جولائی ۲۰۰۸ء

’’اسلام اور شہری حقوق و فرائض‘‘ ۔ غیر مسلم معاشرے کے تناظر میں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(برطانیہ کے ایک تحقیقاتی فورم کی طرف سے موصولہ سوال نامہ کے جواب میں حسب ذیل گزارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ ذاتی مطالعہ اور غور وفکر کا نتیجہ ہیں جن کے کسی بھی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی صاحب علم علمی انداز میں ان کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہیں تو ’الشریعہ‘ کے صفحات حاضر ہیں۔ ابو عمار زاہد الراشدی)۔ جمہوریت اور انصاف۔ (۱) سماجی زندگی پر اثر انداز ہونے کے لیے فیصلہ سازی اور انتخابی عمل میں فعال حصہ لینے، ایک شہری کی حیثیت سے متحرک کردار ادا کرنے او رجمہوریت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کیا ہے؟ جواب: اسلام ایک مسلمان کو اور کسی اسلامی...

ابلیس اور حکمران

― محمد مشتاق احمد

امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمہ اللہ ( متوفی ۵۹۷ ھ ) نے اپنی کتاب ’’ تلبیس ابلیس ‘‘ اس مقصد کے لیے لکھی تھی کہ لوگوں پر واضح کیا جائے کہ ابلیس ان پر کس کس طرح حملہ کرسکتا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے مثال کے طور پر واضح کیا ہے کہ محدثین پر وہ کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ فقہا کو وہ کیسے نشانہ بناتا ہے؟ صوفیا کو کیسے اپنے دام میں پھنساتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب کے ساتویں باب میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ ابلیس حکمرانوں کو کس طرح اپنے متبعین میں شامل کرتا ہے۔ اس باب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار خیال جنرل (ر) پرویز مشرف کے آٹھ سال سے زائد عرصے پر محیط دور...

ایک تحریک علماء کی ضرورت

― حسن الامین

پاکستان میں ججوں کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی وکلا کی تحریک کو اس کی کامیابی، ناکامی، خفیہ سیاسی عزائم اور اس نوعیت کے دیگر ایشوز سے الگ کرکے صرف اس زاویے سے دیکھا جائے کہ یہ جدید تعلیم یافتہ اور پروفیشنل لوگوں کی ایک پرامن تحریک تھی جو پاکستان جیسے کم تعلیم یافتہ اور پیچیدہ معاشرے میں سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی تو یقیناًوکلا کی یہ کوشش کسی سعی مشکور سے کم نہیں تھی۔ بالکل انہی خطوط پر، ایک تحریک علما کی تجویزپیش نظرہے۔ اس بارے میں پہلے چند سوالات اٹھانا چاہتا ہوں: ۔ وکیلوں کی تحریک کے طرز پرپاکستان کے روایتی علماے کرام بھی کیا...

اسلامی درس گاہوں میں تعلیم قرآن کا طریقہ

― مولانا محمد بشیر سیالکوٹی

یہ امر کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک بلکہ برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی اسلامی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصہ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ ’ترجمہ قرآن کریم‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے اور اس کی تدریس یوں ہوتی ہے کہ درس کے آغاز پر ایک طالبعلم مقررہ آیات تلاوت کرتا ہے، پھر معلم ان آیات کریمہ کا اپنی مقامی زبان اردو، پشتو یا سندھی وغیرہ میں ترجمہ سکھاتا ہے۔ وہ ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ان میں مذکور مشکل...

’’سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت‘‘ پر ایک تنقیدی نظر

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

مئی ۲۰۰۸ء کے ’الشریعہ‘ میں محمد زاہد صدیق مغل صاحب کا مضمون ’’سرمایہ دارانہ یاسائنسی علمیت، ایک تعارف‘‘ مسئلہ زیربحث میں ایک خاص نقطہ نظرسے تدبر اور اس کے نتائج کو منظم ومرتب شکل میں پیش کر نے کے حوالے سے توقابل تحسین ہے، لیکن مضمون کے مندرجات مذکورہ حو الے سے صاحب مضمون کے فکری بے اعتدالی کا شکار ہو جانے کی واضح غمازی کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طرف وہ صاحبان فکر ہیں جو سائنس کو قرآن میں گھسیڑ کر سائنس کومسلمان بنانے یا قرآن کو سائنس کا منبع ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور دوسری طرف محترم مضمون نگا ر جیسے اہل علم ہیں جو سائنس کو شجر ممنوعہ...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) لندن ۔ ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء۔ بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ملاقات بڑی مختصر رہی۔ میں اچھا ہوتا تو خود آپ کی قیام گاہ پر آتا، تب زیادہ موقع مل جاتا۔ تاہم آپ جو کتب خانہ عنایت فرماگئے، اس نے خاصی تلافی کر دی۔ اگرچہ واقعہ یہ بھی ہے کہ میں کتابوں کا اتنا بڑا بنڈل دیکھ کے گھبرایا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو معذرت کردیتا کہ بھائی میں آج کل اس حال میں نہیں ہوں، اخبار ہی پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ مگر طبیعت میں ذرا سا فرق آیا تو پرسوں وقت گزاری کے خیال سے سوچا کہ آپ کابنڈل کھولوں، شاید کوئی ہلکی پھلکی چیز نکل آئے اور کچھ وقت اچھا...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter