ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں
ایک تنقیدی جائزہ

مولانا مشفق سلطان

مسلمانوں میں اس بات کی بڑی شہرت ہو گئی ہے کہ ہندو مذہبی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق واضح پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ایک زمانے میں  میرا بھی یہی خیال تھا اور اس کو بڑے زور کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان بھی کرتا رہا۔ تاہم بعد میں جب براہ راست ہندو صحائف کے مطالعے کا موقع ملا اور ان پیشن گوئیوں کے بارے میں ہمارے مبلغین کی تاویلات کو دقت نظر کے ساتھ پرکھا تو اپنی سابقہ رائے کو تبدیل کر لیا۔ پچھلے سالوں میں کئی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہندو مذہبی متون کو اپروچ کرنے کا جو نہج بعض مسلم مبلغین نے اختیار کیا ہے وہ انتہائی سطحی اور ناقص ہے۔ ان شخصیات سے والہانہ عقیدت کی بنا پر مسلمانوں نے بلا تحقیق ان کی باتوں کو اختیار کر لیا اور ہندو عوام سے مکالمے (بلکہ مناظرے) کے لیے اکثر لوگ انہی باتوں کو استعمال کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تحقیقی ذوق پہلے ہی مفقود ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جب کوئی مسلمان سنسکرت کتابوں کے حوالے دے کر، کچھ منتروں کو (اکثر غلط تلفظ کے ساتھ) دہرا کر اسلام کی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو داد تحسین ضرور حاصل ہوتی ہے۔

میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ میں اس بارے میں کوئی مضمون لکھوں لیکن اپنی مصروفیت اور صحت کے بعض مسائل کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ اپنی آئندہ تحریروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان مزعومہ پیشن گوئیوں پر میں اپنا تجزیہ پیش کروں گا۔ سب سے پہلے 'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی کو دیکھتے ہیں جس کا مصداق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی 'پُران' (Purana) نامی کتب میں موجود ہے۔ ہندو مذہبی کتب میں ان کی استنادی حیثیت اتنی مضبوط نہیں ہے۔ تاہم عوام الناس میں یہی کتابیں زیادہ مقبول ہیں۔ کَلکی اوتار سے متعلق پیشن گوئی بنیادی طور پر 'بھاگوت پران' اور خاص اسی موضوع پر اسی نام سے موسوم 'کَلکی پران' میں موجود ہے۔ انہی دو کتابوں کو سامنے رکھ کر ہم اس پیشن گوئی کا تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا فی الواقع ان میں مذکور تفصیلات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے مطابقت رکھتی ہیں، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے، یا نہیں۔

کَلکی اوتار کے والدین

तत्                श्रुत्वा        पुण्डरीकाक्षो     ब्रह्मानमिदमब्रवीत्

शम्भले           विष्णुयशसो                   गृहे           प्रादुर्भावाम्यहम्

सुमत्यां मातरि विभो! पत्नीयां तवन्निदेशतः

"پنڑری کاکش وِشنو بھگوان برہما جی کی ان باتوں کو سن کر کر برہما جی سے کہنے لگے کہ میں تمہارے کہنے سے 'شَمبھل' نامی گاؤں میں 'وِشنو یَش' نام والے براہمن کے گھر 'سُمَتی' نامی براہمن کی بیٹی کے حمل سے پیدا ہوؤنگا۔" (کلکی پران۔ ادھیاے 2، اشلوک 4)

تب وشنو یش سے سُمَتی حاملہ ہوئی، اس طرح کہ ان کے رحم میں وشنو بھگوان ودیہ مان ہوئے۔ (ایضاً، اشلوک11)

اس شلوک میں میں وشنو کے اوتار کلکی کے والد کا نام 'وِشنو یَش' (Vishnu Yash) اور والدہ کا نام 'سُمَتی' (Sumati) بتایا گیا ہے۔

ان ناموں کے بارے میں ہمارے مبلغین فرماتے ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے اسماء کے سنسکرت بدل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کلکی اوتار کے والد کا نام 'وِشنو یش' (विष्णुयश) آیا ہے جس کے معنی 'اللہ کے بندے' کے ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک وِشنو سے مراد اللہ ہے اور یَش کے معنی بندے کے ہیں۔ لیکن حقیقت میں سنسکرت زبان کے لفظ 'یش' کا مطلب 'بندہ' نہیں ہے۔ بلکہ اس لفظ کے معنی 'جلال' یا 'عظمت' کے ہیں۔ تو 'وشنو یش' کے معنی ہوں گے 'وشنو کا جلال' یا 'وشنو کی عظمت'۔ کسی شخص کا اگر یہ نام ہو تو اس کا مطلب ہوگا وہ جس کے اندر وشنو کا جلال یا عظمت ظاہر ہو۔ اس کا عربی مترادف 'عبد اللہ' نہیں بلکہ 'جلال  اللہ' یا 'بہاء اللہ' ہوگا۔

اسی طرح کلکی اوتار کی والدہ کا نام 'سُمتی' (सुमति) بتایا گیا ہے۔ اس پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نام کے معنی 'امانت دار' یا 'امن والی' کے ہیں اور عربی میں اسے 'آمنہ' کہیں گے۔ یہ معنی بھی محل نظر ہیں۔ سنسکرت لغت میں 'متی' (मति) کے معنی 'عقل'، 'فہم' یا 'علم' کے آتے ہیں۔ 'سُ' (सु)  ایک سابقہ (उपसर्ग)ہے جو کسی صفت سے قبل آنے پر ایک چیز کو مثبت انداز میں اس صفت سے متصف بناتا ہے۔ تو لفظ 'سُمتی' کے معنی ہوتے ہیں 'علم والی'، 'فہم والی' یا 'عقل والی'۔ 'امن والی' یا 'امانت دار' اس کے معنی نہ جانے کس لغت میں ہیں۔ اس کے عربی مترادفات 'علیمہ'، 'عقیلہ' وغیرہ جیسے الفاظ ہیں۔

لہذا کلکی اوتار اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے والدین کے ناموں میں مطابقت موجود نہیں ہے بلکہ خواہ مخواہ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کلکی کا مقام پیدائش

کلکی پران کے اسی شلوک میں کلکی کا مقام پیدائش 'شَمبھل' (शम्भल/Shambhal) بتایا گیا ہے۔

ہمارے یہ حضرات لکھتے ہیں کہ یہ نام لفظ 'شَم' (शम्) سے بنا ہے جس کے معنی 'امن' کے ہوتے ہیں۔ اور لفظ 'شمبھل' ایسےمقام کو کہتے ہیں جہاں لوگوں کو امن حاصل ہو۔ اس کے بعد وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کو قرآن مجید میں 'بلد امین' کہا گیا ہے اور سورہ آل عمران کی آیت 97 میں اسی کے بارے میں 'ومن دخله كان امنا' آیا ہے۔ اس لیے ان حضرات کے نزدیک شمبھل سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نام کا کوئی مقام ہندوستان میں موجود نہیں ہے ۔ کوئی بھی شخص جو ہندوستان کے جغرافیے سے کسی قدر واقف ہے جانتا ہے کہ یہ دعوی  درست نہیں ہے۔ 'شمبھل' نام کا مقام ہندوستان کی ریاست اُتر پردیش میں دریائے گنگا کے نزدیک واقع ہے۔ اس مقام کے ہوتے ہوئے، لفظ شمبھل کو اسم کے بجائے صفت قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ زبان کے قواعد کی رو سے اسے درست تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تو ہر کسی کتاب میں موجود اسماء کو صفات قرار دے کر ان کا کچھ سے کچھ مطلب لیا جاسکتا ہے۔

کلکی کی تاریخِ پیدائش

द्वादश्या       शुक्लपक्षस्य         माधवे          मासि            माधव

जात ददृशतु पुत्र पितरौ ह्रष्टमानसौ

"بیساکھ مہینے کے پہلے نصف حصے میں بارہویں کے دن بھگوان پیدا ہوئے۔ ان کو پیدا ہوتے دیکھ ان کے والدین کو انتہائی مسرت ہوئی۔" (ایضاً؛ اشلوک 15)

کلکی پران کے اس اشلوک میں کلکی کی تاریخ پیدائش بیساکھ مہینے کی بارہویں بتائی گئی ہے۔ اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ یہ وہی تاریخ ہے جو ہمارے قمری حساب سے بارہ ربیع الاول بنتی ہے، جو کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل فراہم نہیں کی جاتی جس سے یہ دکھایا جا سکے کہ571 عیسوی کے 12 ربیع الاول کی مطابقت بیساکھ کی 12 تاریخ سے ہوتی ہو۔

کلکی کی پیدائش اور ابتدائی زندگی  سے متعلق چند تفصیلات

کلکی پران میں مذکور کلکی سے متعلق  بعض تفصیلات ایسی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی زندگی سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔

ا۔  وشنو یش براہمن نے کلکی روپ بھگوان کی ترقی اور بہتری کی غرض سے صاف دل ہو کر بڑے  بڑے رِگویدی ، یَجُرویدی  اور سام ویدی براہمنوں سے ان کا نام کرن کرایا۔  (ادھیاۓ2، اشلوک23)

