مجوزہ نئی دینی تحریک: نوعیت اور حکمت عملی کی بحث

ڈاکٹر محمد امین

جناب محمد یوسف ایڈووکیٹ نے الشریعہ کے جون کے شمارے میں میرے اس مضمون پر تبصرہ کیا ہے جو الشریعہ اپریل ۲۰۱۰ء میں ’ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت‘کے عنوان سے طبع ہوا تھا۔ اپنے اس مضمون میں انہوں نے راقم کے بارے میں جن تاثرات کا اظہار کیاہے، ان میں سے اکثر اصلاح طلب ہیں اور غالباً اس کی وجہ ہمارے بارے میں ان کی نامکمل اور بالواسطہ طور پر حاصل شدہ معلومات ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے سے ہماری ان کی کوئی بالمشافہ تفصیلی ملاقات نہیں ہوئی۔ 

جہاں تک زیر بحث موضوع کا تعلق ہے، انہوں نے مجوزہ دینی تحریک کی حکمت علمی کی جزئیات کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں، ہمیں ان سے اتفاق ہے مثلاً یہ کہ مجوزہ تنظیم کو جدید سائنٹیفک اصولوں پر منظم کرنا چاہیے، اس میں احتساب کا کڑا اہتمام ہونا چاہیے، یہ صاحب کردار اور باصلاحیت افراد پر مشتمل ہونی چاہیے، اسے کرپشن قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، اس کے قیام سے پہلے، ما قبل تحریکوں کی خامیوں کا تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہیے، ایشوز پر کام کرنا چاہیے وغیرہ۔ تاہم ہمارے اور ان کے درمیان مجوزہ تحریک کی ضرورت، نوعیت اور بنیادی حکمت عملی کے حوالے سے بعض اصولی اختلافات موجود ہیں جن کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر سید مودودی کی تحریک کے فکری دائرے کے اندر رہتے ہوئے سوچتے ہیں جب کہ ہم اس دائرے سے باہر بیٹھے ہیں۔ اس بنیادی اختلافی سبب کی موجودگی میں اگرچہ یہ تومشکل ہے کہ وہ معروضی انداز میں ہماری گزارشات پر غور کرسکیں یا ہما رے ان کے اختلافات ختم ہو سکیں، تاہم اس بحث سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کوشش کریں گے کہ ہم جناب محمد یوسف صاحب کے اعتراضات کی روشنی میں اپنا نقطۂ نظر مزید نکھار کر پیش کریں تاکہ وہ اور دیگر قارئین ہمارے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

۱۔ جناب محمد یوسف صاحب کی رائے یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب ضروری ہے اور نئی تحریک کھڑی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلی جماعتوں کی تغلیط کی جائے اور ایسا نہ کرنے کو وہ مداہنت، منافقت اور بزدلی سمجھتے ہیں۔ ان کی اس سوچ کے پیچھے وہ تحریکی فکر کا رفرما ہے جو نئی جماعت کو ’اصولی جماعت‘ سمجھتی ہے جو تنہا ’حق‘ کی علمبردار ہوتی ہے اور اس کے باہر جو کچھ ہوتا ہے، وہ یا تو باطل اور گمراہی ہوتی ہے یا کم از کم غلطی اور غلط فہمی۔

* ہماری رائے اس کے برعکس یہ ہے کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے قائم ہے جو اسلام کو اپنا دین سمجھ کر اس پر عمل کی کوشش کر رہاہے۔ دین کے فہم اور اس پر عمل و اطلاق میں افرادِامت میں کچھ کمی اور کجی ہوسکتی ہے جس کے لیے اصلاحی کوششوں کی ضرورت ہے، (ہماری دینی روایت میں انہیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر، تبلیغ و تزکیہ اور دعوت و اصلاح وغیرہ کہاجاتا ہے)۔ یہ اصلاحی کوشش سیاست میں بھی ہوسکتی ہے، تعلیم میں بھی، اخلاق میں بھی اور کسی دوسرے شعبۂ زندگی میں بھی(اس کام کو کس سطح پر، کس انداز میں، کتنا اورکیسے کرنا ہے، یہ اجتہادی اور تدبیری امور ہیں)۔جناب محمد یوسف صاحب نے غور نہیں فرمایا کہ ہم نے اس کام کے لیے وہ اصطلاحات استعمال نہیں کیں جو ان کے ہم فکر احباب کرتے ہیں (جیسے اسلامی انقلاب، اقامت دین، حکومت الہیہ وغیرہ) کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور کئی جگہ پیغمبروں کا مقصد بعثت یہ بتایا ہے کہ وہ تعلیم و تزکیہ کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں،دیکھئے مثلاًسورۃ الاعلیٰ (آیت ۱۴تا۱۹)جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صحف ابراہیم ؑ و موسی ؑ میں ہم نے یہی حکم دیا تھا کہ فلاح وہی پائے گا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور ذکرو نماز کا راستہ اختیار کیا۔حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کعبہ کے وقت اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اس گھر کے ماننے والوں میں ایسا رسول بھیجیو جو ان کی تعلیم و تزکیہ کے لیے کام کرے(البقرہ ۱۲۹)۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ جس نے سرکشی کا راستہ اختیارکر لیا ہے اور اسے (پیار و محبت سے) سمجھاؤ تاکہ اسے تزکیہ نفس کی ضرورت کا احساس ہو(النازعات ۱۸)۔ حضرت شعیب ؑ کے حوالے سے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میں مقدور بھر تمہاری اصلاح ہی تو کرنا چاہتا ہوں(ھود ۸۸)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کار نبوت کے بارے میں تین جگہ قرآن حکیم میں فرمایا کہ یہ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیۂ نفس ہے(البقرہ ۱۵۱، آل عمران ۱۶۴، الجمعہ ۲)۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کے اعلان کے بعد امت مسلمہ کی بھی یہی ذمہ داری لگائی کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کرے(آل عمران ۱۰۴)اور انذارکرے(التوبہ ۱۲۲)۔ 

چنانچہ انبیاء کرام کو یہی لائحہ عمل دیا گیا تھاکہ جو لوگ ان کی بات مان لیں، انہیں وہ اللہ کے رستے پر چلائیں او ر اگر معاشرے کی معتدبہ اکثریت اسلام قبول کرلے تو ان کی اجتماعی زندگی(یعنی ریاست و حکومت) بھی احکام الٰہی کے مطابق منظم کریں۔ الحمدللہ! کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے صحابہؓ نے جو معاشرہ قائم کیا، وہ تب سے قائم چلا آرہا ہے اورآج بھی قائم ہے اور مسلمان اس میں دین اسلام پر عمل کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی حکمران نیک ہوتے ہیں توکبھی برے۔ عام افراد معاشرہ بھی اسلام پر عمل کرنے میں کبھی مستعدی دکھاتے ہیں اور کبھی ان میں کمزوریاں درآتی ہیں۔ علماء وصلحاء، حکمرانوں اور عوام کی اسلامی تناظر میں اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے نزدیک علماء کرام اور دینی عناصر /دینی جماعتوں/تحریکوں کا بنیادی کام تعلیم و تزکیہ کے ذریعے مسلم عوام و خواص کی اصلاح ہے۔

* عصر حاضر میں اسلام کے لیے کام کرتے ہوئے جس بنیادی مسئلے کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ یہ ہے کہ آج اسلام اور مسلمان مغلوب ہیں اور مغرب کی ملحدانہ فکر و تہذیب اور اس کے علمبردار ممالک دنیا میں غالب اور بالادست ہیں اور جب انہوں نے مسلم ممالک کو غلام بنایا تھا تو مسلمانوں کی قلبی و ذہنی تبدیلی کے لیے کامیاب کوششیں کی تھیں۔ آج اسلام پر عمل کرتے ہوئے اور اسلام کے لیے کام کرتے ہوئے جو چیلنج ہمیں درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ ملحدانہ مغربی فکر و تہذیب کے حوالے سے ہمارا ردعمل کیا ہو اور اسلام کی کس تعبیر کے مطابق ہم کام کریں؟ ہم نے ’الشریعہ‘ (شمارہ نومبردسمبر ۲۰۰۸) میں اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے مغرب کے خلاف مسلم رد عمل کو چار انواع میں تقسیم کیا تھا: ۱۔ مرعوبیت ۲۔مفاہمت ۳۔صرف نظر؛ اور ۴۔مزاحمت۔

۔ منہجِ مرعوبیت کے بانی حکمرانوں میں سے مصطفی کمال اتاترک او ررضا شاہ پہلوی تھے جنہوں نے مغربی طرز زندگی کو جبراًمسلم معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کی اور علماء میں سے برصغیر میں سرسید احمد خان اور امیر علی سے لے کر پاکستان میں غلام احمد پرویز تک اس میں شامل ہیں جنہوں نے اسلا م کی کانٹ چھانٹ کر کے اسے مغربی فکر و تہذیب کے مطابق بنانے کی کوشش کی۔

۔ مفاہمت کے منہج کی حامل جدید دینی تحریکیں تھیں( منجملہ دوسرے دینی عناصر کے) جیسے جماعت اسلامی و اخوان المسلمون وغیرہ جنہوں نے مغرب کی کافرانہ جمہوریت میں چند اسلامی تبدیلیاں کر کے اسے مشرف بہ ’اسلامی جمہوریت‘ کیا اور مغرب کے کافرانہ سرمایہ دارانہ نظام کی علمبردار بنکنگ میں چند اسلامی تبدیلیاں لا کر اسے مشرف بہ’اسلامی بنکنگ‘ کیا۔ مغرب کے کافرانہ نظام تعلیم و تربیت میں’ اسلامیات لازمی‘ جیسے بعض اضافوں سے نظام تعلیم ان کے لیے اسلامی اور قابل قبول ہوگیا۔ وقس علیٰ ذلک۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلاہے ؟یہ کہ اسلام کے سیاسی اصول پاکستان کی سیاست سے، اسلام کی معاشی برکات اس کی معیشت سے اور اسلام کے تعلیمی اصول اس کے نظام تعلیم و تربیت سے اس طرح غائب ہوگئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔اور مغربی فکر وتہذیب اور اس کے اصول و اقدار پاکستانی معاشرے میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان تحریکوں کا تصور دین درحقیقت مغرب کے فکری و تہذیبی غلبے کا ردعمل ہے اور ردعمل کبھی متوازن نہیں ہوسکتا چنانچہ سیاسی شعبے میں اصلاح کے دینی کام کو ان تحریکوں نے پورا دین اوراسلام کو ایک تحریک، نظام حیات اور طرز زندگی بنا کر پیش کیا اور فرد اور معاشرے کی اصلاح کے ذریعے تبدیلی لانے کی بجائے انقلاب امامت یعنی حکومتی تبدیلی اور اسلامی قانون سازی کو اس کا بنیادی ذریعہ قرار دے دیا۔

۔ مغرب کی ملحدانہ فکر وتہذیب سے صرف نظر کی پالیسی اختیار کرنے والوں میں تبلیغی جماعت، دینی مدارس اور مولانا وحید الدین خان وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے دین کو محض تبلیغ و دعوت اور عبادات و اخلاق تک محدود کر کے اجتماعی زندگی کو اس سے باہر سمجھ لیا۔ گویادین کااجتماعی، سیاسی اور تہذیبی غلبہ ان کے نزدیک مطلوب ہی نہیں۔

۔ مزاحمت کے منہج میں ہم نے جماعۃ التکفیر و الھجرہ، حزب التحریر، القاعدہ اور پاکستانی طالبان کا ذکر کیا تھااور کہا تھا کہ ان تحریکوں نے مسلم حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر، جب کہ ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اہل سنت کے اس اجماع کی خلاف ورزی کی ہے جس پر امت شہادت حسینؓ و عبداللہ بن زبیرؓکے بعد عامل ہوگئی تھی اور پچھلے تیرہ سو سال سے اس پر عامل ہے کہ غیر صالح مسلم حکمرانوں کے خلاف عملاً خروج اس وقت تک نہ کیا جائے (اگرچہ دیگر شرعی شرائط پوری ہو رہی ہوں) جب تک کہ کامیابی کا واضح یقین نہ ہو کیونکہ خروج و بغاوت سے مسلم معاشرہ انتشار و عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے لہٰذا سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔جہاں تک کفار کے خلاف مزاحمت کا تعلق ہے تو اس کے جہاد ہونے میں کسے کلام ہوسکتا ہے؟

* جناب محمد یوسف صاحب خوش ہو رہے ہوں گے کہ ہم ان کی دی ہوئی لائن پر چل پڑے ہیں اور ہم نے نئی تحریک کی فکر دینے سے پہلے، ماقبل کی تحریکوں پر کلہاڑا چلانا شروع کردیا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے۔ اس میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں، لیکن کیا اس میں کوئی خوبیاں نہیں؟ کیا اس کا کوئی مثبت کردار اور کارنامے نہیں؟ ایک ناانصاف شخص ہی جماعت اسلامی کے نظم و ضبط، اس کے کارکنوں کی دیانت و محنت، اسلامی آئین و قوانین کی تشکیل میں اس کے مثبت کردار اور ریاست و معاشرے کو اسلام کے مطابق چلانے کے لیے اس کی کوششوں کا انکار کر سکتا ہے۔ تو جماعت اسلامی میں خوبیاں ہیں، اس نے ایک خلا کوپُر کیا ہے اور بہت سارے امور میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ یہی حال تبلیغی جماعت کا ہے۔ وہ بھی انسانوں کی جماعت ہے اور اس میں بھی کمزوریاں موجود ہیں،اس کے چلانے والے بھی فرشتے نہیں لیکن کیا معاشرے میں اس کا کوئی تعمیری کردار نہیں؟ کیا یہ معمولی بات ہے کہ اس نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو دین کے راستے میں متحرک کر دیا ہے اور ان کی زندگیاں بدل دی ہیں اور کسی نام و نمود اور شہرت کے بغیر اس کی قیادت اتنا بڑا دینی کام کر رہی ہے! کیا اس نے ایک خلاپُر نہیں کیا؟ کیا اس کے تعمیری کردار سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے یا اس کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ یہی حال دوسری جماعتوں کا ہے۔

تو آخر ہم کیوں سوچیں کہ ہم نے ضرورہی ان کی نفی کرنی ہے، ان میں کیڑے ڈالنے ہیں اور ان کو مٹا کر ان کی جگہ لینی ہے۔ جو اچھا کام یہ جماعتیں کر رہی ہیں، انہیں کرنے دیجئے اور جو اچھے کام وہ بوجوہ نہیں کر پارہیں، وہ آپ کرنا شروع کر دیجئے۔ لہٰذا مجوزہ تحریک کو کسی معاصر جماعت کا حریف بننے کی ضرورت ہی نہیں۔

۲۔ جناب محمد یوسف صاحب کی مخصوص تحریکی فکر انہیں اس پرمائل کرتی ہے کہ وہ سیاسی شعبے کے علاوہ دین کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کو گوشۂ عافیت، علمی جدوجہد اور میدان عمل سے دوری کے طعنے دیں، حالانکہ اگر وہ غور فرمائیں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ دین کے چار بڑے شعبے ہیں: ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات۔ معاملات کے بیسوں شعبوں میں سے ایک شعبہ سیاسیات کاہے۔ گویا سیاسی شعبہ دین کا مثلاً بیسواں حصہ ہے۔ ہماری خرابی دراصل یہ ہے کہ ہم میں سے جو دین کے کسی ایک شعبے میں کام کررہا ہے، وہ اسے کل دین بنا دینے پر مصر ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اصل مقصود تو اللہ کو راضی کرنا ہے، دین کی خدمت کرنا ہے خواہ وہ جس شعبے میں بھی ہو اور جتنی بھی ہوسکے لہٰذا جو آدمی دین کے سیاسی شعبے کی اصلاح کی کوئی خدمت انجام دے رہا ہے، وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اسی طرح جو آدمی شعبۂ تعلیم کی اصلاح کی کوشش کر رہاہے، وہ بھی نیک کام کررہا ہے، اس کا کام بھی قابل تحسین ہے اور جو آدمی معاشی شعبے کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے، وہ بھی بہت نیک کام کررہا ہے۔ لہٰذاکسی ایک شعبے کی اصلاح کے کام کو عین دین اور دوسرے شعبوں کے کام کو حقیر سمجھنے کا کوئی جوازنہیں۔ ہماری اپروچ یہ ہے کہ جو جس شعبے میں بھی دین کی خدمت کے لیے کوشاں ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اس کے کام کی بہتری اور کامیابی کے لیے دعا گو ہونا چاہیے اور ہوسکے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور اگر اس کی رائے میں کوئی دوسرا شعبہ زیادہ کام کا مستحق ہے تو وہ اپنے حسبِ ذوق و صلاحیت اس شعبے میں کام کرے، لیکن دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھنے میں کیا امر مانع ہے کہ فرمانِ رسول تو ’الدین النصیحہ‘ ہی کا ہے خواہ آدمی کی جو بھی پوزیشن ہو۔

۳۔جناب محمد یوسف صاحب کو ہماری اتحادی مساعی بھی تحریکی دائرے میں ناکامی کا رد عمل اور ایک گونہ فرار محسوس ہوتی ہیں حالانکہ مسلمانوں میں اتحاد شرعی تقاضا بھی ہے اور ان کی دینی و دینوی ضرورت بھی۔ آج ہماری کمزوری ہی یہ ہے کہ ہر آدمی صرف اپنے مؤقف کو واحد حق قرار دینے پر مصر ہے جب کہ اصل اہمیت اس چیز کی ہے کہ ’ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘ کا رویہ اپنایا جائے لیکن ہم نے اپنے اپنے فقہی و کلامی مسلک کو دین بنا رکھا ہے اور اپنے اپنے جزوی کام کو کل دین قرار دینے پر مصر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ امت کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اجتہاد اور تدبیر کے نام پر ایسا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے جو ہمیں اسلام کے مرکزی دھارے یا اس کی مین اسٹریم سے کاٹ دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ رویہ مسلم معاشرے کے اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دینی مفاد کے لیے نئی تحریک/جماعت/تنظیم/ادارہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ مین اسٹریم اسلام کا حصہ رہے اور ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد نہ بن جائے۔

۴۔اب آئیے جناب محمد یوسف صاحب کے اس نکتے کی طرف کہ ہم اپنے مضمون میں ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت اور جواز ثابت ہی نہیں کرسکے اور ہماری کاوش محض پہلے کام کی نقالی ہے۔ عرض یہ ہے کہ ایک نئی دینی تحریک کا تصور دینے کا عمل خود یہ واضح کرتا ہے کہ یہ مجوزہ تحریک کوئی خلا پُر کرنا چاہتی ہے اور کوئی ایسا کام کرنا چاہتی ہے جو پہلے نہیں ہورہا۔ ہم نے اپنے مضمون میں کچھ نکات کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن یہ نکات جناب محمد یوسف صاحب کی توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کراس کے اور یہ انہیں نئے یا پہلے تصورات سے منفرد نہیں لگے۔ہم دوبارہ کوشش کریں گے کہ اپنا نکتۂ نظر ان پر واضح کر سکیں:

i۔ اصلاح کا بنیادی ٹارگٹ فرد ہونا چاہیے کہ وہی ہر قسم کی اجتماعی تبدیلی کی بھی بنیاد ہے، لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کی بڑی دینی تحریکوں اور اداروں کو دیکھیں تو جماعت اسلامی کا کام عملاً انقلاب امامت یعنی حکومتی تبدیلی بذریعہ اسلامی جمہوریت و الیکشن اور نفاذِ شریعت بذریعہ اسلامی قانون ہے۔ اس طرح جماعت فرد کی اصلاح کو فوکس ہی نہیں کرسکی۔ تبلیغی جماعت کا تصورِ دین اسے فردکی ایسی کامل اور متوازن تبدیلی کی طرف لاتا ہی نہیں جو معاشرے میں اجتماعی تبدیلی کی بنیاد بن سکے۔ دینی مدارس و مساجد کا سارا کام مسلک پرستی کی نظر ہو جاتا ہے اور تزکیے کا کام اکثر و بیشتر موروثی گدی نشینوں کا ’کاروبار‘ بن کر رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت دینی کارکنوں کے لیے عمدہ ’بزنس‘ ہے۔ ان حالات میں فرد کی متوازن تعمیر شخصیت اور کردار سازی کے لیے محنت کرنے کی خاطر نئی دینی تحریک کی ضرورت ہے۔

ii۔اگر فرد پر فوکس کیا جائے اور اس سے مراد متوازن تعمیر شخصیت اور کردار سازی کے ذریعے قرآن کا انسانِ مطلوب تیار کرنا ہو جس کا بنیادی ذریعہ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ ہے تو اس کے نتیجے میں لازماًمعاشرے کی اصلاح ہوگی۔ معاشرے کی اصلاح سے مراد اتنا ہی نہیں کہ لوگ نماز یں پڑھنے لگیں اور روزے رکھنے لگیں بلکہ اس سے مقصود اسلامی اجتماعیت کا احیا بھی ہے۔اس وقت جو تصور دین ہمارے ہاں مروج ہے، اس کے نتیجے میں اہل دین معاشرے سے غیر مرتبط ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اہل دین معاشرے یا آج کی اصطلاح میں سول سوسائٹی کہہ لیجئے، اس سے غیر متعلق ہیں اور یہی ان کی ناکامی کا سبب ہے۔ نئی تحریک کی ضرورت اسی لیے ہے کہ وہ سول سوسائٹی کو متحرک کرے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نئی تحریک سے وابستہ لوگ سول سوسائٹی کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھیں اور ان کے حل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ ماضی میں مسلمان مصلحین کی بنیادی پالیسی ہی یہ ہوتی تھی کہ اللہ سے محبت اور اس کی مخلوق سے محبت لہٰذا خدمت خلق اس کا لازمی جزو ہوتا تھا۔ آج اس روایت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

iii۔ دینی سیاسی جماعتوں نے مغرب کی ملحدانہ فکر و تہذیب کے سیاسی نظام کے بنیادی ادارے ’جمہوریت‘ میں کچھ اسلامی اصول داخل کر کے اسے’اسلامی جمہوریت‘ قرار دے دیا، لیکن اس کے نتیجے میں معاشرے میں اسلام تو نہیں آیا البتہ مغربی فکر و تہذیب کا سیلاب ہماری اکثر اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بہا کر لے گیا ہے۔ سیاست مکمل طور پر سیکولر ہوچکی ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں اور ان کے ایجنٹ مقامی حکمرانوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں نے دینی عناصر کو ایک دوسرے سے لڑا کر اور انہیں انتشار و افتراق میں مبتلا کر کے ادھ مُوا کر دیا ہے اور مستقبل قریب میں بظاہر ان کی کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور نہ ہی دینی سیاسی جماعتیں اپنے ڈھب بدلنے پر تیار ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ ایک طرف دینی سیاسی عناصر کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مفید مشورے اور تجاویز دی جائیں تو دوسری طرف پاکستانی معاشرہ سیکولرزم اور مادہ پرستی کی راہ پر جس بگٹٹ طریقے سے تباہی کے گڑھے کی طرف دوڑ رہا ہے، اس کو سنبھالنے کے لیے غیر سیاسی دینی کام منظم طریقے سے کیا جائے۔

iv۔ دینی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی کام میں اتنی منہمک ہیں کہ ان کے پاس اور کسی کام کے لیے وقت نہیں اور اقتدار ان کے نزدیک وہ واحد نسخۂ کیمیا ہے جو سارے مسائل حل کرسکتا ہے۔ اس اپروچ کی وجہ سے وہ ہر اجتماعی کام کو حکومت پر چھوڑ دیتی ہیں۔اسی طرح دعوت و اصلاح کے کاموں میں مصروف دینی عناصر(مثلاً تبلیغی جماعت یا دینی مدارس وغیرہ) معاشرے کے سلگتے مسائل سے عملاً دور ہیں اور ان کے حل کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔ مثلاً اگر محلے کے لوگ نماز نہ پڑھیں تو ان کے نزدیک یہ اسلامی مسئلہ ہے، لیکن اگر محلے کا ایک فرد بھوک سے خود کشی کر لے تو یہ ان کا درد سر نہیں ہے حالانکہ یہ مسائل اگر دینی تناظر میں حل کر دیے جائیں تو آدھی سے زیادہ شریعت تو اسی طرح نافذ ہوجاتی ہے، لیکن ہمارے سیاسی و اصلاحی دونوں طرح کے دینی عناصر اس کام کو حکومت پر چھوڑ کر خود اس ذمہ داری سے گویابری ہوگئے ہیں۔حالانکہ بہت سے کرنے کے کام ایسے ہیں جو وہ حکومتی مدد کے بغیر کر سکتے ہیں۔ مثلاً اکثر تعلیمی ادارے اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں تو دینی عناصر کیوں نہیں تعلیم و تربیت کو اسلامی بنیادوں پر استوار کر سکتے؟ وہ وکلاء اور ججوں کی اسلامی قانون میں تربیت اور کردار سازی کے لیے ادارے کیوں نہیں بناتے؟ غریبوں کو خود کشیوں سے بچانے کے لیے وہ کیوں منظم کوشش نہیں کرتے؟ عامۃ الناس کو میڈیا کی فحاشی و عریانی سے بچانے اور انہیں متبادل ذرائع مہیا کرنے کے لیے دینی عناصر کیوں حرکت میں نہیں آتے ؟ اس وقت ان کاموں کو کرنے کے لیے اگر کوئی دینی قوت موجود نہیں تو اس کے لیے ایک نئی دینی تحریک کیوں نہ اٹھائی جائے؟ 

دینی سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور غیر سیاسی دینی عناصر کی بے عملی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ کچھ دینی عناصر نے نفاذِ اسلام بذریعہ طاقت کاراستہ اپنا لیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں شدید کشت و خون ہورہاہے۔ اگر ہمارے غیر سیاسی دینی عناصر ایشوز کی بنیاد پر منظم و متحرک ہو کر نتیجہ خیز جدوجہد کریں تو جن عناصر نے نفاذِ شریعت نہ ہونے کی وجہ سے اسلحہ اٹھا لیا ہے تو انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ دینی عناصر اورسول سوسائٹی کو اس جدوجہد پر اکسانے اور اس میں شامل کرنے کے لیے نئی تحریک کی ضرور ت ہے۔

v۔ہمیں تسلیم ہے کہ دین ایک کُل ہے جس میں سیاسی وغیر سیاسی ہر طرح کے کام شامل ہیں لہٰذا شرعی نقطۂ نظر سے سیاسی اور غیر سیاسی دینی کاموں میں تفریق ایک بے معنی عمل ہے لیکن ہم یہ تفریق شرعی لحاظ سے نہیں بلکہ انتظامی لحاظ سے زیر بحث لار ہے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد اب کسی شخص کے لیے بھی ایک فل ٹائم جاب سے کم نہیں ہے اور جوآدمی اسلام کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہا ہو اس کے لیے دعوت و اصلاح اور دیگر دینی کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے اور اس کے برعکس بھی صحیح ہے۔ لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ پورے دین کو مانتے ہوئے اپنی عملی جدوجہد کو کسی ایک شعبے کی اصلاح پر مرتکزکیا جائے اور اسے جزوی کام تسلیم کیا جائے اور دوسروں کے دینی کاموں کی بھی قدر افزائی کی جائے۔

vi۔ جناب محمد یوسف صاحب کے نزدیک مجوزہ تحریک کا لائحہ عمل احتجاجی اور مزاحمتی ہونا چاہیے؛ یہ بات قابل غور ہے۔ لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ احتجاج، مزاحمت اور دباؤ سے کوئی مسئلہ تو حل ہوسکتا ہے، ظلم کو تو روکا جا سکتا ہے، اپنے حقوق تو حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن یہ طریقہ ردعمل کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور نیکی پر چلنے کی متبادل اساس اور محرک فراہم نہیں کرتا۔اس کے لیے ہمارے نزدیک اصلاحی طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ اصلاحی طریقے سے دل و دماغ کو بدل کر جو مستقل تبدیلی آتی ہے، ہمارے ممدوح کے دائرہ فکر کو اس کی سمجھ شائد نہ آئے لیکن تاریخی حقائق کا انکار کون کرسکتاہے۔ آدھی مسلم دنیا کو تاراج کرنے والے منگولوں کو کس نے زیر کیا؟ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا (اور ساتھ جڑے ملائشیا) پر اسلامی پرچم کس نے لہرایا؟خود برصغیر میں اسلام کی اشاعت کس کی مرہون منت ہے؟ہم کسی روایتی صوفیانہ تحریک کی بات نہیں کررہے بلکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کردار سازی اورپُرامن معاشرتی تبدیلی کے لیے مزاحمتی کی بجائے اصلاحی طریقہ ہماری رائے میں زیادہ اقرب الی الصواب اورقابل عمل ہے اور اس وقت اس طریقے پر متوازن انداز سے عمل کرنے کے لیے کوئی ادارہ اور تحریک موجود نہیں ہے لہٰذا اس خلا کو پُرکرنے کے لیے ہم نے ایک نئی تحریک کی ضرورت کا تصور پیش کیا ہے۔

یہ وہ چند گزارشات تھیں جو ہم اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کے لیے پیش کرنا چاہتے تھے۔ جناب محمد یوسف صاحب اگر ان پر غور فرمائیں تو امید ہے کہ ہمارا مؤقف ان کی سمجھ میں آجائے گا خواہ وہ اس سے مکمل اتفاق نہ بھی کر سکیں۔

آراء و افکار

(اگست ۲۰۱۰ء)

Flag Counter