جون ۲۰۱۲ء

امریکی فوجی اسکول کے نصاب میں اسلام کی کردار کشی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی فوج کے اسکولوں میں اسلام کے بارے میں پڑھائے جانے والے ایک نصاب پر ان دنوں بحث جاری ہے۔اخباری رپورٹوں کے مطابق خود امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے اس نصاب کو قابل اعتراض قرار دیا ہے جبکہ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ کورس کے بارے میں ان کی ویب سائٹ پر موجودہ نصاب اصلی ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی شکایت سامنے آنے پر جنرل مارٹن نے اس کورس کا نوٹس لیا ہے اور اسے قابل اعتراض اور دوسرے مذاہب کے احترام کے بارے میں امریکی اقدار کے منافی قرار دے کر اس کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مذکورہ...

مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادت

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران میں ملک کے تین معروف علما، مولانا نصیب خان، مولانا سید محمد محسن شاہ اور مولانا محمد اسلم شیخوپوری کو مختلف واقعات میں شہید کر دیا گیا۔ یہ سب حضرات ہمارے محترم تھے اور سب کی شہادت اور جدائی پر ہم غم زدہ ہیں، لیکن مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادت پر ہمارا صدمہ دوہرا ہے، اس لیے کہ وہ ہمارے ساتھی تھے اور انھوں نے طالب علمی کا ایک دور ہمارے درمیان گزارا ہے۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوری نے دینی تعلیم کا آغاز باغبانپورہ لاہور میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد اسحاق قادری قدس اللہ سرہ العزیز کے ہاں کیا تھا جو شیخ التفسیر حضرت مولانا...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹرصفدر محمود سے انٹرویو)

― عرفان احمد

گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈنگہ سے میراتعلق ہے، جو کھاریاں رسول روڈ پر صدیوں سے واقع ہے، سندر داس ایک بہت بڑابزنس مین تھا اُس نے ڈنگہ میں بہت ہی شاندار بلڈنگ ہائی سکول کے لیے بنوائی تھی، اب یہ ہائر سکینڈری سکول ہے آٹھویں تک میری تعلیم وہاں ہوئی جس تعمیر ملت سکول رحیم یار خان سے میں نے میٹرک کیا وہ سکول بنیادی طورپر جماعت اسلامی کے اراکین کی زیر نگرانی چلتا تھا، اس سکول میں فکری نشوونما اور کردار سازی پربڑی توجہ دی جاتی تھی۔ امتحان سے زیادہ کردار سازی پرتوجہ ہوتی تھی فکری نشوونما پرزیادہ زورتھا اُس کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور بی...

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ / مختلف کلامی تعبیرات کی حقیقت اور ان سے استفادہ کی گنجائش / قربانی کے ایام

― محمد عمار خان ناصر

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوری سے میرا پہلا تعارف ۔جو غائبانہ تھا اور آخر وقت تک بنیادی طور پر غائبانہ ہی رہا۔ ۹۰ء کی دہائی میں اپنے زمانہ طالب علمی کے اواخر میں ہوا جب ’’ندائے منبر ومحراب‘‘ کے عنوان سے ان کا سلسلہ خطبات منظر عام پر آنا شروع ہوا۔ مجھے تقریر وخطابت سے اور خاص طور پر اس کے مروجہ اسالیب سے طبعی طور پر کبھی مناسبت نہیں رہی، تاہم مولانا شیخوپوری کے سنجیدہ اور بامقصد انداز گفتگو کا ایک اچھا تاثر ذہن پر پڑنا یاد ہے۔ شاید اس زمانے میں اس سلسلے کی کچھ جلدیں بھی نظر سے گزری ہوں۔ ۹۰ء کی دہائی میں ہی والد گرامی...

ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۲)

― ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

اجتہاد کی تشریحات۔ قاری طیب صاحب کی اجتہاد کی مجموعی تشریح میں تین متلازم عناصر ہیں: تقویٰ،علمیات اور تاریخ۔ ان تینوں زاویوں کو نظر انداز کرنے سے ان کے تصور اجتہاد کی غلط تفہیم اور ساتھ ہی ان چیزوں کے ان کے تصور کی تحریف ہو سکتی ہے۔ زمانۂ حال کے آزاد خیال تصور اجتہاد اوراخلاقیات کی تشریح و تعبیر میں مشکل ہی سے ایسی قواعد سازی یا قواعد کی تلاش کا سراغ ملے گا، جس کو تقویٰ اور فقیہ و عالم کے شخصی اخلاق کا پابند بنایا گیاہو۔ اس کے برعکس قاری صاحب نہ صرف اس زاویہ کو خاصی اہمیت دیتے ہیں بلکہ مذہبیات کی تعبیر کی اپنی گفتگو میں وہ اسے مرکزی مقام دیتے...

