جون ۲۰۱۳ء

’’الشریعہ‘‘ بنام ’’ضرب مومن‘‘

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے اور پیش آمدہ مسائل ومعاملات کے تجزیہ وتحقیق اور تنقیح وتحلیل کے ذریعے اصل صورت حال معلوم کرنے کا ذوق بیدار ہو رہا ہے اور...

بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۱)

― مولانا مفتی محمد زاہد

ایشیا کا وہ خطہ جو بر صغیر کہلاتا ہے ، بالخصوص اس کے وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں یا بڑی تعداد میں آباد ہیں یہ ہمیشہ سے ہی مختلف تہذیبوں کی آماج گاہ اور ان کی آمد و رفت کا راستہ رہے ہیں۔ اس لیے تہذیبی اور ثقافتی تنوع یا اختلافات کا ذائقہ یہ خطے چکھتے چلے آئے ہیں اس کے جو اثرات اس خطے کی اجتماعی نفسیات پر بھی پڑے ہیں وہ ایک مستقل مطالعے کا موضوع ہوسکتے ہیں، یہاں بر صغیر میں صرف مسلمانوں کی دینی روایت کے حوالے سے بات کرنا مقصود ہے۔ بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں فرقہ وارانہ تقسیم ، عدمِ برداشت کے بھی بہت...

مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۱)

― محمد زاہد صدیق مغل

مغربی اثرات کے تحت اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے دوران جو فکری مواد لکھا گیا اس کا ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ’مغرب کی اجتماعی زندگی چند اعلی انسانی اخلاقی اقدار کا مظہر ہے، لہٰذا مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے بس کلمہ پڑھنے کی دیر ہے‘۔ یہی دعویٰ ان الفاظ میں بھی دہرایا جاتا ہے کہ ’اجتماعی زندگی کی تشکیل کے معاملے میں مغرب ہم سے بہت بہتر اقدار کا حامل ہے، البتہ ذاتی معاملات (مثلاً بدکاری، شراب نوشی وغیرہ کے استعمال ) میں کچھ نا ہمواریاں پائی جاتی ہیں‘۔ دوسرے لفظوں میں یہ دعویٰ کرنے والے حضرات یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مغرب کا اجتماعی نظم ’اسلامی تعلیمات...

خاطرات

― محمد عمار خان ناصر

عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف۔ دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے متعلق عام طور پر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے اور نتیجتاً دور جدید کے ذہنی مزاج اور عصری تقاضوں کے ادراک سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن میرے نزدیک اس طبقے کا زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خود اپنی علمی روایت، وسیع علمی ذخیرے اور اپنے اسلاف کی آرا وافکار اور متنوع تحقیقی رجحانات سے بھی نابلد ہے۔ اس علمی تنگ دامنی کے نتیجے میں ا س طبقے میں جو ذہنی رویہ پیدا ہوتا ہے، وہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے۔ یہ حضرات اپنے محدود علمی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی جناب مدیر صاحب ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے ماہنامہ کی وساطت سے محترم جناب خواجہ امتیاز احمد صاحب سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ اسلام گوجرانوالہ نے ہمارے استفسار پر اپنے سوالات کا اظہار فرمایا۔ ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قارئین کو تذبذب اور ابہام کی کیفیت سے نکالا ہے، کیونکہ ان کے پہلے اجمالی بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید وہ کوئی ایسے علمی سوالات تھے جن کا جواب مفسر قرآن ؒ نہیں دے سکے تھے یا خدانخواستہ بلاوجہ انہوں نے جواب نہ دے کر اپنے منصب سے بے وفائی کی تھی۔ لیکن...

جون ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۶