ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۲)

ابو الاعلیٰ سید سبحانی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے علمی دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور اجتماعی زندگی بھی گزاری اور خاص طور پر ہندوستان کی اسلامی تحریک میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔  ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی کے سلسلہ میں نہ صرف فکرمند رہا کرتے تھے بلکہ ملت کو درپیش اہم مسائل اور چیلنجز پر بہت ہی واضح اور جرأتمندانہ موقف بھی رکھتے تھے۔  ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی سے متعلق ایک واضح پروگرام اور نقشہ کار رکھتے تھے، اور اس کا اظہار مختلف مواقع پر بہت ہی شدومد کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صدیقی کا مزاج شروع سے علمی اور فکری محاذ پر کام کرنے کی طرف مائل رہا، اور علمی وفکری محاذ پر وہ بہت ہی ڈائنامک انداز میں کام کرتے رہے، البتہ عملی قیادت اور نظم وانتظام کا کام ان کے مزاج سے بہت زیادہ ہم آہنگ نہیں تھا، چنانچہ وہ تحریک اسلامی میں بھی اور دوسرے ملی پلیٹ فارمس پر بھی زمینی قیادت کا حصہ کبھی نہیں بن سکے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی اپروچ عام تحریکی مفکرین اور مصنفین سے کافی مختلف ہوا کرتی تھی، عملی زندگی میں بھی وہ بہت کشادہ اور وسیع الظرف واقع ہوئے تھے اور فکری وعلمی محاذ پر بھی، اس کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے والد محترم بہت علم دوست بھی تھے اور بہت کشادہ ظرف بھی۔ ان کے یہاں ابوالکلام آزاد کے”البلاغ“اور”الہلال“بھی آتے تھے، اور مولانا اشرف علی تھانوی کا”التبلیغ“بھی آتا تھا، اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا”ترجمان القرآن“بھی آتا تھا۔ اس زمانے میں سیرت کمیٹی لاہور کا ترجمان”ایمان“کافی مقبول تھا، یہ مجلہ آپ کے یہاں بڑی تعداد میں آتا تھا اور شہر بھر میں تقسیم کیا جاتا تھا۔

ڈاکٹر صدیقی نے بہت کم عمری سے مختلف مکاتب فکر سے استفادہ کا جو مزاج پایا تھا وہ آخری عمر تک باقی رہا۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں اور خاص طور پر خطوط کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے نہ صرف استفادہ کرتے تھے بلکہ ان سے ایک گہرا تعلق بھی رکھتے تھے۔

جماعت اسلامی سے وابستگی سے قبل آپ کچھ دن مسلم لیگ کی طلبہ تنظیم”مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن“سے بھی وابستہ رہے اور کچھ دن علامہ عنایت اللہ مشرقی کی خاکسار تحریک کی طرف بھی میلان رہا۔

والد محترم کی ذاتی لائبریری میں ماہنامہ ترجمان القرآن سے مستقل استفادہ کے نتیجے میں مولانا مودودی کی تحریروں سے آپ پہلے سے واقف تھے اور ان سے مستقل استفادہ بھی جاری تھا، البتہ 1946 کے آس پاس آپ کچھ مقامی افراد کی کوششوں سے جماعت اسلامی کی مقامی یونٹ گورکھپور سے جڑ گئے اور پھر جماعت اسلامی کی فکر اور تحریک کے لیے مکمل طور پر یکسو ہوگئے۔ چند سال بعد 1950 میں رکن ہوئے، اور پھر تادم زیست جماعت اسلامی سے وابستہ رہے، البتہ عمر کے آخری مرحلہ میں امریکی شہریت کا حامل ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی ہند میں ان کی رکنیت برقرار نہ رہ سکی، جس کا انہیں آخر تک شدید صدمہ تھا۔

مولانا مودودی کے ساتھ خط وکتابت:

مولانا مودودی علیہ الرحمہ سے آپ کی خط وکتابت کا آغاز 1944 کے اواخر یا 1945 کی ابتدائی تاریخوں میں ہوا، اور مولانا مودودی کی وفات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ موجود ریکارڈ کے مطابق آپ کے نام مولانا مودودی کا پہلا خط 28جنوری 1945 کا ہے، اور آخری خط 6 مئی 1979 کا ہے۔ ان خطوط سے مولانا مودودی علیہ الرحمہ اور ڈاکٹر صدیقی علیہ الرحمہ کی قربت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا مودودی ڈاکٹر صدیقی کی بات کو کس قدر سنجیدگی سے سنتے تھے۔ ان خطوط میں فکر اسلامی اور تحریک اسلامی سے متعلق بہت سی اہم اور منفرد باتوں کی وضاحت ہے۔ مثلاً 4 جولائی 1962 کو ایک خط کے جواب میں مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں:

”آپ کے نقطہ نظر کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں اور جس حد تک اپنی اخروی ذمہ داری کو ملحوظ رکھتے ہوئے لبرلزم برت سکتا ہوں برتتا بھی ہوں۔ لیکن پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ حالات کو جس رخ پر جاتے دیکھ رہا ہوں اس کی بنا پر کوئی ایسی بات کرتے ہوئے میری روح کانپ جاتی ہے جو بے لگام اجتہادات کا دروازہ کھولنے کی ذمہ داری میں مجھے شریک کردے۔ میرا خیال یہ ہے کہ میری اس احتیاط کی روِش سے جو نقصان ہوسکتا ہے اس سے بہت زیادہ نقصان یہ احتیاط ملحوظ نہ رکھنے سے ہو جائے گا۔ گاڑی بہت گہرے نشیب کی طرف جار ہی ہے۔ بر یک ڈھیلا کرتے ہی سیدھی کھڈ میں جاگرے گی۔“(اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 29)

مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی کئی کتابوں کو اشاعت سے قبل دیکھنے کے بعد ان پر تفصیلی نوٹس دیے اور بعض کے سلسلہ میں اصولی رہنمائی فرمائی، خطوط کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ”غیرسودی بینک کاری“،”شرکت ومضاربت کے شرعی اصول“اور”معاصر اسلامی فکر“مولانا مودودی نے اشاعت سے قبل دیکھی تھیں، اور ان کے تعلق سے کسی نہ کسی صورت میں اپنی رائے کا اظہار بھی کیا تھا۔”شرکت ومضاربت کے شرعی اصول“نامی کتاب کے تعلق سے مولانا مودودی نے جو اصولی رائے دی تھی، وہ کچھ اس طرح تھی:

”اس مسئلہ میں قانون کا ڈھانچہ تو حنفی ہی رہنا چاہیے۔ البتہ جہاں حنفی مسلک سے کام نہ چلتا ہو وہاں ائمہ اربعہ میں سے کسی کے مسلک کو اختیار کرلیا جائے اور اسے اختیار کرنے کے حق میں مضبوط دلائل دے دیے جائیں۔ اگر چاروں مذاہب سے بھی کام نہ چلے تو پھر بدرجہ آخر دوسرے ائمہ مجتہدین کے جو اقوال کتابوں میں ملتے ہیں ان میں سے کسی کو اختیار کر لیا جائے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 45)

جمال عبدالناصر نے اخوان المسلمون پر آزمائشوں کے سخت پہاڑ توڑے تھے، اخوان پر پابندی، سید قطب اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی اور نہ جانے کتنے دل دوز واقعات اس کے عہد حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں، جمال عبدالناصر کا انتقال ہوا تو اُس وقت بعض سیاسی مجبوریوں کے تحت مولانا مودودی نے بھی ایک تعزیتی پیغام جاری کردیا تھا، اس تعزیت کے سلسلہ میں فطری طور پر تحریک سے متعلق دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صدیقی کو بھی سخت اعتراض ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر صدیقی کے ایک خط کے جواب میں 10 اکتوبر 1970 کو مولانا مودودی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یہاں کے حالات اس کے مقتضی تھے کہ چند محتاط الفاظ میں صدر ناصر کی وفات پر تعزیت کا تار دے دیا جائے۔ یہاں جن گروہوں سے ہمیں سابقہ درپیش ہے وہ میری خاموشی کو ایک نئے مخالفانہ پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 48)

1972 میں ڈاکٹر صدیقی ایک پروگرام کے تحت امریکہ گئے، وہاں سے بھی مولانا مودودی کے ساتھ آپ کی ایک اہم خط وکتابت ہوئی، اس دوران مولانا مودودی نے ڈاکٹر صدیقی کے نام اپنے خط میں مغربی ممالک کے تناظر میں تحریک اسلامی کی کچھ اہم ضرورتوں اور وہاں موجود مسلمانوں سے متعلق کچھ اہم پہلووں کی نشاندہی کی، اورڈاکٹر صدیقی سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں موجود مسلم طلبہ ونوجوانوں کی اس سلسلہ میں ذہن سازی کی کوشش کریں، لکھتے ہیں:

”امر یکہ اور کینیڈا میں مسلمان نوجوانوں کی ایک بہت اچھی اور کارآمد طاقت جمع ہے۔ان لوگوں سے مل کر انہیں اس بات پر آمادہ کیجیے کہ ہندوستان وپاکستان اور فلسطین کے مسائل پر محض غم و غصے سے کام نہیں چل سکتا۔ اور نہ ہی ساری قوتیں اور وسائل انہی مسائل پر صرف کردینا مناسب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی قوتوں اور وسائل کو جمع کر کے ایک ایسا نظام بنائیں جو ایک طرف تحقیقی مواد (اسلام کے متعلق بھی اور مسلمان ملکوں کے مسائل کے متعلق بھی) مر تب کرے۔اور دوسری طرف ان چیزوں کی اشاعت کا بھی انتظام کرے۔جب تک خود اپنا کوئی دارالاشاعت نہ بنالیا جائے کام نہیں چل سکے گا۔ کیونکہ امریکہ اور کینیڈا کے اشاعتی وسائل ہمارے ساتھ تعاون تو در کنار تجارتی بنیاد پر بھی معاملہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو سکیں گے۔ یہی حال یورپ کا بھی ہے، لندن میں ایک مستقل مرکز تحقیق و اشاعت قائم ہونا چاہیے جو یورپ میں اس کام کو انجام دے“۔(حوالہ سابق، صفحہ 50)

نئے ہندوستان میں نیا رخ اور نیا طریقہ کار:

