حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کے چند پہلو

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا اور میں آج اسی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو بخاری شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔

جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مکہ والوں کے مظالم اور اذیتیں حد سے بڑھ گئیں اور بہت سے خاندان نبی کریمؐ کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ایک موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے بھی حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کا ارادہ کر لیا اور آنحضرتؐ سے اجازت بھی حاصل کر لی۔ سامان سفر تیار کر کے ہجرت کے لیے روانہ ہو گئے اور دو تین روز کا سفر بھی کر لیا کہ راستہ میں معروف عرب قبیلہ بنو قارہ کے سردار ابن الدغنہ نے انہیں پہچان لیا اور پوچھا کہ کدھر جا رہے ہو؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگوں نے ان کے لیے وہاں رہنا مشکل بنا دیا ہے اس لیے وہ دیگر بہت سے ساتھیوں کی طرح وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ابن الدغنہ نے کہا کہ نہیں آپ ایسا نہیں کریں گے ’’مثلک لا یَخرج ولا یُخرج‘‘ آپ جیسا شخص نہ شہر چھوڑ کر جاتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جاتا ہے۔ اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کو کما کر دیتے ہیں، بوجھ والوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور ناگہانی آفات و حادثات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

یہ وہی جملے ہیں جو غار حرا کے واقعہ کے بعد نبی اکرمؐ کو پیش آنے والی سخت گبھراہٹ میں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کو تسلی دینے کے لیے کہے تھے، اور اس حوالہ سے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ نبوت اور خلافت کا مزاج ایک ہی تھا۔ ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ مکہ مکرمہ واپس چلیں، میں قریش والوں سے خود بات کرتا ہوں اور آپ میری امان اور ضمان میں رہیں گے۔

حضرت ابوبکرؓ اس کی تسلی اور ضمانت پر واپس آ گئے جبکہ ابن الدغنہ نے قریش کے سرداروں کے پاس جا کر بات کی اور کہا کہ ابوبکرؓ جیسے سماجی خدمت گزار کو شہر چھوڑ دینے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے اس لیے میں انہیں راستہ سے واپس لے آیا ہوں اور اب وہ میری امان میں یہیں رہیں گے۔ قریش کے سرداروں کے لیے ابن الدغنہ کی اس ضمانت کو مسترد کرنا مشکل تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے مگر ہماری بھی ایک شرط ابوبکرؓ سے منوائیں کہ مذہبی سرگرمیاں کھلے بندوں جاری نہیں رکھیں گے اور گھر کی چار دیواری کے اندر ہی جو کچھ کرنا ہے کریں گے، اس لیے کہ ان کا عام جگہوں پر نماز اور قرآن کریم پڑھنا ہماری عورتوں اور بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ابن الدغنہ نے یہ بات حضرت ابوبکرؓ کے پاس آ کر کہہ دی اور انہیں پابند کیا کہ وہ نماز، قرآن کریم اور جو کچھ بھی کرنا ہے گھر کے اندر کریں گے اور کھلے بندوں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ بات قبول کر لی اور اپنی مذہبی سرگرمیوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر محدود کر لیا۔ مگر زیادہ دن ایسا نہ کر سکے کہ نماز پڑھنا اور قرآن کریم کی تلاوت گھر کی چار دیواری کے اندر ان کو گوارا نہ تھی اس لیے کچھ دنوں کے بعد انہوں نے گھر کے دروازے سے باہر کھلے میدان میں ایک تھڑا بنا لیا جو مصلّٰی تھا اور امام بخاریؒ نے اسے اسلام میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اس مسجد میں نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔ اردگرد آبادی کی عورتیں اور بچے ایسے موقع پر جمع ہو جاتے اور انہیں عبادت کرتا دیکھتے۔ حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب بزرگ تھے، قرآن کریم پڑھتے ہوئے انہیں آنکھوں پر قابو نہ رہتا اور دیکھنے والے ان کی اس کیفیت سے متاثر ہوتے۔

یہ صورتحال قریش کے سرداروں کے لیے قابل برداشت نہیں تھی، انہوں نے پیغام بھیج کر ابن الدغنہ کو مکہ مکرمہ بلایا اور کہا کہ حضرت ابوبکرؓ نے تمہارے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری نہیں کی جبکہ ہمیں ان کا کھلے بندوں نماز و قرآن پڑھنا گوارا نہیں ہے، اس لیے یا تو ابوبکرؓ کو اس طے شدہ بات پر پابند کرو اور اگر وہ اس پابندی کو قبول نہیں کرتے تو تم اپنی ضمانت ختم کرنے کا اعلان کر دو کیونکہ ہم تمہاری ضمانت و امان کی خلاف ورزی کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس پر ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے بات کی اور چاہا کہ وہ اس کی امان کو اس پہلی شرط کے مطابق برقرار رکھیں جس سے انہوں نے انکار کر دیا اور ابن الدغنہ سے کہا کہ وہ اس کی امان اور ضمانت واپس کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی امان کو پسند کرتے ہیں اس لیے وہ خود کو گھر کی چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس پر وہ معاہدہ ختم ہو گیا۔

