الشریعہ اکادمی میں مولانا سید عدنان کاکاخیل کی آمد

ادارہ

(مولانا سید عدنان کاکا خیل ۱۲؍ فروری بروز جمعۃ المبارک جامعۃ الرشید کے ایک وفد کے ہمراہ تعلیمی دورے پر گوجرانوالہ تشریف لائے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کے بعد انھوں نے ’’الشریعہ اکادمی‘‘ میں حاضرین سے ایک مختصر خطاب کیا جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


امابعد! ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔

مفسرین کے ایک گروہ کا خیا ل ہے کہ آیت میں مذکور غلبہ و اظہار دلیل و حجت کا غلبہ ہوگا ۔سیاسی و عسکری غلبہ کا جہاں تک تعلق ہے، اس میں تو دو رائیں ہو سکتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ کے زمانے میں حاصل ہو نے والا سیاسی و عسکری غلبہ اب موجود ہے یا نہیں؟ یعنی اس غلبہ کی نوعیت بدل سکتی ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دلیل و حجت ہر زمانہ میں تمام ادیان پر غالب و ظاہر رہے گی، یعنی اس نوعیت کا غلبہ ہر وقت موجود رہے گا۔ گویا اس آیت کا کم از کم یہ مفہوم ہر زمانے میں مراد لیا جا سکتا ہے۔

ا س ضمن میں یہ بات بھی گوش گزار کروں گا کہ عصر حاضر کو ڈائیلاگ کا دور کہا جاتا ہے۔ آج وہ فورمز بہت زیادہ ابھر کر سامنے آئے ہیں جن میں گفت و شنید کے ذریعے کسی بات کا حق یا نا حق ہونا طے ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے اداروں کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو اس کلچر کو رواج دیں۔ معاشرے میں ابھی تک اہل حق کی جانب سے ایسے ٹھوس فکری ادارے بہت کم تعداد میں وجود میں آئے ہیں۔ دوسرے طبقات نے تو اس ماحول سے خاطر خواہ فائدہ بھی اٹھایا ہے اور اس حوالے سے بہت ساری چیزیں بھی منظر عام پر لائے ہیں، اس لیے ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ اس نسبتاً چھوٹے شہر سے ایک بڑے کام کی ابتدا ہوئی۔ ایسا ادارہ قائم ہوا جس کی بنیاد اس سوچ اور فکر پر ہے کہ یہاں دلیل سے بات ہو گی، یہاں حجت سے بات ہو گی،یہاں گفتگو ہو گی، بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ 

زمانہ طالب علمی میں عام طور پر بغاوت کا شوق ہوتا ہے خواہ ماحول کے اثر کے باعث ہو یا پھر نظام سے موافقت نہ ہونے کی وجہ سے، اور دل چاہتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے ۔میں نے بھی طالب علمی کے دور میں منصوبہ بنایا تھا کہ میں ایسا رسالہ نکالوں گا جس پر لکھا ہوگا کہ ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ اور اس میں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کی کھلی اجازت ہوگی، ہر چیز لکھنے کی اجازت ہو گی۔ میرے خیال میں مولانا زاہد الراشدی نے بھی اسی نقطہ نظر سے یہ رسالہ شروع کیا ہے،اس لیے اس رسالہ کو پڑھ کر ہمارے زمانہ طالب کے ان باغیانہ جذبات کی تسکین ہوتی ہے جو ہمارے اندر سر اٹھایا کرتے تھے۔

موجودہ دور میں دوطبقات باہم گفتگو کے فریق ہیں۔ ایک فریق وہ ہے جس کی نظریاتی بنیادیں اپنے ماضی کے ساتھ پورے طور پر وابستہ نہیں۔ وہ فکری و نظریاتی طور پر آزاد سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں گفتگو کے لیے کسی بھی وقت کوئی بھی مسئلہ کھڑا کیا جا سکتاہے اور کوئی بھی اس پر بحث کر سکتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق وہ ہے جو بات چیت سے پہلے یہ طے کرتا ہے کہ ایسے کون سے مسائل ہیں کہ جن پر بات ہونی چاہیے یا ہو سکتی ہے؟ کون سا مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور کون سا حکم معلو ل بالعلۃ ہے؟ کس مسئلے کا مدار عرف پر ہے اور کس کی اساس میں تعامل الناس کا اصول کار فرما ہے؟ پھر گفتگو کرنے والوں کی اہلیت کیا ہو گی؟ ان کے مصادر و مراجع کیا ہوں گے جن کی طرف بحث کو لوٹایا جائے گا؟یہ تمام باتیں طے ہوں گی تو پھر بحث کا آغاز ہو گا اور گفتگو کا ماحول بنایا جائے گا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ جس طرح ریاضی کی درسی کتب میں سوالوں کے جوابات آخر میں دیے ہوتے ہیں اور سوال حل کرنے کا خواہ کوئی طریقہ اختیار کیا جائے ،جواب وہی آنا چاہیے جو آخر میں درج ہے۔ اسی طرح متفق علیہ مسائل میں تحقیق کا چاہے جو بھی راستہ چنا جائے، جواب وہی آنا چاہیے جس پر امت اتفاق کر چکی ہے۔ اگر اس طرز کو چھوڑ کر تحقیق کار کو آزادی دی جائے گی تو معاملہ بگڑنے کا اندیشہ ہے، جیسا کہ مودودی صاحب مرحوم جب تحقیق شروع کرتے تو فرماتے کہ میری تحقیق مجھے جہاں لے جائے گی، وہی میرا نتیجہ ہو گا۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ان کے اور جمہور امت کے نتائج تحقیق میں فرق آیا ہے۔ ایسے تحقیق کاروں کی زندگی کے ابتدائی، درمیانی اور آخری حالات میں بڑا تغیر و تبدل نظر آتا ہے، جبکہ دیگر حضرات کے ہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے ابتدائی و انتہائی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آئے ۔عصر حاضر میں اسے جمود کا نا م دیا گیا ہے لیکن ہم اسے ثبوت و استقرار کہتے ہیں۔

[ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کی خصوصی اشاعت بیاد حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ] اکابر میں سے جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو ان سے متعلق مجلات کی طرف سے ان پر خصوصی نمبر شائع کرنے کا رواج ہے اور تقریباً تمام ہی اکابرین پر یہ نمبر شائع ہو چکے ہیں۔ جب ہمیں ’’الشریعہ ‘‘ کا امام اہل سنت نمبر پڑھنے کا موقع ملا تو ہم سب کی رائے یہ تھی کہ ’’اس کو پڑھ کر لطف آیا‘‘۔ کہیں بھی کسی قسم کی ملمع سازی یا اطرا کا رنگ نظر نہیں آیا۔واقعی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم ایک انسان کی سیرت کا مطالعہ کر رہے ہیں، پندرہویں صد ی ہجری کے ایک عالم دین کی سیرت پڑھ رہے ہیں۔ تمام معلومات اپنی اپنی جگہ حقیقت کے خانے میں فٹ معلوم ہوتی ہیں۔ مولانا ندویؒ نے اپنے والد محترم کی کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ بر صغیر میں اکابر و اولیا کی سیرتیں ایسے لکھی گئی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی فطرت اور اللہ تعالیٰ کی سنت کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ اللہ کی طرف سے دنیا کو چلانے کے لیے جو عادات طے ہیں اور وہ جس ڈھب اور جس طریقے پر دنیا کو چلانا چاہتے ہیں، اولیا کا کام اس کے خلاف کرنا ہے۔ اگر وہ نظام فطرت کے ساتھ توافق میں چل رہے ہیں تو ان کی ولایت میں ضرور گڑ بڑ ہے۔ اس زمانے میں سیرو سوانح لکھنے کا ایک عمومی رواج تھا جس کو ’’نزہۃ الخواطر‘‘ میں تبدیل کیا گیا اور اولیا و اکابر کے تذکرے کو حقیقی انداز میں بیان کیا گیا۔ بالکل یہی رنگ ہمیں ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کے خصوصی شمارے میں نظر آیا۔

(ترتیب وتدوین: حافظ عبد الرشید)

مولانا لالہ عبد العزیز رحمہ اللہ کی وفات

مولانا عبد العزیز صاحب مرحوم و مغفور ۱۷ ؍نومبر ۲۰۰۹ ء کو دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم ملک کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ابتدائی مدرسین میں سے تھے ۔ مدرسہ سے وابستگی کی طویل مدت ( جو تقریبا ۴۰ سال بنتی ہے) میں انہوں نے ناظم ، ناظم کتب خانہ ، ناظم امتحانات اور مدرس کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ہمارے زمانہ طلب علمی میں وہ ناظم امتحانات تھے ۔ اس وقت وہ اگرچہ خاصے معمر تھے مگر حوصلہ و ہمت وہی جوانوں والی۔ امتحانات کے لیے پرچے بنوانا، انھیں چیک کروانا، رزلٹ تیار کرنا، تمام امور مناسب وقت پر بطریق احسن انجام پاتے تھے۔ اگر کبھی نتیجہ میں تاخیر ہوتی تو پوچھنے پر بعض ایسے جملے ارشاد فرماتے جن کی معنی آفرینی پنجابی کے ’’ ادب لطیف‘‘ کا خاص حصہ ہے۔ 

وہ آخر عمر تک مدرسہ سے متعلق رہے اور اتنی طویل مدت کی وابستگی کسی ’’ مکین ‘‘ کو ’’ مکان ‘‘ سے وہی تعلق عطاکر دیتی ہے جو مجنوں کو صحرا سے، لیکن مولانا نے قدرت اللہ شہاب کی ’’ماں جی ‘‘ کی طرح کہ ’’ جس خاموشی سے دنیا میں رہی تھیں، اسی خاموشی سے عقبیٰ کو سدہار گئیں‘‘، گمنامی کی چادر یوں اوڑھی کہ خود اس گلشن کے رہنے والوں کو جس کی یاسمین و نسترن اور روشوں کی پھبن کو انہوں نے جگر کا خون دے کر سینچا تھا، اس کی خبر حافظ مہر محمد صاحب کے خط کے پرزے سے کئی دنوں بعد ملی جو گویا ساغر کی زبان سے یوں شکوہ سنج تھی :

یاد رکھنا ہماری تربت کو 
قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا 

مولانا ۲۰۰۳ ء تک مدرسہ سے متعلق رہے اور ہزاروں تلامذہ کو اپنا علمی وارث چھوڑا جن میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی جیسے بالغ نظر صاحب فکر اور مولانا عبد القدوس قارن مدظلہ جیسے محدث شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ارباب بست وکشاد کو چاہیے کہ مولانا کی حیات کو تذکرے کی شکل میں سینہ قرطاس پہ محفوظ کریں۔ شاید کبھی ’ نصرۃ العلوم ‘ کے متعلقین میں سے کوئی اسے دیکھے تو امرؤ القیس کے الفاظ میں ’’قفا نبک من ذکری حبیب ومنزل‘‘ کہتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے کلمات دعا ادا کرے۔ 

اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین

(وقار احمد ۔ ایم فل کلیہ اصول الدین

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد)

اخبار و آثار