اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ جون اور جولائی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ دوئم و سوئم) میں ’زاویہ نگاہ کی بحث ‘ کے تحت چند مزید شبہات پیش کیے ہیں۔ مفتی صاحب کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل و نکات پر ذیل میں راقم کا تبصرہ پیش ہے۔ چونکہ مفتی صاحب نے اپنی تنقید کا زیادہ تر حصہ ہمارے مضمون کے اصل موضوع کے بجائے ضمنی و اضافی پہلو (زاویہ نگاہ کی بحث) پر صرف کیا ہے لہٰذا پہلے ہم اسی پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہیں گے کیونکہ اپنے اصل مضمون میں راقم نے اس پہلو پر تفصیلاً کچھ نہیں کہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب نے کئی مقامات پر بین السطور نتائج نکال کر انہیں راقم کی طرف منسوب کردیا ہے۔ جہاں تک اصل بحث پر اٹھائے گئے اعتراضات کا تعلق ہے ان پر علیحدہ سے تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے، وما توفیقی الا باللہ ۔ ہم مفتی صاحب کے مشکور ہیں کہ ان کی تحریر نے ہمیں یہ گزارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ 

بینکاری ایک ناگزیر مجبوری کا دعویٰ

کسی نظام کی ناگزیریت پر گفتگو کرتے وقت ’مقامی پس منظر ‘ کا تعین کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاکہ جبر کے دائرے کا درست طور پر تجزیہ کرکے متبادل کام کے مواقع پہچانے جا سکیں، یعنی یہ طے کرنا کہ ہم کس معاشرے کی بات کررہے ہیں، وہاں کس حد تک سرمایہ دارانہ نظام غالب آچکا ہے، اور وہاں افراد کس حد تک جبر کا شکار ہوچکے ہیں، نیز متبادل کے مواقع کس حد تک موجود ہیں وغیرہ۔ ظاہر بات ہے واقعیت کی جو جکڑ بندیاں امریکی معاشرے میں افراد پر مسلط ہیں انہیں پاکستان کے لیے فرض کرکے کوئی حکمت عملی اختیار کرنا غلط ہوگا۔ یہ تمہید اس لیے عرض کی گئی کیونکہ مجوزین اسلامی بینکاری کا جواز عموماً حالات کی ناگزیریت اور جبر سے نکالتے ہیں، چنانچہ وہ بارہا یہ دعوی دہراتے ہیں کہ ’اگر اسلامی بینکاری نامی کسی شے کو جائز نہ کہا گیا تو مسلمان براہ راست سود جیسے عظیم الشان گناہ میں ملوث ہوجائیں گے، چونکہ دور جدید میں بینک کے بغیر گزارا نہیں، لہٰذا اسلامی بینکاری وقت کی اہم ضرورت ہے چاہے یہ بینکاری حیلوں، عذروں اور رخصتوں کی آفاقیت پر ہی کیوں نہ مبنی ہو‘۔ مفتی صاحب نے بھی یہ دلیل کچھ اس پیرائے میں بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اسلامی بینکاری کے کام سے وابستہ ہیں وہ گویا پاکستان کی ایک ’بڑی ‘ اور مجبور اکثریت کے ’مسائل و ضروریات ‘ کا حل تلاش کرنے میں کوشاں ہیں۔ چونکہ مجوزین کی طرف سے بینکاری کی ناگزیریت کے اس دعوے کو بطور ایک ڈھال استعمال کرنا ایک عام طریقہ بن چکا ہے لہٰذا یہاں اس دلیل کا ذرا تفصیلی تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کا جواز شریعت کے مشہور اصول ’الضرورات تبیح المحظورات‘ (ضرورت کے وقت حرام شے بھی حلال ہوجاتی ہے) سے اخذ کیا گیا ہے۔ درحقیقت اس دلیل کے اندر تین دعوے کیے گئے ہیں: اول سود سے بچنا مقدم ہے، دوئم سودی بینکاری انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے، سوئم لہٰذا اسلامی (یا غیر سودی ) بینکاری کو جائز ماننا ہوگا چاہے یہ حیلوں پر ہی کیوں نہ مبنی ہو۔ ان دعووں پر چند وجوہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے: 

۱۔ جس قدر یہ بات اہم ہے کہ امت کو سود کے گناہ سے بچایا جائے، اس سے بدر جہا اہم بات یہ ہے کہ سود کو کسی چور دروازے سے داخل ہونے کا موقع نہ مل سکے ، مبادا امت سود کے گناہ میں مبتلا ہو اور اسے خبر بھی نہ رہے جیسا کہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ سے واضح ہے جنہوں نے بعینہ اسلامی بینکاری کی مانند حیلوں کی آڑ میں عملاً سود کو حلال کرلیا تھا۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جو اسلامی بینکاری کے ناقدین علمائے کرام کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اسلامی بینکاری کے خطرات سے آگاہ کرتے رہیں۔ یہ امر کہ مروجہ حیلے سود کے لیے چور دروازہ ثابت ہوسکتے ہیں محض کوئی وہم نہیں بلکہ خود اسلامی ماہرین معاشیات بھی اس کا خوب احساس رکھتے ہیں جیسا کہ اس مضمون میں ذرا آگے چل کر آنے والے حوالوں سے واضح ہوگا۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ میں اسلامی بینکاری کے نام پر حلت سود کی حالیہ جدوجہد اور یہود و نصاریٰ کے سود کو جائز قرار دینے کی تاریخ میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے (۱)۔ مختصر یہ کہ عیسائی یورپ میں سود کی سختی سے ممانعت تھی مگر ابتداً اس کا دروازہ ایک بیع کے اندر بیک وقت درج ذیل تین معاہدات کے ذریعے سودی نفع کو یقینی بناکر کھولا گیا: 

i۔ معاہدہ شرکت کرنا (Partnership contract)

ii۔ مستقبل کے غیر یقینی نفع کو ایک معین شرح نفع کے عوض بیچنا (Sale of a future uncertain profit)

iii۔ راس المال کو (بذریعہ بیمہ) تحفظ فراہم کرنا (Insurance contract) 

مثلاً پہلے معاہدے میں زید ناصر کو 100 روپے قرض دے کر معاہدہ شرکت کرتا ہے۔ دوسرے معاہدے کے تحت زید ناصر کو 30 روپے سے زائدحاصل ہونے والے نفع کو 15 روپے فیس کے عوض بیچ دیتا ہے، اس طرح زید تیس روپے سے زائد ہونے والے تمام نفع سے دستبردار ہوکر 15 روپے کا نفع محفوظ کرتا ہے۔ تیسرے معاہدے کے تحت زید ناصر کو (یا کسی تیسرے ایجنٹ کو) 5 روپے سالانہ فیس (یا پریمیم ) دے کر راس المال میں نقصان سے تحفظ حاصل کرتا ہے۔ چونکہ یہ تمام معاہدات بیک وقت کیے جارہے ہیں لہٰذا زید ابتدائے بیع ہی سے اپنے لیے 10 روپے کا سودی نفع یقینی بنالیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اپنی انفرادی حیثیت میں یہ تینوں معاہدات عیسائی تعلیمات میں عین جائز سمجھے جاتے تھے مگر ان کامجموعی اثر قرض کی رقم پر سود کی طرح یقینی نفع کا حصول تھا۔ پندرہویں وسولہویں صدی میں جب ’تین معاہدوں پر مبنی شرکت ‘ (The triple contract) کی یہ شکل یورپ میں عام کی جانے لگی تو راسخ العقیدہ عیسائیوں نے اس کی سخت مخالفت کی کیونکہ اسلام کی طرح عیسائی مذہب بھی سختی کے ساتھ سود کی تمام شکلوں کا مخالف رہاہے۔ مگر یورپ میں سرمایہ داری اور سائنسی علمیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے آہستہ آہستہ حرمت سود کے قوانین ختم ہوتے چلے گئے اور ’تین معاہدوں پر مبنی شرکت ‘ نے اس کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ صد افسوس کہ اسلامی بینکنگ بھی بیع مرابحہ، اجارہ و شرکت متناقضہ وغیرہ کے اندر فرداً فرداً جائز معاہدات جمع کرکے نفع کے نام پر سودی نظام کے مقاصد حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ اس مماثلت پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آتی ہے کہ میری امت وہ سب کام کر گذرے گی جو یہودونصاریٰ نے کیے۔ (ترمذی ۲۷۱۱) 

۲۔ فقہ کا درج بالا قاعدہ (ضرورت کے وقت حرام شے بھی حلال ہوجاتی ہے) اصلاً اس شے کی ’حرمت ‘ پر دلالت کرتا ہے جسے یہ بوقت ضرورت حلال قرار دیتا ہے، یعنی جب اس اصول کے تحت کسی شے کو حلال کہا جاتا ہے تو اصلاً وہ شے حرام ہی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلامی بینکاری کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دینے کا تقاضا یہ ماننا بھی ہے کہ اسلامی بینکاری اصلاً حرام ہی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کے حامی اسے اصلاً جائز اور اصول شریعہ کے عین مطابق کہتے ہیں، اس کے جواز کے لیے دلیلیں وضع کرتے اور اس کے حق میں کتابیں لکھتے ہیں۔ تو اسلامی بینکاری کے جواز کے لیے اس اصول کا استعمال ایک تضاد بیانی سے زیادہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ ظاہر ہے اگر اسلامی بینکاری اصلاً جائز ہے تو اسے نظریہ ضرورت کا تقاضا کہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اگر واقعی اسلامی بینکاری محض ضرورت کے تحت جائز ہے تو اس کا نام اسلامی بینکاری کے بجائے ’حرام بینکاری‘ رکھا جانا چاہیے تاکہ لوگ ا سے بطور ایک برائی سمجھ کر کم سے کم استفادہ کریں نیز ان میں اس سے بچنے کا جذبہ بھی بیدار ہو ۔

۳۔ اگر بینکاری نظام سے واسطہ رکھنا واقعی کوئی ’حقیقی اور ناگزیر انسانی ضرورت ‘ بن چکی ہے تو اس کے نتیجے میں اسلامی بینکاری ہی نہیں بلکہ سودی بینکاری بھی حالت اضطرار کے تحت جائز قرار پائے گی، تو اس صورت میں اسلامی بینکاری نامی کوئی شے ’وضع‘ کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے؟ مسلمان نظریہ ضرورت کے تحت سودی بینکوں سے بھی تعلقات استوار کر سکتے ہیں ۔

۴۔ فرض کریں اگر واقعی کوئی حقیقی ضرورت آن ہی پڑی ہے تو ’ضرورت کی مقدار ‘ کا تعین بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے سود کی حرمت کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ یہ نص قطعی سے ثابت ہے (جیسا کہ مفتی صاحب نے بھی اس بات پر نہا یت زور دیا ہے)۔ اس درجے کی قطعی حرمت کو اسلامی بینکاری کے حیلوں کی آڑ میں حلت سے بدلنے کے لیے یقیناًضرورت بھی نہایت شدید درجے تک پہنچی ہونی چاہیے۔ فقہاء کے ہاں نص قطعی سے ثابت حرام کو حلال میں بدلنے کے لیے ضرورت کی مقدار ’جان کے ضیاع کا سخت اندیشہ ‘ ہوتاہے۔ ظاہر ہے اسلامی بینکاری کے جواز کے لیے اس قسم کا کوئی ’حقیقی ‘ خطرہ (کسی کو وہم ہو تو اور بات ہے) موجود نہیں، لہٰذا اس اصول کے تحت اسے جائز کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ 

۵۔ اعدادوشمار کی روشنی میں یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ کم از کم پاکستان میں بینکنگ اکثریت عوام کی حقیقی ضرورت نہیں، لہٰذا ’بینکنگ نظام سے تعلق رکھنا عوام کی ایک ناگزیر مجبوری ہے‘ کا مفروضہ ہی محل نظر ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کل کھاتہ داروں کا میزان درج ذیل ہے (آبادی کا تخمینہ اور کھاتہ داروں کا آبادی میں تناسب خود نکالا گیا ہے)۔ 

اس گوشوارے سے چند باتیں معلوم ہوئیں: 

i۔ پاکستان کی ایک انتہائی قلیل آبادی بینکنگ نظام (یعنی سود کے بازاروں) سے وابستہ ہے۔ کھاتے داروں کا آبادی میں یہ تناسب پچھلی پوری ایک دھائی کے دوران کبھی بیس فیصد سے زیادہ نہیں رہا ۔

ii۔ کل آبادی میں کھاتے داروں کایہ تناسب بدستور کمی کا شکار ہے، یعنی آبادی کا وہ حصہ جو کسی بھی درجے میں بینک سے منسلک ہے وہ کم ہوتا چلا جارہا ہے۔ نظام بینکاری اگر اسی قدر ضروری ہوتا تو کھاتے داروں کے تناسب میں ضرور اضافہ ہونا چاہیے تھا ۔

iii۔ کھاتے داروں کا آبادی میں درج بالا تناسب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہر شخص صرف ایک ہی اکاؤنٹ کا مالک ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ کھاتے داروں کی اکثریت ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہولڈر ہوتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کھاتہ دار اوسطاً ڑیڑھ (ایک اعشاریہ پانچ) اکاؤنٹس کا مالک ہے، اس لحاظ سے آبادی میں کھاتے داروں کا تناسب دس فیصد سے بھی کم (9.3%) رہ جاتا ہے ۔

iv۔ گوشوارے میں دئیے گئے کھاتوں میں کئی لاکھ اکاؤنٹس وہ بھی شامل ہیں جو مختلف بینک دوسرے بینکوں میں نیز سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی اپنے اہداف کے لیے بینکوں میں کھلواتے ہیں (مثلاً صرف یونیورسٹیوں کے کئی سو کھاتے ہوتے ہیں جن میں ملازمین سمیت مختلف پراجیکٹس، گرانٹس، انسٹی ٹیوٹس وغیرہ کے کھاتے شامل ہوتے ہیں)، اگر انہیں کل کھاتوں سے منہا کردیا جائے تو کھاتے داروں کا یہ تناسب مزید کم ہو جائے گا ۔

v۔ اگر آبادی کا شرح نمو ڈھائی فیصد سے زیادہ فرض کیا جائے (جو کہ فی الحقیقت ہے بھی ) تو یہ شرح مزید سکڑ کر آٹھ فیصد تک رہ جائے گی ۔

سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد بینک اکاؤنٹ کھلوانے پر محض اس بنا پر بھی مجبور ہے کہ انہیں اس کے ذریعے تنخواہ ملتی ہے۔ بینک کے مقابلے میں شئیرز کی خریدوفروخت (یعنی سٹے کے بازاروں ) سے تو آبادی کے نصف فیصد سے بھی کم لوگوں کا تعلق ہے۔ اسی طرح ایک سروے کے مطابق پاکستان کی محض تین سے چار فیصد آبادی بیمہ کمپنیوں سے منسلک ہے (اس میں سے بھی اکثریت ان کی ہے جو از خود نہیں بلکہ مختلف کمپنیوں میں نوکری کرنے کی وجہ سے غیر ارادی طور پر بیمہ پالیسی ہولڈر ہیں)۔ سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کے اسقدر قلیل افراد کے عمل کو ’عوام کی ناگزیر ضرورت ‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا پاکستان کی نوے فیصد سے زیادہ وہ اکثریت جو بینکوں، اسٹاک ایکسچینج اور بیمہ کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی زندگی کی نعمت سے محروم ہوچکی ہے؟ آخر آبادی کا یہ اکثریتی حصہ بینکوں کے بغیر اپنا معاش کیسے چلا رہی ہے؟ آخر اسلامی بینکاروں کو آبادی کی اس قدر ’محدود اقلیت ‘ کے ’مسائل ‘ (جن کی نوعیت بھی ذیل میں آرہی ہے) حل کرنے کی اتنی فکر کیوں لاحق ہوچلی ہے؟ سارے اجتہادات و توجہ کا محور و مرکز یہی محدود اقلیت کیوں ہے؟ 

پھر یہ بھی محض وہم ہے کہ بینکاری نظام کے بغیر کاروبار کرنا ممکن نہیں۔ دیکھئے پاکستان میں ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی خریدوفروخت کے سلسلے میں اربوں روپے اور لاکھوں جانوروں کے سودے بنا کسی بینکاری خدمات محفوظ طریقے سے عمل پزیر ہوجاتے ہیں۔ سبزی منڈیوں میں روزانہ کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے، اسی طرح چھوٹے کاروباری حضرات (مقامی دوکاندار، ٹیکسی اور رکشہ چلانے والے) بھی بینک اور اسٹاک ایکسچینج سے کوئی تعلق رکھے بغیر روزانہ اربوں روپے کی خریدوفرخت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سود اور سٹے کے نظام سے باہر جو اس قدر وسیع کاروبار ہورہا ہے اسلامی بینکاری انہیں غیر سرمایہ دارانہ بنیادوں پر منظم کرنے میں کیا کردار ادا کررہی ہے؟ کیا اسلامی بینکاری اب تک جو کاروبار سرمایہ دارانہ نظام زر سے محفوظ ہے اسے مزید محفوظ بنانے کا باعث بن رہی ہے یا اسمیں ضم کرنے کا؟ مشاہدہ تو یہ ہے کہ جو لوگ پہلے اس بنیاد پر بینکوں سے بچتے تھے کہ یہ سودی کاروبارکرتے ہیں اب وہ بھی اسلامی بینکاری کے ذریعے عالمی نظام زر میں شامل ہو رہے ہیں، گویا عالمی نظام زر کے فروغ میں اسلامی بینکنگ کا کلیدی کردار یہ ہے کہ جو لوگ مذہبیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام سے بچنا چاہتے ہیں انہیں مذہب کے راستے اس طرح اس نظام میں سمو دیا جائے کہ موجودہ نظام بھی پروان چڑھے اور لوگوں کی مذہبیت بھی مجروح نہ ہو۔ یہ عجیب منطق ہے کہ دس فیصد عوام کو بینکاری سے بچانے کے بجائے اسلامی کا لیبل چسپاں کرکے نوے فیصد کو اس میں شامل ہونے کے لیے ادارتی صف بندی فراہم کر دی جائے ، فیا للعجب 

۶۔ اس پہلو پر بھی تفکر کی ضرورت ہے کہ جس ’ضرورت‘ کے نام پر اسلامی بینکاری کی آڑ میں رخصتوں اور حیلوں کو عمومی جواز فراہم کیا جارہا ہے وہ ضرورت ’کس کی ‘ ضرورت ہے۔ معمولی غور کرنے سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ مرابحہ، اجارہ و شرکت متناقضہ جیسے معاہدوں میں ایک بیع کے اندر ایک سے زیادہ معاہدات جمع کرنا، جبری صدقہ لگانا وغیرہ گاہک کی نہیں بلکہ سودی بینک کے خمیر سے گندھے اسلامی بینک کی ضرورت ہے جو ہر حال میں ’یقینی نفع‘ کمانا چاہتا ہے۔ ’ایک بیع کے اندر ایک سے زیادہ پیچیدہ معاہدات جمع کرنا‘ ہی وہ بنیادی ہتھیار تھا جسے استعمال کرکے یہودونصاری نے سود کا مذہبی جواز تلاش کیا تھا اور عین یہی روش اسلامی بینکاری نے بھی اپنا رکھی ہے۔ جس طرح پہلے یہ ہتھکنڈہ بینکوں کی ضرورت تھا، اسی طرح آج بھی اسلامی بینکوں ہی کی ضرورت ہے نہ کہ گاہکوں کی اور پہلے کی طرح آج بھی ’کاروباری خطرے ‘ کو ختم کرنے کے سوا اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ خوب دھیان رہے کہ یہ ضرورت شریعت کی تعلیمات و مقاصد کو پامال کرکے پوری کی جارہی ہے۔ 

۷۔ پھر ضرورت کے تحت کسی شے کو جائز قرار دینے میں ایک اہم پہلو ’مقدار جواز ‘ (۲) کا بھی ہوتا ہے۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے بمقدار ضرورت ہی جائز ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ اصلاً مطلوب یا حق سمجھ کر بھر پور انداز میں اختیار کر لی جائے۔ زندگی بچانے کے لیے حرام گوشت کھانے کی اجازت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب اس گوشت کے تکے اور کباب بنا کر کھائے جائیں، اس کی افزائش نسل کی فکر کی جائے، اس حرام کی طرف رغبت بڑھانے کے لیے اسلامی پرچوں میں اشتہار شائع کرکے لوگوں کی اشتہاء میں اضافہ کیا جائے تاکہ جو کوئی حرام سے بچ سکتا ہے اسے بھی اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ چنانچہ اسلامی بینکاری سے منسلک عمائدین کا رویہ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کے جواز کو سخت مشکوک بنا دیتا ہے۔ کیا نظریہ ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ مادی فوائد حاصل کیے جائیں؟ اس کی کنسلٹنسی کے نام پر بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات حاصل کی جائیں؟ اسے خود اور لوگوں کو بھی ’معیار زندگی ‘ بلند کرنے کی خاطر اپنانے کا درس دیا جائے اور ٹی وی و اخبارات پر اس کے اشتہارات دکھا دکھا کر لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے؟ اس کے فروغ کے لیے بڑی بڑی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں، دنیا بھر میں ہزاروں ادارے اس کی خدمت کے لیے وقف کردئیے جائیں ؟ آخر ضرورت کی دھائی دے کر مقصد بنالینے کا یہ دھوکہ کس کو دیا جارہا ہے؟ 

۸۔ یہ اہم پہلو بھی دھیان میں رہنا چاہیے کہ نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد اس غیر شرعی ضرورت کو ختم کردینا ہوتا ہے نہ کہ اسے زندگی کا لازمی حصہ بنا دینا۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ما جاز لعذر بطل بزوالہ (یعنی جو چیز عذر کی بنا پر جائز ہو، وہ عذر ختم ہوجانے کے بعد جائز نہیں رہے گی)، یعنی ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد ضرورت کو ’ختم ‘ کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس ضرورت کو ’قائم و دائم‘ کردینا کیونکہ ضرورت کی بنیادی صفت ہی یہ ہے کہ وہ ’وقتی‘ (temporary) ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ضرورت کے نام پر اسلامی بینکاری کے ذریعے جو حل پیش کیا جارہا ہے وہ اسلامی انفرادیت، معاشرت و ریاست کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے یا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تقاضوں کو ہمیشہ کے لیے اسلامی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے؟ کیا ایسی حکمت عملی کو بھی ’اسلامی‘ کہا جا سکتا ہے جو ہمیشہ کے لیے ایک غیر اسلامی نظام (یعنی شر) کو خود پر مسلط کرلینے کی ترکیب ہو؟ کوئی بھی حکمت عملی تب ہی ’اسلامی ‘ کہلانے کی مستحق ٹھرے گی جب وہ مقاصد اسلامی کے حصول کا ذریعہ بنے نہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو نافذالعمل اور پختہ بنائے۔ اگر واقعی اسلامی بینکاری کسی نا گزیر مجبوری کے تحت چلائی جارہی ہے تو بادل ناخواستہ ایک آدھ بینک قائم کرکے اسے چھوڑ دیا جاتا، مگر یہ مجبوری کی کون سی قسم ہے کہ اس کے فروغ کے لیے تن من اور دھن سب کچھ وقف کردیا جائے؟ کیا اس طرز عمل کے نتیجے میں واقعی یہ اس ضرورت کو ختم کردے گی جس کے نام پر اسے اختیار کیا گیا تھا؟ اگر ماہرین اسلامی بینکاری کے نزدیک نظریہ ضرورت اسی شے کا نام ہے تو پھر انہیں حجاب اور مردو زن کے اختلاط سے متعلق اسلامی احکامات پر بھی نظریہ ضرورت کے تحت اجتہاد کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ’وقت کا تقاضا‘ ہے اور مسلمانوں کو اس معاملے میں بھی گناہ سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسی عورت جس کا کمانے والا کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو اسے نوکری کرنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ women job promotion bureau (عورتوں میں نوکری کرنے کا شعور بیدار کرنے کا ادارہ) قائم کردیا جائے؟ اگر اسلامی بینکاری واقعی ضرورت کے نام پر وضع کی گئی تھی تو اس کا مقصد مسلمان معاشروں کو بینک کی ضرورتوں سے نجات دلانا ہوتا نہ کہ انہیں قائم کرنا اور فروغ دینا۔ افسوس کہ مجوزین اسلامی بینکاری کو ایک ضرورت کی نشان دہی کرکے اربوں روپے (۳) بنانے کی فکر تو لاحق ہے مگر اس ضرورت کو ختم کیسے کیا جائے اس بارے میں ان کی فکر یکسر خاموش ہے ( درحقیقت مجوزین بینکاری نظام سمیت موجودہ دور کی کسی ادارتی صف بندی کو ختم کرنے کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں جیسا کہ آگے نشان دہی کی جائے گی) ۔

۹۔ اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ اسلامی بینکاری رخصت کی ایک شکل ہے تو کیا رخصتوں کے فروغ کو ’بطور پالیسی‘ اختیار کرنے کا مطلب اسلامی نظام زندگی سے دستبردار ہو جانے کے ہم معنی نہیں؟ کیا حکمت عملی اپنانے کا مقصد ’رخصتوں‘ اور ’نظریہ ضرورت‘ کو عموم بخشنا ہوتا ہے یا اصل مطلوب اختیار کرنے کی طرف راہ ہموار کرنا؟ اسمیں شک نہیں کہ تبدیلی نظام کی جدوجہد میں ایک مرحلہ ایسا ضرور ہوتا ہے جب ’اصل مطلوب سے کم تر‘ یعنی رخصتوں پر عمل کیا جاتا ہے مگر رخصتوں پر عمل کی اجازت کو جانچنے کا معیار بذات خود یہی ہوتا ہے کہ ان پر عمل کے نتیجے میں اصل مطلوب پر عمل کرنا ممکن ہورہا ہے یا نہیں۔ اگر رخصتیں اصل مطلوب کو فوت کرکے اس کی طرف گامزن کرنے کے بجائے بذات خود مطلوب کے درجے میں اختیار کرلی جائیں تو وہ اپنا جواز کھو بیٹھتی ہیں کیونکہ یہ اپنا جواز از خود نہیں بلکہ حصول مطلوب کے آلے کی حیثیت میں ہی رکھتی ہیں۔ اسی بنیادی فرق کو نہ پہچاننے کی بنا پر مجوزین اسلامی بینکاری مدارس میں اختیار کردہ حیلے کو اپنے حیلوں کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں اختیار کردہ حیلہ بے شمار ’اصل شرعی مقاصد‘ (فروغ علوم دینیہ وغیرہ) کے حصول کا باعث بن رہا ہے جبکہ اسلامی بینکاری کے حیلے بالذات مقصود بن کر اصل مقصد کے حصول میں مزاحمت کررہے ہیں۔ لہٰذا اسلامی بینکاری کے حیلوں کو مدرسے کے حیلے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے 

۱۰۔ ایک لمحے کے لیے مجوزین اسلامی بینکاری کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ چونکہ ’مسلمانوں کی معاشی ترقی ‘ ایک ضرورت ہے اور بینک کے بغیر اس کا حصول ممکن نہیں لہٰذا اسلامی بینکاری لازم ٹھری۔ چلیے اگر اسلامی بینکاری ’مسلمانوں کی ترقی‘ ہی کو اپنا مطمع نظر بنا کر اس پر عمل پیرا ہوجاتی تو بھی ’مسلم قوم پرستانہ‘ تناظر میں ہی صحیح اس کے حق میں کچھ نہ کچھ عذر پیش کرہی دیا جاتا مگر یہاں تو معاملہ یہ بھی نہیں۔ اگر واقعی اسلامی بینکاری کو مسلمانوں کی ترقی کی فکر ہوتی تو یہ زرعی و صنعتی شعبہ جات میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور آسان شرائط پر قرضہ جات فراہم کرنے پر یکسو دکھائی دیتی، لیکن اس تضاد کا کیا کیا جائے کہ اسلامی بینکاری سے استفادہ کرنے والی سب سے بڑی اکثریت کا تعلق عمل پیداوار کے بجائے عمل صرف (consumer sector) سے ہے۔ پاکستان اسلامک بینکنگ سیکٹر ریویو (ص ۵۰) کے مطابق اسلامک بینکنگ انڈسٹری سے مختلف معاہدات کی مد میں قرضہ لینے والوں کا تناسب ذیل کے گوشوارے سے واضح ہے ۔ ان اعداد وشمار سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی بینک ’مسلمانوں کی ترقی‘ سے زیادہ ’ان کامعیار زندگی بلند کرکے اپنے نفع‘ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی لیے یہ (پیچیدہ معاہدات کے ذریعے) زیادہ تر قرضے عمل صرف کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی بینکاری دین کے نام پر ’صرف کرنے والی معاشرت‘ (consumer society) کو عام کررہی ہے۔ 


کیا کوئی خدا ترس عالم دین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ’قرض کو فروغ دے کر consumer society کا حصول اور معیار زندگی میں اضافہ ایک شرعاً مطلوب مقصد ہے؟‘ اسلامی تہذیب تو کجا کسی دوسری مذہبی تہذیب میں بھی اگر ’معیار زندگی میں اضافہ‘ نامی کسی علمی اصطلاح و معاشرتی مقصد کا ذکر تک موجود ہے تو بتایا جائے؟ (براہ مہربانی ’نیا اجتہاد ‘ فرما کر قرآن و سنت کے نئے معنی متعین کرنے کے بجائے اسلامی علمی روایت سے اس کا ثبوت پیش کیا جائے)۔ اگر ایسا نہیں جیسا کہ امر واقعہ ہے تو پھر اسلامی بینکاری کے جواز میں آخر کیا عذر باقی رہ جاتا ہے؟ اشتہار بازی (یہاں تک کہ اسلامی پرچوں میں بھی ) کے ذریعے لوگوں کو نفس مطمئنہ سے محروم کرکے اعلیٰ سے اعلیٰ کی ایک ایسی دوڑ میں شامل کرنا جس کا کوئی معلوم معیار ہی نہیں کس دین کی خدمت ہے اور کتاب الرقاق وغیرہ کی روشنی میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ جو بینکاری لوگوں کو نفس مطمئنہ ہی سے محروم کردے، آخر وہ اسلامی کیسے ہو سکتی ہے؟ 

منطقی تضادات پر مبنی الزامی دلیل 

مفتی صاحب نے اسلامی بینکاری پر نظاماتی حوالے سے کی جانے والی تنقید کی غلطی واضح کرنے کے لیے ایک ایسی مثال کا سہارا لیا ہے جس کا ہدف براہ راست راقم الحروف ہے۔ چنانچہ مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ جس طرح کے نظاماتی اعتراضات ہم اسلامی بینکاری پر اٹھا رہے ہیں قریب اسی طرح کی بحث موجودہ تعلیمی نظام پر بھی کی جاسکتی ہے۔ غالباً اس مثال سے مفتی صاحب کا مقصد الزامی دلیل قائم کرنا ہے (کہ جو جواب یہاں دو گے وہی اسلامی بینکاری میں بھی معتبر سمجھ لو، گویا یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا ہے کہ راقم اپنے دفاع کے لیے یقیناًموجودہ تعلیم کے حق میں کچھ نہ کچھ عذر ضرور پیش کرے گا) اور یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب خود ہی اس دلیل کو مناظرانہ دلیل قرار دیتے ہیں۔ اس مثال سے جو نتائج مفتی صاحب نے نکالے ہیں ان پر تبصرے سے قبل عرض ہے کہ خالصتاً مناظرانہ لحاظ سے بھی یہ دلیل محل نظر ہے: 

  • یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایک غلط عمل کسی دوسرے غلط عمل کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے (منطق میں اسے Fallacy of two wrongs make a right کہتے ہیں)۔ پہلی بات یہ کہ راقم الحروف کے کسی جدید تعلیمی درسگاہ کا حصہ ہونے سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ وہ نظام تعلیم درست ہے؟ اس مثال کا مقصد اگر بینکاری کی اسلام کاری کو درست ثابت کرنا ہے تو یہ دلیل منطقی تضاد پر مبنی ہے کیونکہ ایک غلط بات کسی دوسرے مقدمے کی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ مفتی صاحب کی راقم پر تنقید کا حاصل یہ ہے کہ تمہار عمل غلط ہے یعنی تم سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہو، لیکن راقم کا مؤقف یہ ہے کہ مجوزین اسلامی بینکاری کی فکر اور عمل دونوں ہی غلط ہیں۔ راقم کے غلط عمل کی بنیاد پر مجوزین اپنی غلط فکر کو درست ثابت نہیں کرسکتے ،لہٰذا مجوزین کو چاہیے کہ سب سے پہلے اس نظام بینکاری کا مذہبی جواز پیش کرنا ترک کردیں، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زاہد مغل کیا کررہا ہے 
  • پھر فرض کریں اگر اس مثال سے یہ ثابت ہو بھی جائے کہ راقم کے قول و فعل میں تضاد ہے (کہ ایک طرف وہ موجودہ نظام پر تنقید کررہا ہے اور دوسری طرف اس میں شامل ہے ) تب بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اب موجودہ نظام کو فطری سمجھتے ہوئے اس کی اسلام کاری کر لینی چاہیے؟ کیا دعوی کرنے والے کے قول و فعل کے تضاد سے اس کے دعوے کی منطقی تردید لازم آتی ہے؟ (منطق میں اسے Fallacy of Look who is talking کہتے ہیں)۔ سگریٹ کو برا کہنے والا اگر خود اس کے کش لگائے تو اس سے سگریٹ کے نقصانات غلط ثابت نہیں ہوجاتے 
  • اہم ترین بات یہ ہے کہ راقم جس طرح اسلامی بینکاری کو غلط سمجھتا ہے بالکل اسی طرح موجودہ تعلیمی نظام کو بھی غلط سمجھتا ہے، محض اس بنیاد پر کہ وہ ایسے کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہے اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس نظام تعلیم کا حامی بھی ہے؟ راقم الحروف اور اسلامی بینکاری کے مویدین میں فرق یہ ہے کہ وہ حضرات نہ صرف یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہوتے ہیں بلکہ اسے فطری سمجھ کر اس کی اسلام کاری بھی کرتے ہیں جبکہ راقم نے نہ تو کبھی موجودہ نظام تعلیم کو فطری کہا، نہ اس کی اسلام کاری کی، نہ اس کے حق میں کتابیں لکھیں اور نہ ہی ایسی کسی نام نہاد اسلامیت کی بنیاد پر اپنے کاروبار کی دکان چمکائی، پھر دونوں میں مماثلت ہی کیا؟ راقم الحروف موجودہ نظام تعلیم کو سرمایہ دارانہ شخصیت کی تعمیر و تشکیل کا نظام سمجھتا ہے اور اپنے طلباء کو بھی حد الامکان اسی بنیادی حقیقت اور موجودہ تعلیمی نظام (خصوصاً علم معاشیات) کے تضادات سے آگاہی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی شے کو اختیار کرنے اور اس کی اسلام کاری کرکے اس پر راضی ہوجانے میں جو فرق ہے یہ ہر ذی شعور شخص پر واضح ہے۔ بدکاری میں ملوث ہونا اور اس کا مذہبی جواز پیش کرنا دو مختلف قسم کے رویے ہیں۔ موخر الذکر رویہ چونکہ غلطی و گناہ کا احساس ہی ختم کردیتا ہے لہٰذا اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی لانا نہ صرف یہ کہ نا ممکن ہوجاتا ہے بلکہ کسی تبدیلی کی بات کرنا بھی گناہ ٹھرتا ہے (جیسا کہ اسلامی بینکاری کے مویدین کا حال ہے اور جیسا کہ مفتی صاحب نے بھی بار بار راقم الحروف کو اسلامی بینکاری کے مویدین علمائے کرام اور اداروں کا نام لے کر سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ میاں ہوش کرو کیا تم انکے خلاف جانے کی جرات کرتے ہو) 

انداز فکر کا مسئلہ

درج بالا مثال کے ذریعے درحقیقت مفتی صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہر چیز کے بطور ’کل‘ جائزے ہی کو اسے اختیار کرنے یا ترک کرنے کا اصول اور معیار بنا لیا جائے تو بڑی مصیبت در پیش آجائے گی کیونکہ اس کی زد سے تو شاید ہی کوئی شے بچ پائے گی۔ چلیے اس دلیل کے ذریعے مفتی صاحب اور راقم الحروف اس قدر مشترک تک تو پہنچ گئے کہ جس بنا پر اسلامی بینکاری باطل ہے انہی بنیادوں پر جدید تعلیمی نظام بھی غلط ہے، البتہ مفتی صاحب کو یہ نتائج قبول کرنے میں پیش آنے والی ممکنہ ’عملی مشکلات ‘ بطور روکاوٹ نظر آرہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے اگر امر واقعی ایسا ہی ہو کہ موجودہ دور کی اکثر و بیشتر ادارتی صف بندیاں باطل کے قیام و فروغ کے لیے قائم ہوئی ہوں تو ان سب کو رد کرنے اور ان کی جگہ کسی دوسری صف بندی کے احیاء کی دعوت دینے میں آخر شرعاً و عقلاً قباحت کیا ہے؟ اگر ایک شخص مطالعے و غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ موجودہ دور کی دس میں سے آٹھ باتیں غلط ہیں تو اسے اس کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ انہیں غلط کہے، اگر دوسرا شخص اپنے مطالعے کے بعد دو یا تین (اور وہ بھی جزوی طور پر ) ہی کو غلط سمجھتا ہے تو یہ اس کی اپنی رائے ہے، مگر یہ کہنا کہ کسی انداز فکر سے چونکہ موجودہ دور کی آٹھ باتیں غلط ماننا لازم آتی ہیں اور اس سے زندگی مشکل ہوجائے گی لہٰذا انہیں غلط کہنے کے بجائے کوئی دوسرا انداز فکر ہی اپنا لینا چاہیے، یہ کوئی علمی استدلال نہیں بلکہ علمی دنیا میں اسے pragmatism کہتے ہیں جو کوئی اصول، فلسفہ یا نظریہ حیات نہیں بلکہ صرف ’کام چلانے ‘ کا طریقہ ہے، درحقیقت یہ فرار کا راستہ ہے، حقائق سے آنکھیں نہ ملانے کی حکمت عملی ہے۔ مغربی فلسفے پر مبنی علمیت نے جدید انسان کو یہ سبق پڑھا دیا ہے کہ علم وہ ہے جو تمہارے فوری مادی مسئلے حل کر دے، اگر کوئی علم تمہارے مسئلے حل نہیں کر رہا تو وہ علم ہی نہیں۔ Pragmatic ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں زندگی کو کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ سہولت، آرام اور کام چلانے کے نظرئیے کے تحت بسر کرنا چاہتا ہوں۔ میں کسی اصول اور اعلیٰ اقدار کے نظرئیے کوقبول نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان اصولوں اور نظریوں کا ادراک میرے بوجھ اور ذمہ داریوں میں اضافہ کرے گا اور یہ بوجھ میری سہولتوں کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔ کیا ان موانع کے خوف سے pragmatism کو اختیار کرلینا شرعاً جائز ہے؟ 

کسی انداز فکر کو جانچنے کا یہ کوئی معیار نہیں کہ آیا اس سے برآمد ہونے والے نتائج کسی دوسرے انداز فکر کے حاملین (یا اکثریت) کے لیے قابل قبول ہیں یا نہیں۔ کسی نافذ العمل نظام (جسے ہم status quo کہہ سکتے ہیں ) میں تبدیلی لانے کے لیے برپا کی جانے والی جدوجہد کی نوعیت، اس کے طریقہ کار اور نافذ العمل قانون کے بارے میں زاویہ نگاہ کا انحصار درج ذیل باتوں پر ہوتا ہے: 

(اول) مطلوبہ تبدیلی کی نوعیت:

یعنی آپ کس قسم کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں، موجودہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اور اس کے اندر رہتے ہوئے اس کی غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں یا آپ کا مقصد اس کی جگہ کوئی دو سرانظام قائم کرنا ہے۔

(دوئم) مطلوبہ تبدیلی کی ہمہ گیریت:

اگر آپ نظام کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں یا اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو کس حد تک، یعنی اس اصلاح یا تبدیلی کا مقصد انسانی زندگی کے تمام گوشوں پر اثر انداز ہونا ہے یا چند ایک پر ۔

چنانچہ جو شخص موجودہ نظام کو جس قدر حق سمجھتا ہوگا اتنا ہی وہ اس کے اندر رہنے اور اس کی اصلاح کا بھی قائل ہوگا، اسی قدر وہ نافذ العمل قانون کے دائرے کے اندر رہنے کی آواز اٹھائے گا اور اسی نسبت سے کسی انقلابی جدوجہد کے باطل ہونے پر بھی مصر ہوگا۔ اس کے برعکس جس شخص کا تصور تبدیلی جتنا زیادہ ہمہ گیر ہوگا وہ status quo سے اتنا ہی نالاں ہوگا، اسی قدر وہ انقلابی جدوجہد کا بھی قائل ہوگا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی نظام زندگی کے بارے میں دو لوگوں کے انداز فکر کا اختلاف اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ وہ موجودہ نظام کے بارے میں کن مفروضا ت کی بنیاد پر نظریات قائم کرتے ہیں، یعنی دونوں کے نزدیک اس نظام کی حیثیت کیا ہے نیز اس میں کس قسم کی اور کتنی تبدیلی درکار ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات و فائنانس درحقیقت ’جو اچھا ہے اسے لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ کے اصول کے تحت مغرب اور اسلام میں مفاہمت کی پالیسی پر اس لیے عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ اداروں کو غیر اقداری اور فطری تصور کرتے ہیں، انکے خیال میں اسلامی تعلیمات کے اندر یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ مغرب کو اپنے اندر سمو سکے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ماہرین سرمایہ دارانہ اداروں میں چند جزوی اور عملی (operational) تر میمات و اصلاحات کے ذریعے ان کااسلامی متبادل تیار کرنا ممکن سمجھتے ہیں۔ مویدین اسلامی بینکاری اور انکے ناقدین کے درمیان اصل اختلاف اسی بات پر ہے کہ موجودہ نظام کی نوعیت کیا ہے، نیز اس کا اسلام کے ساتھ تعلق کیسا ہے۔ چونکہ راقم الحروف جیسے وہ حضرات جو ماہرین اسلامی معاشیات و فائنانس کی موجودہ نظام کے بارے میں تشخیص و تفہیم ہی کو درست نہیں سمجھتے، وہ انکے زاویہ نگاہ سے بھی اختلاف کرتے ہیں۔ ماہرین اسلامی معاشیات کے زاویہ نگاہ کو قبول کرنے کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ ناقدین اپنے بنیادی مقدمے سے دستبردار ہو کر مجوزین کے مفروضات کو من و عن قبول کرلیں، اور ظاہر ہے بلا دلیل ہمارے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ 

مجوزین کی طرف سے ’جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ پر عمل پیرا ہونے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ حدیث شریف میں یہ اصول بیان ہوا ہے بلکہ اسے اپنانے کی وجہ موجودہ نظام کے بارے میں ان کااپنا مخصوص زاویہ نگاہ اور فکری پس منظر ہے جسے جواز فراہم کرنے کے لیے حدیث کا سہارا لے لیا گیاہے۔ آخر اس حدیث سے یہ مفروضہ کب ثابت ہوتا ہے کہ ’ہر چیز کے لیے یہ اصول ضرور اپنا ؤ‘؟ (آگے چل کر ہم ’اسلامی قحبہ خانوں ‘ کی مثال عرض کریں گے، دیکھنا یہ ہے کہ حضرات مجوزین اس اصول کو وہاں کیسے منطبق کرتے ہیں)۔ آخر حدیث کا یہ مفہوم سمجھنے میں کیا چیز مانع ہے کہ ’جس شے کے اندر خیرکا پہلو شر پر غالب ہو وہاں خیر کو اختیار کرلو اور شر کو ترک کردو‘۔ آخر تھوڑا بہت خیر تو دنیا کی ہر ہی شے میں ہوتا ہے، خود قرآن کے مطابق شراب میں بھی نفع موجود ہے (بقرۃ : ۲۱۹) مگر کیا اس بناء پر شراب کے کاروبار کو فروغ دینا جائز ہوگا؟ پھر اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہے کہ اس کا اطلاق وہاں ہونا چاہیے جہاں خیر کو شر کا اثر زائل کرکے اپنانا ممکن ہو، دوسرے الفاظ میں اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت حال پر حدیث کا اطلاق درست نہ ہوگا۔ مجوزین کی یہ محض خام خیالی ہے کہ اسلامی بینکاری کے نام پر اختیار کردہ حکمت عملی کے سلسلے میں وہ حدیث شریف پر عمل پیرا ہیں کیونکہ اس حکمت عملی کے تحت حاصل ہونے والے خیر کی قیمت ’صرف‘ یہ ہے کہ: 

  • قرض پر مبنی زرو معیشت کو فروغ اور شرعی جواز مل رہا ہے۔
  • سودی حیلے عمومیت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔
  • حرص و حسد (معیار زندگی بلند کرنے ) کی عقلیت کو اسلامی جواز مل رہا ہے۔
  • مسلمان سرمایہ دارانہ نظام کے اندر خود کو سمو تے جارہے ہیں ۔
  • نظام باطل کے اندر شمولیت کا احساس گناہ ختم ہوتا جارہا ہے۔
  • مسلمانوں کے اموال استعماری قوتوں کے شکنجے میں کسے جارہے ہیں۔

اسلامی بینکاری کے راستے موجودہ مالیاتی نظام کا حصہ بننے کا ایک ثمر یہ ہے کہ مسلمانوں کے اموال موجودہ ادارتی صف بندی کی نگرانی و قابو میں آجاتے ہیں، اور اس طرح کوئی بھی مال ’اموال باطنہ ‘ نہیں رہ پاتا۔ نتیجتاً وہ لوگ جو پہلے دین کی بے دریغ خدمت کیا کرتے تھے ان کے اموال پر عالمی جاسوس اداروں کی نگرانی ہوجانے کی وجہ سے اب انکے لیے ایسا (مثلاً مجاہدین و مدارس کی مدد) کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ میں اگر کوئی مسلمان بینک سے ایک خاص مقدار سے زائد رقم نکلوائے تو سی آئی اے اس کی نگرانی کرنے لگتی ہے کہ یہ رقم کب اور کہاں خرچ کی گئی۔ لہٰذا اسلامی تحریکات کی امداد کرنے والے ہاتھ اس نظام میں شمولیت کے ذریعے باندھ دئیے جاتے ہیں کیونکہ انکے اموال استعمار کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔ 