تقسیم ہند کے بعد 1948 میں ہندوستان میں جماعت اسلامی ہند کے نام سے جماعت اسلامی کی تشکیل نو تو ہوگئی، نئی قیادت اور نیا سسٹم بھی وجود میں آگیا، لیکن ذہن وہی رہا جو تقسیم سے پہلے کے ماحول میں تیار ہوا تھا، اور لٹریچر بھی وہی رہا جو تقسیم سے پہلے وجود میں آیا تھا۔ یہ لٹریچر ایک قسم کی منفی ذہنیت اور موجود نظام حکومت کے بائیکاٹ کا مزاج فروغ دے رہا تھا، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تحریروں میں اس لٹریچر اور اس مزاج کو شدید انداز میں رد کرنے اور ہندوستان کے تناظر میں ازسرنو اپنی پوزیشن طے کرنے پر خاصا زور دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جہاں انہوں نے دیگر علماء اور مفکرین کے نام خطوط لکھے، ان کے ساتھ مختلف مواقع پر مباحثے کیے، وہیں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک بہت دوٹوک خط مولانا مودودی کے نام بھی لکھا تھا، یہ خط قدرے طویل ہے، البتہ اس کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ڈاکٹر صدیقی 14اکتوبر 1972 کو مولانا مودودی کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں:

”اپنے ملک کی نسبت سے تحریک اسلامی کے مفادات ومصالح ملک کے موجودہ نظام سے کنارہ کشی یا بے تعلقی کی بجائے ایک ایجابی رویہ اور شرکت کے متقاضی نظر آتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارا اصل کام دعوت کا کام ہے اور اس کی خاطر مسلمانوں کی اصلاح و تربیت مطلوب ہے۔ تحریک اسلامی کی علمبر دار مسلم اقلیت کاRole یہی ہو سکتا ہے کہ وہ برادران وطن کو اسلام سے روشناس کرائے۔ اپنے حسن عمل سے اسلام کی خوبیوں پر گواہ بن کر رہے اور ساتھ ہی ملک کی معاشرت، معیشت، سیاست سب کی تشکیل میں اسلامی قدروں کے قبول اور فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ یہ کام شرکت اور فعال طریقہ سے موجودہ نظام کو اپنے لیے قوت اور سماجی اثر حاصل کرنے کا ذریعہ بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ کنارہ کشی سے ربط عام اور موثر طریقہ پر ربط کے مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ ظاہر ہے کہ سارے مسلمان اجتناب وبے تعلقی کے طریقہ پر عمل کر ہی نہیں سکتے، چنانچہ تحریک کااس موقف پر اصرار مسلمانوں سے بھی علیحدگی کا سبب بنتا ہے۔ جس زمانہ میں ہمارے لٹریچر میں اس موقف کے حق میں لکھا گیا تھا اس وقت متحدہ ہندوستان کا سیاسی مستقبل زیر بحث تھا۔ اس بحث میں اسلامی نقطہ نظر کی ترجمانی اور اس سیاق میں اس وقت کے نظام کے سلسلہ میں رویہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اب وہ سیاسی مسئلہ ایک خاص طور پر طے پاچکا اور ہم تاریخ کے ایک مختلف مرحلہ میں داخل ہو چکے۔ اس مرحلہ میں دعوت اسلامی اور اس کے تقاضوں کو ہی نظام وقت کی طرف سے ہمارے رویہ کی تشکیل کرنا چاہیے نہ کہ ہمارے سابق موقف کو۔ میں اس مسئلہ میں آپ کی رائے اس لیے جاننا چاہتا ہوں کہ سابق موقف آپ ہی کا بیان کیا ہوا ہے۔ اور اکثر سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کیا آپ اس پوری بات کو ہر ملک ہر زمانہ ہر حالت کے لیے کی گئی بات کا درجہ دیتے ہیں یا نئے حالات میں از سر نو سو چنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ چونکہ دنیا کے بہت سے ان ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں تحریک اسلامی کی داغ بیل پڑ رہی ہے اس لیے اس مسئلہ پر رائے قائم کرنے کی ایک اصولی اہمیت بھی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ہر جگہ ہمارے کارکن نظام وقت سے اجتناب کو اس معنی میں ضروری سمجھتے رہے جیسا کہ ہم نے ہندوستان میں سمجھا تو وہ وسائل سے محروم، بے اثر اور عام زندگی سے کٹ کر رہ جائیں گے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 51-52)

اس خط کے جواب میں مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے جہاں کئی اہم اصولی باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، وہیں ایک اہم اور اصولی بات یہ بھی کہی کہ

”ان تمام مختلف حالات میں چند بنیادی اصول تو یکساں رہیں گے لیکن ہر جگہ کے حالات کے لحاظ سے عملی طریقوں میں فرق کرنا پڑے گا۔ میں نے جو کچھ بھی لکھ دیا ہے اس کو تمام حالات کے لحاظ سے اگر حرف آخر سمجھ لیا گیا تو بے شمار مشکلات پیدا ہوں گی“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 55)

