مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقیؒ

مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی

علم وعمل کے پیکر، خلوص ووفا کے مجسم، محقق ومحدث، مصنف وادیب، داعی ومبلغ، دینی اور عصری علوم کے شناور مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی کا ندھلویؒ ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ء بروز جمعہ اپنے متعلقین کو حیرت زدہ چھوڑ کردار فانی سے دارالبقا کی طرف کوچ کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جانا تو سب کو ہے،اس سفر پر مسافر روز جاتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب اتنا اچانک چلے گئے کہ یقین نہیں آرہا۔ 

ڈاکٹر صاحب کو بظاہر کوئی بیماری اور عارضہ لاحق نہ تھا۔ ۶۹ سال کی عمر میں بھی تندرست وتوانا اور قابل رشک صحت تھی۔ اس روز سج دھج کر جمعۃ المبارک کی ادائیگی کے لیے پا بہ رکاب تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ مکان کی دوسری منزل کی تعمیر کا کام حال ہی میں مکمل ہوا تھا۔ گھر والوں سے کہا کہ ’’جمعۃ المبارک کے بعد سب مل کر نئے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کرلینا۔ میں درس قرآن سے اس کا افتتاح کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ جملے حضرت کی زبان پر تھے کہ وقت موعود آپہنچا۔ ۵ دسمبر ۱۹۴۳ء سے ۳۰دسمبر ۲۰۱۱ء تک کا سفر پورا ہوااور حرکت قلب بند ہوگئی۔ پاکیزہ روح عالم بالا کو پرواز کرگئی اور ان کا معطر جسد خاکی آخرت کی پہلی منزل میں جاسکون پذیر ہوا۔

مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم ’’صدیقی‘‘ نسبتوں کے امین اور خاندان کاندھلہ کے روشن ستارے تھے جن کی علمی، تحقیقی اور تبلیغی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔ ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی، مفتی اشفاق الرحمن کاندھلویؒ کے صاحبزادے اور ’’سیرت المصطفیٰ‘‘ کے مصنف مولانا ادریس کاندھلویؒ کے بھانجے تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے تین بھائی مولانا حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی، مولانا حامد الرحمن صدیقی کاندھلوی اور مولانا عبدالرحمن صدیقی کاندھلوی بھی جید عالم اور محقق ومدرس تھے۔ اس عظیم خاندان کے متعلق بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ: ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔

مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی کی تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور عملی زندگی کا جائزہ پیش کیا جائے تو وہ جہد مسلسل سے عبارت نظر آتی ہے۔ مولانا کے والد گرامی مفتی اشفاق الرحمن کاندھلوی دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار کے ابتدائی دور کے بڑے اساتذہ میں تھے۔ ادارے کے مہتمم مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی مستقل رہائش کراچی میں ہونے کے سبب مفتی اشفاق الرحمن کاندھلوی دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار کے قائم مقام مہتمم کے منصب پر بھی فائز رہے۔

ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے درس نظامی کی تکمیل اپنے والد کے زیر سایہ ٹنڈو الٰہ یار میں کی۔درس نظامی کے بعد محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی الحدیث کیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلے کا واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ایک مجلس میں بتایا کہ جب ٹنڈو الٰہ یار سے حضرت بنوریؒ کے پاس حاضر ہوا تو حضرت نے پوچھا کہ کس درجے میں داخلہ لینا ہے اور کیا پڑھنا ہے؟ میں نے حضرت بنوریؒ سے عرض کیا کہ حضرت! کسی درجے یا کتاب کا انتخاب تو نہیں کیا، مگر استاذ کا انتخاب کرکے آیا ہوں۔ میرے والدصاحب نے آپ کے پاس یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ اگر کچھ بننا چاہتے ہو تو حضرت بنوریؒ کے پاس تھوڑا وقت گزار لو۔ فرمایا کہ میرے اس جواب سے حضرت بنوریؒ بہت خوش ہوئے اور خصوصی شفقت وتربیت کا شرف بخشا۔

ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ سے بہت متاثر تھے۔ تخصصات کے طلبہ کو دوران لیکچر اکثر ان کے انداز تربیت کا حوالہ دیتے اور اسی نہج پر تربیت کرتے تھے۔ زباں دانی کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فرماتے کہ یہ طرز ہمارے حضرت بنوریؒ کا تھا کہ وہ تخصصات کے شرکا کو عربی سکھانے کے لیے مصر سے اساتذہ کو بلاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک موقع پر اپنے متعلق بتایا کہ میں نے حضرت بنوریؒ کے حکم پر صرف تین ماہ میں انگلش سیکھی اور اردو میں مضمون نویسی کی مشق بھی حضرت بنوریؒ کے زیر نگرانی کی ہے۔

ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے امتیازی نمبروں میں ایم اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے مخطوطہ الفیۃ العراقی کی شرح منحۃ المغیث تحریر کرکے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ (یہ کتاب حال ہی میں بیروت سے شائع ہوئی ہے)۔

ڈاکٹر صاحب نے عملی زندگی کا آغاز مرکز التحقیق دیال سنگھ لائبریری لاہور سے کیا۔ یہاں کے علمی ماحول میں تحقیقی کتابیں لکھیں اور اہم ترین عنوانات پر مقالے تحریر کیے۔ ان کے بہترین تحقیقی کاموں، عمدہ تحریروں، علمی تعمق اور فکری گہرائی وگیرائی کے سبب جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈاکٹر صاحب کو ۱۹۷۹ء میں وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد کا ریسرچ ایڈوائزر بنا دیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالتوں کا قیام ۱۹۷۸ء میں عمل میں آیا تھا۔ تحقیق وریسرچ کے کام کی شروعات تھیں اور اسلامی قوانین اور دستور کے مسودات اور متن کی تیاری جیسے حساس امور طے پارہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اس ٹیم کے اہم فرد تھے جنہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں تحقیق کا کام سرانجام دیا۔ دوران درس تلامذہ سے فرمایا کرتے تھے کہ وفاقی شرعی عدالت میں بہت سے قوانین کے مسودے اور آئین کی متعدد شقوں کا متن تحریر کرنے کا اعزاز اللہ تعالیٰ نے میرے قلم کو عطا فرمایا ہے۔ ۱۹۷۹ء تا ۱۹۹۵ء وفاقی شرعی عدالت میں خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچر بھی دیتے رہے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم فل کے شعبے کے سپروائزر بھی رہے۔

۱۹۹۵ء میں برونائی دارالسلام کی اسلامی یونیورسٹی کے اصرار پر برونائی تشریف لے گئے جہاں ۲۰۰۶ء تک یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے نگران کے طور پر خداداد صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔برونائی دارالسلام سے واپسی پر کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے مسؤل کے طور پر تادم رحلت تحقیقی وتدریسی کاموں میں مشغول رہے۔ دارالعلوم کراچی کے شعبہ تخصص فی الدعوۃ کا جامع نصاب ترتیب دیا اور شرکا پر خوب محنت کی۔ اس دوسالہ نصاب کو پاکستان کی بڑی جامعات میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اب تک متعدد بڑے دینی ادارے تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا اجرا کرکے اس نصاب کو شروع کر چکے ہیں۔مجلس صوت الاسلام کلفٹن کے تحت ’’تربیت علماء کورس‘‘ میں بھی یہی نصاب پڑھایا جارہا ہے جس کی مکمل نگرانی بھی ڈاکٹر صاحب کیا کرتے تھے اور ہفتے میں دو دن شام کے اوقات میں ’’دعوت دین اور تقابل ادیان کے اسباق بھی خود پڑھاتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب جہاں دیدہ شخصیت اور جامع المعقول والمنقول تھے۔ اصول حدیث، اصول فقہ، تاریخ، ادب، علم الکلام، فلسفہ، قانون اور ادیان پر مہارت تامہ رکھتے تھے۔ وہ تخصص کرنے والے اپنے شاگردوں کو فکر ونظر کی کشمکش کے اس دور میں افکار شاہ ولی اللہ کے عمیق مطالعے اور ان کی طرز میں کام کی ترغیب دیتے تھے۔ وہ مغربی تہذیب وفلسفے کے زبردست ناقد تھے۔ ان دنوں اس موضوع پر تحقیقی کام کررہے تھے اور ’’اسلام اور انتہا پسندی‘ مشرق کا مقدمہ مغرب کی عدالت میں‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کررہے تھے جس پر کافی کام ہوچکا تھا۔ اس میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’موجودہ مغربی تہذیب وفلسفہ دراصل یونانی تہذیب وفلسفے اور رومن تہذیب کا چربہ ہے جو دیگر تہذیبوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ افرادِ کار تیار ہوکر دلیل اور ڈائیلاگ کی قوت سے مغربی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کریں اور اس کے تار وپود بکھیر دیں۔ اگر دلیل کی قوت سے مغربی تہذیب کا رد شروع ہوگیا تو مغربی تہذیب چند سال میں دنیا کے نقشے سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گی‘‘۔

ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم اردو، عربی اور انگلش کے باقاعدہ ادیب تھے۔ ان تینوں زبانوں میں دو درجن سے زائد علمی وتحقیقی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ 

وہ مرنجاں مرنج شخصیت تھے۔ جو ان سے ایک بار ملاقات کرلیتا تو بار بار ملنے کو جی چاہتا تھا، ان سے آخری ملاقات ان کے سفر آخرت پر روانہ ہونے سے دو دن قبل 27دسمبر کو ایک تقریب میں ہوئی۔ یہ تقریب نوجوان فضلاء کرام کیلئے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے طور پر منعقد تھی جس نشست میں ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے خطاب کیا، اس کے مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی تھے اور اس نشست کا موضوع ’’عصری تحدیات اور علماء کرام کی ذمے داریاں ‘‘ تھا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اس عنوان پر اس قدر جامع خطاب کیا کہ مہمان خصوصی سمیت سب خطبا نے کہا کہ ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے ہمارے کہنے کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔

ڈاکٹر صاحب قحط الرجال کے اس دور میں علما وطلبا اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والے طبقے کے لیے فکری اثاثہ تھے۔شفیق رہبر اور ہمہ وقت دستیاب ایک انمول خزانہ تھے۔ ان کی اچانک جدائی پر ان کے صاحبزادگان نعیم الرحمن صدیقی‘ انیس الرحمن صدیقی‘ رضاء الرحمن صدیقی‘ رضی الرحمن صدیقی اور دیگر اہل خانہ ہی نہیں بلکہ ہزاروں شاگرد اور عقیدت مند سوگوار ہیں۔ ہزاروں طلبا وعلما کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی جیسے عظیم استاذ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیے ہیں۔

اخبار و آثار