اس تاریخی واقعہ میں ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر ہمیں غیر مسلم قوموں کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کرنا پڑ گیا ہے جس سے ہم اپنے شرعی فرائض و احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین ہی کو مقدم رکھنا چاہیے اور اس قسم کے معاہدات پر نظرثانی کا ماحول پیدا کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے ابن الدغنہ کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کا ماحول پیدا کر کے معاہدہ پر نظرثانی کی راہ ہموار کی تھی اور اس کے نتیجے میں نماز کی ادائیگی اور قرآن کریم کی کھلنے بندوں تلاوت پر پابندی لگانے والے یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا۔ ہمارے خیال میں اسلامی احکام و قوانین سے متصادم بین الاقوامی معاہدات کی جکڑبندیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یہ اسوہ مبارکہ صحیح سمت ہماری راہنمائی کرتا ہے۔

حضرت صدیق اکبر اور اختلاف رائے

رائے کا اختلاف فطری بات ہے۔ جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی، وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے۔

پہلا اختلاف جو بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کو خلافت کا منصب سنبھالتے ہی جن گروہوں اور قبائل کی طرف سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں مرتدین اور منکرین ختم نبوت کے علاوہ ایک گروہ منکرین زکوٰۃ کا بھی تھا جس کے سربراہ کا نام مالک بن نویرہ بتایا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کو اس گروہ کے خلاف جہاد میں اشکال تھا کہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں اور دین کی باقی سب باتیں مانتے ہیں صرف زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف سختی نہیں کرنی چاہیے۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر دونوں بزرگوں میں مباحثہ ہوا، حضرت ابوبکرؓ نے بڑا ہونے کے ناتے سے حضرت عمرؓ کو سخت لہجے میں جواب بھی دیا اور اپنے موقف پر قائم رہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اسی طرح شرح صدر عطا فرمایا جیسے حضرت ابوبکرؓ کو شرح صدر ہو گیا تھا۔

دوسرا اختلاف قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنے کے حوالہ سے ہوا کہ مختلف جنگوں میں حافظ قرآن صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادتوں کی خبریں آنے پر حضرت عمرؓ کو قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں خدشہ اور خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے خلیفۂ رسولؐ کو تجویز دی کہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب کرا کے محفوظ کرا لینا چاہیے، جس سے حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر یہ ضروری ہوتا تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتے، جب انہوں نے نہیں کیا تو میں بھی اسے ضروری نہیں سمجھتا۔ مگر بعد میں حضرت ابوبکرؓ اس کے لیے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ پر عمرؓ کی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا ہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دے کر قرآن کریم کو کتابی صورت میں لکھوا کر محفوظ کر دیا گیا۔

تیسرا اختلاف بیت المال سے وظائف تقسیم کرنے کے معاملہ میں ہوا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اتھارٹی تھے اور آپؐ کا ارشاد ہی قانون ہوتا تھا اس لیے اس دور میں کوئی اشکال کی بات نہیں تھی، مگر آپؐ کے بعد بیت المال سے لوگوں کو وظائف دینے کے بارے میں اصول اور قانون طے کرنے کی ضرورت تھی جس پر حضرت عمرؓ نے رائے دی کہ معاشرہ میں جو درجات فضیلت و مرتبہ کے حوالہ سے ہیں ان کے حوالہ سے وظائف کی تقسیم میں درجہ بندی کی جائے اور مختلف گریڈ طے کر کے اس کے مطابق وظائف دیے جائیں۔ مگر حضرت ابوبکرؓ نے یہ رائے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ معیشت کا معاملہ ہے اور حقوق کی بات ہے اس میں برابری کا اصول ہی چلے گا۔ ان کا ارشاد یہ ہے کہ ’’وھذا معاش فالاسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘۔ یہ معاش کا مسئلہ ہے اس میں برابری کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ انہوں نے کسی قسم کی درجہ بندی کیے بغیر اپنے اڑھائی سالہ دور خلافت میں سب کو برابر وظیفے دیے۔

حضرت عمرؓ نے اس موقع پر تو خاموشی اختیار فرمائی مگر جب خود خلیفہ بنے تو وظائف کی تقسیم کا نیا نظام بنایا اور اس میں سب سے زیادہ وظیفہ ازواج مطہراتؓ کو، پھر مہاجرین کو، اس کے بعد انصار کو اور پھر دیگر طبقات کو درجہ بدرجہ وظائف تقسیم فرمائے۔ البتہ دس سال تک اس نظام پر عمل کے بعد اس کے معاشرتی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو حضرت عمرؓ کو الجھن ہوئی اس لیے کہ ایسے گریڈ سسٹم میں معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے اور سماج مختلف درجوں میں بٹ جاتا ہے۔ میں اس کی مثال دیا کرتا ہوں کہ جیسے ہمارے ہاں خاص طور پر اسلام آباد میں گریڈ سسٹم نے معاشرے کو مختلف دائروں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اکثر باہمی معاملات اس معاشرتی درجہ بندی کے دائروں میں طے پاتے ہیں۔ حضرت امام ابو یوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے درجہ بندی کے اس قسم کے معاشرتی نتائج دیکھے تو فرمایا کہ اب مجھے محسوس ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے اس معاملہ میں زیادہ صائب تھی، اس لیے اگلے سال سے میں اس نظام کو ان کی رائے کے مطابق ازسرنو ترتیب دوں گا، لیکن اگلے سال سے قبل وہ شہید ہو گئے اور معاملہ جوں کا توں رہا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اختلاف رائے تو فطری امر ہے البتہ اس حوالہ سے اگر اپنے بزرگوں کے اسوہ کی پیروی کی جائے تو بہت سی الجھنوں اور نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔


سیرت و تاریخ

(مارچ ۲۰۲۱ء)

Flag Counter