مکاتیب

ادارہ

(۱)

۲۰۱۰۔۷۔۱۸

مکرمی جناب محمد عمار خان ناصر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی

آپ کی توجہ اور عنایات سے آپ کا موقر مجلہ ’’الشریعہ‘‘ باقاعدگی سے ملتا ہے۔ اگرچہ اب میں ایک مدت سے ’’غیر فعال‘‘ ہوں، تاہم علمی جرائد اور مجلات کے توسط سے تحقیقی پیش رفت سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔

الشریعہ میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے غیر سودی نظام پر تنقید اور اس کے دفاع کا مباحثہ میں نے بہت شوق اور توجہ سے پڑھا، ہر چند کہ اکنامکس کا طالب علم نہ ہونے کے باعث بابجا الجھنیں پیش آتی رہیں۔ اس موضوع پر دو طرفہ علماء کرام اور فقیہان امت کی تالیفات اور فتاویٰ بھی دینی حلقوں میں گردش کناں ہیں جومستقبل میں پرستاران اسلاف کے لیے خاصی پریشانیاں پیداکر سکتے ہیں۔

اس مسئلے میں اگر دو اہم امور کو پیش نظر رکھا جاتا تو شاید ایک دوسرے پر تنقید میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے معاشی نظام کی تشکیل میں پیش رفت ہو سکتی:

۱۔ میرے علم کی حد تک حضرت عثمانی نے جو غیر سودی بنکاری کا خاکہ پیش کیا، وہ ان کے مطابق ان کی ایسی بلند آہنگ سوچ (Loud Thinking) تھی جو حتمی نہیں تھی اوراس کی تشکیل میں انھوں نے ماہرین معاشیات سے پرابلمز معلوم کر کے فقہ اسلامی سے ان کے حل تلاش کیے جو مستقل نہیں تھے بلکہ عبوری دور کے لیے تھے اور ان کی حیثیت جائز حیلوں یا مرجوح اقوال سے استفادے کے ذریعے سودکی لعنت سے نجات کے لیے سرنگ کھودنے کے مترادف تھی جس سے توقع کی جا سکتی تھی کہ تجربات کی روشنی میں اسے بہتر بنانے کا عمل جاری رہے گا، لیکن اس عبوری اضطراری حل کو عقیدت مندوں نے 

’’اسلامی نظام معیشت کے بانی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی‘‘

کے سیاسی نعرے میں تبدیل کر دیا۔ پھر جب اس سے متوقع فوائد حاصل نہ ہوئے تو یہ سوال سامنے آیا کہ کیا اسلامی نظام معیشت بانجھ ہو گیا ہے یا زیر نظر نظام اسلامی نہیں ہے۔

۲۔ اس اجتہاد کے منافع سمیٹنے والوں (Beneficiaries) میں حضرت عثمانی اور ان کا خاندان سرفہرست ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر محترم خاندان اپنے اجتہاد کو اپنے ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے استعمال نہ کرتا۔ اسلامی روایت یہ رہی ہے کہ مجتہدین امت عوام کے لیے تیسیر ورخص اور اپنے لیے عزیمت اور مراعاۃ الخلاف کے اصول پر کاربند رہے۔

اگر ڈاکٹر محمد طاہر منصوری (ڈین شریعہ فیکلٹی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کی یہ روایت درست ہے کہ مذکورہ غیر سودی بنکاری نظام کی نگرانی کے لیے حضرت عثمانی نے بنکوں کے لیے جس شریعہ ایڈوائزری کی منظوری حاصل کی تھی، اس کی کوالیفکیشن اس نوعیت کی رکھی گئی کہ اس میں صرف دار العلوم کراچی کے مخصوص سند یافتہ ہی آ سکتے تھے، جب میں نے (یعنی ڈاکٹر منصوری نے) ڈاکٹر محمود احمد غازی کی توجہ اس طرف دلائی تو انھوں نے بحیثیت وزیر مذہبی امور اس میں ایل ایل ایم شریعہ، اسلامی یونیورسٹی کو بھی شامل کر لیا (گویا دونوں حضرات نے اپنے اپنے حلقے کے افراد کے روزگار کو اولیں ترجیح دی) اور اگر سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد خالد مسعود کی یہ بات درست ہے کہ ان مشیران فقہ کو گراں قدر ماہانہ مشاہروں اور گوناگوں مراعات کے علاوہ ہر جائزہ کردہ ٹرانزکشن پر کمیشن بھی ملتا ہے تو کیا ایسا اجتہاد جو پیہم مفادات سے وابستہ ہو، لائق اعتنا ہو سکتا ہے؟

اس غیر سودی نظام کے اسلامی ہونے پر اکثر عرب علما اور عالم اسلام کے اجتہادی اداروں کو شدید تحفظات ہیں، بلکہ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے ڈاکٹر ایس ایم زمان کے مرابحہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں راقم کی موجودگی میں حضرت عثمانی کے بارے میں فرمایا: ’’ہو ابو الحیل، عاب علیہ علماء العرب‘‘۔

الشریعہ شکریے اور مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے اس لوٹ کھسوٹ کے دور میں بھی علمی مباحثے کا فورم مہیا کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں گراں قدر علمی تحقیقات سے استفادے کا موقع میسر آ جاتا ہے۔

(ڈاکٹر) محمد طفیل ہاشمی

اسلام آباد

(۲)

برادر مکرم ومحترم سید عز یز الرحمن صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

’’تحقیقات حدیث‘‘ کا دوسرا شمارہ نظر نواز ہوا۔ ماشاء اللہ مضامین کا انتخاب عمدہ اور آپ کے علمی ذوق کا آئینہ دار ہے۔ میری خواہش بھی ہے اور امید بھی کہ یہ مجلہ ان شاء اللہ علوم حدیث کے حوالے سے بلند پایہ علمی مقالات کی پیش کش کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

تازہ شمارے میں ’’برصغیر میں حجیت حدیث پر موجود لٹریچر کا جائزہ‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر محمد سلطان شاہ کے مقالے میں ص ۱۹۹ پر جد مکرم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا ذکر بھی ہوا ہے، لیکن غالباً ان کی تصانیف مقالہ نگار کے مطالعے میں نہیں رہیں جس کی وجہ سے مقالے میں ان کی تصنیف ’’راہ سنت‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو سرے سے حجیت حدیث کے موضوع سے متعلق ہی نہیں۔ حجیت حدیث کے موضوع پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تین مستقل تصانیف ’’شوق حدیث‘‘، ’’انکار حدیث کے نتائج‘‘ اور ’’صرف ایک اسلام بجواب دو اسلام‘‘ ہیں جن میں اس بحث کے مختلف گوشوں پر تفصیلی کلام کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی تقریرات بخاری کے مختصر مجموعہ ’’احسان الباری‘‘ میں بھی حجیت حدیث پر اصولی بحث موجود ہے۔

ص ۱۹۰ تا ۱۹۴ میں مولانا امین احسن اصلاحی کا ذکر ہوا ہے۔ اس بحث میں مولانا کے نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی نہیں کی گئی۔ مثلاً ص ۱۹۲ پر کہا گیا ہے کہ ’’مولانا اصلاحی نے حد رجم کا انکار کیا‘‘ حالانکہ مولانا رجم کی سزا کے ثبوت کو احادیث پر منحصر ماننے کے بجاے براہ راست قرآن کی آیت محاربہ میں منصوص قرار دیتے اور اسے شرعی حدود میں شمار کرتے ہیں۔ ان کا اختلاف عام نقطہ نظر سے رجم کے شرعی حد ہونے یا نہ ہونے میں نہیں، بلکہ اس کے نفاذ کی شرائط میں ہے۔ اسی طرح یہ بیان کہ ’’خبر واحد کے سلسلے میں مولانا اصلاحی کاموقف ہے کہ یہ حجت نہیں ہے‘‘ (ص ۱۹۳) کسی طرح درست نہیں۔ خود مقالہ نگار نے ان کا جو اقتباس نقل کیا ہے، اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اخبار آحاد محض آحاد ہونے کی بنا پر ناقابل اعتبار نہیں قرار دی جائیں گی، بلکہ ان پر اعتماد کیا جائے گا۔ ان میں ضعف کے جو پہلو ہیں، ان کی تلافی کی مختلف صورتوں پر ہمیشہ نگاہ رکھی جائے گی اور شبہ کو دور کرنے کے لیے جو وسائل وذرائع بھی استعمال ہو سکتے ہیں، وہ استعمال میں لائے جائیں گے۔‘‘ گویا مولانا کا موقف یہ ہے کہ خبر واحد علی الاطلاق حجت نہیں، نہ یہ کہ وہ مطلقاً حجت نہیں۔ یہی اس معاملے میں احناف، مالکیہ اور اصول فقہ وکلام کے بہت سے ممتاز محققین کا ہے۔

امید ہے نیک دعاؤں میں یاد فرماتے رہیں گے۔

محمد عمار خان ناصر

۸ جون ۲۰۱۰ء

مکاتیب