سادہ خوراک اور انسانی صحت

حکیم محمد عمران مغل

ہر ذی روح کی بقا کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ہے تازہ ہوا اور بے رنگ، بے بو ، بے ذائقہ پانی۔ یہ دونوں نعمتیں ہر ایک کی دسترس میں دے دی گئی ہیں۔ جب جی چاہے، بغیر مشقت اور اخراجات کے ان سے فائدہ اٹھائیے۔ دیگر اشیا تقریباً سب ضمنی ہیں جن کے تصرف میں دن رات اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھوک یہ ہے کہ پانی میں نمک گھول کر اس سے جتنی روٹی کھائی جا سکے، بس۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جس آدمی کی آمدن جتنی زیادہ ہے، اس کا دستر خوان بھی اتنا ہی وسیع ہے جو بالآخر اسے وقت سے پہلے قبرستان پہنچا دیتا ہے۔ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے اپنی امت کی غربت کا اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اس کی امارت کا ہے۔ آج معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر گمراہی اور برائی کے پیچھے امارت ہی ہے۔ مشروبات ہوں یا خوراک یا بود وباش،تاحد نگاہ ان کی وسعت پھیلتی جا رہی ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہو چکا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے بعض علاقوں کے متعلق یہ مشاہدہ کیا گیا کہ انتہائی غریب ہونے کے باوجود وہ نہایت صحت مند زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسباب معلوم کرنے کے لیے ان علاقوں میں ماہرین بھیجے گئے جنھوں نے وہاں کے لوگوں خوراک اور بود وباش کا مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ آخر میں رپورٹ تیار کی گئی تو اس میں بتایا گیا کہ یہ لوگ سخت سردی میں ضروری حفاظت کے باوجود ٹھٹھرتے رہتے ہیں، لیکن دہی اور باسی لسی سے کھانا کھاتے ہیں۔ دہی کے بغیر انھیں کوئی غذا مرغوب نہیں، جبکہ باہر شدت سے برف باری جاری تھی۔ محترم ولی خان مرحوم کے والد باچا خان مرحوم کی خوراک میں ساری زندگی دہی شامل رہا۔ دہی کے استعمال سے نہ صرف عمر بڑھتی ہے بلکہ آج کے دور کی بدترین اور جان لیوا بیماری بلڈ پریشر سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ جب تک معاشرہ چاٹی کی لسی استعمال کرتا رہا، یہ امراض دبے رہے۔ 

موجودہ صدی کی بین الاقوامی شخصیت حکیم محمد سعید شہید رحمۃ اللہ علیہ جب طب اسلامی کے ترجمان کے طور پر اقوام متحدہ کی کسی کانفرنس میں تشریف لے گئے تو مہمانوں کوچائے پیش کی گئی۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ میں تو آج تک چائے کے ذائقے سے ہی ناآشنا ہوں۔ اس کے برعکس اپنے معاشرے کا حال دیکھیں، صبح سویرے آب حیات کی طرح اس کے جام کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ یہ نشے کی طرح معاشرے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ایک خاص غذا کی جگہ آپ کو کوئی دوسری غذا دی جائے اور آپ کھانے سے انکار کر دیں تو یہ بھی نشہ ہے۔ 

الغرض اسلام سادہ مذہب ہے، ہمیں سادگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے ترازو میں ہمارا معاشرہ تولا جائے تو اکثریت کسی نہ کسی نشے میں گرفتار نظر آتی ہے جس سے قوت مدافعت ختم ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ طرح طرح کے امراض میں جکڑا جا رہا ہے۔ سادگی کے فوائد پر مزید گفتگو ان شاء اللہ آئندہ نشستوں میں پیش کروں گا۔

امراض و علاج