اپریل ۲۰۰۷ء

عدالتی بحران اور وکلا برادری کی جدوجہد

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس محترم جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد سے ملک میں عدالتی بحران کی جو کیفیت پیدا ہو گئی ہے، اس سے ہر محب وطن شہری پریشان او رمضطرب ہے اور عالمی سطح پر بھی وطن عزیز کے لیے جگ ہنسائی کی افسوس ناک صورت حال سامنے آئی ہے۔ جسٹس افتخار محمدچودھری کے خلاف پیش کی جانے والی شکایات کو اگر نارمل طریقے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں لایا جاتا اور اس کے ساتھ انھیں دستور کے مطابق جبری رخصت پر بھی بھیج دیا جاتا تو یہ ایک معمولی کی کارروائی سمجھی جاتی اور بعض حلقوں کے تحفظات کے باوجود...

نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کی اہمیت

― مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

ہمارے سامنے دو چیزیں پیش کی گئی ہیں: تقدیر اور تدبیر۔ تقدیر میں عوام کو غوروخوض کرنے سے روکا گیا ہے ، لیکن سمجھ دار لوگوں نے اس کو جس عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے اور حل کیا ہے ، اس کو آگے چل کر اپنے موقع پر بیان کیا جائے گا ۔ دوسری چیز یعنی تدبیر ، اس کے اختیار کرنے کا بندے کو تاکید سے حکم دیا گیا ہے ۔ تدبیر کیا ہے؟ تدبیر ہے کسی مقصد کے حاصل کرنے کے لیے اس کے ذرائع اور اسباب کو کام میں لانا۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ذرائع اور اسباب میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ ان کی تاثیر اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت...

جہاد اور معاصر بین الاقوامی قانونی نظام ۔ چند اہم مباحث

― محمد مشتاق احمد

جہاد اسلام کی چوٹی ہے ، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے ۔(۱) بہت سی آیات و احادیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور نفاق کے درمیان فرق کا علم جہاد ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ (۲) جہاد ہی کی برکت ہے کہ اسلامی دنیا میں کبھی بھی غیروں کے تسلط کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد ابتدا ہی سے استعماری قوتوں کا ہدف رہا ہے ۔ مسلمان اہل علم کی جانب سے ہر دور میں جہاد کی حقیقت اور اس کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے کا فریضہ ادا کیا گیا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا بالعموم غیروں کے تسلط میں آگئی تو اس تسلط کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ...

سید مدنی، تجدد پسندی اور قدامت پسند حلقے

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ ’الشریعہ‘ فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں ہمارے شائع ہونے والے مضمون ’’ سید حسین احمد مدنی ؒ اور تجدد پسندی ‘‘ پر قدامت پسند حلقے کی طرف سے شدید منفی ردِ عمل سامنے آیا ہے ۔ مضمون کی ابتدائی سطروں ہی میں ہم نے لکھا تھا کہ’’ اگر مذہبی اصطلاح ’’ اجماع ‘‘ کو مستعار لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکبر کی ’’تجدد پسندی‘‘ کے خلاف مسلمانوں کے قدامت پسند حلقے کا اجماع ہو چکا ہے ‘‘۔ہمیں یہ قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ قدامت پسند، علمی اعتبار سے اس حد تک زوال کا شکار ہو چکے ہیں کہ ان کے مفتی صاحبان بھی ’’ مستعار ‘‘ کے معنی جاننے سے قاصر ہیں ۔ مفتی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) بردارمحترم حافظ حسن مدنی صاحب ، مدیر ماہنامہ ’محدث‘ لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ ’محدث‘ کے مارچ ۲۰۰۷ کے شمارے میں ’’مسجد اقصیٰ صہیونیوں کے نرغے میں‘‘ کے زیر عنوان آپ کا تفصیلی اور معلوماتی اداریہ پڑھنے کو ملا اور اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں نے ’الشریعہ‘ کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ اور اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شماروں میں شائع ہونے والی اپنی تفصیلی تحریروں میں شرعی زاویہ نگاہ سے اس معاملے کے جس بنیادی پہلو کی طرف اہل علم کی توجہ مبذول کرائی تھی، آپ کی تازہ تحریر میں اس کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے حوالے...

اپریل ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۴