موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میں

ڈین براؤن

مترجم: عمران الحق چوہان ایڈووکیٹ

(ڈین براؤن گزشتہ چند برسوں میں مقبولیت حاصل کرنے والے مصنف ہیں اور ان کا شمار اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنفین میں ہوتا ہے۔ ان کی حقیقی شہرت کا آغاز ان کے ناول ’’دا ڈاونچی کوڈ‘‘ (ناشر: کورگی بکس، سال اشاعت: ۲۰۰۳ء) سے ہوا۔ یہ ناول اگرچہ ایک دلچسپ روایتی جاسوسی ناول ہے، لیکن اس میں مروجہ عیسائی مذہبی اعتقادات اور رسوم کے متعلق کچھ ایسی باتیں تحریر کی گئیں جن سے مغربی معاشرے میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ ناول عام موضوع بحث کی صورت اختیار کر گیا۔ معاملات عدالت تک بھی پہنچے، لیکن اس کے باوجود اس کی شہرت ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلتی گئی اور اس کی مقبولیت کودیکھتے ہوئے ہالی وڈ نے اس پر فلم بھی بنا ڈالی۔ مروجہ عیسائیت کے عقائد سے متعلق مصنف کے نظریات سے آگہی مسلم قارئین کے لیے دل چسپی اورمعلومات کا باعث ہو سکتی ہے۔ ذیل میں ان کے ناول کے باب ۵۵ کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مترجم)


لینگڈن کے پہلو میں دیوان پر بیٹھی سوفی نے چائے کا گھونٹ بھرا اور کیفین کے خوشگوار اثرات محسوس کرنے لگی۔ سرلیہ ٹی بنگ آتش دان کے سامنے ڈگمگاتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔ ان کی ٹانگوں پر چڑھے آہنی شکنجے کی آواز پتھر کے فرش پر گونج رہی تھی۔ 

مقدس جام ٹی بنگ نے خطیبانہ لہجہ میں کہا: ’’ اکثر لوگ مجھ سے صرف اس کے مقام کے متعلق پوچھتے ہیں اور شاید اس کا جواب میں کبھی نہیں دے پاؤں گا‘‘۔ وہ مڑا اور براہ راست سوفی کی طرف دیکھا۔ ’’تاہم اس سے کہیں زیادہ متعلقہ سوال یہ ہے کہ ’’ مقدس جام ہے کیا؟ ‘‘

سوفی نے اپنے دونوں مرد ساتھیوں میں علمی تجسس پیدا ہوتے محسوس کیا۔ ’’ جام کومکمل طور پر سمجھنے کے لیے‘‘، ٹی بنگ نے بات جاری رکھی، ’’ہمیں پہلے بائبل کو سمجھنا چاہیے۔ تم عہد نامہ جدید کے متعلق کس حد تک جانتی ہو؟ ‘‘

سوفی نے کندھے اچکائے۔ ’’حقیقتاًکچھ بھی نہیں۔ دراصل میری پرورش ایسے شخص نے کی ہے جو لیونار ڈو ڈاونچی کا پجاری تھا‘۔‘ 

ٹی بنگ بہ یک وقت متحیر اور مسرور دکھائی دیا۔ ’’ایک منور روح، شان دار۔ پھر تو تمہیں علم ہی ہو گا کہ لیونار ڈو مقدس جام کے راز آشناؤں میں سے ایک تھا اور اس نے اپنے فن میں اس کے سراغ چھپائے تھے‘‘۔

اس حد تک رابرٹ نے مجھے بتایا ہے۔ 

’’اور عہد نامہ جدید کے متعلق ڈاونچی کے نظریات؟ ‘‘

’’ مجھے کوئی اندازہ نہیں۔‘‘

ٹی بنگ نے مسکراتی آنکھوں کے ساتھ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھے بک شیلف کی طرف اشارہ کیا۔ ’’رابرٹ، تم تکلیف کرو گے؟ سب سے نچلے شیلف میں۔ لیونا ڈوکی کہانیاں‘‘۔ لینگڈن کمرے کے دوسرے سرے پر گیا۔ ایک بڑی سی آرٹ کی کتاب ڈھونڈی اور واپس لا کر دونوں کے بیچ میز پر رکھ دی۔ کتاب کا رخ سوفی کی طرف گھما کر ٹی بنگ نے وزنی جلد کھولی اور پس ورق پرلکھے متعدد اقوال کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ڈاونچی کی یوں مکس اینڈ سپیکیولیشن کے دفتر سے‘‘ ۔ اس نے خصوصاً ایک قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ میراخیال ہے کہ یہ تمہیں موضوعِ گفتگو سے متعلق محسوس ہوگا۔‘‘

