مکاتیب

ادارہ

(۱)

بردارمحترم حافظ حسن مدنی صاحب ، مدیر ماہنامہ ’محدث‘ لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

’محدث‘ کے مارچ ۲۰۰۷ کے شمارے میں ’’مسجد اقصیٰ صہیونیوں کے نرغے میں‘‘ کے زیر عنوان آپ کا تفصیلی اور معلوماتی اداریہ پڑھنے کو ملا اور اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں نے ’الشریعہ‘ کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ اور اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شماروں میں شائع ہونے والی اپنی تفصیلی تحریروں میں شرعی زاویہ نگاہ سے اس معاملے کے جس بنیادی پہلو کی طرف اہل علم کی توجہ مبذول کرائی تھی، آپ کی تازہ تحریر میں اس کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ایک ایسا موقف اختیار کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے مروجہ جذباتی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی موقف سے بالکل مختلف ہے اور جس سے، صورت حال کے واقعی تجزیے اور حکمت عملی کے بعض پہلووں سے قطع نظر، کوئی اصولی اختلاف غالباً نہیں کیا جا سکتا۔ میری پوری بحث کا حاصل یہی تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل سے، جسے قرآن مجید نے ’مسجد اقصیٰ‘ کے نام سے یاد کیا ہے، بنی اسرائیل کے حق تولیت کو ازروے شریعت منسوخ قرار دینے کا تصور اور اس کی بنیاد پر تقریباً ۱۵۰۰ فٹ لمبے اور ۱۰۰۰ فٹ چوڑے موجودہ احاطہ ہیکل (Temple Mount) کے پورے رقبے اور بالخصوص اس کے وسط میں موجود صخرۂ بیت المقدس اور اس پر اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے تعمیر کردہ ’قبۃ الصخرہ‘ کو بلاشرکت غیرے مسلمانوں کی ملکیت قرار دینے کا دعویٰ شرعی واخلاقی لحاظ سے درست نہیں، اس لیے مسلمانوں کو اپنا دعواے استحقاق تاریخی وواقعاتی بنیاد پر اس احاطے کی جنوبی دیوار کے ساتھ قائم اس مسجد تک محدود رکھنا چاہیے جہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فتح بیت المقدس کے موقع پر نماز ادا کر کے اسے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ (یہ مسجد خود سیدنا عمرؓ نے تعمیر نہیں فرمائی تھی، بلکہ بعد کے دور میں مسلمانوں کی تعمیر کردہ ہے۔ ابتدا میں اسے ’مسجد عمر‘ کا نام دیا گیا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ ’مسجد اقصیٰ‘ ہی کے نام سے معروف ہو گئی جو ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی ذکر کردہ ’مسجد اقصیٰ‘ یعنی حضرت سلیمان کی تعمیر کردہ مسجد سے مختلف ایک اصطلاح ہے) آپ نے اپنی تحریر میں اس بنیادی نکتے کو تسلیم فرماتے ہوئے لکھا ہے:

’’اس مسجد پر مسلمانوں کے استحقاق کی وجہ تاریخی طور پر یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اس مقام پر مسجد کو تعمیر کیا تھا تو اس وقت یہ جگہ ویران تھی۔ حضرت عمرؓ نے خود یہاں سے کوڑا کرکٹ صاف کر کے اس مسجد کو قائم کیا تھا۔ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ جیسا عادل حکمران کسی اور قوم کی عبادت گاہ پر اسلامی مرکز تعمیر کر کے کسی دوسری قوم کا مذہبی حق غصب کریں گے۔‘‘ (محدث، مارچ ۲۰۰۷، ص ۵)
’’اگر یہود اس علاقے میں کوئی ہیکل تعمیر کرنا بھی چاہتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں تو ا س کے لیے مسجد اقصیٰ کا انہدام کیوں ضروری ہے اور وہ عین اس مقام پر ہی کیوں تعمیر ہوتا ہے جہاں یہ مقدس عمارت موجود ہے؟ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں شمال مغربی حصہ اور دیگر بہت سے حصے بالکل خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں اکثر مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ اس قبہ صخرہ کی کوئی شرعی فضیلت نہیں، حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے یہاں نماز پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ یوں بھی یہود کے ہاں قبلہ کی حیثیت اس کو حاصل رہی ہے کیونکہ انھوں نے خیمہ اجتماع کو اپنا قبلہ بنایا ہوا تھا جو قبہ صخرہ کے مقام سے اٹھا لیا گیا، چنانچہ قبہ صخرہ کو اس کا آخری مقام ہونے کے ناطے انھوں نے اسے ہی اپنا قبلہ قرار دے لیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبہ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر ہی صرف کر رہے ہیں؟‘‘ (ص ۱۸)

ان اقتباسات کی روشنی میں میرے ناقص فہم کے مطابق آپ کے موقف اور میرے نقطہ نظر میں نتیجے کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اپنی تحریر کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

’’امت مسلمہ کے فرزند آج ۴۰ برس گزرنے کے بعد بھی نہ صرف مطمئن وپرسکون ہیں بلکہ آہستہ آہستہ کوتاہی اور مداہنت یوں اپنا اثر دکھا رہی ہے کہ مسلمانوں میں بعض ایسے کرم فرما بھی پیدا ہو گئے ہیں جو مسجد اقصیٰ کو اسی طرح یہود کی تولیت میں دے دینے کے داعی ہیں جیسے مسلمانوں کے پاس بیت اللہ الحرام کی تولیت ہے۔‘‘ (ص ۲۰)

اگر یہ اشارہ جیسا کہ گمان غالب ہے میری تحریروں کی طرف ہے تو میں، فی الواقع، آپ کی اس تعریض کا مدعا نہیں سمجھ سکا۔ اگر تو مسجد اقصیٰ سے آپ کی مراد حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ ہیکل ہے جس کا محل وقوع قبۃ الصخرہ کے قریب ہے تو اس پر تصرف اور تولیت کی اجازت بلکہ ترغیب تو آپ خود بھی یہود کو دے رہے ہیں، اور اگر اس سے مراد حضرت عمرؓ کے مخصوص کردہ مقام پر تعمیر کی جانے والی مسجد یعنی موجودہ ’مسجد اقصیٰ‘ ہے تو میری تحریر میں کہیں بھی اس کی تولیت یہود کے سپرد کر دینے کی بات نہیں کہی گئی، بلکہ ’الشریعہ‘ کے اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں، میں نے اس بحث کا اختتام ہی اس نکتے پر کیا ہے کہ:

’’مسلمانوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان بے بنیاد مذہبی تصورات کو خیرباد کہنا ہوگا جو پوری عبادت گاہ سے یہود کے حق تولیت کی تنسیخ یا قبۃ الصخرہ کی اہمیت وتقدس کے حوالے سے وضع کر لیے گئے ہیں اور سیدنا عمرؓ کے طرز عمل کی اتباع میں اپنے حق کو اس جگہ تک محدود ماننا ہوگا جہاں روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا تذکرہ ملتا ہے اور جسے سیدنا عمرؓ نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص فرما دیا تھا۔‘‘ (ص ۷۴)

آپ کے مضمون میں اٹھائے جانے والے بعض قانونی نکات اور واقعاتی تفصیلات پر بحث واختلاف کی گنجایش موجود ہے، لیکن ان سے قطع نظر کرتے ہوئے موجودہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کے حوالے سے جن صہیونی عزائم کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ اگر درست ہیں تو یقیناًامت مسلمہ کو اپنے حق کا دفاع پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ خدا کرے کہ امت مسلمہ کے دل میں ’اپنے حق‘ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ’نفس حق‘ کو پہچاننے اور اس کو تسلیم کرنے کا جذبہ بھی بیدار ہو جائے۔ 

محترم حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب اور ادارہ کے دیگر رفقا کی خدمت میں سلام اور آداب عرض ہے۔

محمد عمار خان ناصر

۱۷ ؍ مارچ ۲۰۰۷

(۲)

لاہور، ۲۵؍مارچ ۲۰۰۷ء

برادرِ گرامی محمد عمار خاں ناصر صاحب، مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کا مراسلہ ملا، شکرگزار ہوں کہ مسجد اقصیٰ کے حالات وواقعات پر مبنی میرے مضمون کا نہ صرف آپ نے مطالعہ کیا بلکہ اس کی افادیت اور واقعاتی استدلال سے بھی اتفاق فرمایا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اطمینان اس امرپر ہے کہ آپ نے اپنے مراسلے کے آخر میں مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے بارے میں ان جذبات سے بھی اتفاق ظاہر کیا جو مسلم اُمہ میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ آپ کے الفاظ میں ’’موجودہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کے حوالے سے جن صہیونی عزائم کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ اگر درست ہیں تو یقیناًاُمتِ مسلمہ کواپنے حق کا دفاع پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہئے۔‘‘ مزید برآں میرے موقف پر یہ تبصرہ کہ’’ کوئی اُصولی اختلاف غالباً نہیں کیا جاسکتا‘‘ لکھ کر بھی آپ نے میرے استدلال کو تقویت بخشی۔

میرا یہ مضمون مسجد اقصیٰ کے بعض حالیہ واقعات کے حوالے سے تھا اور میں نے مضمون کے مقدمہ میں ہی اس امر کی صراحت کردی تھی کہ مسجد اقصیٰ پر دینی رسائل میں جاری شرعی بحث سے اس مضمون کا کوئی تعلق نہیں، اور اس حوالے سے مستقل مضمون درکار ہے۔ چنانچہ میرے اس مضمون میں شرعی موقف کو سرے سے پیش نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود میرے لیے یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی شرعی تولیت پرتین برس قبل شائع ہونے والے آپ کے طول طویل مباحث اور ان کے نتائج سے آپ نے مجھے بھی ازخود متفق قرار دے لیا ہے اور اس اتفاق کے اظہار کے لیے آپ نے میرے مضمون کے دو اقتباسات پیش کیے ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان اقتباسات کو سیاق سے کاٹ کر آپ نے اپنے من مانے مفہوم میں لیاہے جبکہ ان سے میرا مدعا ہرگز وہ نہیں جو آپ باور کرا رہے ہیں۔ آپ میرے مضمون کے مطالعے کی بجائے ان سے وہ شواہد تلاش کرتے رہے ہیں جن سے کسی طورآپ کے متنازعہ موقف کی ہم نوائی ہوتی ہو، وگرنہ ان اقتباسات کا یہ مفہوم میرے حاشیہ خیال میں بھی موجود نہیں۔آپ کو بخوبی یاد ہوگا کہ آپ کے مضامین کی اشاعت کے بعد علما کے حلقے میں سے غالباً کوئی ایک رائے بھی آپ کی تائید میں شائع نہیں ہوئی اور مسجد اقصیٰ پر آپ کے مضامین دینی صحافت کے متنازعہ ترین مقالات میں سے ہیں جس پر ’الشریعہ‘ کے متعدد مراسلے اور مستقل مضامین بھی شاہد ہیں، جبکہ میرے مضمون کا موضوع ہی اس سے مختلف ہے۔ بہرحال آپ نے یہ الفاظ ’’ میرے ناقص فہم کے مطابق نتیجے کے اعتبار سے آپ کے موقف اورمیرے نکتہ نظرمیں کوئی خاص فرق نہیں‘‘ لکھ کرجس طرح مجھے اپنا ہم نوا قرار دیا ہے، اس سے میں متفق نہیں ہوں کیونکہ جہاں تک میرے شرعی موقف کا تعلق ہے تو میں اس پر ایک مستقل مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپ کے موقف کے بارے میں فی الحال چند تنقیحات پر اکتفا کرتا ہوں :

  •  کیا آپ صہیونیت کے نام نہاد دعوے ’ہیکل سلیمانی‘ کے قائل نہیں بلکہ اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کے مؤید بھی ہیں؟
  • کیا آپ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی بجائے یہود کو تولیت کا حق دینے کے داعی نہیں ؟
  • کیا آپ مسلمانوں کے موقف کو جذباتی، غیر اخلاقی اور غیرشرعی قرار نہیں دیتے؟
  • کیا آپ دیوارِ گریہ کے قائل نہیں اور اسے بھی یہود کا حق قرار دیتے ہیں؟

جبکہ دوسری طرف مسلم اُمہ کے زعما بالعموم ان میں سے کسی بات کو تسلیم نہیں کرتے۔

جہاں تک ’واقعاتی نتیجہ‘ میں بظاہر اتفاق کا مسئلہ ہے تو میری رائے میں اس کی حیثیت بھی چند الفاظ کے اشتراک سے زیادہ کچھ نہیں، حقیقت اور امر واقعہ اس کے عین برعکس ہے۔ ماضی قریب میں آپ کے پیش کردہ’ممکنہ حل ‘ اور موجودہ مراسلہ کے گہرے مطالعے کے بعد میں پوری بصیرت سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے اور آپ کے پیش کردہ نتیجے میں عملاً کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔ آپ احاطہ قدس میں یہودیوں کی شراکت کے قائل ہیں جبکہ میں اس سے متفق نہیں۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات پرگفتگو کرنے سے قبل میری گذارش ہے کہ اس موضوع پر آپ کی سابقہ تحریروں کی غیرمعمولی طوالت کی وجہ سے بعض بنیادی باتوں کے بارے میں آپ کے موقف میں نکھار باقی نہیں رہا۔اشتراک کا شائبہ پیدا ہونے کی وجہ یہی ابہام اور احتمال ہے۔ اگر آپ حسبِ ذیل سوالات کی دو ٹوک وضاحت فرماسکیں توآپ کے مراسلہ میں ذکر کردہ دعوائے اتفاق پر میں اپنا بادلائل موقف پیش کرسکوں گا۔ اس دوٹوک نکھار کی ضرورت اس لیے زیادہ ہے کہ اس طرح کئی برس سے جاری یہ بحث بہت جلد کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جائے گی :

۱۔مسجد اقصیٰ اور ہیکل سلیمانی آپ کی نظر میں ایک ہی چیز کے دونام ہیں، آپ کے نزدیک اس [حقیقی]* مسجد اقصیٰ کا مصداق کون سی جگہ ہے؟ قبہ صخرہ، فوارۂ کاس، [حالیہ] مسجد اقصیٰ یا کوئی اور؟

۲۔ [حالیہ] مسجد اقصیٰ جہاں حضرت عمرؓ نے نمازپڑھی تھی، کیا [حقیقی] مسجدِ اقصیٰ یہی نہیں؟ اگر نہیں توآپ اس مسجد کو کیا حیثیت دیتے ہیں؟

۳۔ [حقیقی] مسجد اقصیٰ پر کیا مسلمانوں اور یہود ہر دو اقوام کا استحقاق ہے، اگر دونوں کاحق مشترک ہے تو اس حق کی نوعیت کیا ہے اور ان میں سے کس کا حق آپ برتر سمجھتے ہیں؟

۴۔ حق کی برتری کی صورت میں عملاً اس قوم کے لیے آپ کیا اقدام تجویز کرتے ہیں اور مرجوح حق والی قوم کے لیے کیا؟

۵۔ شدرحال والی متفق علیہ حدیث(مساجدِ ثلاثہ) اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی فضیلت والے فرمانِ نبویؐ پر عمل کی آپ مسلمانوں کے لیے عملی صورت کیا تجویز کرتے ہیں؟

چونکہ اس بحث کو آپ نے ہی شروع کیا اور ا س کے ہر پہلو پر تفصیل سے تحقیق بھی فرمائی، اس لیے اس بحث کے ان اہم نکات کا دوٹوک جواب بھی اخلاقاً آپ کو دینا چاہئے کیونکہ حق کو واضح ہونا چاہئے اور اس میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ آپ دوٹوک اور معروضی اُسلوب میں ان کے جواب دے کر تفصیلی دلائل کے لیے اپنے ۱۵۰ صد سے زائد صفحات کے متعین پیرا گرافوں کی نشاندہی کردیں۔مجھے اُمید ہے کہ آپ کے جوابات کے بعد پیش نظر مسئلہ کافی حد تک از خود ہی واضح ہوجائے گا۔ تاہم آپ کے جواب کے بعد میں بڑی وضاحت اور صراحت سے اپنا تفصیلی موقف تحریر کروں گا، تاکہ اس اہم شرعی مسئلہ پر ہمارے قارئین کسی واضح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ ان شاء اللہ 

اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔

حافظ حسن مدنی، لاہور

(۳)

برادرم حافظ حسن مدنی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟

میرے خط کے جواب میں آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ! میں اشتیاق کے ساتھ منتظر رہوں گا کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کے شرعی پہلو سے متعلق آپ کا مستقل مضمون کب معرض تحریر میں آتا ہے اور اس میں آپ کیا نقطہ نظر اختیار فرماتے اور اس کے حق میں کیا استدلالات پیش کرتے ہیں۔ سردست میں اپنی گزارشات کو آپ کے حالیہ مکتوب کے مندرجات تک محدود رکھوں گا۔

آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے آپ کے مضمون سے اپنے اور آپ کے موقف میں جو اشتراک اخذ کیا ہے، وہ درست نہیں، بلکہ ایسا آپ کے اقتباس کو سیاق وسباق سے ہٹا کر من مانے معنی پہناتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تاہم آپ نے اس اقتباس سے میرے اخذ کردہ نتیجے کی تردید تو فرمائی ہے لیکن اپنے مضمون کے سیاق وسباق کی روشنی میں اس کا صحیح مدعا اور مفہوم واضح کرنے کی زحمت نہیں کی۔ میں آپ کا اقتباس یہاں دوبارہ نقل کرنا چاہوں گا:

’’اگر یہود اس علاقے میں کوئی ہیکل تعمیر کرنا بھی چاہتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں تو ا س کے لیے مسجد اقصیٰ کا انہدام کیوں ضروری ہے اور وہ عین اس مقام پر ہی کیوں تعمیر ہوتا ہے جہاں یہ مقدس عمارت موجود ہے؟ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں شمال مغربی حصہ اور دیگر بہت سے حصے بالکل خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں اکثر مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ اس قبہ صخرہ کی کوئی شرعی فضیلت نہیں، حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے یہاں نماز پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ ..... پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبہ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر ہی صرف کر رہے ہیں؟‘‘ (محدث، مارچ ۲۰۰۷، ص ۱۸)

ازراہ کرم آپ واضح فرمائیں کہ جب آپ ہیکل کی تعمیر کے لیے یہود کو موجودہ مسجد اقصیٰ کے بجاے احاطہ ہیکل ہی میں واقع دیگر مقامات، مثلاً قبۃ الصخرہ وغیرہ کی راہ دکھا رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ان مقامات کی آپ کے نزدیک کوئی شرعی فضیلت نہیں تو اس کا مطلب مذکورہ مقامات پر تصرف وتولیت میں عدم دلچسپی ظاہر کرنے کے سوا کیا نکلتا ہے؟ اگر یہود آپ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلتے ہوئے قبۃ الصخرہ کی جگہ پر اپنا ہیکل تعمیر کرنا چاہیں تو وہ آخر زمین کے اوپر ہی بنے گا یا ’بغیر عمد ترونہا‘ فضا میں معلق ہوگا؟ اور اگر آپ یہود کا ہیکل تعمیر کرنے کا حق تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن احاطے یا ہیکل کی تولیت میں انھیں کسی طرح بھی شریک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یہ واضح فرمائیے کہ کیا ہیکل کی تعمیر کے بعد یہودی قوانین کے مطابق اس میں رسوم عبادت ادا کرنے اور کاہنوں سے متعلقہ مذہبی خدمات بجا لانے کا فریضہ بھی آپ خود ہی انجام دیں گے؟ اور اگر یہ حق بھی آپ یہود کے لیے تسلیم کرتے ہیں تو مذہبی معنوں میں کسی عبادت گاہ پر تصرف وتولیت اور کیا چیز ہوتی ہے؟

کوئی مصنف جب اپنی تحریر سے واضح طور پر نکلنے والے کسی نتیجے کو own کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ یا تو یہ ہوتی ہے کہ اس نے وہ تحریر اچھی طرح سوچ سمجھ کر نہیں لکھی ہوتی اور یا یہ کہ وہ اپنی تحریر میں ملفوف نتیجے کا واضح اعتراف کرنے کے لیے درکار اخلاقی جرات سے محروم ہوتا ہے۔ میں حسن ظن رکھتا ہوں کہ آپ کے معاملے میں یہ دوسری صورت نہیں پائی جاتی۔

آپ نے اپنے مکتوب کے آخر میں میرے موقف کے حوالے سے جن نکات کی وضاحت طلب فرمائی ہے، ان سب کی تفصیل میں اپنی تحریروں میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں، تاہم آپ کی فرمایش پر انھیں دوبارہ دہرا دیتا ہوں:

۱۔ قرآن مجید نے ’مسجد اقصیٰ‘ کا لفظ ہیکل سلیمانی کے لیے استعمال کیا ہے۔ موجودہ احاطہ ہیکل کے اندر اس کا محل وقوع یقینی طور پر معلوم نہیں، تاہم غالب گمان کے مطابق اس کو صخرۂ بیت المقدس (جس کے اوپر اس وقت ’قبۃ الصخرہ‘ قائم ہے) کے قرب وجوار میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ صخرہ بنی اسرائیل کے لیے قبلے کی حیثیت رکھتا تھا اور ہیکل کی عمارت کے اندر ہی واقع تھا۔ اس وقت مسلمان جس مسجد کو ’مسجد اقصیٰ‘ کہتے ہیں، وہ عین ہیکل سلیمانی کی جگہ پر واقع نہیں، بلکہ احاطہ ہیکل کی جنوبی دیوار کے قریب اس جگہ تعمیر کی گئی ہے جہاں فتح بیت المقدس کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز ادا فرمائی تھی۔ 

۲ و ۵۔ موجودہ مسجد اقصیٰ، ہیکل سلیمانی (یعنی قرآن مجید کی ذکر کردہ ’مسجد اقصیٰ‘) کی اصل عمارت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود توسیعی طور پر مسجد ہی کے حکم میں ہے، اس لیے اس میں نماز ادا کرنے کی وہی فضیلت اور ثواب ہے جو صحیح احادیث میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ثابت ہے۔

۳ و۴۔ بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ، قربان گاہ اور قبلہ ہونے کے ناتے سے ہیکل سلیمانی یعنی اصل مسجد اقصیٰ کی تولیت شرعی واخلاقی طور پر انھی کا استحقاق ہے اور قرآن وسنت میں ان کے اس حق کی تنسیخ کی کوئی دلیل نہیں۔ مسلمانوں کا حق اس مسجد کے حوالے سے یہ ہے کہ انھیں یہاں عبادت کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہیکل سلیمانی کی اصل عمارت کے بجائے اس سے بالکل ہٹ کر احاطہ ہیکل کے جنوب میں، جہاں اس وقت موجودہ مسجداقصیٰ واقع ہے، مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ متعین کر کے دونوں اقوام کے مذہبی حق کے تحفظ اور پاس داری کی ایک واضح صورت متعین فرما دی تھی اور امت مسلمہ کو اسی کی پابندی کرنی چاہیے۔

اگر اس ضمن میں مزید کوئی نکتہ وضاحت طلب ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔

محمد عمار خان ناصر

۲۵ مارچ ۲۰۰۷

(۴)

جناب زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم! امید ہے بخیریت ہوں گے۔

’الشریعہ‘ کا فروری کا شمارہ ملا۔ یقیناًبہت سے موضوعات دلچسپی اور علم میں اضافے کا موجب ہوتے ہیں، لیکن ایک ایسا جریدہ جو مذہبی خیالات کا حامل ہو، اس میں یکایک پیپلز پارٹی کے متعلق (بلکہ اس کے خلاف) مواد شامل کر دیا جائے تو کوئی بھی شخص یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرے گا کہ ایجنسیاں گویا ’الشریعہ‘ میں بھی آ ٹپکی ہیں۔ آج کے دور میں کوئی بھی مسئلہ کلر بلائنڈ ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا اور نہ اس پر لکھا جا سکتا ہے، اس لیے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک عام آدمی کی بھی رسائی ہے۔ اس کے علاوہ بھٹو کی جاں نثار ٹیم ابھی باقی ہے جنھوں نے صرف مشاہدہ ہی نہیں، عملی کام بھی کیا ہے۔ یاد ہوگا کہ آپ نے ضیاء الحق کو ’شہید‘ لکھا تھا جس پر میں نے احتجاج کیا تھا۔ اب مجھے سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ آپ بھی ضیا کی باقیات میں سے ہیں جس نے ایک عام مولوی کو بھی خاص بنا دیا اور ماشاء اللہ نام نہاد ملا دین کی ترویج کے نام پر سیاسی فوائد سے خوب بہرہ ور ہو رہے ہیں۔

ذو الفقار علی بھٹو بھی یقیناًایک انسان تھا جو خوبیوں اور خامیوں کاحامل تھا، لیکن یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس قوم کے لیے اس کی بے شمار خدمات ہیں جن میں چیدہ چیدہ یہ ہیں: ۱۹۷۳ء کا آئین، مزدوروں کے لیے سوشل سکیورٹی سسٹم، متعدد میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کا قیام، کامرہ کمپلیکس، کرپشن سے پاک حکومت، ۹۰ ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی، ایٹم بم کے حصول کے لیے کام کا آغاز، صوبائی ونسلی منافرت سے پاک معاشرہ، بلکہ حنیف رامے کے بقول زیڈ اے بھٹو کا یہی کارنامہ سب کارناموں پر بھاری ہے کہ اس نے عام آدمی کو شعور دیا۔ ’الشریعہ‘ کے مضمون نگار کا یہ کہنا کہ لوگ بھٹو کی موت کے بے حد tragic ہونے کے سبب سے اس کے گرویدہ ہو گئے، درست نہیں۔ موت تو ضیاء الحق کو بھی آئی، لیکن آج اس کا نام لیوا کوئی نہیں۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ’الشریعہ‘ جیسے خوبصورت میگزین کو سیاسی معاملات بالکل ڈسکس نہیں کرنے چاہییں، اس کے لیے متعدد دوسرے سیاسی میگزین موجود ہیں۔ اگر ایسا ضروری بھی ہو تو غیر جانبدارانہ رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ موضوع کوئی بھی شخصیت ہو، اس کا خوب صورت تجزیہ کر کے نتیجہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بے نظیر بھٹو کا ذو الفقار علی بھٹو سے کوئی موازنہ نہیں۔ بے نظیر عہدے داران کی لیڈر ہے جبکہ بھٹو قائد عوام تھے۔

آپ نے اداریے میں یورپ کی روشن خیالی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو میر ے خیال میں جانبدارانہ ہے۔ یورپ کی روشن خیالی صرف فری سیکس تک محدود نہیں۔ تعلیمی، سماجی اور سیاسی حوالوں سے اس کی ترقی اور روشن خیالی قابل تعریف ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمیں اپنے کلچر اور اقدار کے مطابق روشن خیالی کو فروغ دینا چاہیے۔اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔

محمد سعید اعوان

اروپ۔ گوجرانوالہ

مکاتیب