اسلامک ریسرچ سرکل اور اسلامک تھاٹ کا آغاز:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم ثانوی درسگاہ سے فارغ ہوئے تو ثانوی درسگاہ کے اپنے ساتھیوں اور کچھ دوسرے تحریکی  رفقاء کے ساتھ مل کر”اسلامک ریسرچ سرکل“کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے ڈائرکٹر مولانا صدر الدین اصلاحی مرحوم بنائے گئے اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہوئے۔ اس ادارے کا ایک اہم مجلہ”اسلامک تھاٹ“کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے ایڈیٹر سید زین العابدین صاحب تھے اور معاونین میں ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم، ڈاکٹر عرفان احمد خان مرحوم (شکاگو) اور ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی مرحوم تھے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم اس ادارے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

”ہمارا مقصد تحریک اسلامی ہند کے لیے افکار تازہ کی تلاش وجستجو تھا، ہم نے نئے انداز پر سوچنے کی دعوت دی، اور الحمدللہ یہ رسالہ کافی مقبول ہوا“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، نومبر 2012)

تقریباً پندرہ سال کی اشاعت کے بعد یہ رسالہ بھی بند ہوگیا اور یہ ادارہ بھی نہیں چل سکا۔ ڈاکٹر صدیقی کہتے تھے کہ اس کے بند ہونے کی وجہ ہم ساتھیوں کا یکے بعد دیگرے مختلف ممالک کی طرف منتقل ہوجانا تھا۔

اسلامک تھاٹ کی فائیلیں آج بھی بعض جگہوں پر موجود ہیں، ان کا اس پہلو سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس زمانے میں تحریک کے ان تازہ دم نوجوانوں نے فکر اسلامی کے کن نئے پہلووں کو موضوع گفتگو بنایا تھا اور وہ کس قدر تحریک اسلامی ہند پر اثرانداز ہوسکے تھے۔

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری میں:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم 1964 میں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے اور تقریباً 1980 تک یعنی سعودی عرب منتقل ہونے کے دوسال بعد تک رکن شوری رہے۔

شوری میں ڈاکٹر صدیقی کا انداز فکر بہت ہی جداگانہ تھا، وہ کہتے تھے کہ مولانا مودودی نے انگریزوں کے زیر تسلط غیرمنقسم ہندوستان میں جو انداز فکر دیا تھا تقسیم کے بعد ہمارے ملک کی نوعیت، یہاں پر ہماری پوزیشن اور عالمی سطح پر تبدیل ہوتے حالات میں اس کو من وعن تسلیم کرلینا کسی طور پر مناسب نہ ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوری میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے رول اور کردار پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”تصنیفات کے ساتھ ساتھ، اس محاذ پر ان کا بڑا کنٹری بیوشن وہ کردار ہے جو وہ جماعت کی فیصلہ ساز مجالس میں ادا کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم اُس دستور ساز مجلس نمائندگان کے رکن تھے جس نے ملک کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی ہند کے پہلے دستور کو منظوری دی تھی۔ غالباً 1965سے بیرون ملک منتقلی تک وہ مسلسل مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ بیرون ملک منتقلی کے بعد بھی جماعت کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں وہ ممکنہ حد تک کنٹری بیوٹ کرتے رہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی نشستوں میں ان کی شرکت بھرپور تیاری کے ساتھ ہوتی تھی۔ شوریٰ کی رودادوں میں ان کے جو مقالات اور تجویزیں ملتی ہیں ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تجاویز اور مباحث کبھی بھی برجستہ یا محض ذاتی وجدان اور تجربے کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ وہ موضوع سے متعلق سنجیدہ تحقیق اور گہرے مطالعے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرتے۔ ان کی تقاریر بھی اور شوریٰ ودیگر مشاورتی محفلوں کی پیشکش بھی، ہمیشہ مکمل تحریری صورت میں ہوتی۔ تربیتی پروگراموں میں بھی ان کی تقریروں کا ڈرافٹ مکمل طور پر لکھا ہوا اور محنت سے تیار کیا ہوا ہوتا۔قرآن وسنت اور اسلام کی اساسیات کے ساتھ ساتھ، تحریک کی پالیسی سازی کے لیے انہوں نے معاصر علوم، سماجیات، سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے بھرپور استفادہ کیا۔ معاشیات تو ان کا اصل میدان تھا ہی۔ ان سنجیدہ کوششوں سے ہندوستان کی اسلامی تحریک کے لیے بدلے ہوئے حالات میں قابل عمل اور مفید لائحہ عمل کی تشکیل میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔“

ڈاکٹر حسن رضا جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری کے رکن ہیں، اور اسلامی اکیڈمی نئی دہلی کے چیئرمین ہیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ان سے میری پہلی تفصیلی ملاقات آج سے 45 برس پہلے بھوپال کے خصوصی اجتماع مئی1977 میں ہوئی تھی، جب انہوں نے اپنا قیمتی مقالہ”ہندوستان میں اقامت دین کی راہ“پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے پہلی دفعہ اقامت دین کی تشریح و تعبیر میں معاشرے کی تعمیر کی اہم کڑیوں سے سرسری گزر کر ریاست کی تشکیل کو اقامت دین کا مصداق سمجھ لیا جاتا ہے اس پر نقد کیا تھا، نیز سماجی قوت اور سیاسی قوت میں کیا رشتہ ہے، اخلاقی قوت اور سماجی قوت میں کیا تعلق ہے، نظریاتی انقلاب اور سیاسی انقلاب کا سفر کیسے طے پاتا ہے، قوت کے ذیلی مراکز پر اثرانداز ہونے کی کیا تدبیریں ہیں۔ان سب پر سیر حاصل بحث کی تھی۔اس وقت یہ باتیں جماعت اسلامی کے داخلی حلقوں میں تازہ افکار کا ایک خوشگوار جھو نکا معلوم نہیں ہوتی تھیں بلکہ بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے تحریک اسلامی کی آئیڈیالوجیکل بحث کی نشوونما میں کلیدی رول ادا کیا۔ مرکزی شوری کے اجلاس میں بھر پور تیاری سے وہ شریک ہوتے تھے۔ مولانا سید حامد علی مرحوم نے مجھ سے ایک دفعہ کہا تھا کہ ارکان شوری میں سب سے زیادہ مطالعہ اور ایجنڈے کے مطابق علمی تیاری کرکے نجات اللہ صدیقی آتے ہیں“۔

1977 میں ارکان جماعت سے ایک فکرانگیز خطاب:

1977 میں جماعت اسلامی ہند کے ارکان کے لیے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ایک بہت ہی فکرانگیز مقالہ لکھا تھا، یہ مقالہ پہلی بار عوامی استفادہ کے لیے ماہنامہ زندگی نو دسمبر 2022 کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مقالہ کا عنوان ہے”ملک کا موجودہ نظام اور تحریک اقامت دین“، اس مقالہ میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں اقامت دین کی راہ میں درپیش تین رکاٹوں کو بیان کرنے کے بعد اس تناظر میں تین نکاتی دعوتی پروگرام پیش کرتے ہیں، اور پھر”موجودہ نظام کے سلسلہ میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟“اس پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ اس مضمون کا آخری حصہ گرچہ کچھ طویل ہے، لیکن اس پوری بحث کا ایک اچھا خلاصہ کہا جاسکتا ہے، لکھتے ہیں:

”آخری بات یہ ہے کہ یہ محض خوش فہمی ہے کہ موجودہ نظام کے سلسلہ میں ہمارا رویہ آج بھی وہی ہے جو 1941 میں تاسیس جماعت کے وقت سوچا گیا تھا۔ حالات کے دباؤ، تحریک کے مصالح کے تقاضوں اور جزئی وقتی اجتہادات کے تحت لاتعداد جزئیات میں ہمارا رویہ بدل چکا ہے، جس سے اپنوں اور دوسروں کی نظر میں اب ہماری تصویر وہ نہیں رہ گئی ہے جو 1941 اور مابعد کے قریبی زمانہ میں تھی۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ صرف چند یہ ہیں:

ملازمت، جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا، عدالتی چارہ جوئی، حکومت کے انتظامیہ سے اپنے کاموں میں مدد چاہنا، حکومت کے انتظامیہ کو اپنا تعاون پیش کرنا، بنکوں میں حساب رکھنا یا ارکان حکومت اور ممبران مجالس قانون ساز سے ربط رکھنا، انتخابات میں رائے دہی کی مخالفت نہ کرنا۔ یہ آٹھوں مثالیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت بننے کے بعد ابتدائی چند برسوں تک ہمارا رویہ انتہائی شدید تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ مجھے اطمینان ہے کہ ایسا کسی کم زوری یا مداہنت کی علامت نہیں بلکہ ٹھیک ہوا۔ یہ ہماری مخصوص نفسیات ہے کہ ہم جزئی اجتہاد کر گزرتے ہیں مگر کلی اجتہاد اور رویہ کی تبدیلی سے، جس کے حالات متقاضی ہیں جھجکتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ جھجک خوف خدا کی وجہ سے کم ہے انسانوں کے خوف اور لومۃ لائم کے اندیشہ سے زیادہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مذکورہ بالا جزئی تبدیلیوں نے ہماری جماعت کو بھی اور عامۃ المسلمین کو بھی اس کے لیے پوری طرح تیار کر دیا ہے کہ ہم موجودہ نظام کے سلسلے میں اپنا رویہ بدل دیں اور وہ رویہ اختیار کرلیں جو میں نے تجویز کیا ہے۔ اگر مناسب افہام وتفہیم کے ساتھ ایسا کیا جائے تو نہ اس سے جماعتی صفوں میں کسی انتشار کا اندیشہ ہے نہ دوسرے مسلمان طبقوں کی طرف سے کسی دیر پا ناخوش گوار رد عمل کا“۔

انتخابات میں شرکت منصوص علیہ مسئلہ ہے یا مجتہد فیہ:

جماعت اسلامی ہند کی تاریخ میں جو مسئلہ سب سے زیادہ زیر بحث رہا وہ انتخابات میں شرکت کا مسئلہ تھا، اس مسئلہ پر بہت سی بزرگ اور قدآور شخصیات نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس مسئلہ پر جماعت میں کھل کر گفتگو کرانا چاہتے تھے کہ اس مسئلہ کی نوعیت کو طے کرلیا جائے کہ یہ مسئلہ منصوص علیہ ہے یا مجتہد فیہ ہے۔ اپریل 1986 میں مولانا ابواللیث اصلاحی صاحب ایک بار پھر امیر جماعت منتخب ہوئے، اس موقع پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے جدہ سعودی عرب سے مولانا ابواللیث صاحب کے نام ایک خط لکھا تھا، اس خط میں اس بات پر پورا زور دیا ہے کہ اس مسئلہ پر بحث ومباحثے کے بعد ایک نتیجہ تک پہنچنا اب بہت ضروری ہوگیا ہے، لکھتے ہیں:

”نئی میقات میں جماعت اسلامی ہند کی امارت کے لیے آپ کے ازسرنو انتخاب سے اطمینان ہوا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کی سر پرستی اور رہنمائی میں جماعت کو متحد رکھے اور باوجود صحت کی کمزوری کے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں آپ نے جس ذمہ داری کو قبول کیا ہے اس کی ادائیگی کی قوت و توفیق دے، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب اور مولانا یوسف صاحب کے آپ کے نام خطوط اور رودادِ شوری 1984-85 مجھے حال ہی میں ملے۔ان کے مطالعہ کے بعد مجھے اپنی اس سابقہ رائے اور تجویز کو دوبارہ آپ کے سامنے دوہرانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ کو ’رسالہ زندگی‘ میں کھل کر زیر بحث آنے کی نہ صرف اجازت دیجئے بلکہ اہتمام کیجئے۔ کیوں کہ مسئلہ کا ایک پہلو جو کسی وقت بھی جماعت کے اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے جوڑے رکھنے کے لیے آپ جیسی شخصیت نہ موجود رہ جائے، یہ ہے کہ بعض لوگوں کو فیصلہ کے مقررہ طریقوں پر اعتماد باقی نہیں رہ گیا ہے۔ بلکہ وہ اس کو اس طریقہ سے فیصلہ کیے جانے سے بالا وبرتر منصوص کا درجہ دیتے ہیں۔ جو پہلو ’زندگی‘ میں تحریروں کے ذریعہ منقح ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ منصوص علیہ ہے یا مجہتد فیہ۔ میں سمجھتاہوں کہ اگر مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب، مولانا عروج قادری صاحب وغیرہ کھل کر اس بحث میں حصہ لیں تو شاید یہ مسئلہ صاف ہو جائے اور اگر سب کو بشمول ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب، مولانا یوسف صاحب اور بعض ارکان جماعت اترپردیش، مسئلہ کی اجتہادی نوعیت پر اطمینان ہوجائے تو پھر ان کو اور سب کو اس اصل پر متحد رکھا جاسکتا ہے کہ وحی ورسالت کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد ہم انسان یہی کر سکتے ہیں، کہ فیصلہ کرنے کے شرعی طریقوں کا جنھیں ہم نے اپنے دستور میں درج کر رکھا ہے التزام کرتے ہوئے جب جو فیصلہ ہو جائے اس کے تحت جماعت کو چلائیں اور اس سے وابستہ رہیں“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 80)

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی انتخابات میں شرکت کے مسئلہ کو ایک اجتہادی مسئلہ قرار دیتے تھے، اور وہ کہتے تھے کہ اس مسئلہ کی نوعیت کا تعین بہت سے اختلافات کو ازخود ختم کردے گا۔

صحیح بات یہ ہے کہ بہت سی باتوں کو منصوص سمجھ کر لوگ ان سے اس طرح چمٹ جاتے ہیں کہ ان میں ذرا سی بھی تبدیلی گوارا نہیں کرتے۔ جماعت اسلامی کے نصب العین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حکومت الہیہ کے الفاظ کو تبدیل کرتے ہوئے اقامت دین کے الفاظ کو اختیار کیا گیا تو اس پر نہ جانے کتنے تنقیدی مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور یہ باور کرایا گیا کہ جماعت اپنے نصب العین سے انحراف کررہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک اسلامی اور سید مودودی کے یہاں اصل تصور دین ہے جو منصوص ہے۔ حکومت الہیہ یا اقامت دین کا لفظ اختیار کرنا ایک اجتہادی عمل ہے جو بہرحال تبدیلی کے امکانات رکھتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی اور رخ:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی تحریک اسلامی ہند کے پالیسی وپروگرام، رخ، طریقہ کار اور مستقبل کے سلسلہ میں ہمیشہ فکرمند رہا کرتے تھے، مولانا سراج الحسن صاحب اپریل 1999 میں تیسری بار امیر جماعت منتخب ہوئے، اس وقت ڈاکٹر صدیقی جدہ سعودی عرب میں مقیم تھے، وہاں سے آپ نے مولانا سراج الحسن صاحب کو ایک بہت ہی فکرانگیز خط لکھا، اس خط کا درج ذیل حصہ تحریک اسلامی ہند سے متعلق ڈاکٹر صدیقی کی پوری فکر کو بیان کردیتا ہے، لکھتے ہیں:

”آپ نے گزشتہ آٹھ سالوں میں تحریک کو جو نیار خ دیا ہے اس میں زیادہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے مسائل اور خیالات میں الجھنے اور ڈوبے رہنے کی بجائے پورے ملک کے لیے سوچنے اور کچھ کرنے کی جو رسم آپ نے ڈالی ہے اس میں مزید وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اصلا تو سب میں خدا کی پہچان پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن اکثر اوقات ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جن افراد سے ہم مخاطب ہیں ان کو غربت و افلاس، مرض اور جہالت نے ایسا توڑ دیا ہے کہ سر اٹھانے، بات سننے اور سوچنے کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ ایسی صورت میں ان کو صرف خطبے سنانا، اگر وہ پڑھ سکتے ہوں تو کتابیں دینا کارگر نہ ہوگا، ان کو حفظان صحت کی باتیں بتانا، علم سکھانا اور کوئی ہنر سکھا کر روزی کمانے کا راستہ دکھانا، دعوت کے تقاضوں میں سمجھا جانا چاہیے۔

میرا تاثر یہ ہے کہ جماعت کے بہت سے لوگ یہ بات سمجھتے تو ہیں مگر اس کو زبان پر لانا اپنی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں، بہرحال اس پر بات چیت ہونی چاہیے تا کہ عقل کی رہنمائی روایات کی پابندی کے مقابلہ میں اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے۔“(اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 332)

 کل ہند طلبہ تنظیم سے متعلق واضح موقف:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی جماعت اسلامی ہند کی دستوری سرپرستی میں کل ہند طلبہ تنظیم کے قیام کے حق میں نہیں تھے۔ ڈاکٹر صدیقی کہا کرتے تھے کہ

”سیمی کی سرپرستی چھوڑدینے کا نتیجہ اچھا نہیں رہا، وہ لوگ دوسروں کے بہکاوے میں آکر بھٹک گئے“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر 2011)

مرکزی مجلس شوری کی جانب سے جب ایس آئی او آف انڈیا کی تاسیس کا فیصلہ ہوگیا، اس وقت 18 اپریل 1982 کو نجات صاحب نے جدہ سعودی عرب سے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کے نام ایک طویل خط لکھا، جس میں اس فیصلے سے متعلق اپنے تحفظات کو تفصیل سے مدلل طور پر بیان کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:

”مذکورہ بالا عرضداشت کی روشنی میں میری تجویز ہے کہ مجوزہ تنظیم کے دستور میں جماعت کی سرپرستی کی وضاحت اور تعیین نہ کی جائے اور کسی لفظ سے بھی اس تنظیم کا رسمی طور پر جماعت سے منسلک ہونا نہ ظاہر ہو“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 76)

مسلم پرسنل لا کا مسئلہ

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ سے متعلق بہت ہی عملی اور حقیقت پسندانہ رائے رکھتے تھے، ڈاکٹر صدیقی کا ماننا تھا کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلووں کی اصلاح کا کام ملت کو خود بڑھ کر کرلینا چاہیے، اس سلسلہ میں متعدد اہم نکات کی طرف”معاصر اسلامی فکر“میں بھی اشارے موجود ہیں۔ 1985 میں شاہ بانو کیس کے بعد جس وقت ملک بھر میں مسلم پرسنل لا کو لے کر تحریک چل رہی تھی، اسی دوران 8 اگست 1985 کو ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کو ایک طویل خط لکھا تھا، جس میں واضح طور پر اپنے موقف کو پیش کیا تھا، لکھتے ہیں:

”اس وقت آئین کی دفعہ 44 اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلہ میں جو احتجاج کیا گیا اس سے اختلاف نہیں، مگر۔۔۔ ہر مسئلہ میں ہمیشہ صرف احتجاج سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ طویل المیعاد طور پر مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی موثر شکل یہی ہے کہ اس کے جن کمزور پہلووں کا ہمیں اعتراف ہے ان کمزوریوں کو دور کرلیا جائے“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 78)

1972 میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اس وقت ڈاکٹر صدیقی جماعت کی مرکزی مجلس شوری کے رکن تھے، لیکن اتفاق سے جس مجلس شوری میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اس میں آپ موجود نہیں تھے، غالبا اس وقت آپ امریکہ کے سفر پر تھے۔ اس موقع پر جماعت کی مرکزی مجلس شوری نے آپ کا نام مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ممبر کے طور پر تجویز کیا تھا، تاہم ڈاکٹر صدیقی نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی ممبرشپ لینے سے صاف انکار کردیا تھا، انہیں مسلم پرسنل لا کے مسئلہ اور اس کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے مسلم پرسنل لا بورڈ نامی ادارے سے بنیادی نوعیت کا اختلاف تھا۔ ڈاکٹر صدیقی اس قسم کی کسی بھی کوشش کو ملت کے حق میں ایک منفی اقدام تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بہت صاف طور پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ

”میں بورڈ کے حق میں نہ تھا، نہ ہوں اور نہ رہوں گا۔ ہم نے علی گڑھ میں پرسنل لا پر ایک بہت بڑا جلسہ کرایا تھا، اس میں مولانا علی میاں ندوی بھی شریک ہونے والے تھے، لیکن نہیں آ سکے، البتہ مولا نا منت اللہ رحمانی صاحب جو پرسنل لا کے روح رواں تھے، وہ آئے تھے۔ اس جلسہ میں ہم نے کہا تھا کہ ہم حکومت کو پرسنل لا میں دخل اندازی سے روک رہے ہیں، یہ ٹھیک ہے۔ تاہم بورڈ کی جانب سے اس سلسلہ میں ایسا قدم اٹھانا چاہیے کہ مسلم پرسنل لا آج کے مسلم معاشرہ کے لیے بامعنی بن جائے، لیکن ایک کام نہیں کیا گیا۔ جب جب حکومت کی جانب سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے، اس وقت یہ لوگ نیند سے بیدار ہوتے ہیں، اور شور مچانے لگتے ہیں کہ تم کون ہو مسلم پرسنل لا میں مداخلت کر نے والے۔ ظاہر ہے یہ انداز دنیا میں آگے بڑھنے کا نہیں ہے“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر2011)

مسلم پرسنل لا بورڈ نے اوّل روز سے خود کو احتجاج اور مظاہروں تک محدود رکھا، اور پھر 2014 میں ہندوستان کے سیاسی حالات تبدیل ہونے کے بعد رہی سہی آواز بھی دب کر رہ گئی، تین طلاق کے خلاف ایک جارحانہ قانون نافذ کیا گیا، کامن سول کوڈ پر پہلے ملک کی مختلف ریاستوں میں اور اب مرکزی سطح پر قانون سازی کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم جماعتیں اور ادارے اب اس پوزیشن میں بالکل بھی نہیں رہے کہ کوئی ملک گیر مہم چلاسکیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلووں کی اصلاح کا کام کرنے کی ضرورت جتنی پہلے تھی،اتنی ہی یا اس سے کہیں زیادہ، آج بھی ہے۔

مسلم مجلس مشاورت کی گولڈن جبلی

مسلم مجلس مشاورت کی تاسیس 8اگست 1964 میں ہوئی تھی، اس کے تاسیسی ممبران میں مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا منظور نعمانی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا محمد مسلم، وغیرہ ملک کی نمائندہ شخصیات شامل تھیں، ایک زمانے میں یہ ادارہ ملت اسلامیہ ہند کا ایک نمائندہ ادارہ مانا جاتا تھا، ملک کی تقریبا تمام ہی تنظیمیں اور جماعتیں اس فیڈریشن کا حصہ تھیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم مسلم مجلس مشاورت کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔31 اگست 2015 میں مسلم مجلس مشاورت کا گولڈن جوبلی پروگرام رکھا گیا تھا، جس کا افتتاح نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری صاحب نے کیا تھا، اس پروگرام میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ”حاصل زندگی“ کے نام سے ایک پیغام پیش کیا تھا، اس پیغام کے کچھ خاص نکات درج ذیل تھے:

٭    ہم سب بڑے چیلنجز سے دو چار ہیں۔ ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے ماضی کی طرف لوٹنا چاہیے،سوچتے ہیں کاش! ہم اپنا شاندار ماضی پھر سے واپس لاسکتے!مگر میں اس سوچ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ وجہ یہ ہے کہ آج ہم جس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں وہ ان مسائل سے بالکل مختلف ہیں جن سے ماضی میں سابقہ پیش آیا تھا۔نئے انداز سے سوچنا ضروری ہے۔

٭    تعجب اس بات پر ہے کہ اِس فضا میں بھی کچھ لوگ ساری دنیا کو اسلام کی طرف بلانے اور دعوتی کام کو اپنا مشن بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا ردِّعمل کیا ہوتا ہے کہ آپ جس چیز کو اپنی مخصوص شناخت بنائے ہوئے ہیں اسی کی طرف ساری دنیا کو لانے پر مصر ہوں۔ مجھے تو یہ طریقہ موجودہ فضا میں اس حکمت کے خلاف معلوم ہوتا ہے جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔۔۔ خاکساری اور تواضع کے ساتھ ہم ان مشکلات کو دور کرنے میں انسانوں کا ہاتھ بٹائیں جن سے آج ہر کس و نا کس پریشان ہے۔ مسائل تو اَن گنت ہیں مگر میں خاص طور پر تین طرح کے مسائل کا ذکر کروں گا:(۱)بدلتی آب وہوااور ماحولیاتی عدم توازن(۲) نظامِ زر، بینک کاری اور فنانس (۳)خاندان اور سماجی رشتے۔زندگی کے ان دائروں میں تباہی اور انحطا ط کی رفتار اتنی تیز ہے، اتنی گہرائی تک جاپہنچی ہے اور ساری دنیا پر اس طرح چھا گئی ہے کہ جو بھی ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے آگے بڑھے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ میرے خیال میں پرانے انداز کی جگہ خدمتِ انسانیت کے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی روِش اختیار کرنا چاہیے۔ اسلام کی ان تعلیمات کا چرچا کرنے کی ضرورت ہے جو اختیار کی جائیں تو مشکل حل ہو سکتی ہے۔ ان قدروں اور رویوں کی بات ہونی چاہیے جو اپنائی جائیں تو ایسے سماجی ادارے جنم لے سکتے ہیں جو انسانوں کو اس مخمصے سے نجات دلا سکیں۔

٭    حالات آپ کی پیش قدمی کے منتظر ہیں بشرطیکہ آپ ہمت دکھائیں۔احتجاج،مطالبے،شکایتیں، سب کا اپنا وقت تھا جو گزر گیا۔ نصف صدی قبل ہمارے بزرگوں نے مسلم مجلسِ مشاورت خیر سگالی کی مہم چلانے کے لیے قائم کی تھی،سارے ملک میں وفود بھیجے تھے۔پھر وقت آگیاہے کہ ہم خدمتِ انسانیت اور تعمیرعالم میں شریک کار بن کر سامنے آئیں۔

(جاری)

شخصیات

(جنوری ۲۰۲۳ء)

تلاش

Flag Counter