سوفی نے الفاظ پڑھے:

’’ بہت سے لوگوں نے احمقوں کو دھوکہ دیتے ہوئے جھوٹے معجزوں اورفریب کی تجارت کی ہے۔ ‘‘

لیونارڈوڈاونچی 

’’یہ ایک اور رہا ۔‘‘ ٹی بنگ نے ایک دیگر قول کی طرف اشارہ کیا:

’’اندھی جہالت ہمیں گم راہ کرتی ہے۔ اسے بد نصیب فاتیو! آنکھیں کھولو!‘‘

لیونارڈوڈاونچی 

سوفی کو سردی سی محسوس ہوئی۔ ’’ڈاونچی بائبل کے متعلق کہہ رہا ہے؟ ‘‘

ٹی بنگ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’بائبل کے متعلق لیونار ڈو کے محسوسات کا تعلق براہ راست مقدس جام سے ہے۔‘‘

درحقیقت ڈاونچی نے حقیقی جام کو مصوربھی کیا ہے جو میں ابھی تمہیں دکھاؤں گا، لیکن پہلے بائبل پر بات ہونی چاہیے۔ ٹی بنگ مسکرایا۔ ’’اور ہر وہ چیز جو بائبل کے متعلق تمہیں جاننا چاہیے، اس کا خلاصہ عظیم ڈاکٹر مارٹن پر سی نے یوں کیا ہے، ’’ ٹی بنگ نے گلاصاف کرتے ہوئے کہا:’’ بائبل آسمان سے بذریعہ فیکس نہیں اتری۔ ‘‘

’’میں معافی چاہتی ہوں؟؟‘‘

’’بائبل، میری عزیز! انسان کی تخلیق ہے، اللہ کی نہیں۔ بائبل جادوئی طریقے سے بادلوں سے نہیں ٹپکی تھی۔ انسان نے پر آشوب ادوار کا تاریخی ریکارڈ رکھنے کے لیے اسے تخلیق کیا تھا اور یہ بے شمار ترجموں، اضافوں اور نظرثانیوں کے بعد وجود میں آئی ہے۔ تاریخ میں کبھی اس کتاب کاکوئی مصدقہ نسخہ نہیں رہا‘‘۔

’’ٹھیک ہے۔‘‘

’’عیسیٰ مسیح غیر معمولی موثر تاریخی شخصیت تھے، شاید دنیا کے سب سے پراسرار او راثر انگیز راہ نما۔ بطور مسیح موعود، عیسیٰ نے شہنشاہوں کے تخت الٹے، لاکھوں لوگوں کومتاثر کیا اور نئے فلسفیوں کی بنیاد رکھی۔ شہنشاہ سلیمان اور شہنشاہ داؤد کی نسل سے ہونے کے ناتے عیسیٰ یہودیوں کے بادشاہ کے تخت کے جائز حق دار بھی تھے۔ قابل فہم طورپر ان کے حالات زندگی علاقے کے ہزارہا پیروکاروں نے محفوظ کیے۔‘‘

ٹی بنگ چائے کا گھونٹ بھرنے کے لیے رکا اور پھر کپ واپس مینٹل پر رکھا۔ ’’عہدنامہ جدید کے لیے اسی سے زیادہ اناجیل پر غور کیا گیا اور صرف چند متعلقہ اناجیل کو شمولیت کے لیے چنا گیا جن میں میتھیو، مارٹ، لیوک اور جان بھی تھے‘‘۔

’’شمولیت کے لیے اناجیل کا انتخاب کس نے کیا؟‘‘ سوفی نے پوچھا۔

’’آہا! ٹی بنگ نے جوش سے کہا۔ ’’عیسائیت کا بنیادی تضاد۔ بائبل، جس انداز میں ہمیں آج ملتی ہے، اس کی تالیف ملحد رومی شہنشاہ قسطنطین اعظم نے کی تھی۔ ‘‘

’’میرے خیال میں تو قسطنطین عیسائی تھا۔‘‘ سوفی نے کہا۔

’’بہ مشکل‘‘۔ ٹی بنگ کھکارا۔ ’’ وہ تا حیات ملحد رہا جسے بستر مرگ پر بپتسمہ دیا گیا۔ وہ اتنا نحیف ہو چکا تھا کہ احتجاج بھی نہ کر سکا۔ قسطنطین کے عہد میں روم کا سرکاری مذہب سورج پرستی تھا، یعنی ناقابل تسخیر سورج کا مذہب اور قسطنطین اس کا بڑا پروہت تھا۔ اس کی بدقسمتی سے بڑھتی ہوئی مذہبی بے چینی روم کو گرفت میں لے رہی تھی۔ عیسیٰ کے مصلوب کیے جانے کے صدیوں بعد عیسیٰ کے پیروکاروں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ عیسائیوں اورملحدوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ یہ اختلاف اس قدر بڑھاکہ روم کی تقسیم کا خطرہ لاحق ہو گیا ۔ قسطنطین نے سوچا کہ کچھ کرناپڑے گا۔ ۳۲۵ (ب ،م) میں اس نے روم کوایک مذہب، عیسائیت کے تحت متحد کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

سوفی بہت حیران ہوئی۔ ’’لیکن ایک ملحد بادشاہ نے سرکاری مذہب کے طورپر عیسائیت کا انتخاب کیوں کیا؟‘‘

ٹی بنگ ہنسا۔ ’’ قسطنطین بڑا اچھا کاروباری تھا۔ اس نے دیکھا کہ عیسائیت عروج حاصل کر رہی ہے۔ لہٰذا اس نے جیتنے والے گھوڑے پر داؤ کھیل دیا۔ یہ بات آج بھی مورخین کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے کہ قسطنطین نے کس عمدگی سے سورج پرست ملحدوں کوعیسائیت کی طرف مائل کیا۔ ملحدانہ علاقوں، تاریخوں اور رسموں کو پھیلتی ہوئی عیسائی روایت میں ملا کر اس نے ایک ایسا دوغلا مذہب بنایاجو ہر دو فریقین کے لیے قابل قبول تھا۔‘‘

لینگڈن نے کہا:’’ عیسائی شعائر میں ملحدانہ مذہب کے سراغ ناقابل تردید ہیں۔ مصریوں کا کرہ سورج کیتھولک اولیاء کا ہالہ بنا۔ معجزانہ طور پر پیدا ہونے والے بیٹے ہورس کو دودھ پلاتی ہوئی آئسس (isis) کی شبیہ ہمارے ہاں ننھے یسوع کو دودھ پلاتی کنواری مریم میں بدل گئی، اور درحقیقت کیتھولک رسوم کے سارے عناصر، بشپ کی کلاہ، قربان گاہ، حمد ربانی اور عشائے ربانی، خدا خوری کا عمل ، براہ راست سابق ملحدانہ باطنی مذاہب سے لیے گئے ہیں۔‘‘

ٹی بنگ نے گہری آواز میں کہا: ’’ اس ماہر علامات کو عیسائی آئی کنز کے متعلق نہ چھیڑ لینا۔ عیسائیت میں کچھ بھی حقیقی نہیں ہے۔ قبل از عیسائیت خدامت ھراس جسے خدا کا بیٹا اور نورجہاں کہا جاتا ہے، ۲۵؍دسمبر کو پیدا ہوا، مرا، ایک چٹانی مقبرے میں دفنایا گیا اور پھر تین یوم بعد دوبارہ زندہ ہوا۔ برسبیل تذکرہ ، ۲۵؍دسمبر ، اوسائی رس، اڈنس اورڈائی اونی سس کی بھی تاریخ پیدا ئش ہے۔ نومولود کرشن کوبھی تحفۃً سونا اور عودولوبان پیش کیے گئے تھیحتی کہ عیسائیت کاہفتہ وار مقدس دن بھی ملحدوں سے چرایا گیا تھا۔‘‘

کیا مطلب ہے آپ کا؟

’’دراصل‘‘، لینگڈن بولا، ’’عیسائیت بھی یہودیوں کے ہفتہ کے سبت کا احترام کرتی تھی۔ لیکن قسطنطین نے ملحدوں کے سورج کی تعظیم کے دن سے مطابقت کے لیے اسے بدل دیا۔‘‘ وہ رکا، مسکرایا۔ ’’تاحال زیادہ تر گرجا جانے والے اتوار کی صبح سروس میں شریک ہوتے ہیں، اس بات سے قطعی لا علم کہ وہ کافروں کے سورج دیوتا کی ہفتہ وار تعظیم کے دن کی بنیاد پر آئے ہیں۔ ‘‘

سوفی کا سرگھوم رہا تھا۔ ’’اور سب کا تعلق جام سے ہے؟‘‘

بالکل۔ ٹی بنگ نے کہا۔ ذرا متوجہ رہنا۔ اس مذہبی ادغام کے دوران قسطنطین کو عیسائی روایت کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی۔ عالمی عیسائی اتحاد کے لیے اس نے مشہور اجتماع کیا جو کونسل آف نقایہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘

سوفی اس سے محض Nicene creedکی جائے پیدائش کے حوالے سے واقف تھی۔ 

’’اس اجتماع میں ‘‘، ٹی بنگ نے کہا، ’’عیسائیت کے بہت سے پہلوؤں پر بحث اور رائے شماری ہوئی۔ مثلاً قیام مسیح کی تاریخ، بشپس کاکردار، مذہبی رسوم کاطریقہ کار، اور رہاں، یسوع کی الوہیت بھی‘‘۔

’’ میں سمجھی نہیں، ان کی الوہیت؟‘‘

’’ میری عزیز!‘‘ ٹی بنگ نے بتایا، ’’تاریخ کے اس لمحے تک ، یسوع کے پیروکار اسے ایک فانی نبی کے طور پر ہی دیکھتے تھے، ایک عظیم اور طاقت ور آدمی لیکن بہ ہر حال ایک آدمی ،ایک فانی۔‘‘

’’ اللہ کا بیٹا نہیں؟‘‘

’’صحیح‘‘۔ ٹی بنگ نے کہا۔ ’’ یسوع کو بطور ’’ابن اللہ ‘‘ کونسل آف نقایہ میں سرکاری طور پر تجویز کیا گیا اور رائے شماری کروائی گئی۔‘‘

’’ ذرا ٹھہریں، آپ کہہ رہے ہیں کہ عیسیٰ کی الوہیت رائے شماری کا نتیجہ تھی؟ ‘‘

’’نسبتاً کافی قریبی تناسب سے‘‘۔ ٹی بنگ نے بات بڑھائی۔ ’’یوں بھی یسوع کی الوہیت رومی سلطنت اور نئے مرکز طاقت ویٹی کن کے مزید اتحاد کے لیے اہم تھی۔ سرکاری طور پر عیسیٰ کو ابن اللہ قرار دے کر قسطنطین نے عیسیٰ کوایک ایسی روحانی شخصیت بنادیا جو انسانی دنیاسے ماورا تھی۔ ایسی ذات جس کی طاقت ناقابل تسخیر تھی۔جس نے عیسائیت پر مزید ملحدانہ چیلنجوں کی راہ مسدود کر دی، لیکن اس سے عیسیٰ کے پیروکاروں کے پاس نجات کے لیے صرف ایک ہی طے شدہ مقدس ذریعہ رہ گیا، رومن کیتھولک چرچ۔‘‘ 

سوفی نے لینگڈن پر نظر ڈالی اور تائید کے طور پر سر کو جنبش دی۔

’’یہ سب کچھ طاقت کے حصول کے لیے تھا۔ عیسیٰ بطور مسیحا، چرچ اور ریاست کی کارکردگی کے لیے بے حد اہم تھا۔ ’’ ٹی بنگ نے بات جاری رکھی۔ ’’بہت سے علماء کا دعوی ہے کہ ابتدائی چرچ نے حقیقی معنوں میں عیسیٰ کو ان کے پیروکاروں سے چرا لیا۔ ان کے انسانی پیغام کے اغوا کے بعد اسے الوہیت کے ناقابل عبور لبا دے میں لپیٹ دیا گیا اور اسے اپنی طاقت کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کیا گیا۔ میں نے اس موضوع پر بہت سی کتب تحریر کی ہیں۔‘‘

’’ اور میرا خیال ہے کہ سرگرم عیسائی روزانہ آپ کو نفرت آمیز خطوط ارسال کرتے ہوں گے؟‘‘

’’ وہ ایسا کیوں کرنے لگے؟‘‘ ٹی بنگ نے جواب دیا۔ ’’پڑھے لکھے عیسائیوں کی کثیر تعداد اپنے مذہب کی تاریخ سے واقف ہے۔ بے شک یسوع ایک عظیم اور طاقت ور شخصیت تھے۔ قسطنطین کی خفیہ سیاسی چالیں بھی حیات عیسیٰ کی عظمت کم نہیں کر سکیں۔ کوئی نہیں کہتا کہ عیسیٰ دھوکے باز تھے۔ نہ کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ اسی زمین پر چلتے پھرتے تھے اور انہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کے اثرات مرتب کیے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ قسطنطین نے عیسٰی کے رسوخ اور اہمیت سے فائدہ اٹھایا اورایسا کرتے ہوئے اس نے عیسائیت کو وہ شکل دی جس میں ہم آج اسے دیکھتے ہیں۔ ‘‘

سوفی نے سامنے رکھی آرٹ کی کتاب پر نگاہ ڈالی۔ اس کے دل میں صفحے الٹ کر ڈاونچی کی ’’ مقدس جام‘‘ کی تصویر دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ 

’’اس میں دلچسپ بات یہ ہے‘‘، ٹی بنگ نے تیز تیز بولتے ہوئے کہا ’’ کہ قسطنطین نے عیسیٰ کی وفات کے چار صدیوں بعد ان کا مرتبہ بڑھایا تھا، مگر تب تک بطور ایک فانی انسان کے ان کی ہزاروں سو انحی دستاویزات لکھی جا چکی تھیں۔ قسطنطین کو علم تھا کہ تاریخ کی کتب کو از سر نو لکھنے کے لیے بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے عیسائیت کی تاریخ کا سب سے اہم لمحہ جو وقوع پذیر ہوا۔‘‘ ٹی بنگ رکا اور سوفی کو دیکھا۔ ’’قسطنطین نے نئی بائبل کے لیے کمیشن بٹھایا اور سرمایہ فراہم کیا جس نے ان تمام اناجیل کوحذف کردیاجن میں عیسیٰ کے انسانی خصائل کا ذکر تھا اوران اناجیل کو سجا سنوار کر پیش کیا گیا جو انہیں اللہ کا مثل بتاتی تھیں۔ سابق اناجیل کو متروک قرار دے کر اکٹھا کرکے نذر آتش کر دیا گیا۔‘‘

’’ ایک دل چسپ بات۔‘‘ لینگڈن نے اضافہ کیا۔ ’’جس کسی نے قسطنطین والی اناجیل کے بجائے ممنوعہ اناجیل کا چناؤ کیا، اسے ’’بدعتی ‘‘ قرار دے دیا گیا۔ تاریخ میں بدعتی کالفظ وہاں سے شروع رائج ہوا۔ لاطینی لفظ (Heareticas) کا مطلب ہے ’’انتخاب‘‘۔ وہ لوگ جنہوں نے عیسیٰ کی حقیقی تاریخ کا انتخاب کیا، دنیا کے پہلے بدعتی تھے۔‘‘

’’مورخین کی خوش قسمتی سے‘‘، ٹی بنگ بولا، ’’ان گاسپلز میں سے جنہیں قسطنطین نے مٹانے کی سعی کی تھی، کچھ بچ گئیں۔ بحر مردار کے طومار (the dead sea scrolls) ۱۹۵۰ء میں Judacan desert میں قمر ان کے قریب واقع ایک غار سے دریافت ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ ۱۹۴۵ء میں nag Hammadi سے ملنے والے coptic scrolls بھی تھے۔ جام کی اصل کہانی بیان کرنے کے علاوہ وہ عیسیٰ کے انسانی خصائل کا ذکر بھی کرتے تھے۔ ویٹی کن نے گم راہ کنی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ان طوماروں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے؟ ان طوماروں نے اظہر من الشمس تاریخی تضادات اور خود ساختہ کہانیوں کو کھول کر رکھ دیا تھا اور اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ جدید بائبل ان لوگوں نے مرتب کی ہے جن کا واضح سیاسی ایجنڈا تھا، جوایک بشر عیسیٰ مسیح کی الوہیت کو فروغ دے کر ان کے اثر کو اپنے مرکز قوت کی مضبوطی کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘‘ 

’’لیکن پھر بھی‘‘،لینگڈن نے دفاع کیا، ’’یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان طوماروں کو چھپانے کی چرچ کی خواہش ان کے عیسیٰ کے متعلق طے شدہ نظریات پر مخلصانہ اعتقاد کی بنا پر تھی۔ ویٹی کن انتہائی نیک لوگوں پر مشتمل ہے جو ایمان داری سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ متضاد دستاویزات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔‘‘

ٹی بنگ، سوفی کے مقابل کرسی میں دراز ہوتے ہوئے ہنسا۔ ’’جیسا کہ تم دیکھ سکتی ہو کہ روم کے لیے میری نسبت ہمارا پروفیسر کہیں زیادہ نرم گوشہ رکھتا ہے۔ تاہم اس حد تک وہ درست ہے کہ جدید کلرجی ان مخالف دستاویزات کو جھوٹ سمجھتی ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ قسطنطین کی بائبل صدیوں سے ان کے لیے سچائی بنی ہوئی ہے۔ بنیاد رکھنے والے سے زیادہ بنیاد پرست کوئی نہیں ہوتا۔‘‘

’’ اس کا مطلب ہے،، لینگڈن نے کہا ’’ کہ ہم اپنے اجداد کے خداؤں کی پرستش کرتے ہیں؟‘‘

’’میرا مطلب یہ ہے‘‘ ٹی بنگ نے وضاحت کی ’’کہ ہمارے آبا واجداد نے جو کچھ بھی ہمیں عیسیٰ کے متعلق بتایاہے، وہ جھوٹ ہے۔ بالکل مقدس جام کی کہانیوں کی طرح۔ ‘‘ 

سوفی نے پھر سامنے پڑے ڈاونچی کے قول کودیکھا۔ ’’اندھی جہالت ہمیں گمراہ کرتی ہے۔ او بدنصیب انسانو! اپنی آنکھیں کھولو۔ ‘‘

ٹی بنگ نے کتاب اٹھائی اوروسط کے صفحے الٹنے لگا۔ ’’اور آخر میں قبل اس کے کہ میں تمہیں ڈاونچی کی بنائی ہوئی مقدس جام کی تصویر دکھاؤں، میں چاہوں گا کہ تم اس پر ایک سرسری نگاہ ڈال لو۔‘‘ اس نے کتاب کے دوصفحوں پر پھیلی خوش رنگ تصویر کھولی۔ ’’میرا خیال ہے تم اس فریسکو کو پہچانتی ہو۔‘‘

’’ وہ مذاق کر رہے ہیں، ہے نا؟‘‘ سوفی دنیا کی مشہور ترین فریسکو کو ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہی تھی۔ آخری عشائیہ میلان کے santa Masca delle Grazie کی دیوار پر بنی ڈاونچی کی دیو مالائی شہرت کی تصویر ان سے غداری کرے گا۔ ہاں میں ، اس فریسکو کوجانتی ہوں۔ ‘‘