سر سید احمد خان کی سیاسی فکر اور اس کے نتائج و اثرات ۔ ایک تنقیدی جائزہ

― کے ایم اعظم

برصغیر ہند و پاکستان کے مسلمانوں کی صد سالہ سیاست (۵۳۸۱ء تا ۷۴۹۱ء) پر دو اشخاص مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ ایک ہیں لارڈ تھامس میکالے (۰۰۸۱۔۹۵۸۱) اور دوسرے ہیں سر سید احمد خان (۷۱۸۱۔۸۹۸۱)۔ جب انگریز کانگریس کے ذریعے ہندوؤں پر غلبہ پانے میں ناکام رہ گئے تو اُن کی توجہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف مبذول ہو گئی۔ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے میں سر سید احمد خان نے انگریزوں کا ہاتھ خوب بٹایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہندوؤں کے اثر و رسوخ سے نکالنے کے لیے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ سر سید احمد خان کے فلسفہ اور ان کی مسلسل جدوجہد نے ہندی مسلمانوں کو سیاسی آزادی...

سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۲)

― ادارہ

مولانا عبد الواحد رسول نگری (مدرس مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد! انتہائی لائق احترام علماء کرام، ائمہ کرام! آج کی اس مبارک نشست میں بڑے قیمتی بیانات آپ سماعت فرماچکے ہیں۔ عنوان ہے ’’ائمہ اورخطبا کی ذمہ داریاں اور مشکلات‘‘۔ محترم دوستو!امام اور خطیب کی ذ مہ داری سمجھنے سے پہلے ہمیں اس اہم نکتے کی طرف بھی توجہ دینی ہے کہ امام اور خطیب کا تعارف مسجد کی مناسبت سے ہوتاہے اوراس کی تمام تر ذمہ داریاں بھی مسجد کے عنوان سے ہیں۔خود مسجد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیامقام رکھتی ہے اوراسلامی سوسائٹی میں کیامقام...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’جہاد ۔ کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘ (ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت)۔ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ سے الشریعہ اکادمی کی طرف سے شائع ہونے والا ملک کا نامور ماہنامہ ہے جس کے رئیس التحریر جانشین امام اہل السنۃ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا زاہد الراشدی اور مدیر ان کے صاحبزادے ممتاز اسلامی اسکالر مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر ہیں۔ بحث و مباحثہ کے پلیٹ فارم پر اس رسالہ نے اہل علم اور عوام الناس میں غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ جہاں بہت سے اہل علم و قلم اس کی پالیسی کو سراہتے ہیں،وہاں کچھ شدت پسند لوگ اسے ہدف تنقید بھی بناتے ہیں۔ بہر حال یہ...

نفسیاتی علاج کی اہمیت

― حکیم محمد عمران مغل

حکیم ابوبکر رازیؒ کی حذاقت کا یہ واقعہ کتب میں مرقوم ہے کہ حاکم وقت کا لڑکا ذہنی اور نفسیاتی امراض میں جکڑا گیا۔ آخری علاج رازیؒ نے ہی کیا۔ بادشاہ کا لڑکا اپنی ضد پر قائم تھا کہ میں گائے ہوں، مجھے ذبح کیا جائے۔ رازی نے چند منٹ میں اس کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھ کر علاج کیا اور شہزادہ ٹھیک ہو گیا۔ رازی نے کہا کہ میں ابھی آپ کو ذبح کرتا ہوں، لیکن یہ تو بتائیں کہ آپ کے جسم پر نہ گوشت پوست اور چربی ہے اور نہ ہی خون ہے۔ ہڈیوں پر چھری کیسے چلے گی؟ اس لیے آپ کچھ کھا پی لیں تاکہ گوشت پیدا ہو۔ اتنی سی با ت پر شہزادے نے کھانا پینا شروع کر دیا اور اس کا ذہنی توازن...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter