عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائض
مولانا مودودی کی فکر کا تنقیدی مطالعہ

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

جدیدیت اور قدامت کی کشمکش میں عورت کا معاشرتی کردار دور حاضر کا اہم سوال ہے  ۔ عورت کو خانگی امور تک محدود رہ کر گھر اور خاندان میں کردار اداء کرنا چاہیے یا اس کو باہر نکل کر معاشرتی زندگی کے دیگر امور میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے ؟  یہ سوال روایت میں زیادہ زیر بحث نہیں رہا بلکہ بنیادی طور پر جدیدیت کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے ۔ جدیدیت کے طرفدار بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں بہت وسعت تھی۔ عورتوں کے حوالے سے بہت سےاحکام ہم نے جدیدیت کے زیر اثر قبول کیے ہیں ۔ لیکن اسلام ہو یا  دیگر مذاہب اور تہذیبیں ، عورت کا  کردار ما قبل جدید معاشروں میں محدود ہی رہا ہے ۔ گھر سے باہر مجموعی طور پر عورتوں کا معاشرتی زندگی میں کردار نہیں تھا ۔طویل زمانے  کی معاشرت کے بعد عورتیں غالب تہذیب کے زیر اثر جب گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کرنے لگی ہیں تو گھر اور باہر دونوں قسم کی زندگی کا متاثر ہونا اور ان میں مسائل کا پیدا ہونا یقینی امر ہے۔  یہ مسائل ہر تہذیب اور مذہب کے لئے جداگانہ نوعیت کے ہیں ۔ مسلم معاشروں میں بھی اس رحجان کا غلبہ ہے کہ عورتیں گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کررہی ہیں ۔ مسلم مفکرین اور علماء نے ایک زمانے تک اس کی مختلف خدشات کی بنا پر مخالفت کی، لیکن آج  وہ اس سے پیدا ہونے مسائل  ڈسکس کرر ہے ہیں یا گھر سےباہر کی زندگی میں عورت دائیں بازو کے لیے کیا کردار ادا کرسکتی ہے، اس کی تیاریوں میں ہیں۔

مولانا مودودی دور حاضر  کے عظیم مفکر ہیں، وہ ان سب چیزوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں   ؟ مولانا مودودی روایتی میدان میں رہتے ہوئے  انہی تشریحات کو نئے معانی پہناتے ہیں اور دور حاضر کے  فکر و فلسفے کے مطابق اسی کو مقبول بناتے ہیں ۔ عورت کے بارے اسلامی تصورات  پر بہت سی جگہوں پر سوالا ت پیدا ہوتے ہیں ، ان کی فکر پر یقینا بعض جگہوں پر سوال اٹھیں گے اور ان کی بعض تعبیرات بہت خوبصورت معانی پہنے ہوں گی ۔ ان کی فکر کے مطالعہ سے عورتوں کے بارے ان کے تصورات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں قانونی اور فقہی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے اور معاشرتی و سماجی مسائل بھی ۔

مرد کی عورت پر فضیلت

قرآن و حدیث کی بعض نصوص سے پتہ چلتاہے کہ  مرد عورت سے افضل ہے اور عورت اس کے تابع ہے ۔ موجودہ دور میں بہت سے علماء کرام ان آیات میں تاویل کرکے ان کو نئے معانی  پہنا کر موجودہ دور کی فکر کے مطابق بنانا چاہتے ہیں  کہ مردو زن میں مساوات ہے، اسلام ان میں کوئی فرق نہیں کرتا ۔ مولانا مودودی ان نصوص کو انہی معانی کے مطابق دیکھتے ہیں جن کے تحت ان کو روایت میں دیکھا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر نصوص کو دیکھا جائے تو یہی روایتی فہم ہی درست ہے، ان کی جدید تعبیر ان کو مجموعی فکر سے کاٹ دینے والی بات ہے ۔ جن نصوص سے مساوات پر زد پڑتی ہے، ان کومولانا مودودی کیسے دیکھتے ہیں، ذیل میں ان کا مطالعہ پیش کیا جاتاہے ۔

مولانا مودودی مردو زن کی مساوات کےبارے کہتے ہیں کہ جن چیزوں میں مساوات ہوسکتی ہے اور جس حد تک مساوات قائم کی جاسکتی تھی ، وہ اسلام نے قائم کردی ہے ۔ لیکن اسلام اس مساوات کا قائل نہیں ہے جو قانون فطرت کے خلاف ہو ۔ انسان ہونے  کی حیثیت سے جیسے حقوق مرد کے ہیں ویسے ہی عورت کے ہیں ۔ لیکن زوج فاعل ہونے کی حیثیت سے ذاتی فضیلت (بمعنی عزت نہیں بلکہ بمعنی غلبہ تقدم )مرد کو حاصل ہے، وہ اس نے پورے انصاف کے ساتھ مرد کو عطا کی ہے ۔ "وللرجال علیھن درجۃ" 1 اسی طرح عورت اور مرد میں فاضل اور مفضول کا فطری تعلق تسلیم کرکے اسلام نے خاندان کی تنظیم حسب ذیل قواعد پر کی ہے ۔

خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے ، یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے ، محافظ ہے ، اخلاق اور معاملات کا نگران ہے ۔ اس کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے ۔ اور اس پر خاندان کے لئے روزی کمانے اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ "الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم" 2 "الرجل راع علی اھلہ و ھو مسئول" 3 اسی طرح عورت گھر سے باہر مرد کی اجازت سے نکل سکتی ہے ۔ حدیث میں ہے کہ عورت جب بغیر اجازت  کے خاوند کے گھر سے نکلتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔عورت کی اصلاح کا حکم مرد کو دیا گیا ہے ، اگر عورت میں نشو ز و نافرمانی دیکھے تو اس کی اصلاح کا کوئی سا طریقہ اپنا سکتاہے ۔ "اور جن بیویوں سے تم کو سرکشی و نافرمانی کا خوف ہو ان کو نصیحت کرو ، خواب گاہوں میں ان سے ترک تعلق کرو ، پھر بھی باز نہ آئیں تو مارو ، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو"4۔ 5

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ مرد و زن کے احکامات میں بھی فرق ہے ۔اس کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا جس میں گھر سے باہر نکلنا پڑے ۔ اس کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے، کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے ۔اسی طرح عورت محرم کے بغیر اکیلی سفر پر نہیں جاسکتی ، یہاں تک  کہ حج پر بھی نہیں جاسکتی ۔ جماعت کی نماز اس پر واجب نہیں ہے ۔ جمعہ اس  پر فرض نہیں ہے ۔ جہاد اس پر فرض نہیں ہے ۔ ان تمام احکامات میں فرق کی وجہ یہی ہے کہ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں ۔6 مولانا مودودی نصوص کو موجودہ دور کے تناظر میں نہیں دیکھتے ہیں بلکہ موجودہ دور کو نصوص کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نصوص فطرت ہیں اور ان سے ہٹ غیر فطری زندگی ہے جس کا غالب تہذیب شکار ہوچکی ہے ۔

عورت کا معاشرتی کردار

مولانا مودودی نے اس رحجان کی وکالت کی کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے ، اس  کو گھر میں رہنا چاہیے اور  گھر کی زندگی میں کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس کے لئے انہوں نے نصوص سے بھی مختلف انداز میں استدلال کیا  ہے۔ عورت کے گھریلو کردار کی اہمیت اور خوبیوں کو اجاگر کیا ،   اور جدید رحجان کے زیر اثر گھر اور معاشرے میں  پیدا ہونے والی خرابیوں کو  واضح کیا  ہے۔

مولانا مودودی کا کہنا  ہے کہ عورت کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور معاشرتی امور میں حصہ لینے سے گھر داری اور خانگی نظام تباہ ہوجائے گا  ، یا عورت پر دوہرا بار ڈال دیاجائے گا کہ وہ اپنے فطری فرائض بھی انجام دیں جن میں مرد قطعا شریک نہیں ہوسکتا اور پھر مرد کے فرائض کا بھی نصف حصہ اٹھائیں ۔  عملا یہ دوسری صورت ممکن  نہیں ہے،  لازما پہلی صورت ہی رونما ہوگی اور مغربی ممالک کا تجربہ بتاتا ہے  کہ وہ رونما ہوچکی ہے۔ 7

مولانا مودودی کی کی یہ بات درست ہے۔ گھر داری ، خانگی امور اور خاندانی نظام کو اچھی طرح چلانے کے لئے پورے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور مغرب جہاں عورت معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، ان کا خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے ۔ عورت کا معاشرتی امور میں حصہ لینا دو وجہوں کی بنیاد پر ہوسکتاہے ۔ ایک تو معاشرے کو عورت کی خدمات کی ضرورت ہے ، ملکی تعمیر و ترقی میں ملک کی نصف آبادی کو بے کار چھوڑ دینا درست نہیں ہے ۔ دوسرا عورت بھی معاشی طور پر خود کفیل ہو تاکہ مرد کی کفالت کے زیر اثر جو خرابیاں جنم لیتی ہیں، ان کا ازالہ ہوسکے ۔ معاشرتی امور میں حصہ لینے کی جو دوسری بنیاد ہے، اس کا حل پیش کرنے میں ہمارا خاندانی نظام ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ عورت کا استحصال مختلف شکلوں میں آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے مولانا۔ مودودی صرف مغرب کے خاندانی نظام کو موضوع بحث بناتے ہیں لیکن مشرق کے خٰاندانی نظام کی تباہی کا ذکر کرتے ہیں نہ ہی اس کی اصلاح کے ممکنہ پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔

مسلم ممالک میں خاندانی نظام کا جو حال ہے مولانا اس پر صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان یورپ  و مغرب کی نقالی میں غرق ہیں اس لئے یہ دنیا کے رہنما نہیں بن پارہے یا ان کے ہاں بھی مسائل ہیں ۔ مغربی تہذیب نے  خاندان  کے ادارے میں بہت بنیادی تبدیلیاں کیں، اس کی وجوہات و اسباب کو صرف خواہشات اور نفس پرستی جیسی چیزوں سے جوڑ دینا سماج کے مطالعہ کا درست رویہ نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں خاندان کا ادارہ مغربی تہذیب کی طرف جن چیزوں میں بڑھ رہا ہے، اس میں تہذیب جدید اور غالب تمدن کی نقالی کو ہی آخری حیثیت نہیں بلکہ اس کے علاوہ معاشرےمیں موجود اس کی وجوہات و اسباب پر غور کرنا چاہیے ۔

مولانا مودودی اس معاملے میں بیشتر جگہوں پر اصول فطرت کو دلیل بناتے ہیں کہ مردو  عورت کو فطری طور پر کچھ کاموں کے لئے پیدا کیاگیا ہےاور وہ انہی مخصوص کاموں کو کرنے کے اہل ہیں۔ اگر اسی میدان میں رہیں گے تو نظام ٹھیک چلتا رہے گا اگر اس سے ہٹ کر چلیں گے تو نظام خراب ہوجائے گا۔  مولانا مودودی کی تنقید کو سمجھنے کے لئے ان  کی کتابوں سے کچھ عبارات کا مطالعہ ذیل میں پیش کیا جاتاہے ۔

"مرد کے دائرہ عمل میں آکر عورتیں کبھی مردوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں ، اس لئے کہ وہ ان کاموں کے لئے بنائی ہی نہیں گئی ہیں ۔ ان کاموں کے لئے جن اخلاقی و ذہنی اوصاف کی ضرورت ہے وہ درا صل مرد میں پیدا کئے گئے ہیں ۔ عورت مصنوعی طور پر مرد بن کر کچھ تھوڑا بہت ان اوصاف  کو اپنے اندر ابھارنے کی کوشش کرے بھی تو اس کا دہرا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے اور معاشرہ کو بھی ۔ اس کا اپنا نقصان یہ ہے کہ وہ نہ پوری عورت رہتی ہے نہ پوری مرد بن سکتی ہے اور اپنے اصل دائرہ عمل میں جس کے لئے وہ فطرتا پیدا کی گئی ہے ناکام رہ جاتی ہے ۔ معاشرہ اور ریاست کا نقصان یہ ہے کہ وہ اہل کارکنوں کے بجائے نااہل کارکنوں سے کام لیتا ہے اور عورت کی آدھی زنانہ اور آدھی مردانہ خصوصیات سیاست اور معیشت کو خراب کرکے رکھ دیتی ہیں "۔ 8

سیاست اور ملکی انتظام اور فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے کام مرد کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس دائرے میں عورت کو گھسیٹ لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری خانگی زندگی بالکل تباہ ہوجائے گی ۔ 9

اسی فکر کے تحت مولانا مودودی نے عورت کی حمل ، حیض  و نفاس اور دیگر حالتوں کا ذکر کیا  ہے اور مختلف ماہرین فن کے بیانات سے ثابت کیا ہے کہ ان حالات میں عورت میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی بنا پر وہ  ٹھیک طرح کام نہیں کرپائے گی ۔ اگر چہ مولانا مودودی نے اس کی جو مثالیں دی ہیں، وہ مبالغہ پر مبنی  ہیں کہ ایک عورت  جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے، اس زمانہ میں غلط ٹکٹ کاٹ دے کر دے گی اور ریز گاری  گننے میں الجھے گی ۔ ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ اور ڈرتے ڈرتے چلائے گی اور ہر موڑ پر گھبرائے گی ۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی  ۔ کوشش کے باوجود الفاظ چھوڑ جائے گی ، کسی حرف پر انگلی مارنی چاہے گی اور ہاتھ کسی پر جاپڑے گا ۔ ایک گانے والی عورت اپنے لہجہ اور آواز کی خوبی کو کھود ے گی حتی کہ ایک ماہر نطقیات محض آواز سن کر بتادے گا کہ گانے والی اس وقت حالت حیض  میں ہے۔ 10 لیکن ان حالات میں تبدیلیاں رونما ہونا یقینی امر ہے جس کا اثر کاموں پر بھی پڑتا ہے۔

مغربی تہذیب میں جہاں عورت کو معاشی آزادی  دی گئی اور وہ معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، وہاں عورت مرد بن چکی ہے۔ اپنے نسوانی کاموں سے دستبردار ہوچکی ہے ، ازادواجی زندگی کی ذمہ داریاں ، بچوں کی تربیت خاندان کی خدمت ، گھر کی تنظیم ، ساری چیزیں اس کے لائحہ عمل سے خارج ہوگئیں بلکہ ذہنی طور پر وہ اپنے اصلی فطری مشاغل سے متنفر ہوگئی ہے اور اس کی ایک ہی فکر ہے کہ اس کو ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنا ہے۔ گویا حقوق نسواں کی تحریک میں مرد عورتوں کا آئیڈیل بن کر سامنے آئے ہیں۔ عورتوں کو مردوں جیسی زندگی چاہیے، مردوں جیسا کام چاہیے، مردوں جیسا لباس چاہیے، جبکہ مرد عورتوں جیسے زندگی ، لباس اور کاموں میں عزت محسوس نہیں کرتے ۔

مولانا مودودی مغربی سماج پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں عورت کو یا تو لونڈی سمجھا گیا یا آزادی کے بہانے ایک ایسا سماج قائم کیا گیا جو شہوت پرستی پر مبنی تھا ۔ مغرب میں شہوانی تعلق کے سوا مرد اور عورت کے درمیان کوئی ایسا احتیاجی ربط باقی نہیں رہا ہے جو انہیں مستقل وابستگی پر مجبور کرتا ہو ۔ اس لئے مناکحت کے رشتہ میں اب کوئی پائیداری نہیں رہی ۔ مولانا تنقید کے دوران  ایسی باتیں بھی کہہ دیتے جونہ صرف درست نہیں بلکہ اخلاقیات سے گری ہوئی ہیں ۔  مغربی تہذیب میں شرم و حیاء اور عفت و عصمت کا ایک تصور موجود ہے جو  ہمارے تصور سے جدا ہے لیکن مولانا مودودی اس سارے سماج کو ایک ایسے سماج کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جہاں شرم و حیا اور عفت و عصمت جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں آج اہل کتاب کی عورتوں پر محصنات ہونے کا اطلاق مشکل ہی ہوسکتاہے۔ 11  ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم  اپنے خاندانی نظام کا بھی ازسر نو جائزہ لیں اور غالب تہذیب کی جانب سے جو چیزیں ہمارے معاشروں کا حصہ بن چکی ہیں اس بارے بھی غور و فکر کریں کہ ان کو زیادہ بہتر انداز میں کس طرح مینج کیا جاسکتاہے ۔

مولانا مودودی معاشرے کے عملی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرپاتے ۔ باوجود اس  کے ان کی مجموعی فکر یہی ہے کہ عورت کا مقام گھر ہے ، اس کو معاشرے کی عملی زندگی میں حصہ نہیں لینا چاہیے ۔ بعض جگہوں پر اس کے برعکس کہتے ہیں ، لیکن اپنی بات کو مکمل طور پر واضح نہیں کرتے ہیں۔ مجمل سے انداز میں یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ فطرت ان سے الگ الگ کام لینا چاہتی ہے، لیکن اس الگ کی تفصیلات کیا ہوں گی اور اس کو کس اندا ز میں کیا جائے، ان چیزوں پر روشنی نہیں ڈالتے ہیں۔  کبھی عورتوں کے لئے بھی مردوں جیسی مساوات اور یکساں مواقع کی بات کرتے ہیں ۔  مثلا فرماتے ہیں

"مرد و عورت کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہیے ، تعلیم  و تربیت ، حقوق مدنیت، معاشی و تمدنی حقوق ان تمام چیزوں میں مساوات ضروری ہے۔  جن قوموں نے اس قسم کی مساوات سے انکار کیا ہے ، جنہوں نے اپنی عورتوں کو جاہل ، ناتربیت یافتہ ، ذلیل اور حقوق مدنیت سے محروم رکھا ہے وہ خود پستی کے گھڑے میں گر گئی ہیں کیونکہ انسانیت کے پورے نصف حصہ کو گرادینے کے معنی خود انسانیت کو گرا  دینے کے ہیں ۔ ذلیل ماؤ ں کی گودیوں  سے عزت والے ، نا تربیت یافتہ ماؤں کی آغوش سے اعلی تربیت والے اور پست خیال ماؤں کے گہوارے سے اونچے خیال والے انسان نہیں نکل سکتے ۔ فطرت کا مقصود ان دونوں سے ایک جیسے کام لینا نہیں ہے ۔ دونوں کی جسمانی و نفسی کیفیات مختلف ہیں ۔" 12

ایک دوسری جگہ پر ایک سوال کا جواب کے جواب میں عورت کی معاشی خود مختاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عورت کاروبار کرسکتی ہے، ملازمت کرسکتی ہے لیکن اس ملازمت کا دائرہ صرف خواتین تک محدود ہونا چاہیے ۔

بی بی سی نے مولانا مودودی کے انٹرویو میں ان سے سوال پوچھا کہ مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی کثرت عورتوں کےلئے  کچھ زیادہ مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مرد کی محتاج  نہیں ہیں ۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے   ۔ مولانا مودودی اس کے جواب میں کہتے ہیں  کہ  آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے ، اپنے شوپر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصہ ملتاہے ۔اس طرح جس شکل میں بھی اسے کوئی ورثہ ملتاہے ، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر ، باپ ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کرسکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرہ خواتین تک محدود ہے۔ 13

ایک اور عبارت میں عورت کے گھر سے نکلنے کو صرف مجبوری کی صورت میں منظور کرتے ہیں جس کا دائرہ رخصت ہے ۔ اس کی تعلیم و تربیت کی نوعیت بھی ایسی ہونی چاہیے کہ وہ گھر کے نظام بہتر طور پر چلاسکے ۔  

"حالات ضروریات  سے عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے  یہ محض ایک وسعت اور رخصت ہے اس کو اسی حیثیت میں رہنا چاہیے ۔ عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی بہترین ماں اور بہترین  گھر والی بنائے "۔14

مولانا کی  یہ عبارات ان کے فکری خلفشار کا بھی ثبوت ہیں کہ ایک طرف وہ مغربی تہذیب اور  نظام کی مخالفت میں ا س سے ہٹ کر نقطہ نظر دینا چاہتے ہیں جبکہ عملی مجبوریوں اور موجودہ دور کے سوالات کو بھی نظر انداز نہیں کرپاتے  ہیں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔

عورت کے لئے پردہ

مولانا مودودی چہرے کے پردے کے قائل ہیں لیکن باقی جسم اور چہرے میں فرق کرتے ہیں ۔ چہرے اور نقاب کے باب میں ویسے قطعی احکام نہیں جیسے ستر پوشی اور اخفائے زینت کے باب میں دیے گئے ہیں۔ بوقت ضرورت کھول سکتی ہے۔

"ولا یبدین زینتھن" میں جس زینت کا بیان ہے، وہ ستر کے ماسوا ہے ۔ اس کو محرم رشتہ داروں یا ایسے لوگوں کے سامنے کھولنے کی اجازت دی گئی جو عورتوں کی خوبیوں سے آشنا نہیں ہوتے ہیں ۔اب زینت کا اظہار جس چیز سے بھی ہو اوہ منع ہے ۔ الا ما ظہر منھا سے مراد ایسی زینت ہے جو اضطرارا ظاہر ہوجائے یا جس کو ضرورت کے پیش  نظر ظاہر کرنا پڑجائے۔ 15

چہرے اور ہاتھوں کے پردے کے بارے ایک جگہ کہتے ہیں کہ اس   کا فیصلہ مسلمان عورت  جو خدا رسول کے احکامات کی پابند ہے ، جس کو فتنے میں مبتلا ہونا منظور نہیں ہے ، وہ خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ کھولے کہ نہیں ۔ کب کھولے کب نہ کھولے ، کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے ، اس باب میں قطعی احکام نہ شارع نے دیے ہیں ، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ مقتضائے حکمت کہ قطعی احکام وضع کئے جائیں ۔ بلا ضرورت قصدا کھولنا درست نہیں ہے ۔ اپنا حسن دکھانے کے لئے بے حجابی کی جائے تو یہ گناہ  ہے ۔ باقی شارع اس کو پسند نہیں کرتاہے شارع کی پسند یہی ہے کہ چہرہ کو چھپایا جائے ۔ 16

عورت کا حق حکمرانی

عورت کے حق حکمرانی کو مسلمان ملکوں میں عملی طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے ۔ اصولی طور پر بھی نصوص میں تاویل کی راہ اپناتے ہوئے  علماء کی اکثریت اس کو تسلیم کرچکی ہے ۔مولانا مودودی اس مقام پر نصوص کی اتباع میں کھڑے ہیں اور ان کے مطابق ہی اس مسئلہ کو دیکھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک عورت نہ صرف حکمران نہیں بن سکتی بلکہ کسی بھی اہم اور کلیدی  عہدے پر کام نہیں کرسکتی ہے ۔ مولانا مودودی نصوص میں جس قدر عموم پیدا کررہے ہیں، یہ بھی خالص اجتہادی نوعیت کی چیز ہے ۔ نصوص کے پس منظر میں عورت کی حکمرا نی ہے اور روایت میں بھی اس کا ہی ذکر ہور ہا ہے جبکہ مولانا اس میں توسع کرتے ہوئے اس کو ہر معاملے پر لاگو کردیتے ہیں ۔

"الرجال قوامون علی النساء۔17 لن یفلح قوم ولو اامرھم امراۃ" 18 یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت  میں ذمہ داری کے مناصب خواہ وہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلس شوریٰ کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت عورتوں کے سپر نہیں کئے جاسکتے۔ اس لئے کسی اسلامی ریاست کے دستو ر میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا یا اس کے لئے گنجائشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔19

ایک سے زائد شادیاں

ایک فرد کو کتنی شادیاں کرنی ہیں ، اسی طرح اس کے بچے کتنے ہونے چاہیے، اس بارے مولانا مودودی کی فکر کا حاصل یہ ہے کہ  قرآن کریم میں اس کا خطاب افراد سے ہے اور یہ افراد کی مرضی پر موقوف ہے۔ نظم اجتماعی سےیہ خطاب نہیں  ہے کہ وہ افراد کی آزادی میں دخل انداز ہو ۔ بیوی بچوں کی تعداد مقرر کرنے کا حق ریاست کو  نہیں ہے ۔ فرد کو اس کی اجازت دی گئی ہے اس کے بعد اس کی اپنی ضروریات زندگی اور اس چیز پر موقوف ہے کہ عدل کرسکتا ہے کہ نہیں۔20 مولانا نظم اجتماعی کو یہ حق نہیں دیتے ہیں کہ وہ ان چیزوں میں دخل دے ۔

عورت کا حق خلع

جس طرح مرد عورت کو طلاق دے کر رشتہ ازدواج کو ختم کرسکتا ہے، اسی طرح عورت خلع لے کر مرد سے جدا ہوسکتی ہے ۔لیکن مرد طلاق دینے میں خود مختار اور آزاد ہے جبکہ عورت کے خلع کے لئے فقہاء کرام نے شرائط مقرر  کی ہیں جن کی موجودگی میں ہی صرف خلع ہوسکتاہے، ان کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا۔ جامعہ علوم اسلامیہ  بنوری ٹاؤن  کےبعض فتاویٰ میں خلع کی درج ذیل شرائط لکھی گئی ہیں ۔

خلع ایک معاملہ ہے، اس میں مرد کا رضا مند ہونا ضروری ہے ۔ اگر مرد رضا مند نہ ہو تو عورت علاقے کے معززین کے ذریعے طلاق کی کوشش کرے ۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عورت عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ کرے گی ۔ اسے معتبرگواہوں کے ذریعہ شوہر کے ظلم کو ثابت کرنا ضروری ہوگا۔ تمام ثبوت کی فراہمی کے بعد  عدالت اگر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کرتی ہےتو نافذ ہوگا ۔ ورنہ عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ 21

یعنی عدالت میں خلع کا مقدمہ نہیں ہوگا بلکہ تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہوگا اور اس میں بھی چند عذرایسے ہیں جن کی بناء پر تنسیخ نکاح ہوسکتی ہے مثلاً بیوی کا نان ونفقہ  اور حقوق زوجیت ادا کرنا وغیرہ۔اگر ان کو ثابت کرتی ہے تو خلع ہوگا ورنہ نہیں۔ اور اس کے علاوہ اگر عدالت فیصلہ دے بھی دے، تب بھی نافذ نہیں ہوگا ۔   اس لحاظ سے طلاق کے ساتھ خلع کا تمام اختیار بھی خاوند کے پاس آجاتاہے- اگر چاہے تو اس کومنظور کرے چاہے منظور نہ کرے۔ جبکہ شریعت میں طلاق کااختیار مرد کے پاس  ہے اور اگر اس اختیار میں کوئی کمی بیشی یا ظلم کا عنصر پایاجائے تو عورت کو خلع کا اختیار دیاگیا ہے ۔ اگر یہ اختیار بھی خاوند کے اختیار اور رضا مندی کے ساتھ مشروط ہوجاتاہے تو عورت کے پاس اختیار کیسا    ؟

 خلع کے بارے حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں ان پر کسی عیب کی تہمت نہیں لگاتی، لیکن میں اسلام میں کفر ناپسند کرتی ہوں یعنی ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی ہوں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نےان سے حضرت ثابت کے دیے باغ کو واپس کرواکر حضرت ثابت  کو طلاق کا حکم دیدیا۔22 اس روایت میں اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے بیان کو کافی سمجھا اور مزید اس کی تحقیق نہیں کی کہ وہ کیوں طلاق لینا چاہتی ہیں ۔

ابوداؤ د اور ترمذی شریف کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے "۔ 23 لیکن اس روایت میں اس مزاج کی نفی کی گئی ہے اور ایسی عادت اور رویہ کے بارے میں یہ وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اس میں کوئی قانونی فیصلہ نہیں  ہے اور بلا وجہ طلاق مرد ہو یا عورت ان کو دینی بھی نہیں چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کےنزدیک مبغوض ترین چیز ہے ، لیکن جس طرح مرد اگر بلا وجہ طلاق دے تو ہوجاتی ہے، اسی طرح عورت اگر بلا وجہ خلع لے تو حضرت ثابت بن قیس کی روایت سے یہی سمجھ میں آتاہے کہ خلع نافذ ہوجاتاہے ۔

مولانا مودودی خلع کے بارے میں کہتے ہیں کہ خلع میں قاضی کا وجہ طلب کرنا یا اس پر مطمئن ہونا ضروری نہیں ۔ اگر عورت کہتی ہے  مجھے پسند نہیں تو قاضی پر یہ نہیں کہ کھوج لگائے کہ کیوں ناپسند ہے، کیونکہ  ہوسکتاہے عورت کو کسی ایسی وجہ سے ناپسند ہو جو قاضی کے نزدیک وجہ تفریق نہیں بن سکتی ہو ۔ نیز ہر ایک وجہ کا کھل کر  مکمل طور پر بتانا ممکن بھی نہیں اور رسول اللہ اور خلفاء راشدین کے عمل سے بھی یہی پتہ چلتاہے کہ انہوں نے اس کی تحقیق نہیں کی ۔ اگر اس میں عورت کے بے وجہ خلع کا احتمال ہے تو مرد کی طلاق میں بھی یہ احتمال موجود ہوتاہے جبکہ شارع نے اس سے منع نہیں کیا، اس کو نافذ قرار دیا ہے تو عورت کے لئے بھی قانونی طور پر یہ حق رہے گا۔  24 مولانا مودودی خلع کے آسان  نہ ہونے کے معاشرتی مسائل کو  بخوبی سمجھتے تھے، اس لئے انہوں نے خلع کو انتہائی آسان کردیا ۔

عورت پر ظلم و ستم بطور سبب تفریق

فقہاء کرام نے مرد و زن میں تفریق کے کچھ اسباب کا ذکر کیا ہے۔ اگر یہ چیزیں پائی جائیں تو عورت عدالت کے ذریعے  مرد سے جدا ہونے کا مطالبہ کرسکتی ہے اور قاضی ان چیزوں کے پائے جانے پر جدائی کا حکم دے گا ۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں پر ظلم و ستم کے واقعات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مولانا مودودی فقہاء کے بیان کردہ دیگر اسباب کے ساتھ مار پیٹ گالی گلوچ کو بھی  تفریق کے اسباب میں شمار کرتے ہیں ۔

" اتناضرور ہونا چاہیے کہ مارپیٹ اور گالم گلوچ کی عادت کو خلع کے جائز اسباب میں شمار کیاجائے اور ایسی عورتوں کو بلامعاوضہ خلع دلوایاجائے"۔ 25

مردانہ عیوب  سے متعلق فقہاء کے موقف پر تنقید

فقہاء جن عیوب کی بنا پر عورت کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ قاضی کے پاس جا کر خاوند کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتی ہے اور خاوند سے جدا ہوسکتی ہے، مولانا مودودی ان عیوب کے بارے گفتگو کرتے ہیں کہ ان میں بہت سے ایسے مسائل  ہیں جو عورت کے حقوق اور شریعت کے منشا کے خلاف  ہیں ۔ عنین ، مجبوب  ، خصی  ،برص زدہ ، مجنون اور مرد و عورت کے دیگر ایسے امراض جن کے ساتھ تعلقات مردو زن قائم نہیں ہوسکتے ہیں، ان میں اگر کوئی فریق جدائی کا مطالبہ کرتا ہے تو امام مالک کے نزدیک اس کو خیار فسخ حاصل ہوگا ۔ مولانا مودودی بھی اسی فقہی مذہب کو لیتے ہیں ۔ کیونکہ تعلقات مردو زن میں تحفظ اخلاق اور باہمی مودت و رحمت  یہ دونوں مقاصد ایسے عیوب میں فوت ہوجاتے ہیں اور یہ بات اسلامی قانون ازدواج کے اصول میں سے ہے کہ ازدواجی تعلق زوجین کے لئے مضرت اور حدوداللہ سے تجاوز کا موجب نہ ہونا چاہیے ۔ 26

ان عیوب کے بارے فقہاء کی بعض آراء پر مولانا مودودی تنقید کرتے ہیں ۔ عنین ، مجنون وغیرہ ایسے امراض جن کے تندرست  ہونے کا امکان ہو ، ان کے بارے فقہاء یہ کہتےہیں کہ  اس کو ایک سال تک علاج کی مہلت دی جائے گی ۔ اگر علاج کے بعد وہ ایک مرتبہ بھی ہم بستری پر قادر ہوگیا ۔ حتی کہ اگر ایک مرتبہ اس نے ادھوری مباشرت بھی کرلی  تو عورت کو فسخ نکاح کا حق نہیں ہے  بلکہ یہ حق  ہمیشہ کے لئے باطل ہوگیا ۔ اگر عورت کو نکاح کے وقت معلوم تھا کہ وہ نامرد ہے اور پھر وہ نکاح پر راضی ہوئی تو اس کو سرے سے قاضی کے پاس دعویٰ ہی لے جانے کا حق نہیں ۔ اگر اس نے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مباشرت کی اور پھر نامرد  ہوگیا تب بھی عورت کو دعویٰ کا حق نہیں ۔ اگر عورت کو نکاح کے بعد شوہر کے نامرد ہونے کا علم  ہوا اور وہ اس کے ساتھ رہنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کردے تب بھی وہ ہمیشہ کے لئے خیار فسخ سے محروم ہوگئی۔ مجنون کے بارے بھی اسی قسم کے مسائل فقہی کتابوں میں ہیں۔27

مولانا مودودی ان صورتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ان صورتوں میں عورت کا خیار فسخ تو  باطل ہوگیا ۔ اس کے بعد ایسے ناکارہ شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دوسری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ وہ خلع کرلے مگر وہ اس کو مل نہیں سکتا ۔ کیونکہ شوہر سے مطالبہ کرتی ہے تو اس کا پورا مہر بلکہ مہر سے کچھ زائد لے کر بھی چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ اور عدالت سے رجوع کرتی ہے تو اس کو مجبور کرکے طلاق دلوانے یا تفریق کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اب غور کیجئے اس غریب کا  حشر کیا ہوگا  ؟ بس یہی نا کہ یا تو وہ خودکشی کرلے یا عیسائی راہبات کی طرح نفس کشی کی زندگی بسر کے اور اپنے نفس پر روح فرسا تکلیفیں برداشت کرے یا قید نکاح میں رہ کر اخلاقی فواحش میں مبتلا ہو ۔ یا پھر سرے سے دین اسلام ہی کو خیر باد کہہ دے ۔ مگر کیا اسلامی قانون کا منشا بھی یہی ہے کہ عورت ان حالات میں سے کسی حالت میں مبتلا ہو  ؟ کیا ایسے ازدواجی تعلق سے شریعت کے وہ مقاصد پورے ہوسکتے ہیں جن کے لئے قانون ازدواج بنایاگیا تھا ۔ کیا ایسے زوجین میں مود و رحمت ہوگی ۔ کیا وہ  باہم مل کر تمدن کی کوئی مفید خدمت کرسکیں گے ۔ کیا ان کے گھر میں خوشی اور راحت کے فرشتے کبھی داخل ہوسکیں گے ۔ 28مولانا مودودی کہتے ہیں کہ خصی ، مجبوب ، مجنون ان تمام کے بارےسابقہ  فقہاء کی قانون سازی عورت کے خلاف جاتی ہے ۔29

خاوند کے لاپتہ ہو جانے کی صورت میں تفریق

مفقود الخبر یعنی اگر کسی عورت کا خاوند لا پتہ ہوجاتا ہے، اس کی کوئی خبر نہیں تو اس کو بھی فقہاء نے ان اسباب میں شمار کیا ہے جن کی بنا پر عورت جدائی کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ فقہاء کی اس بارے مختلف آراء ہیں ۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ خاوند کی عمر کے بقدر اس عورت کو انتطار کرنا ہوگا ، جبکہ مالکیہ نے چار سال کی مدت مقرر کی ہے ۔ اگر چار سال تک شوہر کی کوئی خبر نہ ہو تو قاضی عورت کے لئے فسخ نکاح کاحکم لگاکر اس کو نئے نکاح کی اجازت دے گا۔ دونوں قسم کی آراء کی بنیادیں صحابہ کرام کی آراء میں ملتی ہیں ۔فقہاء احناف اول موقف رکھتے ہیں لیکن موجودہ دور میں انہوں نے اس پر ازسر نوغور کیا ہے ۔ قریبی زمانے کے تمام فتاویٰ میں اس کو قاضی کی صوابدید پر چھوڑاگیا ہے کہ قاضی حالات وواقعات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرسکتاہے ۔ مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب اس میں ایک سال کی مدت مقرر کرتے ہیں ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ میں بھی اس کی مدت ایک سال مقرر کی گئی ہے ۔ 30

  مولانا مودودی کہتے ہیں اس بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہیں ہے اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی ہے ۔ بعض ضعیف  اور موضوع قسم کی روایات مذکور ہیں لیکن وہ قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ مولانا مودودی اس مسئلہ میں بھی قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط حکم کرتےہیں ۔ قرآن کریم میں ہے "فلاتمیلو کل المیل فتذروھا کا لمعلقلۃ" 31 اگر خاوند کی زندگی میں یہ حکم ہے کہ ان کو معلق نہ کرچھوڑو تو خاوند کے گم ہونے کی صورت میں یہ حکم کیوں نہیں ۔اسی طرح ایلاء کی صورت چار ماہ بعد قرآن کریم جدائی کا حکم لگادیتا ہے ۔ اس لئے ان صورتوں کو دیکھتے ہوئے اور زمانے کے حالات وواقعات کی بناء پر اس عورت کو اتنی لمبی مدت تک رکنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ مالکی مذہب ہی نصوص کے قریب ہے ۔ لیکن مالکی مذہب کی تفصیلات کو عموما نظر انداز کردیا جاتاہے۔ اس میں اگر خاوند نفقہ نہ چھوڑ کر گیا ہو یا بیوی کی عمر جوانی کی ہو اور فتنہ کا خوف ہو تو قاضی اس کو انتظار کا نہیں کہے گا بلکہ تفریق کا حکم لگادے گا ۔لیکن اگر حالات نارمل ہوں اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور خاوند نفقہ چھوڑ کر گیا ہو تو پھر قاضی کی صوابدید ہے کہ اس وقت صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک سال سے لے کے چار سال تک  انتظار کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔ مولانا مودودی نصوص کے قریب ہونے کی وجہ سے مالکی مذہب کو اپناتے ہیں ۔32

نفقہ پر عدم قدرت کی وجہ سے تفریق

نفقہ پر قدرت نہ ہونے یا نفقہ نہ دینے کو فقہاء نے فسخ نکاح اور خلع کے جائز اسباب میں شمار کیا ہے ۔اگر خاوند کی جانب سے تعدی پائی جائے، اس وقت تو فقہاء یہی کہتے ہیں کہ اگر عورت مطالبہ کرے تو تفریق کروادی جائے ۔ لیکن  اگر خاوند نفقہ پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں امام مالک کی رائے یہ ہے  کہ مناسب مدت دیکھ کر تفریق کا حکم لگادیا جائے ۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر شوہر کے پاس نہ ہوں تو مجبور نہیں کیاجائے گا ۔ اگر ہوں لیکن وہ دیتا نہیں تو عورت خود انتظام کرے اگر نہیں کرسکتی تو جدائی کا حکم لگایاجائے گا۔33 مولانا مودودی اس سلسلے میں مالکیہ کی رائے کو لیتے ہیں۔ عورت کو چاہیے تو یہی کہ صبر کرے اور آزمائش کا مقابلہ کرے، لیکن اخلاقیات کا دائرہ قانون سے الگ ہے ۔ فقہی اور قانونی طور پر اس کو اختیار ہوگا کہ اگر ایسے خاوند کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو نکاح کو فسخ کردیا جائے گا۔ اس کو قانونی طور پر اس چیز کا پابند نہیں بنایا جاسکتاہے کہ وہ اس خاوند کے ساتھ رہے ۔ 34

ایلاء کی مدت میں بیوی سے دور رہناوجہ تفریق

اگر خاوند قسم اٹھالیتا ہے کہ وہ چار ماہ بیوی کے پاس نہیں جائے گا   تو  نہ جانے کی صورت میں ، ایک فقہی موقف کے مطابق اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اسلام سے پہلے ایسی صورتوں کو لوگ بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرتےتھے۔ اسلام نے ان کا سدباب کیا اور اس کو اسباب تفریق میں شمار کیا ۔ لیکن اگر کوئی شخص قسم الگ رہنے کی قسم تو نہیں کھاتا، لیکن عملا بھی عورت کے قریب نہیں جاتاتو   اس کا حکم  کیا ہوگا ؟ مولانا مودودی کہتے ہیں کہ علت دونوں میں ایک ہی ہے یعنی عورت کو ضرراور تکلیف پہنچانا ، عورت کو معلق کر چھوڑنا یا ان کو تکلیف پہنچانا۔ جب یہ حکم اسی کے سدباب کے لئے ہے تو  قسم نہ کھانے کی صورت میں بھی یہی حکم لگایا جائے گا ۔ مالکیہ کی رائے بھی یہی ہے کہ اگر تکلیف دینے کی نیت سے ایسا کرے تو قسم نہ بھی کھائی ہو تو ایلاء واقع ہوجائے گا ، کیونکہ ایلاء سے مقصود بھی ضرار کو روکنا ہے ۔ 35

مرد کو طلاق کا مشروط اختیار

شریعت میں طلاق کا اختیار مرد کو دیاگیا ہے، عورت کو نہیں دیاگیا ہے ۔ اس کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ عورت جلد باز ہوتی ہے ، معاملہ فہم نہیں ہوتی ۔ بے اسوچے کوئی فیصلہ کرلیتی ہے یا یہ کہ گھر کا خرچ چلانے والا مرد ہوتاہے، اس لئے حق طلاق بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے ۔ان چیزوں کا تعلق خاص حالات اور زمانےسے  تو ہوسکتاہے، لیکن ان چیزوں کو بنیاد بناکر حق طلاق کو مطلقا مرد تک محدود کرنا درست نہیں ۔ جہاں تک نصوص کا تعلق ہے، ان میں بھی اشارات سے ہی استدلال کیا گیا ہے کہ طلاق کی نسبت مرد کی طرف کی گئی ہے، عورت کی طرف نہیں کی گئی، اس لئے حق طلاق مرد کو ہے عورت کو نہیں ۔ اس بارے کوئی صریح نص نہیں ہے ۔ لیکن ان استدلالات کو اگر تعامل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے   تو رسول اللہ ﷺ اور مابعد کے ادوار میں عورتوں نے کبھی طلاق نہیں دی ، ہمیشہ سے مرد ہی طلاق دیتے آرہے ہیں۔ کسی عورت کو اگر ضرورت پڑی بھی تو اس نے طلاق دینے کی بجائے خلع یا عدالت سے تنسیخ نکاح کی درخواست کی ۔ اس لئے یہ بات درست ہے کہ شریعت میں اصولا طلاق کا اختیار مرد کو دیا گیا ہے ۔ لیکن مرد کے اختیار نے اس کو مطلق العنان بنانے میں کردار ادا کیا ہے جس کا ازالہ شرع کے بہت سے احکامات میں کرنے کی کوشش کی گئی ۔مولانا مودودی بھی اس کا حل تجویز کرتے ہیں ۔

قرآن کریم کی مختلف آیات سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ حق طلاق صرف خاوند کے پاس ہے ۔"الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح" 36  اس آیت کے آخری فقرہ میں اس قاعدہ کی تصریح کی گئی ہے کہ عقدہ نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے اور وہی باندھے رکھنے یا کھول دینے کا اختیار رکھتا  ہے ۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں طلاق کا ذکر آیا ہے، مذکر کے صیغوں میں آیا ہے ، اور فعل کو مرد ہی کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ مثلا "ان عزموا الطلاق، فان طلقھا، اذا طلقتم النساء فطلقوھن" یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شوہر بحیثیت شوہر ہونے کے طلاق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار رکھتا ہے اور کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جاسکتا  جو اس کا یہ حق سلب کرتاہو ۔37

خاوند کے حق طلاق کو مولانا مودودی مشروط کرتے ہیں ۔ اس کے لئے اگر چہ عمومی قسم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں جو خاص اس حوالے سے نہیں اتاری گئیں، لیکن ان کا یہ استدلال اہم ، مفید اور دلچسپ ہے ۔ "اسلام میں تمام حقوق اس شرط کے ساتھ مشروط ہیں کہ ان کے استعمال میں ظلم اور حدود اللہ سے تجاوز نہ ہو ۔ "و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ" 38 لہذ ا جو شخص حدود اللہ سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اس کا حق سلب کرلیا جائے ۔ پس جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے   ظلم و ضرر کی شکایت ہو تو بقاعدہ "فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ و الرسول" 39   اگر اس کی شکایت جائز ثابت ہوگی تو قانون نافذ کرنے والوں یعنی اولی الامر کو حق ہوگا کہ شوہر کو اس کے اختیار سے محروم کرکے بطور خود اس اختیار کو استعمال کریں ۔ قاضی کو فسخ ، تفریق اور تطلیق کے جو اختیارات شرع میں دیے گئے ہیں ، وہ اسی اصل پر مبنی ہیں۔ 40

نابالغ کا نکاح

مولانا مودودی احادیث و آثار کی روشنی میں کہتے ہیں کہ عورت کے نکاح میں ولی کی رائے کا دخل ہونا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں عورت اس معاملے میں بےا ختیار ہے اس کی رضامندی سے ہی کوئی بھی فیصلہ کیا جاسکتاہے ۔ احناف کا فقہی موقف یہی  ہے کہ عورت اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے، لیکن اگر ایسی جگہ شادی کرے جو خاندانی طور پر برابر نہ ہوں تو پھر سرپرستوں کو اعتراض کا حق ہے ، ور نہ اس کا کیا نکاح نافذ ہوگا۔41 اگرچہ آج ہم اس فقہی اور روایتی موقف کے اظہار میں تردد کا شکار ہوتے ہیں لیکن احناف کی فقہ و فتاویٰ کی تمام کتابوں میں آج بھی یہی موقف ملتاہے ۔تاہم اس سے کوئی غلط دروازہ نہ کھلےاس لئے اس پر کچھ حدود و قیود لگائی جاسکتی  ہیں ۔

  اگرلڑکی یا لڑکا  نابالغ ہو اور اس  کا باپ یا کوئی ولی اس کا نکاح کردے تو  بالغ ہونے کے بعد کیا اس کو اختیار ہو گا  کہ اس نکاح کو باقی رکھے یا نہیں ؟ فقہاء عام طور پر کہتے ہیں کہ با پ اور دادا کے علاوہ  کسی نے نکاح کیا ہو تو  بالغ ہونے کے بعد اختیار ہوگا کہ چاہے اس نکاح کو باقی رکھے اور چاہے اس کو رد کردے۔ لیکن اس میں بھی فقہی طور پر  جس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں، وہ نہایت عجیب ہیں۔ مثلا یہ  کہ اگر بالغ ہونے کے بعد اس کو جس مجلس میں پتہ چلا ہے،اسی مجلس میں اس کو رد کردے، تب تو اس کو یہ اختیار ہوگا ور نہ نہیں ۔ اگر یہ نکاح باپ ، دادا نے کیا ہو تو لڑکی یا لڑکے  کو بالغ ہونے کے بعد اختیار نہیں ہوگا، چاہے ان کو یہ رشتہ پسند ہو یا نہیں۔ اسی طرح انہوں نے غیر کفو میں نکاح کر دیا ہو یا  مہر کم طے کردیا ہو، تمام صورتوں نکاح لازم ہے ، کیونکہ ان کی شفقت کامل ہوتی ہے، وہ ان کا برا نہیں سوچ سکتے ہیں۔ اس کو ولایت اجباری کہتے ہیں۔ تا ہم اگر ان کی جانب سے بددیانتی پائی جائے، تب احناف بھی لڑکے اور لڑکی کو اختیار دیتے ہیں۔ 42

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ لڑکی کے لئے ولایت اجباری باپ اور دادا کے لیے ثابت  نہیں، اس کا کسی روایت سے ثبوت نہیں۔ بالغ ہونے کے بعد اگر لڑکی کو اختیار ہے تو بلوغت سے پہلے کے گئے نکاح میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ 43

فقہاء نے عام طور پر جن روایات سے استدلال کیا ہے، وہ واقعاتی نوعیت کی ہیں۔ مثلا حضرت عائشہ نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا ، یاحضرت عائشہ کا نکاح ان کے والد نے کردیا ۔ لیکن یہ ولایت اجباری میں صریح نہیں ہیں  اور  ان میں ولایت اجباری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جس عورت کا نکاح کیا گیا، اس نے بالغ ہونے کے بعد رد کردیا ہو اور پھر اس کے رد کو قبول کیا گیا یا قبول نہیں کیا گیا ،  ایسی کوئی تصریح روایات میں نہیں ہے ۔ اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا ہے اور مولانا مودودی مسائل میں اجتہاد کو بروئے کار لاتے ہیں جیسا کہ دیگر مسائل میں بھی ان کا طریقہ ہے۔  اس جگہ بھی وہ فقہاء سے الگ رائے قائم کرتے ہیں اور باپ، دادا کے لئے  ولایت اجباری کے قائل نہیں ہیں ۔ بعض روایات  میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا بغیر اجازت نکاح نہ کیا جائے۔ 44 جب روایات میں صراحت ہے اور ولایت اجباری کسی تصریح سے ثابت نہیں ہے تو انہی تصریحات کی روشنی میں اس مسئلہ کو دیکھنا چاہیے۔

حاصل کلام

عورتوں کے بارے میں مغربی تہذیب کے تصورات پر مولانا نے بہت جاندار تنقید کی ہے اور اس سے ہمارے معاشروں کو جو خطرات در پیش ہیں، ان کی بھی نشاندہی کی ہے۔  تاہم مغربی تہذیب کے تصورات پر تنقید اور اس کا متباد ل پیش کرتے ہوئے مولانا نے زمانی تصورات کا بھی کافی اثر قبول کیا ہے۔ روایتی حلقے میں مولانا مودودی نے جماعت کی تنظیم میں جس طرح عورتوں کو شامل کیا ہے، اس طرح کسی دوسری جماعت میں عورتوں کی شرکت نظر نہیں آتی ہے۔ اسی طرح خواتین کی تعلیم و تربیت اور زندگی کے عملی میدانوں میں ان کی شرکت جماعت اسلامی میں نمایاں نظر آتی ہے۔

مولانا مودودی نے روایتی اور فقہی تصورات میں سے  جو  چیزیں  زمانے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، ان میں فقہاء کی آرا سے وسیع تر استفادہ کے علاوہ قرآن و سنت پر براہ راست غورو فکر کے ذریعے سے مختلف اجتہادی آرا قائم کی ہیں ۔ اسلامی روایت میں عورت کے حوالے سے جو علاقائی ، زمانی  اور فقہی تصورات دین کا حصہ بن گئے، مولانا مودودی ان پر بھی کلام کرتے ہیں اور نصوص کو براہ راست دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا کی خوبی یہ ہے کہ وہ نصوص کے فہم کو ائمہ مجتہدین  کے اقوال میں سے کسی قول کی روشنی میں لیتے ہیں  ۔ مولانا نے روایتی فریم ورک کی حفاظت  کی کوشش کی  ہے۔  ان کی یہ کوشش مدلل اور معقول نظر آتی ہے ، لیکن اس کوشش میں کہیں مبالغہ بھی نظر آتاہے۔ روایت کی تنقیح کے لیے ضروری ہے کہ ان مبالغہ آمیز تصورات کا روایت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ۔

جدید دور میں  مسلم مفکرین اور معاشروں کو عام طور پر فکری انتشار کی کیفیت اور نظام عمل وفکر میں مناسبت کے فقدان  کا سامنا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے تدارک کی کوشش کی جائے اور مسلم مفکرین وفقہاء کی فکر کی روشنی میں جدید دور میں خواتین کے معاشرتی مقام اور کردار کے حوالے سے کوئی جامع ، منظم اور مرتب فکری و عملی نظام وضع کرنے کی کوشش کی جائے۔


حوالہ جات

  1.  البقرۃ ،228
  2.  النساء ،34
  3.   جامع البخاري ، رقم :   7138  ومسلم ، رقم :  1829
  4.  النساء،34
  5.  مودودی ، سید ابوالاعلی ،  پردہ ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ص 198
  6.   پردہ ، ص 204
  7.   اسلامی ریاست، 538
  8.   اسلامی ریاست،539
  9.   اسلامی ریاست، 538
  10.   پردہ  ، 156ـ 162
  11.  مودودی ، سید ابو الاعلی ،  خطبات یورپ ،لاہور : ادارہ ترجمان القرآن ، ص 125
  12.   پردہ ، 153
  13.  مودودی ، سید ابو الاعلیٰ ،  اسلام دور جدید کا مذہب ،لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص ،19
  14.   پردہ ،  210
  15.   پردہ ،  261
  16.   پردہ ، 266
  17.   النساء : 34
  18.   صحیح  بخاری: 4425
  19.   مودودی ، سید ابو الاعلی ، اسلامی ریاست ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص،  402
  20.   مودودی ، سید ابولاعلی ، سنت کی آئینی حیثیت لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص 282
  21.   فتوی نمبر : 144201201197دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  22.   الجامع الصحیح ، رقم : 4867
  23.   أبو داود ، سلیمان بن اشعث السجستانی ،السنن ،  دار الرسالۃ العالمیۃ ، رقم :  2226، الترمذي ، محمد بن عیسی ، جامع الترمذی ، سعودی عرب : وزارة الشؤون الإسلاميةرقم :  1187
  24.   حقوق الزوجین ،ص، 69
  25.  حقوق الزوجین ، 126
  26.   حقوق الزوجین ، ص 130
  27.   تمرتاشی ، محمد بن عبد اللہ غزنی ، تنویر الأبصار ،ج4 ، ص 249ـ254 ابو المعالی البخاری ، محمود بن احمد ،  محیط البرهاني ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ، ج 4 ص 1238
  28.   حقوق الزوجین ص 78
  29.   حقوق الزوجین ،  138
  30.   فتوی نمبر :  144104200978دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  31.  النساء،129
  32.  حقوق الزوجین ، ص 142
  33.   بدائع الصنائع ، 524، رد المختار ، ج5ص 306
  34.   حقوق الزوجین ، 125
  35.   حقوق الزوجین ، ص 36 ، 37
  36.  البقرۃ: 237
  37.   حقو ق الزوجین ، ص 104
  38.   الطلاق : 1
  39.   النساء : 59
  40.   حقوق الزوجین ، ص 105
  41.   کاسانی  ، بدائع الصنائع ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ج2، ص 247،
  42.   حصکفي، الدر المختار، بيروت، لبنان: دارالفکر ج، 3 ص، 66، 67،  الفتاویٰ الھندیۃ ، بیروت ، دار الکتب العلمیۃ  ، ج  : 1 ، ص:285
  43.   مودودی ، سید ابوالاعلی ،حقوق الزوجین ، لاہور : اسلامی پبلیکیشنز ،ص 116
  44.   بخاری،محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحيح،بیروت : دار ابن کثیر ، رقم : 4843


آراء و افکار

(فروری ۲۰۲۱ء)

Flag Counter