اسلامی درس گاہوں میں تعلیم قرآن کا طریقہ

مولانا محمد بشیر سیالکوٹی

یہ امر کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک بلکہ برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی اسلامی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصہ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ ’ترجمہ قرآن کریم‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے اور اس کی تدریس یوں ہوتی ہے کہ درس کے آغاز پر ایک طالبعلم مقررہ آیات تلاوت کرتا ہے، پھر معلم ان آیات کریمہ کا اپنی مقامی زبان اردو، پشتو یا سندھی وغیرہ میں ترجمہ سکھاتا ہے۔ وہ ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ان میں مذکور مشکل الفاظ اور تراکیب کی حسب ضرورت تشریح بھی کرتا جاتا ہے۔ طلبہ اور طالبات اس ترجمہ اور تشریح کو نہایت توجہ اور انہماک سے سنتے ہوئے یاد کرلیتے ہیں۔ کچھ مدرسین اور شیوخ خصوصاً تفسیر قرآن کے مرحلے میں قرآنی مطالب کی تفسیر کو املا بھی کرا دیتے ہیں۔

بلا شبہ قرآن کریم کی تعلیم وتدریس اور تفسیر کے اس منہج سے زیر تعلیم طلبہ کو متنوع تعلیمی اور دینی فوائد حاصل ہوتے ہیں: (۱) وہ قرآن کریم کے لفظی اور بامحاورہ معنی سیکھ لیتے ہیں۔ (۲) وہ قرآن کریم کے الفاظ اور تراکیب کو سمجھنے لگتے ہیں اور کسی حد تک ان کی لغوی، صرفی اور نحوی تشریح سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ (۳) وہ قرآن حکیم کا ترجمہ اور تشریح نیز تفسیر پڑھ کر اس کے متن کے براہ راست فہم ومطالعہ کی اہلیت حاصل کرلیتے ہیں، اور قرآنی احکام اور ارشادات سے استفادہ کے اہل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان متعدد فوائد کی بنا پر ’ترجمہ قرآن حکیم‘ کا یہ مضمون ہماری تمام چھوٹی اور بڑی درسگاہوں میں جاری و ساری ہے اور اس کی افادیت پر تمام علما اور مدرسین کا اتفاق ہے۔

میں اس امر سے اتفاق کرتا ہوں کہ ترجمہ قرآن کریم کی تدریس سے مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوتے ہیں، اور اس مضمون کے مروجہ طریقۂ تدریس کی اتنی افادیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ لیکن قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کے یہ فوائد خود ناکافی اور محدود ہیں اور یہ اس کی تعلیم وتدریس کے کئی بنیادی تعلیمی مقاصد کا احاطہ نہیں کرتے، کیونکہ یہ طریقۂ تدریس عالمی سطح پر مسلّمہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتا اور بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کے کم از کم لازمی تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتا۔ چنانچہ انہی اسباب کی بنا پر ہمارے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے کئی اہم اور بنیادی گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں اور مملکت پاکستان میں ہماری دینی اور تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے جس سطح کے ماہر معلمین، اساتذہ، علما اور اسکالرز کی ضرورت ہے، ان کی تعلیم وتربیت میں بھی یہی ناقص طریقۂ تدریس نافذ وغالب ہے، اس لیے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس طریقۂ تدریس کے نقصانات، فوائد کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں زیر تعلیم بچوں کو قرآن کریم کی آیات کریمہ کا صرف مقامی زبان میں ترجمہ کرنے پر لگا کر اس کی آسان عربی زبان اور ادب کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور انہیں اس کو لکھنے یا بولنے کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ بلکہ انہیں ایسی تربیت یا مشق سے کئی سال تک مسلسل لاتعلق رکھتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اتنا جامد کردیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ عربی زبان وادب میں اچھی صلاحیت یا بلند مقام کا سوچ بھی نہیں سکتے، اور اس بارے میں ہمیشہ کے لیے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے تعلیم قرآن کریم کے مروجہ طریقۂ تدریس کی فوری اصلاح کرتے ہوئے اسے اپنے قومی اور ملی مقاصد اور تعلیم وتربیت کے جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ میں دینی مدارس کے اساتذہ، مہتمم حضرات اور تعلیمی وفاقوں کے ذمہ دار بلند مرتبہ علما اور شیوخ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری ان گزارشات پر توجہ فرمائیں۔ إن أرید إلا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی إلا بااللہ۔