’’پھر تو شاید تم میرے ساتھ ایک چھوٹے سے کھیل میں شریک ہونا چاہو گی۔ مناسب سمجھو تو ذرا آنکھیں بند کرو۔‘‘ سوفی نے ہچکچاتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ 

’’ یسوع کہاں بیٹھے ہیں؟‘‘ ٹی بنگ نے پوچھا۔

’’ وسط میں‘‘۔

’’ بہت اچھے، اور وہ اوران کے حواری کون سی غذا کے لقمے توڑ کر کھا رہے ہیں؟‘‘

’’روٹی، ظاہر ہے۔ ‘‘

’’ واہ۔ اوران کا مشروب؟‘‘

’’ انگور کی شراب ۔ انہوں نے وائن پی تھی۔‘‘

’’ کیا بات ہے! اوراب آخری سوال۔ میز پر شراب کے کتنے گلاس ہیں؟‘‘

سوفی رکی۔ اسے احساس ہوا کہ یہ الجھاؤ والا سوال ہے۔ اورعشائیے کے بعد، اپنے حواریوں کے ساتھ بانٹتے ہوئے عیسیٰ نے شراب کا گلاس اٹھایا۔ ’’ایک گلاس‘‘، اس نے کہا۔ the chaliceعیسیٰ کا پیالہ۔ مقدس جام، ’’عیسیٰ نے شراب کا واحد جام ہی پھرایا تھا، جیساآج کل کے عیسائی عشائے ربانی کے موقع پر کرتے ہیں۔ ‘‘

ٹی بنگ نے لمبی سانس لی۔ ’’اپنی آنکھیں کھولو۔ ‘‘

اس نے ایسا ہی کیا۔ ٹی بنگ شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ سوفی نے نیچے تصویر پر نگاہ ڈالی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ عیسیٰ سمیت میز پر موجود ہر شخص کے پاس جام شراب تھا۔ تیرہ کپ، مزید یہ کہ یہ کپ چھوٹے، بے تنے کے اور شیشے کے تھے۔ تصویر میں کوئی پیالہ ، کوئی مقدس جام نہیں تھا۔

ٹی بنگ کی آنکھیں چمکیں۔ ’’تھوڑا عجیب ہے نا؟ کیا خیال ہے؟ ذرا سوچو، ہماری بائبل اورہماری مروجہ جام کہانی اسی لمحہ کومقدس جام کی آمد کے طور پر مناتی ہے۔ حیران کن طور پر لگتا ہے کہ ڈاونچی عیسیٰ کاپیالہ مصور کرنا بھول گیا ہے۔‘‘ 

’’یقیناًماہرین فن نے اس بات پر غور کیا ہوگا۔ ‘‘

’’تمہیں یہ جان کر صدمہ ہوگا کہ جو غیر از معمول باتیں ڈاونچی نے شامل کی ہیں، زیادہ تر ماہرین فن کویا تو دکھائی نہیں دیںیا محض نظرا نداز کر دی گئیں۔ یہ فریسکو دراصل مقدس جام کے راز کی مکمل کلید ہے۔ آخری عشائیہ میں ڈاونچی نے ہر بات کھول کر آگے رکھ دی ہے۔‘‘

سوفی نے غور سے فن پارے کاجائزہ لیا۔ ’’کیایہ فریسکو جام کی حقیقت بتاتی ہے؟‘‘

’’یہ نہیں کہ وہ کیا ہے۔‘‘ ٹی بنگ نے آہستگی سے کہا۔ ’’یہ کہ وہ کون ہے۔ مقدس جام کوئی شے یا چیز نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک شخصیت ہے۔‘‘ 

مذاہب عالم

(فروری ۲۰۱۰ء)

فروری ۲۰۱۰ء

جلد ۲۱ ۔ شمارہ ۲

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میں
ڈین براؤن

خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاری
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۲)
محمد زاہد صدیق مغل

یہ جواب نہیں ہے
مولانا عبد المالک طاہر

مکاتیب
ادارہ

تعارف و تبصرہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

Flag Counter