ہمارا اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرامؒ و اہلبیت عظام کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ و جذبات کا تحفظ کریں، اسی طرح ہماری یہ بھی ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے ہر قیمت پر بچائیں۔‘‘ ان کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ ایسا...

امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعہ ابن جریر اور اس کی تاریخی حقیقت شیعہ کتب کی روشنی میں۔ اہلسنت کی کتب کی روشنی میں درج بالا بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ابن جریر شیعہ کی شخصیت محض "افسانوی" ہے، ابوعثمان المازنی کے ایک شاگرد ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری کو ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری بنا دیا گیا ۔اور اس بے چارے کے ذمے ایسی کتب لگ دی گئیں ،جن کا ذکر کتب رجال سے لیکر فہارس الکتب تک ان (ابو عثمان المازنی کے شاگرد)کے حالات میں نہیں ملتا ۔اسی وجہ سے شیعہ کتب میں بھی ابن جریر کے ذکر کے حوالے سے خاصا تضاد پایا جاتا ہے ،ہم پہلے اس تضاد کا ذکر کرتے ہیں ،پھر اس تضاد...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۲)

― ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

3.4۔توحید کا چوتھا درجہ: توحید وجودی۔ اب توحید کے چوتھے درجے کی بات کرتے ہیں جس پر سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور جسے غامدی صاحب نے کفار و مشرکین جیسا عقیدہ قرار دے کر عظیم ضلالت قرار دیا ہے۔ علم کلام کے مباحث میں اس درجہ توحید کی گفتگو کو "توحید وجودی" (Existential Unity) کا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کی متعدد تشریحات پائی جاتی ہیں جن میں دو اہم تر ہیں: ایک کو "مشاہداتی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے اعتبارات سے قائم ہونے والی وحدت ہے۔ دوسری کو "وجودی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے تناظرات سے ماوراء برقرار رہنے والی وحدت کا دعوی ہے۔ یہ تمام تفصیلات...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter