سیمینار: ’’ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں اور مسائل ومشکلات‘‘

ادارہ

۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں ’’ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے ایک فکری نشست اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجداور خطبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے، بلکہ ان ائمہ وخطبا کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے، جو مختلف جامعات کے فضلا ہیں اور کسی نہ کسی مسجد میں امامت یا خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں کہ انہیں دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے کیامشکلات پیش آئی ہیں اور ان کے ذہن میں ان مسائل کا حل کیا ہے؟ چنانچہ مختلف حضرات نے اس سلسلے میں جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا محمد اویس نے کہا کہ مدارس کے فضلاء کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ مسجدیا مدرسے میں دی جانے والی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا۔ مثلاً چھ سات ہزار روپے میں اپنا خرچہ، گھر کا خرچہ، مکان کا کرایہ، بجلی وگیس کا بل اور دیگر ضروری اخراجات کسی طرح بھی پورے نہیں ہوتے، جس کے لیے انہیں متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑتے ہیں اور وہ بطورخطیب وامام یا مدرس اپنے فرائض دل جمعی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکتے، جبکہ ان کے لیے دوسری بڑی الجھن یہ ہوتی ہے کہ انہیں مدرسہ ومسجد میں اپنی ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور مہتمم صاحب یا کمیٹی کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں، جو کسی بھی وقت ان کی چھٹی کراسکتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ دینی مدارس میں طلبہ کو عصری تعلیم دی جائے یا کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ وہ معاشی مشکلات پر کسی حد تک قابو پاسکیں۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے فاضل مولانا عبدالوحید صاحب نے کہا کہ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اربابِ مدارس فضلا کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، مدارس کی بلڈنگیں تو شایان شان بن جاتی ہیں، مگر مدرسین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جامعہ فاروقیہ کراچی کے فاضل مولانا ابوبکر نے کہا کہ دینی مدارس میں ہمیں جو تربیت ہوتی ہے، وہ بہت عمدہ اور بہترین ہوتی ہے، جس کا احساس ہمیں اسکولوں اور دیگر اداروں میں جاکر ہوتا ہے۔ ہمیں صبر، برداشت، توکل اور قناعت کی تعلیم ملتی ہے اور شرافت اور دین داری کا ذوق پیدا ہوتا ہے، البتہ معاشرے میں جاکر اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس میں طلبہ کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ ان کا انحصار صرف مسجد کی تنخواہ اور کمیٹی کے رویے پر نہ ہو اور وہ متبادل ذریعہ معاش رکھنے کی وجہ سے آزادی اوروقار کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دے سکیں۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا محمد عامر نے کہا کہ ہمارے مدارس میں ابتداہی سے طلبہ کی ذہن سازی ہونی چاہیے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنی چاہیے کہ انہیں معاشرے کی راہ نمائی کے لیے تیار کیا جارہا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق پڑھیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق ان کا ذہن ترقی کرتا چلا جائے۔ اسی طرح اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے پاس معاشرے کا شایدصرف دو فیصد طبقہ آتا ہے، جبکہ باقی اٹھانوے فیصد کے لیے دینی تعلیم کا ہمارے ہاں کوئی منظم اور مربوط نظام موجود نہیں ہے، پھر یہ بھی ہے کہ اگر کوئی فاضل کسی اور شعبے میں چلاجاتا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ دینی تقاضوں سے ہٹ گیا ہے، حالانکہ ہمیں خود طلبہ کی ایک تعداد کو دوسرے شعبوں کے لیے تیار کرنا چاہیے اور پالیسی کے تحت انہیں وہاں بھیجنا چاہیے۔

مولانا منیراحمد نے کہاکہ مدارس کے فضلا میں سے ذی استعداد حضرات ہی مدارس میں تدریس کا منصب حاصل کرپاتے ہیں، جبکہ ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور دوسرے درجے کے فضلا جو کثیر تعداد میں ہوتے ہیں، انہیں دوسرے شعبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں ان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہاں کام کرنے کے لیے نہ ان کے پاس وہاں کی بنیادی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی تربیت ہوتی ہے، پھر ماحول مختلف ہونے اور وہاں کی تعلیم ضروری حد تک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اسکولوں، کالجوں میں دوسرے درجے کا استاذ سمجھا جاتا ہے اور وہ بسااوقات احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے اس کی منصوبہ بندی دینی مدارس کی تعلیم کے دوران ہی ہونی چاہیے کہ طلبہ کی جس اکثریت کو دوسرے شعبوں میں ہی جاناہے، انہیں وہاں کی بنیادی تعلیم اور وہاں کے ماحول سے آگاہی فراہم کی جائے اور انہیں اس کے لیے تیار کیا جائے۔

مولانا عاطف نے کہا کہ ہماری دینی جماعتوں کا شدت پسندانہ رویہ اور ایک دوسرے کی تحقیر وتنقیص بھی مساجد کے ماحول میں ہمارے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ مسجد کے نمازی اور کمیٹی کے ارکان اکثر بے علم ہوتے ہیں اور ان کے ردعمل کا شکار امام وخطیب کو بننا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ائمہ وخطباء کا آپس میں کوئی ایسا رابطہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا فورم موجود ہے کہ وہ جائز معاملات میں ایک دوسرے کی سپورٹ کرسکیں، جس کی وجہ سے ہرمسجد کا امام وخطیب تنہائی کا شکار رہتا ہے اوراسے اپنے نمازیوں اور کمیٹی کے جائز یا ناجائز مطالبات سے خود ہی نمٹنا پڑتا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کیفاضل مولانا حافظ محمد رشید نے کہا کہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلا میں سے ہر ایک کا جذبہ یہی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں جاکر دین کی خدمت کرے گا لیکن عملی میدان میں جاکر اسے جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر شخص ان کا سامنا نہیں کرسکتا۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پیٹ پر پتھر باندھ کر دین کی خدمت کرسکیں اور مسائل ومشکلات کا سامنا نہ کرپانے والے حضرات جب دوسرے ذرائع اختیار کرتے ہیں تو انہیں بے دینی کے طعنوں کا شکار بنایا جاتا ہے، اس طرزعمل کی بھی اصلاح ہونی چاہیے۔

جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا وقاراحمد نے کہا کہ ہمارے اکابر بالخصوص حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی نے تعلیمی میدان میں جس وسعت اور ہمہ گیری کا تصور دیا تھا، ہم اس کو بھول گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں پورے معاشرے کو سمیٹنے کے حوالے سے ان بزرگوں کا جو وژن تھا، اسے دوبارہ واپس لایا جائے، میرے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ یہ مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔

جامعہ غوثیہ بھیرہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی کے رفیق پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے کہا کہ دینی مدارس کے فضلا کو دوسرے قومی شعبوں میں بطور پالیسی بھجوانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے عصری تقاضوں کو ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔ مولانا حکیم عبدالرحمن نے کہا کہ علمائے کرام کو اپنے پاس کوئی ایسا ہنر ضرور رکھنا چاہیے تاکہ وہ کمیٹیوں کے رحم وکرم پر نہ رہیں اور آزادی کے ساتھ مسجد ومدرسہ کی خدمت کرسکیں۔


۱۸؍ ستمبر کو ’’ائمہ وخطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات ومسائل‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوکر چار بجے تک جاری رہا۔ اس کی ایک نشست کی صدارت الحاج عثمان عمرہاشمی نے اور دوسری نشست کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی اور مولانا سیدعبدالخبیر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور اور مولانا مفتی محمد طیب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد بالترتیب پہلی اور دوسری نشست کے مہمان خصوصی تھے، جبکہ خطاب کرنے والوں میں مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا مفتی فخرالدین عثمانی، مولانا عبدالواحد رسول نگری، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا حافظ محمد رشید اور ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز شامل تھے۔

مولانامفتی محمد طیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مساجد اور ائمہ مساجد کے مسائل کے حل کے لیے باہمی رابطہ واجتماع کا کوئی فورم موجود نہیں ہے، حالانکہ مسائل بھی بہت ہیں اور مشکلات بھی کافی ہیں، مگر باہمی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی مشکلات سے ہی آگاہ نہیں ہوپاتے۔ ان مسائل میں مساجد کے مسائل بھی ہیں اور ائمہ وخطباء کے مسائل بھی ہیں، جبکہ ہر جگہ کے مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور مسائل میں ہماری ذمہ داریوں کا سوال بھی شامل ہے اور ہماری مشکلات بھی ان مسائل کا حصہ ہیں لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری کی طرف پوری توجہ دیں تو مشکلات پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، مثلاً ہم امامت وخطابت کو ڈیوٹی سمجھتے ہوئے اسی حد تک محدود نہ رہیں، بلکہ مسجد کے فورم سے فائدہ اٹھاکر درس وتدریس، نمازیوں کی ذہن سازی اور نوجوانوں کو تعلیم وتعلم کے ذریعہ قریب کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے دینی فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد کے ماحول میں ہمارا اعتماد بھی قائم ہوگا، مگر یہ سارا کام مشنری جذبہ کے ساتھ اور رضاکارانہ انداز میں ہونا چاہیے، اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

مولانا عبدالرؤف فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح کے ائمہ مساجد کے مسائل الگ ہیں۔ دیہات کی مساجد کے مسائل اور ہیں، شہروں کی مساجد کے مسائل مختلف ہیں۔ کمیٹیوں کے تحت چلنے والی مساجد کے ائمہ وخطباء دیگر نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ خود مسجد بناکر چلانے والے علمائے کرام اور ائمہ کی مشکلات اس سے الگ نوعیت کی ہیں۔ اسی طرح محکمہ اوقاف کی مساجد کے اماموں کے مسائل اور قسم کے ہیں اور فوج یا دیگر سرکاری اداروں کی مساجد کے ائمہ وخطبا کو اس سے الگ نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سب کے تفصیلی جائزہ کی ضرورت ہے۔ الشریعہ اکادمی اس مسئلہ پر مباحثہ کا آغاز کرنے پر مبارک باد کی مستحق ہے لیکن یہ صرف ایک سیمینار کی بات نہیں ہے، اس کے لیے مستقل ورک کی ضرورت ہے تاکہ مسائل کا احساس اجاگر کرکے ان کے حل کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ مولانا فاروقی نے کہا ہمارے بہت سے ائمہ وخطباء اب سے کچھ عرصہ قبل سیاسی ودینی تحریکات میں پیش پیش ہوتے تھے، جس کی وجہ سے مقامی ماحول اور انتظامیہ کے حوالے سے ان کا رعب ودبدبہ ہوتا تھا، مگر اب غالب اکثریت نے سیاسی عمل، دینی تحریکات اور معاشرتی میل جول سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے، جس کی وجہ سے وہ تنہائی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

مولانا عبدالحق خان بشیر نے اپنے خطاب میں اس ضرورت پر زور دیا کہ خطیب کو جمعہ کے خطبہ کے لیے تیاری کرنی چاہیے اور مستند معلومات کی بنیاد پر گفتگو کرنی چاہیے، اس لیے کہ تیاری اور مستند معلومات کے بغیر کی جانے والی گفتگو ادھوری رہ جاتی ہے، جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں اور آج کے دور میں عام لوگوں کے لیے صرف ان خطبائے کرام کے خطبات کشش کا باعث بنتے ہیں، جو باقاعدہ تیاری کرتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر گزارہ کرنے کی بجائے علمی اور معلوماتی مواد اپنے بیان میں پیش کرتے ہیں۔ خطیب کو معاشرتی ضرورتوں کا بھی خیال کرنا ہوگا، مثال کے طور پر ملک میں یوم کشمیر منایا جارہا ہے تو خطیب کو اس کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے اور غیرمتعلقہ موضوعات پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنے سامعین کو دینی معلومات مہیا کرنے اور احکام ومسائل سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ دینی شخصیات اور اپنے بزرگوں سے بھی متعارف کرائے، جس کے لیے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، بزرگان دین اور بالخصوص اکابرعلمائے دیوبند کا کوئی نہ کوئی واقعہ یا ارشاد موقع محل کی مناسبت سے اپنے خطبات میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مطبوعہ خطبات کے مجموعوں نے ہمارے خطباء کے اندر مطالعہ کا ذوق ختم کردیا ہے، جس کا بہت نقصان ہورہا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں باہمی رابطہ اور مشاورت کو فروغ دینا چاہیے اور ایک دوسرے کی مشکلات میں ساتھ دینا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں اپنے ہم مسلک لوگوں اور نمازیوں کی مشکلات میں بھی حصہ دار بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف جب بات کرتے تھے، ان کی بات کا اثر ہوتا تھا، اس لیے کہ وہ صاحبِ کردار ہوتے تھے اور ان کی نیکی اور تقویٰ پر لوگوں کا اعتماد ہوتا تھا، آج یہ ماحول کم ہوتا جارہا ہے، ہمیں اپنے معمولات، طرزعمل اور کردار کو بہتر بنانا ہوگا، تبھی ہماری باتوں میں اثر ہوگا اور خاص طو رپر مسلکی معاملات میں حمیت سے کام لینا چاہیے اور مناسب طریقہ سے مسلک اور اہل مسلک کا دفاع کرنا چاہیے۔

مولانا مفتی فخرالدین عثمانی نے کہا کہ ہمارے خطباء کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حلال وحرام کے مسائل سے بھی آگاہ کریں اور موقع محل کی مناسبت کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری مسائل کو عوام کے سامنے بیان کریں، انہوں نے کہا کہ دینی احکام پر عمل اور نیکی اور تقویٰ کے معاملہ میں ہمیں لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بننا چاہیے۔

مولانا عبدالواحد رسول نگری نے کہا کہ ہمارے خطباء کو وقت اور لوگوں کے مزاج کی تبدیلی کا احساس کرنا چاہیے، ایک وقت تھا جب لمبی لمبی تقریریں پسند کی جاتی تھیں اور مشکل جملوں اور محاوروں میں گفتگو کو کمال سمجھا جاتا تھا، اب یہ صورت حال نہیں ہے، آپ سادہ الفاظ میں اور مختصر وقت میں اپنی بات کو سمجھا سکیں تو یہی خطابت کا کمال ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی محسوس کی جانی چاہیے کہ لوگوں کی ضرورت اور دل چسپی کے مسائل اگر ہم بیان نہیں کریں گے تو وہ ٹی وی چینلز سے اور دیگر ذرائع سے رجوع کریں گے اور اگر وہی مسائل ہم اچھے انداز میں ان کو سمجھا دیں تو انہیں ادھر جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، مگر ہمارے ہاں ان ضروریات کا خیال عام طور پر نہیں رکھا جاتا۔ 

مولانا حافظ گلزاراحمد آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں خلوص اور مشن کو اپنی محنت کی بنیاد بنانا چاہیے اور قناعت، صبر اور بے نیازی سے کام لینا چاہیے، اس کے ہمیشہ اچھے اثرات سامنے آتے ہیں اور صبر وحوصلہ کا پھل ہمیشہ میٹھا نکلتا ہے۔

الشریعہ اکادمی