ایک علمی و فکری ورکشاپ کی روداد

محمد عثمان فاروق

لاہور کے ایک تعلیمی ادارے النّحل نے 11 جون تا 21 جون 2014ء ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا عنوان حسب ذیل تھا: ’’دینی فکر اور علم جدید: تنازعات کی وجوہات اور مفاہمت کی ممکنات‘‘۔کم و بیش تیس طلبہ نے اس میں شرکت کی جس میں NUST یونیورسٹی اسلام آباد، LUMS یونیورسٹی لاہور، پیر محمد کرم شاہ ازہریؒ کے قائم کردہ ادارہ دارالعلوم غوثیہ بھیرہ شریف اور قرآن اکیڈمی لاہور کے فارغ التحصیل طلبہ سر فہرست تھے۔ادارہ النحل کے سربراہ اور LUMS یونیورسٹی کے پروفیسر جناب ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب نے تعلیم و تدریس کی ذمہ داری سر انجام دی۔ 

ڈاکٹر صاحب وسیع المطالعہ مفکر، محقق و نقاد، اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ (واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کتب انگریزی زبان میں ہیں)۔ مذہب، فلسفہ، سماجیات (Sociology) اور مغربی علوم و افکار پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے Drew یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ (Ph.D) کی۔ آپ کے تحقیقی مقالے (Thesis) کا موضوع Sociology of Religionتھا۔ 2011ء میں Virginia یونیورسٹی سے مندرجہ ذیل عنوان پر دوسری پی ایچ ڈی کی:

Max Weber, Charles Peirce and the Integration of Nature and Geisteswissenschaftern 

ڈاکٹر صاحب کی دین کے ساتھ بے پناہ وابستگی اور دعوت و نصرت دین کا جذبہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق کا مرہون منت ہے۔ ان کی ابتدائی دینی تعلیم و تربیت قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہوئی۔ اگرچہ انہیں دین کی انقلابی فکر سے کچھ زیادہ اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر ڈاکٹر اسرار صاحب کی قائم کردہ جماعت سے رفاقت کا تعلق ہے لیکن وہ ڈاکٹر اسرار صاحب کی اولین تحریروں میں سے ایک مختصر مگر جامع تحریر ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور کرنے کا اصل کام‘‘ میں پیش کیے گئے نکات اور نتائج فکر کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ماضی قریب کے مفکرین میں سے علامہ اقبال، ڈاکٹر رفیع الدین، Charles Peirce اور Max Weber سے خاصا استفادہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ان مستثنیات میں سے ہیں جو عصر حاضر کے علوم و افکار خاص طور پر مغربی فکر و فلسفہ اور سماجیات و سائنس سے براہ راست اولین مصادر و مآخذ (Sources) کے ذریعے واقف ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت کم شخصیات ایسی ہیں جو دینی علم کے ساتھ ساتھ جدید علم پر بھی گہری نظر رکھتی ہوں۔ 

ورکشاپ میں منتخب مطالعاتی مواد (Reading Pack) کا مطالعہ کروایا گیا جس کے اجزا یہ تھے:

۱۔ امام غزالیؒ کی آپ بیتی ’’المنقذ من الضلال‘‘ کے منتخبات جس میں امام صاحب نے تلاش حقیقت کے اپنے سفر کو پوری شرح و بسط سے لکھا ہے۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ کی آپ بیتی کا وہ حصہ جس میں انہوں نے اپنے دس سالہ دورِ الحاد و تشکیک کی مفصل روداد بیان کی ہے۔ اور ان عوامل و محرکات کا جائزہ لیا ہے جو ان کی راہ راست سے انحراف کا باعث بنے۔ بعد میں اسلام کی طرف بازگشت کو موضوع بنا کر قدرے تفصیل سے اپنے تاثرات اور مشاہدات کا اظہار کیا ہے۔ 

ج۔ ڈاکٹر رفیع الدین صاحب کی کتاب ’’قرآن اور علم جدید‘‘ کے منتخب مقامات بھی پڑھائے گئے جس میں ڈاکٹر رفیع الدین صاحب نے عصر حاضر میں مغربی فکر و فلسفہ اور جدید سائنسی علوم کے زیر اثر اسلام کو علمی و نظریاتی سطح پر درپیش تحدیات (Challenges) کا جائزہ لیا ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہد و عمل کا ایک خاکہ (Outline) پیش کیا ہے۔ 

د۔ عالم مغرب کے معروف فلسفی اور مفکر تعلیم جان ڈیوی کی کتاب ’’فلسفے کی نئی تشکیل‘‘ کے منتخب ابواب (Selected Cahpters) بھی شامل نصاب تھے، جس میں فلسفے کی تاریخ، مقاصد و اہداف، ارتقائی علمی و فکری مراحل، فلسفے اور سائنس کا باہمی تعلق، حقیقت تک رسائی کے لیے عقل محض کے ذریعے فلسفیانہ طریقہ کار، فلسفے کی نئی تشکیل کے لیے تاریخی و سماجی عوامل اور سائنسی محرکات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ 

ڈاکٹر صاحب نے اس خشک اور دقیق موضوع کو بڑی خوبصورتی اور دل نشین انداز میں واضح کیا۔ ڈاکٹر باسط کوشل صاحب کی فکر اور دعوت کے بارے میں راقم کا احساس یہ ہے کہ یہ عوام سے کہیں زیادہ خواص سے متعلق ہے، یعنی وہ معاشرے کے ذہین اور تعلیم یافتہ طبقے جسے ذہین اقلیت کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا، کو اس بات کی ترغیب ہے کہ وہ ایک طرف کتاب و سنت کا صحیح فہم حاصل کریں، دینی روح اور اس کے مزاج سے شناسائی حاصل کریں، اور دوسری طرف جدید علوم و افکار سے گہری واقفیت حاصل کر کے اسلام کے آفاقی پیغام کو پورے اعتماد، فکری وضوح (Clarity) اور بہترین عقلی استدلال کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں اور دور جدید کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دعوت دین کا فریضہ بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ 

المنقذ من الضلال اور مولانا دریا آبادی کی آپ بیتی (Autobiography) کا مطالعہ کرواتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی طرف بطور خاص توجہ دلائی کہ امت مسلمہ کی دینی علمی روایت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں مسلمان اہل علم و دانش نے اپنے عہد کے مروجہ علوم و افکار اور نظریات پر کامل دسترس حاصل کی اور پھر اسلام کی ایسی متوازن علمی و نظریاتی تعبیر پیش کی جس سے لوگوں کے قلوب و اذہان اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوئے اور وہ لوگ جو غیر اسلامی افکار سے متاثر ہو کر الحاد، دہریت، لا ادریت، شک و ارتیاب کی دلدل میں پھنس گئے تھے، جلد ہی صحت یاب ہوگئے اور اسلام پر ان کا قلبی و عقلی اعتماد نہ صرف بحال ہوا بلکہ اس میں پہلے سے کہیں زیادہ پختگی پیدا ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اسلام کو ہر دور اور ہر زمانے میں مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن مسلمان مفکرین و علماء بھی اس سے بے خبر نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اسلام پر ہونے والے ہر نظریاتی حملے کا مسکت جواب دیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کی ’’الردّ علی المنطقیین‘‘، امام غزالیؒ کی ’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘ اور شاہ ولی اللہؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین صاحب کی کتاب ’’قرآن اور علم جدید‘‘ کے اقتباسات کا مطالعہ کرواتے ہوئے ڈاکٹر باسط صاحب نے ایک چشم کشا بات کہی کہ مغربی فکر و فلسفہ کے گمراہ کن افکار و تصورات کے زیر اثر مسلم سماج میں عوام میں بالعموم اور خواص بالفاظ دیگر جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں بالخصوص ایک طرح کا ذہنی ارتداد ایک عرصے سے شروع ہو چکا ہے۔ خدا، وحی، روح اور آخرت جیسے بنیادی دینی مقدمات اب لوگوں کو فرسودہ اور بے معنی معلوم ہوتے ہیں۔ شکم و فرج کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دھن ہر عام و خواص پر سوار ہے جس کے نتیجے میں دنیا، عقلِ محض، مادی جسم ہی سب کچھ سمجھا جانے لگا ہے۔ 

دور جدید کے افکار میں الحاد، لا ادریت، لا دینیت، مادہ پرستی، تحلیل نفسی، منطقی اثباتیت، وجودیت، تجرباتیت، کرداریت، میکانکی ارتقاء، اور سیکولر ازم کے باطل نظریات کی تند و تیز یلغار نے ہمیں دین سے برگشتہ کر دیا ہے اور ہماری نئی نسلوں کو شکوک و شبہات کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان مغالطہ انگیز اور غارت دین و ایمان افکار و نظریات کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور ایسا بیانیہ جواب (Counter Narrative) تیار کریں جو نہ صرف اسلام کے چہرے سے بد نما دھبوں کو دور کرے بلکہ اس میں ایسی دل کشی اور جاذبیت پیدا ہو کہ دنیا اسلام کی فطری کشش کو محسوس کرے اور خدا رخی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں دین کی تعبیر جدید پیش کرنا ہوگی جو ایک طرف ہماری مستند علمی و دینی روایت کی مظہر ہو اور دوسری طرف جس میں جدید دور کے تقاضوں اور سماجی عوامل کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہو۔ دین کو مختلف آمیزشوں اور افراط و تفریط سے پاک کر کے اعلیٰ علمی، عقلی اور نظریاتی سطح پر پیش کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب نے روایتی دینی حلقوں، جماعتوں اور تحریکوں پر بھی کڑی تنقید کی جو اپنے اپنے خولوں میں مقید ہو کر بس اپنی مخصوص فکر، ضابطے کی سرگرمیوں اور فروعی و فقہی نزاعات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں اپنی تحریک کا فروغ اور اپنے مسلک کی نشوونما و بقا ہی رہ گیا ہے اور مسلم سماج کو درپیش مسائل سے انہوں نے صرف نظر کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی نقد اپنے تلخ لب و لہجہ کے باوجود اصولی طور پر درست ہے، لیکن راقم کا مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات مخلص علماء و محققین اور داعیان کے بارے میں شدید غلط فہمی پیدا کرتی ہے اور سننے والا یہ تاثر لیتا ہے کہ شاید علماء دین تو بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کچھ بھی بات نہیں کر رہے۔ حالانکہ یہ حقیقت واقعہ ہے کہ قحط رجال کے اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دین کی حفاظت، دعوت، اشاعت اور تحقیق و تعلیم کا کام پورے اخلاص، محنت سے کر رہے ہیں جو نہایت قابل قدر اور حوصلہ افزا بات ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ بعض لوگ جو دین کی نصرت و دعوت کا بے پناہ جذبہ رکھتے ہیں اور جن کا خلوص ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے وہ علم جدید خصوصاً سائنس کی ہر تحقیق اور مثبت ایجاد و دریافت کی تردید کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں جس سے لوگوں میں دین کا یہ منفی تاثر جاتا ہے کہ شاید مذہب ہر نئی بات کی، خواہ وہ کتنی معقول اور مدلل ہو، نفی کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایسے مخلص و جذباتی مگر کوتاہ نظر لوگوں کے لیے ’’نادان دوستوں کی نصرت دین‘‘ کی تعبیر اختیار کی جو در حقیقت امام غزالیؒ کے الفاظ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ طرز عمل اختیار کرنے سے ہم لوگ خود اپنے مقدمے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا:

الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھا فھو احق بھا۔ (جامع الترمذی)
ترجمہ: حکمت و دانائی تو مومن کی گمشدہ متاع ہے، وہ اسے جہاں پائے، وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ علم و تحقیق کی بات کو مشرق و مغرب میں نہیں بانٹنا چاہیے، یہ تو ساری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے جس سے بغیر تعصب و امتیاز کے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں علمی دیانت کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ یہ کوئی علمی اور اخلاقی طریقہ نہیں ہے کہ ہر کسی بات یا تحقیق جدید کو محض اس وجہ سے قبول نہ کریں کہ وہ مغرب سے منسوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ہم کسی نظریہ یا فکر کو دین مخالف سمجھ کر رد کر دیتے ہیں، لیکن وہ ہو سکتا ہے فی الواقع دین سے متضاد نہ ہو بلکہ ہمارے فہم یا تعبیر و توجیہ سے ٹکرا رہی ہو اور ظاہر بات ہے کہ تعبیر و تشریح دین ایک انسانی اور اجتہادی معاملہ ہے جس میں غلطی و خطا کا امکان برابر موجود رہتا ہے۔ ویسے بھی یہ بات تو بدیہی ہے کہ وحی اور عقل سلیم میں کوئی تضاد و نزاع نہیں ہے، خدا کی معرفت آیات انفسی و آفاقی پر غور کرنے سے ملتی ہے اور جدید سائنس انفس و آفاق پر غور و تدبر کی طرف ہی گامزن ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے بالکل بجا کہا کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور کائنات خدا کا کام (صنعت و کاریگری) ہے۔ لہٰذا خدا کے کلام و کام میں فرق و تفاوت نہیں ہو سکتا۔ 

ورکشاپ شیڈول کے مطابق نماز عصر سے مغرب تک روزانہ کسی مہمان مقرر کا لیکچر ہونا تھا، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا۔ صرف دو مہمان مقرر تشریف لائے جن میں علامہ اقبال مرحوم کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین صاحب نے اقبال کے حالات زندگی اور قرآن سے شغف و انہماک پر گفتگو کی جبکہ LUMS سے تشریف لانے والے ڈاکٹر طارق جدون صاحب نے سائنسی طریقۂ تحقیق پر روشنی ڈالی۔ ادارہ النحل کی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسی ورکشاپس دیگر علمی و تحقیقی شخصیات کو بھی مختلف موضوعات پر محاضرات کی دعوت دی جائے جن میں جناب احمد جاوید صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور)، ڈاکٹر ابصار احمد صاحب (شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی)، ڈاکٹر محمد امین (مدیر البرہان، لاہور) اور مولانا یوسف خان صاحب (شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ) جیسے اصحاب علم و فضل شامل ہیں۔ 

جناب ڈاکٹر باسط بلال صاحب اور ادارہ النحل کی پوری ٹیم کا بے حد شکریہ جنہوں نے اس ورکشاپ کا اہتمام کیا، طلبہ کے قیام و طعام اور دیگر سہولیات کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ جناب ڈاکٹر احمد بلال صاحب بھی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں جو طلبہ کے ساتھ نہایت محبت اور تواضع کے ساتھ متعلق رہے اور وقتاً فوقتاً طلبہ سے تجاویز و آرا (Feedback) لیتے رہے اور Assignments بھی لیتے رہے۔ 

اخبار و آثار

(ستمبر ۲۰۱۴ء)

Flag Counter