ب۔ کلکی بھگوان سے پہلے ان سے بڑے اور تین بھائی پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں کے نام کَوی، پرا گیہ اور سُمنترک تھے۔ (ایضاً، اشلوک31)

ج۔کلکی کے والد وشنو یش کلکی کا اُپ نَیَن سَنسکار کرکے ان کو ویدوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیےگروکل بھیجتے ہیں۔(ایضاً، اشلوک 49)

د۔ کلکی گروکل میں پرشُرام جی سے روایتی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور چونسٹھ فنون سمیت سانگ اُوپانگ وید اور دھنور وید وغیرہ پڑھتے ہیں۔  (ادھیائے 3، اشلوک6)

ان حوالہ جات سے درج ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

١۔ کلکی کی پیدائش کے وقت ان کے والد زندہ ہوں گے اور ان کا نام خود رکھوائیں گے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کی ان کی پیدائش کے وقت ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

٢۔کلکی کی پیدائش سے قبل ان کے تین بھائیوں کی ولادت ہو چکی ہوگی۔ محمد صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات درست نہیں ہے۔

٣۔کلکی کے والد ہندو دھرم کے مطابق اپنے بیٹے کا اپ نین سنسکار کریں گے اور ویدوں کی تعلیم کے لیے باقاعدہ گروکل میں رہنے کے لیے  بھیجیں گے جہاں وہ روایتی تعلیم حاصل کریں گے۔ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی نہ کسی مدرسے میں داخلہ لیا۔

یہ سب تفصیلات بھی رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

کلکی اوتار کی ازدواجی زندگی

کلکی پران میں ہے کہ کلکی کا بیاہ سِنگھل دیش کے راجا کی بیٹی پَدما سے ہوگا۔ (ادھیاۓ 2، اشلوک6)

کلکی پران میں کلکی کی صرف ایک زوجہ کا ذکر ہے۔  صاف ہے کہ کلکی کی ایک ہی زوجہ ہوں گی اور وہ بھی ان کے اپنی وطن کی نہیں بلکہ سنگھل دیش یعنی سری لنکا کی رہنے والی ہوں گی۔ رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کی گیارہ ازواج مطہرات تھیں اور سنگھل دیش سے کسی کا بھی تعلق نہیں تھا۔

کلکی اوتار کی صفات

کلکی اوتار کی بعض دوسری صفات اور ان کے ذاتی حالات جو کلکی پران میں مذکور ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ تنہا ان کی بنیاد پر محمد صلی الله علیہ وسلم کو اس پیشن گوئی کا مصداق قرار دیا جا سکے۔ مثلا یہ کہ کلکی ایک سفیدگھوڑے پر سوار ہو کر، ہاتھ میں تلوار لئے تیز رفتاری سے پورے زمین کا سفر کریں گے اور لاکھوں کی تعداد میں ایسے برے لوگوں کا قتل عام کریں گے جو مختلف مقامات پر حکومت کر رہے ہوں گے(بھاگوت پران  حصہ ۱۲، ادھیائے ۲، اشلوک ۱۹)۔ اس سے لوگ بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بھی تو جنگوں میں شریک ہوئے اور اپنے دشمنوں کا قتل کیا۔ اس لئے آں حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کلکی اوتار ہیں۔ اول تو رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم نےتمام روئے زمین کا سفر ایک گھوڑے پر نہیں کیا اور نہ یہ ایسی کوئی بات ہے جو کسی دوسرے حکمران یا فاتح پر صادق نہ آ سکے۔ رہی کلکی اوتار کی بعض خوبیاں اورحکمت، تواضع، شجاعت وغیرہ جیسے اوصاف، تو یہ کسی پر بھی منطبق کئے جاسکتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر قطعاً کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

خلاصۂ کلام

اس تجزیے کی رو سے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کلکی اوتارکی پیشن گوئی کا مصدق قرار دینا محض تکلف ہے۔ اس کے لیے کلکی کے بعض ذاتی احوال کو یکسر صرف نظر کیا جاتا ہے اورسنسکرت الفاظ اور عبارات کے غلط معنی بیان کئے جاتے ہیں۔

اس طرح ہندو مذہبی صحائف کی من مانی تشریح سے دین اسلام کی خدمت کے بجاے، ہماری دعوت کو نقصان پہنچتا ہے۔ دین کی دعوت ہر حال میں محکم بنیادوں پر استوار رہنی چاہئے۔

مذاہب عالم

(مارچ ۲۰۲۱ء)

Flag Counter