نفسیاتی علاج کی اہمیت

حکیم محمد عمران مغل

حکیم ابوبکر رازیؒ کی حذاقت کا یہ واقعہ کتب میں مرقوم ہے کہ حاکم وقت کا لڑکا ذہنی اور نفسیاتی امراض میں جکڑا گیا۔ آخری علاج رازیؒ نے ہی کیا۔ بادشاہ کا لڑکا اپنی ضد پر قائم تھا کہ میں گائے ہوں، مجھے ذبح کیا جائے۔ رازی نے چند منٹ میں اس کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھ کر علاج کیا اور شہزادہ ٹھیک ہو گیا۔ رازی نے کہا کہ میں ابھی آپ کو ذبح کرتا ہوں، لیکن یہ تو بتائیں کہ آپ کے جسم پر نہ گوشت پوست اور چربی ہے اور نہ ہی خون ہے۔ ہڈیوں پر چھری کیسے چلے گی؟ اس لیے آپ کچھ کھا پی لیں تاکہ گوشت پیدا ہو۔ اتنی سی با ت پر شہزادے نے کھانا پینا شروع کر دیا اور اس کا ذہنی توازن ٹھیک ہو گیا۔

ہماری بود وباش اس سطح پر پہنچ چکی ہے اور اس میں اتنی تبدیلی آ چکی ہے کہ اگر کوئی معالج نفسیاتی طور پر ناکام ہے تو وہ جسمانی علاج قطعی طورپر نہیں کر سکتا۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک متمول، دوبئی پلٹ مگر نہایت متقی وپرہیز گار خاتون کے علاج کے لیے بلایا گیا۔ سارا گھرانہ ڈاکٹروں پر مشتمل تھا۔ اس عورت کا بہنوئی لاہور کے بہت بڑے ہسپتال کا سربراہ تھا۔ پورا زور لگایا گیا، مگر مریضہ ٹھیک نہ ہو سکی۔ بیماری یہ تھی کہ مریضہ جو کچھ کھاتی، فوراً قے کے ذریعے خارج ہو جاتا۔ جون جولائی کا مہینہ تھا۔میری تشخیص اور تدبیر بھی غلط نکلی۔ میں صبح سے شام تک سوچتا رہا۔ مریضہ کی بڑی بہن بڑی تجربہ کار، متقی پرہیز گار ، نماز گائنا کالوجسٹ تھی۔ میں نے اپنی تشخیص کا رخ موڑا۔ گھر والوں سے عرض کیا کہ مجھے آخری کوشش پوری کرنے دیں۔ مغرب کے قریب اللہ نے میری مدد کی اور میں قے بند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے علم نفسیات کی مدد سے بات آگے بڑھائی تو یہ راز کھلا کہ محترمہ کی ایک نہایت لائق بیٹی نے سارے خاندان کو نظر انداز کرتے ہوئے قانونی طور پر مجسٹریٹ صاحب کے روبرو ایک نوجوان سے شادی رچا لی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس خاتون کے سامنے اس کی لکھی پڑھی خوبرو لڑکی کے ساتھ ایک نوجوان گزرتا تو اس کی حالت غیر ہو جاتی۔ گرمی کا موسم تھا۔ میں نے گرم موسم کا خیال کرتے ہوئے پودینہ کے عرق کی پوری بوتل منگوائی اور ایک ایک پیالی پلاتا گیا، مگر قے نہ رکی۔ آخر بوتل ختم ہونے کو آئی تو قدرت نے میری کوشش کو قبول کر لیا۔ محترمہ کی نہ صرف قے رک گئی بلکہ ساتھ ہی وہ نیند کی آغوش میں چلی گئیں۔

بات یہ تھی کہ ماں نہیں چاہتی تھی کہ وہ نوجوان اس کا داماد بنے، جبکہ لڑکی اسی لڑکے سے شادی کی خواہش مند تھی۔ اسی کشمکش میں وقت گزرتا گیا اور ماں کی حالت غیر ہوتی گئی۔ جونہی وہ اپنے داماد کو دیکھتی، اس کے اندرونی نظام نفسیاتی طو رپر شدید متاثر ہوتا اور کھایا پیا باہر آ جاتا۔ پودینے کے عرق نے سارے جسم کو ٹھنڈا کر دیا اور قے رک گئی۔ میں نے تھوڑی سی کوشش کر کے اپنی تشخیص کا رخ موڑا تو مسئلہ حل ہو گیا۔ پرانے اطبا نے نفسیات کے علم کے بول بوتے پر پیچیدہ امراض کا علاج کر کے سیکڑوں مریضوں کی جان بچائی ہے۔

امراض و علاج