کیا واقعی حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ حکم شرع کے کسی ایک پہلو پر عمل کرنے کے لیے درجنوں احکامات شرع کو پامال کرنا جائز ہے؟ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ مجوزین جس زاویہ نگاہ کی عینک سے مسئلے کی نوعیت کو دیکھ رہے ہیں اس عینک سے ان مسائل کا ادراک نا ممکن ہے، لہٰذا انہیں ناقدین کو نصیحت کرنے کے بجائے اپنے انداز فکر پر نظر ثانی کی کوشش کرنا چاہیے۔ مجوزین کی طرف سے ہمیں انداز فکر تبدیل کرنے کا جو مشورہ دیا جارہا ہے اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو باطل سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے کے بنیادی مقدمے سے باز آجاؤ۔ 

مفتی صاحب نے اپنے اصول کو ثابت کرنے کے لیے بازار کی مثال بھی پیش کی ہے کہ باوجود اسے برے مقامات میں شامل کرنے کے ’کل‘ کی بنیاد پر اس میں جانا کلیتاً منع نہیں کردیا گیا۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ہم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے کہ جہاں خیر کو شر کا اثر زائل کرکے اپنانا ممکن ہو وہاں بھی مت کرو؟ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ اسلامی بینکاری (بلکہ اکثر مغربی مظاہر کو مسلمان بنانے) کے معاملے میں آپ اس اصول کو غلط جگہ پر استعمال کررہے ہیں۔ بازار اور (علم معاشیات کے تصور) مارکیٹ میں نہایت بنیادی نوعیت کا فرق ہے (جسکی تفصیلات میں جانے کا یہ موقع نہیں)، بازار میں شمولیت کے جواز سے مارکیٹ میں شمولیت کا جواز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بازار اسلامی ہو سکتا ہے مگر مارکیٹ اسلامی نہیں ہوسکتی کیونکہ بازار کی برائیاں اضافی (relative) نوعیت کی ہیں جن سے بچنا ممکن ہے، مگر مارکیٹ تو قائم ہی مذہبی اخلاقیات کے جنازے پر ہوتی ہے جسکی اصلاح ناممکن ہے، اس کی اصلاح کا واحد طریقہ اس کی بنیاد پر قائم تمام اجتماعیتوں کو ختم کردینا ہے۔ چونکہ مذہبی معاشرت کے قیام میں بازاروں کا اہم مقام ہے لہٰذا شرع میں اس کی گنجائش بھی رکھی گئی اور اس کے ذریعے مذہبی مقاصد کو فروغ دینے والے کو جنت کی بشارت بھی دی گئی، مگر مارکیٹ تو مذہبی معاشرت کا رد ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ بازار کی مثال پیش کرکے، اور پھر اس اصول کے تحت مارکیٹ کو بازار پر قیاس کرکے مارکیٹ پر مبنی اسلامی بینکاری کے لیے جگہ تلاش کی جاسکتی ہے تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسے دونوں کا فرق معلوم نہیں۔ 

اگر مفتی صاحب جزئیات سے کلیات ہی اخذ کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پیش کردہ مثال کے برعکس نظائر کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے۔ مسجد اسلامی تہذیب کا لازمی جزو اور شعار ہے لیکن اگر مسجد کی اساس ہی غلط ہو، اسے تعمیر کرنے کا مقصد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق جوڑنے کے بجائے امت میں انتشار پھیلانا ہو تو باوجود انتہائی مقدس مقام ہونے کے مسجد اپنا تقدس کھو دیتی ہے اور اسے مسجد ضرار قرار دے کر وہاں جانے سے روک دیا جاتا ہے (توبہ: ۱۰۷)۔ دیکھئے ایک انتہائی متبرک مقام بھی مقاصد تبدیل ہوجانے سے مقدس و متبرک نہیں رہتا، کہنے والا کہہ سکتا ہے مسجد کے بے شمار فوائد ہیں نمازی نماز ادا کرتے ہیں وغیرہ، مگر ’جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ کے تحت ان فوائد کا اعتبار نہ کیا گیا۔ اگر جزئیات کی بنیاد پر ہی قیاس کرنا ہے تو مارکیٹ کو بازار کے بجائے مسجد ضرار پر قیاس کرنا مناسب تر ہوگا۔ 


حواشی 

۱۔ اس نکتے کی تفصیل کے لیے دیکھئے ساؤتھ افریقہ کے مدرسہ انعامیہ سے اسلامی بینکاری کے خلاف اور علمائے کرام کے حق میں جاری کیا گیا مقالہ "Riba in a new get-up"۔ یہ مضمون مدرسے کی ویب سائٹ www.al-inaam.com سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ’نظریہ ضرورت ‘ کی بحث میں بہت سے نکات اسی مضمون سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ عیسائی دنیا میں سود کی بتدریج حرمت کن حیلوں کی آڑ میں ختم کی گئی اور مذہبی پیشواؤں نے اس میں کیا کردار ادا کیا اس کی عمدہ تفصیل Tawney کی کتاب Religion and the Rise of Capitalism میں دیکھی جا سکتی ہے 

۲۔ نوٹ نمبر ۳ میں دی گئی تفصیلات دیکھنے سے ’مقدار ضرورت ‘ کی حقیقت خوب واضح ہوجاتی ہے 

۳۔ دھیان رہے کہ ’حیلوں کی مد میں اربوں کھربوں روپے کے مالی معاہدات کرنا‘ اسلامی بینکاری پر کوئی الزام نہیں بلکہ عین حقیقت ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ ’اسلامک بینکنگ بلیٹن بابت اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۸ کے مطابق اسلامک بینکوں نے مختلف طرق تمویل پر درج ذیل رقوم خرچ کررکھی ہیں:


بلیٹن کے مطابق اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۸ کے دوران اسلامی بینکوں کا کل اثاثوں پر آمدنی کا تناسب 7.9% رہا۔ اگر فرض کیا جائے کہ ’حیلہ طرق تمویل ‘ کی درج بالا رقوم (جو اسلامی بینکوں کے کل اثاثوں دوکھرب چھتر ارب کا تقریباً پچاس فیصد ہے) پر اوسطاً 8% نفع رہا ( جو یقیناًاس سے زیادہ ہوگا تب ہی تو بینک اس مد میں زیادہ رقوم خرچ کرتے ہیں) تو تین ماہ کے دوران حیلوں کی مد میں اسلامی بینکوں نے لگ بھگ دس ارب ستتر کروڑ روپے بنائے۔ کیا واقعی ضرورت اسی چیز کا نام ہے کہ کھربوں روپے کا کاروبار چمکا کر اس پر اربوں روپے کما لیے جائیں؟ درج بالا گوشوارے میں سب سے اہم چشم کشا حقیقت یہ امر ہے کہ اسلامی بینک ’قرض حسنہ‘ کی مد میں ایک دھیلہ بھی خرچ نہیں کرتے۔ کیا اس سے معلوم نہیں ہوجاتا کہ اسلامی بینکاری کے ’اصل مقاصد‘ کیا ہیں؟ 

(جاری)

آراء و افکار