ہمارے پورے تعلیمی نظام کا اہم ترین مضمون تعلیم قرآن کریم ہے اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو اس کی بہتر تعلیم وتفہیم کی خاطر انہیں عربی زبان وادب اور حدیث وفقہ نیز اصول کے کئی علوم وفنون کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسی جماعت جسے ہم مستقبل میں امت کی تعلیمی اور فکری قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں اور وہ عنقریب معلم، ادیب، مفتی وخطیب اور محدث ومفسر کی عظیم ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے، کو کتاب اللہ اور فرقان حمید کی تعلیم وتدریس کا طریقہ اور منہج ایسا جامع، منظم اور مثالی ہونا چاہیے جو انہیں قرآنی الفاظ اور عبارتوں کا ترجمہ سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی عمدہ فکری، لسانی اور ادبی تربیت ومہارت کی اساس بن سکے۔

لفظی ترجمہ رٹنے کا متعدی مرض

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تعلیم قرآن کریم کا یہ عظیم ترین مضمون اس کی عبارت کا صرف لفظی اور زبانی ترجمہ رٹنے اور رٹانے تک محدود چلا آ رہا ہے اور تین چار سال تک اسی نہج پر چلتا رہتا ہے، اور ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا کہ اس مضمون کے دوسرے سال یا اگلے سالوں میں اس کے تعلیمی مقاصد یا تدریسی نہج میں مزید ترقی کرتے ہوئے اس میں مزید تعلیمی مقاصد کا اضافہ کردیا جائے۔ نتیجتاً معلمین اور طلبہ وطالبات سب کی نظریں اسی لفظی ترجمہ کو پڑھنے اور پڑھانے اور یاد کرنے تک مرکوز اور محدود رہتی ہیں۔ رہا قرآن کریم کا اصل عربی متن تو وہ ان سب کی نظروں سے اس قدر اوجھل رہتا ہے کہ اس پورے عرصے میں انہیں اس کی عبارتوں، استعمالات اور الفاظ کے فہم ومطالعہ پر کوئی بحث یا مشق نہیں کرائی جاتی، اس لیے وہ قرآن کریم کے نہایت آسان عربی استعمالات اور محاوروں سے بھی ناواقف رہتے ہیں اور مشہور قرآنی افعال کے مادوں اور ان کے صلات تک کو نہیں سمجھتے۔

ہماری اسلامی درسگاہوں میں تعلیم قرآن ایسے بنیادی اور اہم اسلامی مضمون کا یہ جمود نسل در نسل چلا آرہا ہے اور اس نے ہمارے لاکھوں ذہین اور محنتی نوجوانوں کی تعلیم وتربیت پر کئی منفی اثرات ڈالے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ نمایاں نقصان یہ ہے کہ ان لاکھوں نوجوانوں کو کتاب حکیم کی عربی زبان وادب کے فہم ومطالعہ سے اس حد تک محروم رکھا جاتا ہے کہ اس کی تدریس تین چار سال کا طویل عرصہ جاری رہنے کے باوجود معلمین یا طلبہ کو اس پر عربی زبان میں چند صفحات لکھنے یا بولنے کی مشق نہیں کرائی جاتی۔ آپ کو شاید دنیا کے کسی ترقی یافتہ تعلیمی نظام میں کسی کتاب یا کورس کا محض لفظی ترجمہ رٹانے کے اس جمود کی ایسی کوئی مثال نہ ملے جو ہماری درسگاہوں میں سالوں تک جاری رہتا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جمود عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عام لوگ جو کسی مستند تعلیمی درسگاہ میں نہ پڑھتے ہوں وہ اگر اپنی کاروباری مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر صرف ترجمہ قرآن کریم پڑھیں تو یہ ان کے لیے بہت کام کی بات ہے، کہ وہ اس طرح قرآن کریم کے الفاظ کا لفظی ترجمہ یاد کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات سے آگاہ ہورہے ہیں، لیکن جس گروہ نے اپنی عمروں کا بہترین وقت کسب وتعلم کے لیے وقف کیا ہوا ہے اور وہ اسلامی تعلیم اور عربی زبان کے تمام بنیادی علوم وفنون کو سالہا سال پڑھیں گے اور مستقبل میں بلند علمی مناصب پر فائز ہوں گے، کیا وہ بھی ان عام لوگوں کی طرح سالوں تک قرآن کریم کا صرف لفظی ترجمہ ہی رٹتے رہیں؟ ایسی صورت حال میں یہ لازمی اور مفید ہوگا کہ جب ان میں مناسب صلاحیت موجود ہوتی ہے اور وقت کی گنجائش بھی ہوتی ہے تو انہیں اس کتاب حکیم کا مقامی زبان میں ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کی آسان اور مبارک عربی لغت، محاوروں اور استعمالات پرمفید معلومات فراہم کی جائیں اور پھر ان معلومات کو ان کے ذہنوں میں راسخ کرنے اور ان کے عملی استعمالات کی تربیت دینے کی غرض سے ان سے متنوع مشقیں حل کرائی جائیں۔

ہم تعلیم قرآن اور عربی زبان کے اچھے معلم کیوں تیار نہ کرسکے؟

ہماری عظیم درسگاہوں میں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جس سادہ اور ناقص طریقے پر چلی آ رہی ہے، اس کے مضر اثرات کی وسعت کا جائزہ لینے کے لیے ان پہلوؤں پر غور کرنا مفید ہوگا:

اولاً: ہمارے طلبہ اور طالبات اپنی نوعمری میں پوری لگن اور شوق سے اپنا تعلیمی سفر شروع کرتے ہیں، اس لیے یہ ان کی عمدہ تعلیم، بہتر تربیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی اچھی نشو ونما کا سنہری وقت ہوتا ہے، اور انہیں عربی زبان کو لکھنے اور بولنے کا ابتدائی سلیقہ اور تربیت دینے کا بھی یہی فطری وقت ہوتا ہے لیکن چونکہ ہماری درسگاہوں میں مروجہ طریقۂ تدریس کا زیادہ زور عربی عبارتوں کا لفظی ترجہ رٹنے اور صرف ونحو کی گردانوں اور قواعد کو استعمالات کے بغیر یاد کرنے پر ہی رہتا ہے، اس لیے ہمارے نہایت ذہین اور محنتی بچے بھی عربی ایسی آسان زبان کو لکھنے اور بولنے کی مشق نہیں کرتے اور وہ قدرتی طور پر اس پہلو میں جمود کا شکار ہوتے ہیں جو آگے جا کر عملی زندگی میں ان کے لیے طرح طرح کی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت جو طریقۂ تدریس ہمارے ہاں رائج ہے اس میں طالبعلم سورہ فاتحہ سے لے کر والناس تک پڑھتے ہوئے عربی میں چند صفحات بھی لکھنے کی مشق نہیں کرتا۔

ثانیاً: پھر اس ایک مضمون کے طریقۂ تدریس کی پسماندگی صرف اس ایک مضمون تک محدود نہیں ہے، بلکہ اکثر معلمین تعلیم وتدریس کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں اور مدارس کی انتظامیہ بھی انہیں فن تعلیم میں تربیت اور تدریب کے مواقع فراہم نہیں کرتی، اس لیے وہ اس پرانے طریقۂ تدریس کو آسان اور چلتا ہوا سکہ خیال کرتے ہوئے اپنائے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت ہماری درسگاہوں میں اکثر مضامین کی تدریس اسی لفظی اور زبانی ترجمہ اور تشریح تک محدود رہتی ہے اور یہ طرز تدریس سال اول سے لے کر شہادۃ العالیۃ اور شہادۃ العالمیۃ تک بلکہ اس سے بھی آگے تخصص کی اقسام (تخصص فی التفسیر، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الفقہ، تخصص فی الافتا وغیرہ) اور یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کورس میں بھی جاری رہتا ہے۔ یوں کاہلی اور جمود کا یہ متعدی مرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔

ثالثاً: ہمارے عربی مدارس اور اسلامی درسگاہوں میں رائج اس ناقص اور مضر طریقۂ تدریس کا ایک وسیع اور قومی سطح کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ یہ درسگاہیں آج تک سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں عربی زبان وادب اور اسلامی علوم کی معیاری تدریس کے لیے اچھے معلمین اور اساتذہ تیار نہیں کرسکیں کیونکہ جن معلمین نے خود ایسے ماحول میں تعلیم پائی ہوتی ہے وہ عملی زندگی میں تدریس کی جدید اور ترقی یافتہ انداز اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ یہ مسلّمہ قاعدہ ہے کہ فاقد الشئ لا یعطیہ  (جو شخص خود کسی خوبی سے محروم ہو وہ اسے دوسروں کو نہیں دے سکتا)۔ انہی اسباب کی بنا پر ہم قیام پاکستان کے بعد آج تک ماہر معلمین اور اساتذہ کی تیاری کے اس خلا کو پر نہیں کرسکے۔

چونکہ زیر بحث مسئلہ ملک بھر کے اسلامی مدارس کے نظام تعلیم سے متعلق ہونے کی وجہ سے نہایت اہم ہے اور عمیق غور وفکر کا متقاضی ہے، اس لیے میں اس موقع پر محترم علما اور اساتذہ کی اطلاع اور اطمینان کے لیے اپنا مختصر تعارف عرض کرنا مفید خیال کرتا ہوں۔

میں یہ گذارشات بتوفیقہ سبحانہ وتعالٰی تعلیم وتربیت کے میدان میں اپنے طویل تجربات اور غور وفکر کی روشنی میں ان عظیم اسلامی درسگاہوں کو بہتر علمی وتعلیمی ترقی دینے کی غرض سے پیش کر رہا ہوں۔ میں خود متعدد اسلامی درسگاہوں کا بانی ہوں، اور دن رات ان کے بہتر اور ترقی یافتہ نصاب کی ترتیب وتصنیف میں مشغول رہتا ہوں۔ ماضی میں ملت کے جن اکابر علما اور مفکرین سے میرا کسی طرح کا تعلق رہا ہے، میں ان کی قیمتی آرا سے استفادہ کرتے ہوئے ہی اسلامی علوم اور عربی زبان کی خدمت کر رہا ہوں۔ ان میں اولاً میرے اساتذہ مولانا عبدالغفار حسن، محدث مولانا حافظ محمد گوندلوی، مولانا معاذ الرحمن، مولانا عبد اللہ امرتسری، مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیل اور مولانا مفتی ابوالبرکات مدراسی ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا عبدالرحیم اشرف، مفتی پاکستان مولانا محمد شفیع (ان کی جو تقریر اب وحدت امت کے عنوان سے چھپتی ہے، اسے انہوں نے پہلی بار مولانا عبدالرحیم اشرف کی درخواست پر ہمارے ادارے جامعہ تعلیمات اسلامیہ میں بیان فرمایا تھا، پھر راقم نے اسے کیسٹ سے قرطاس پر منتقل کیا تھا)، محدث مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا خلیل احمد حامدی، مولانا عطاء اللہ حنیف نیز مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور احمد نعمانی، اور معلم الانشاء کے مؤلف مولانا عبدالماجد ندوی نیز اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کے وائس چانسلر اور سعودی عرب کے مفتی اکبر شیخ عبدالعزیز بن باز، الطریقۃ الجدیدۃ کے مؤلف ڈاکٹر احمد امین مصری کے اسماے گرامی شامل ہیں۔ رحمہم اﷲ جمیعا وغفر لہم ورفع درجاتہم۔

میں ۱۹۷۳ء کے آخر میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں اعلیٰ تربیتی کورس کے لیے گیا تو میرے ہمراہ محترم ڈاکٹر شیرعلی اور مولانا محمود اشرف بھی تھے۔ میں اس سے پہلے ہی پاکستان میں عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کی جدید نہج پر تدریس کر رہا تھا۔ مولانا عبدالرحیم اشرف کی سرپرستی میں سات آٹھ سال جامعہ تعلیمات اسلامیہ میں بہت عمدہ تجربات ہوئے اور یہیں سے نصابی کتابوں کی تصنیف شروع کی۔ بعدازاں چند ماہ محتر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تنظیم اسلامی اور جامعہ اشرفیہ میں عربی زبان کی تدریس کرتا رہا۔ وہاں کے بزرگوں مولانا عبیداللہ، مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا فضل الرحیم سب کا اعتماد اور تعاون حاصل رہا۔ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے دوران مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی تو ان سے دار العلوم ندوۃ العلما کے اس وقت کے نصاب تعلیم اور برصغیر پاک وہند میں عربی زبان وادب کی اشاعت پر تبادلہ خیال ہوتا۔ وہ اکثر میری سوچ اور جذبہ عمل کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک بار انہوں نے حرم مکی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’بشیر صاحب، مملکت پاکستان میں عربی زبان کے ایک سپاہی کی ضرورت ہے اور وہ آپ ہی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا سفارت خانے کی ملازمت کو چھوڑ کر پاکستان جائیے۔‘‘

میں پہلے ہی اسی نظریے کو لے کر عالم عرب میں عربی زبان وادب کی ترقی کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کی غرض سے سعودی عرب گیا تھا۔ مزید کسی ڈگری یا سروس کا حصول میرا مقصد نہ تھا۔ اس سے قبل ان کی تصنیف ’پاجا سراغ زندگی‘ پڑھ چکا تھا اور اس سے متاثر تھا۔ اس لیے ان کی اس رائے سے میرے پرانے تصور کو تقویت ملی۔ میں نے جدہ کے پاکستانی سفارت خانے میں ملازمت کے دنوں میں ’اقرأ‘ الجزء الاول کا مسودہ تیار کر لیا تھا اور الجزء الثانی کی ترتیب جاری تھی۔ آخر میں اپنے مہربان دوست اور تعلیم عربی کے عالمی ماہر جناب ڈاکٹر ف عبد الرحیم مؤلف کتاب دروس اللغۃ العربیۃ (تین حصے) کا تذکرہ ضروری ہے۔ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران اور کئی تعلیمی کانفرنسوں میں میرا ان سے تبادلہ خیال ہوتا، اور ان کے تجربات سے استفادہ کرتا۔

پس چہ باید کرد؟

اسلامی مدارس کے ابتدائی سالوں میں جو طلبہ اور طالبات عربی زبان اور اسلامی تعلیم کے مختلف علوم وفنون پڑھتے ہیں، انہیں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جدید تعلیمی نظریات اور تجربات کے مطابق اور عالمی سطح پر مسلّمہ اور معیاری طریقۂ تدریس کے مطابق کی جائے۔ جس کا خاکہ ذیل میں دیا جا رہا ہے، واﷲ الموفق والمستعان۔

اولاً: اس مضمون کا موجودہ عنوان ’ترجمہ قرآن کریم‘ بدل کر اسے تعلیم القرآن الکریم یا تدریس القرآن الکریم کا نام دیا جائے۔

ثانیاً: ان طلبہ اور طالبات کے لیے تدریس القرآن الکریم کے ہر سبق میں درج ذیل تین اجزا یا حصے ہوں گے: ۱۔ شرح الکلمات، ۲۔ ترجمۃ الآیات وشرحہا، ۳۔ المناقشۃ۔

۱۔ شرح الکلمات: 

معلم ہر سبق کے شروع میں اس کی مقررہ آیات کریمہ کے الفاظ اورتراکیب کی لغوی تشریح کو تختہ سیاہ پر لکھے تاکہ بچے اسے اپنی کاپیوں میں درج کریں۔ اس جزء کے تیس (۳۰) نمبر ہوں گے۔

۲۔ ترجمۃ الآیات وشرحہا: 

بعد ازاں معلم ان آیات کریمہ کا مقامی زبان میں ترجمہ کرے گا اور بچوں کے معیار کے مطابق ان کی تشریح کرے گا۔ اس ترجمہ کے پچیس (۲۵) نمبر اور تشریح کے پندرہ (۱۵) نمبر ہوں گے۔ یوں اس جز کے کل چالیس (۴۰) نمبر ہوں گے۔

۳۔ المناقشۃ: 

آخر میں معلم ان آیات کریمہ کے جملوں اور مضمون پر زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق آسان عربی زبان میں سوالات تختہ سیاہ پر لکھے گا اور بچے ان سوالات کے عربی میں جواب دینے کی زبانی مشق کرینگے اور بعد میں ان سوالات اور ان کے جوابات کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔اس جزء کے تیس (۳۰) نمبر ہوں گے۔

۱۔ مجوزہ تبدیلیاں

ملکی درسگاہوں میں کتاب اللہ کی ایسی معیاری اور جامع تدریس کے لیے ہمیں اس کے موجودہ طریقۂ تدریس میں درج ذیل دو بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

۱۔ قرآن کریم کے الفاظ کی لغوی تشریح کا بہتر اور منظم اسلوب 

اس وقت ترجمہ قرآن کریم پڑھاتے ہوئے اکثر معلمین قرآنی الفاظ کی جو تشریح کرتے ہیں، وہ بہت کم اور سرسری ہوتی ہے، اور وہ بھی اکثر زبانی بتا دی جاتی ہے اور بچوں کو املا نہیں کرائی جاتی، الا ما شاء اﷲ۔ اس لیے اس سے زیر تعلیم بچوں کے ذہنوں میں لغوی معلومات کو راسخ کرنے میں چنداں مدد نہیں ملتی۔ یہ سلسلہ بہرحال کم سن بچوں کی تعلیم وتربیت میں بہت مفید ہے، اس لیے اسے زیادہ مؤثر اور منظم صورت دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے دو باتوں کو واضح اور متعین کرلیا جائے:

۱۔ ان مطلوبہ لغوی معلومات کا دائرہ متعین کرلیا جائے۔

۲۔ اور پھر انہیں جماعت کے طلبہ کو پیش کرنے کا طریق کار واضح کردیا جائے۔

(۱) مطلوبہ لغوی معلومات

۱۔ شروع میں صرف مشہور اور کثیر الاستعمال عربی افعال کا ماضی، مضارع، مصدر اور معنی بتائے جائیں۔

۲۔ اگر آیت کریمہ میں اسم مفرد استعمال ہوا ہے تو اس کا معنی اور جمع بتائی جائے، اور جمع کی صورت میں اس کا معنی اور مفرد بتایا جائے، وغیرہ۔

جبکہ دو تین پارے پڑھنے کے بعد ان میں درج ذیل معلومات کا اضافہ کر لیا جائے:

۱۔ مشہور افعال کے صلات یعنی ان حروف جر کابتایا جائے جو ان افعال کو متعدی بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً قال کے بعد لِ  کا استعمال، مثلاً واذ قال ربک للملائکۃ، وغیرہ

۲۔ قرآن کریم میں مستعمل متضاد کلمات نیز مترادف کلمات بتائے جائیں۔

۳۔ اس مرحلے پر نسبتاً مشکل افعال اور اسما کی تشریح بھی کی جائے۔

۴۔ لغت قرآن، صرف ونحو نیز علم بلاغت کی آسان اور عام فہم معلومات بھی لکھائی جائیں جنہیں معلم بچوں کے معیار کے مطابق مناسب تصور کرے۔ (مزید راہنمائی اور نمونے کے لیے دیکھیے دلیل قصص النبیین جز اول، دوم، سوم)

ان لغوی معلومات کو بچوں کو اس طریقے پر پڑھایا جائے:

۱۔ معلم سبق پڑھانے سے قبل مقررہ آیات کے منتخب الفاظ کی تشریح تیار کرکے لائے۔

۲۔ اور وہ اسے درس کے شروع میں بچوں کے سامنے تختہ سیاہ پر لکھے۔

۳۔ اور بچے اسے آواز سے پڑھتے ہوئے یاد کریں اور اپنی کاپیوں میں لکھیں۔

۴۔ اور معلم اس امر کا اہتمام کرے کہ تمام بچے ان معلومات کو اپنی اپنی کاپیوں میں لکھیں۔

۲۔ عربی زبان کے استعمالات اور سوال وجواب کی مؤثر تربیت 

قرآن کریم کی عربی زبان نہایت آسان اور سلیس ہے۔ اس کے الفاظ سہل اور عام فہم ہیں اور زیادہ تر چھوٹی چھوٹی ترکیبات اور مختصر جملے اور میٹھے میٹھے بول ہیں۔ پھر اہل زبان کے ہاں انتہائی معروف ومشہور محاورے اور استعمالات، اور اسلوب بیان اسقدر عام فہم کہ اوسط درجے کا قاری اسے بخوبی سمجھ لے۔ اس کی اس خوبی کو خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے: (وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ o بِلِسَانٍ عَرَبيٍّ مُّبِیْنٍ) (سورۃ الشعراء، آیات ۱۹۲ تا ۱۹۵)۔ نیز فرمایا: (وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِیْنٌ) (سورۃ النحل، آیت ۱۰۳)۔

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم عجمی مسلمان ہیں اور ہماری مادری اور قومی زبان عربی نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے بچے قرآن کریم کی عبارت کو براہ راست عربی میں نہیں سمجھ سکتے، لیکن ہم اپنی اس کمزوری کے ازالے کی خاطر اپنے زیر تعلیم بچوں کو قرآن کریم کے ابتدائی فہم کے لیے اس کے الفاظ، ترکیبوں، اور مشہور محاوروں اور استعمالات کی مناسب تشریح اور معنی یاد کراتے ہیں، نیز انہیں اس کی آیات کریمہ کا پورا ترجمہ پڑھاتے ہیں تو اب ان کے لیے کتاب اللہ کے ابتدائی فہم ومطالعہ کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ پھر اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ وہ ایک دینی درسگاہ کے طلبہ اور طالبات ہیں اور ابتدائی عربی زبان (نثر ونظم) کے کئی اسباق نیز علم صرف، علم نحو اور دوسرے کئی ایسے مضامین کو پڑھ رہے ہیں جو عربی زبان کے فہم اور استعمال میں معاون اور خادم ہیں۔ اس لیے اب وہ قرآن کریم کے اسباق میں ابتدائی سطح کی آسان عربی زبان میں سوال وجواب اور دیگر ایسی مشقوں کو حل کرنے کی اچھی قدرت رکھتے ہیں، جو ان کی مزید علمی اور لسانی ترقی میں معاون بنیں گی۔ اس لیے اس مرحلے پر معلم قرآن کریم کی آیات کریمہ کے مضمون اور جملوں پر آسان عربی میں سوالات تیار کرے اور انہیں تختہ سیاہ پر لکھے۔ بچے انہیں سمجھیں اور پھر عربی میں ان کے جوابات بولیں۔ جہاں ضرورت ہو معلم ان کی مدد کرے۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی ایسی مشقوں کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے اور معلم ان کی تصحیح کرے گا، جبکہ اس کورس کے تیسرے اور چوتھے سال میں طلبہ سبق کی مقررہ آیات کا عربی زبان میں مختصر خلاصہ بھی پیش کیا کریں گے۔

۲۔ سورہ فاتحہ کی تدریس کی مثال

اب میں اپنی معروضات کو مزید واضح کرنے کے لیے اس مجوزہ تدریسی خاکے کے مطابق سورہ فاتحہ کی تدریس کی مثال پیش کرتا ہوں۔

۱۔ شرح الکلمات: 

معلم سبق کے شروع میں سورہ فاتحہ کے الفاظ کی درج ذیل تشریح کو تختہ سیاہ پر لکھے گا جسے طلبہ آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔

أعوذ: میں پناہ مانگتا ہوں ۔ (عاذ یعوذ عوذا وعیاذا: پناہ مانگنا)

بااللہ :اللہ کی ۔ (مِنْ : سے)

الشیطان الرجیم: راندہ ہوا شیطان

بسم: نام سے (اصل میں باِسم تھا)

الرحمن: بہت زیادہ رحم کرنے والا ۔ (الذی یرحم کل شيء.)

الرحیم: سدا رحم کرنے والا ۔ (الذی یرحم دائما وأبدا.)

الحمد: سب تعریفیں ۔ (حمِد یَحمَد حمدا: تعریف کرنا)

رب: پروردگار، ج أرباب

العالَمین: جہانوں، م عالَم

یوم: دن، ج أیّام

الدِّین: بدلہ

إیاک: صرف تیری ہی

نعبُد: ہم عبادت کرتے ہیں ۔ (عبَد یعبُد عبادۃ: عبادت کرنا)

نستعینُ: ہم مدد مانگتے ہیں ۔ (استعان یستعین استعانۃ: مدد مانگنا)

اہدنا: آپ ہماری راہنمائی کریں ۔ (ہَدی یَہدِی ہُدًی: راہنمائی کرنا)

الصراط المستقیم: سیدھی راہ ۔ (وہو سبیل الأنبیاء والمرسلین)

أنعمتَ علیہم: جن پر تو نے انعام کیا ۔ (أنعمَ یُنعم إنعاما: انعام کرنا)

غیر: وہ لوگ نہیں

المغضوب علیہم: جن پر غضب ہوا

الضالین: گمراہ لوگ

آمین: قبول فرما

۲۔ ترجمۃ الآیات: 

پھر معلم جماعت کو اپنی مقامی زبان میں ترجمہ پڑھائے گا اور زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق اس کی تشریح کرے گا۔

۳۔ المناقشۃ

التمرین الاول: اب تیسرے مرحلے پر معلم تختہ سیاہ پر سورہ فاتحہ کے بارے میں عربی میں درج ذیل سوالات لکھے گا جنہیں طلبہ آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں درج کرینگے:

۱۔ لمن الحمد؟ (الحمد لِلّہ)
۲۔ من رب العالمین؟
۳۔ من رب الإنسان؟
۴۔ من رب الحیوان؟
۵۔ من رب السماوات؟
۶۔ من رب الأرض؟
۷۔ من الرحمن؟
۸۔ من الذی یرحم کل شيء؟
۹۔ من الرحیم؟
۱۰۔ من الذی یرحم دائما وأبدا؟
۱۱۔ من نعبد؟
۱۲۔ من نستعین؟
۱۳۔ من یہدینا الصراط المستقیم؟
۱۴۔ من یجیب دعائنا؟

سوالات کی تحریر سے فراغت کے بعد معلم جماعت کو ان کے عربی میں جواب دینے کی مشق کرائے گا اور حسب ضرورت ان کی مدد بھی کرے گا۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی اس مشق کو اپنی کاپیوں میں حل کرکے لائیں گے جنہیں معلم چیک کرکے ضروری تصحیح کرے گا۔

التمرین الثانی: اب معلم طلبہ سے کہے کہ وہ اپنی کاپیوں میں الحمد لِلّٰہ کی طرح کے عربی میں دس جملے لکھیں، مثلاً 

۱۔ الحمد لِلّٰہ
۲۔ التحیات لِلّٰہ
۳۔ الشکر لِلّٰہ
۴۔ الأرض لِلّٰہ 
وغیرہ۔

اگر معلم چاہے اور وقت کی گنجائش موجود ہو تو طلبہ کو کہے کہ وہ اوپر کی مشق میں اپنے تمام عربی جملوں کے ترتیب وار سوالات بنائیں اور ان کے سامنے جوابات لکھیں، مثلاً:

۱۔ لمن الحمد؟
۲۔ لمن التحیات؟
وغیرہ

آپ دیکھ رہے ہیں کہ الحمد للّٰہ ان آسان مشقوں کو حل کرتے ہوئے بچے قرآنی عربی زبان کے پچاس ساٹھ جملے بآسانی لکھ بول رہے ہیں۔

۳۔ بحث کے نتائج

۱۔ اس وقت اسلامی مدارس میں تعلیم قرآن کریم کا مروجہ طریقۂ تدریس (ترجمہ قرآن کریم) اس کی تعلیم وتدریس کے صرف چالیس فیصد (40%) مقاصد کو پورا کر رہا ہے جبکہ ساٹھ فیصد (60%) بنیادی مقاصد کو نظرانداز کرتا ہے، اس بنا پر ہمارے طلبہ اور طالبات کی تعلیم وتربیت کے کئی اہم گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں۔

۲۔ قرآن کریم کی عربی زبان اور اسلوب بیان نہایت آسان اور پرکشش ہونے کے باوجود ہمارا طریقۂ تدریس اور معلمین زیر تعلیم بچوں کو ان کے عملی استعمال اور لکھنے بولنے کی تربیت نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی نوعمری میں اس نقص سے برا اثر لیتے ہوئے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں۔

۳۔ اپنے طلبہ اور طالبات کی بہتر اور معیاری تعلیم وتربیت کیلئے اس ناقص طریقۂ تدریس کی فوری اصلاح کرتے ہوئے اسے جدید تعلیمی تجربات اور تحقیق کے مطابق از سر نو ترتیب دینا ضروری ہے۔

۴۔ اگر ہم اپنی درسگاہوں کے اس طریقۂ تدریس کی مناسب اصلاح اور ترقی کا اہتمام کرلیں تو ان کے طلبہ اور طالبات کی علمی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان درسگاہوں کا مقام اور وقار بڑھے گا۔

۵۔ اور ان کے فضلا کے لیے اندرون وبیرون ملک مختلف میدانوں میں کام اور ترقی کے وسیع اور اچھے مواقع میسر ہوں گے، اور وہ چھ یا آٹھ سالہ تعلیمی کورس مکمل کرنے کے بعد نہیں، بلکہ صرف تین سالہ کورس کرنے کے بعد عربی زبان اور اسلامیات کے اچھے معلم بنیں گے، نیز وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے عرب دنیا کی کسی یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہوں گے، ان شاء اﷲ تعالیٰ. وہو الموفق والمستعان۔

۴۔ تقاضے اور ضروریات

قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کو ترقی دینے کی اس تجویز پر اگر صدق دل اور محنت سے عمل کیا گیا تو یہ ان شاء اﷲ تعالیٰ ہماری عظیم اسلامی درسگاہوں کے نصاب تعلیم، طریقۂ تدریس اور مجموعی ماحول میں ایک مثبت اور تعمیری انقلاب کا ذریعہ بنے گی، اور ان کے اسلامی اور ملی کردار اور عظمت میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے محترم علما اور مدرسین کو کتاب اللہ اور دوسرے علوم شرعیہ کی تدریس میں موجود اس دیرینہ نقص کا فوری ازالہ کرتے ہوئے اپنے طلبہ اور طالبات کی زیادہ معیاری تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس اصلاحی مہم میں ایسے حضرات کو زیادہ مؤثر کردا ادا کرنا چاہیے جو ان عظیم اسلامی درسگاہوں کے ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، خصوصاً وہ حضرات جنہوں نے الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ اسلام آباد، الجامعۃ الاسلامیۃ مدینہ منورہ اور مکہ، ریاض یا قاہرہ وغیرہ کی دوسری یونیورسٹیوں اور اداروں سے کسب فیض کیا ہے۔ البتہ اس تجویز کے مناسب اور مؤثر نفاذ کے لیے دو چیزوں کی فوری ضرورت ہوگی:

(۱) قرآن کریم کی ایسی تدریس میں معلمین اور طلبہ وطالبات کی راہنمائی اور مدد کے لیے مناسب دلیل یا مرشد المعلم (teacher's guide) کی تیاری۔ الحمد لِلّٰہ، معہد اللغۃ العربیۃ میں اس کی تیاری اور تصنیف کئی سال سے جاری ہے۔

(۲) قرآن کریم کی اس نہج پر تعلیم وتدریس کی راہنمائی کے لیے معلمین اور معلمات کو کم از کم دو ہفتے کی تعلیمی تربیت دی جائے۔ یہ عملی تربیت وفاق کی سطح پر دی جاسکتی ہے۔ وفاق المدارس السلفیۃ نے گذشتہ ماہ فیصل آباد میں ۱۵۰ معلمین اور معلمات کی تربیت کا پہلا کورس مکمل کراتے ہوئے اس میدان میں پہل کردی ہے۔ ان عظیم مقاصد کی تکمیل کے لیے ایسے تربیتی کورسز کے انعقاد سے ہماری درسگاہوں کی بہتر تعمیر وترقی کے راستے کھلیں گے اور ان کے فضلا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔ ان کورسز کے انعقاد کے لیے موجودہ حکومت اور جامعۃ الدول العربیۃ (عرب لیگ) سے مناسب مالی اور فنی امداد لی جاسکتی ہے، ان شاء اﷲ تعالیٰ۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

Flag Counter