ستمبر ۲۰۰۶ء

عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں ہم نے روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب کے پیش کردہ سوالات میں سے ایک کا مختصراً جائزہ لیا تھا۔ آج کی محفل میں ہم اس قسم کے سوالات کے حوالے سے چند اصولی گزارشات پیش کریں گے اور اس کے بعد باقی ماندہ سوالات میں سے اہم امور پر کچھ نہ کچھ عرض کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا اور پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب ہم ایک مسلمان کے طورپر اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق ومالک، رازق ومدبر اور حکیم وحاکم یقین کرتے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ...

مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالات

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال پورے ہو چکے ہیں۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مفصل رپورٹ میں مجلس کی کاردکردگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کی ترتیب بالکل ایسے ہے جیسے سرکاری ترجمانی کا حق ادا کیا جا رہا ہو۔ رپورٹ پڑھ کر میں نے ’ترجمان القرآن‘ کے مدیر کے نام خط لکھا اور رپورٹ کے بارے میں چند سوالا ت اٹھائے۔ مذکورہ جریدہ نے میرا خط شائع نہیں کیا۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ غالباً ارباب ترجمان اپنے قارئین کو اندھے، بہرے اور گونگے خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے صفحات قارئین کے لیے صرف اتنا...

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

― حافظ محمد زبیر

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر قوم میں اپنے انبیا و رسل بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ۔اس وحی کے نزول کے دو طریقے ہیں : (۱) بعض اوقات یہ وحی لفظاً ہوتی ہے یعنی اس میں الفاظ بھی اللہ کے ہوتے ہیں اور معنی بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ ’وحی لفظاً‘ تحریری صورت میں ہی انبیا پر نازل ہوتی تھی یا بعد میں اسے تحریر کی شکل دے دی جاتی تھی۔ وحی لفظاً کی مثالیں صحف ابراہیم ،تورات ،انجیل ،زبور اور قرآن وغیرہ ہیں۔ (۲) اکثر اوقات یہ وحی معناً نازل ہوتی یعنی اس میں الفاظ اللہ کے نہیں ہوتے تھے، لیکن پیغام اللہ...

حدود آرڈینینس ۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

― سید منظور الحسن

حدود کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا جزو لازم ہیں۔ جان، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی یہ سزائیں قرآن مجید نے خود مقرر فرمائی ہیں۔ چنانچہ ان کی حیثیت پروردگار عالم کے قطعی اور حتمی قانون کی ہے۔ عالم اور محقق ہوں یاقاضی اور فقیہ، ان میں ترمیم و اضافے یا تغیر و تبدل کاحق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ شریعت کے دیگر اجزا کی طرح یہ بھی ابدی، اٹل اور غیر متبدل ہیں۔ زمانہ گزرا ہے اور مزید گزر سکتا ہے، تہذیب بدلی ہے اور مزید بدل سکتی ہے،تمدن میں ارتقا ہوا ہے اور مزید ہو سکتا ہے، مگر ان کی قطعیت آج بھی...

حدود اللہ اور حدود آرڈیننس ۔ جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا مکتوب گرامی

― ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

باسمہ تعالیٰ۔ اسلام آباد۔ ۱۴؍ اگست ۲۰۰۶۔ گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی، زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟ آپ کا موقر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ بلا مبالغہ پاکستان کے فکری افلاس کے تپتے ہوئے صحرا میں زلال صافی ہے جو جرعہ کشان علم وتحقیق کی سیرابی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اگر کبھی اس میں درد تہ جام کی مقدار زیادہ ہو جائے تو بھی ہم تشنگان محبت اسے اسی ذوق وشوق سے پی جاتے ہیں، تاہم خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔ آپ نے الشریعہ کے جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں نیاز مند کو بھی یاد فرمایا اور اپنے علمی مقام ومنصب، فکری بلند پروازی،...

محترم جاوید غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے جولائی ۲۰۰۶ کے ادارتی صفحات میں حدود آرڈیننس پر ملک میں ایک عرصہ سے جاری بحث ومباحثہ کے حوالے سے حدود آرڈیننس پر معترض حلقوں کے موقف پر اظہار خیال کرتے ہوئے راقم الحروف نے اپنے دو محترم دوستوں، محترم جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کا بھی تذکرہ کیا تھا اور اس بات پر دکھ کا اظہار کیا تھا کہ حدود آرڈیننس کے حوالے سے ان حضرات کا جو موقف پبلک کے سامنے آ رہا ہے، وہ ان حلقوں کی تقویت کا باعث بن رہا ہے جو حدود آرڈیننس کی تکنیکی خامیوں یا فقہی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے سرے سے پاکستان میں شرعی قوانین کے نفاذ ہی کے خلاف ہیں...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) برادرِ مکرم جناب عمار خان ناصر۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزشتہ شمارے میں جناب پروفیسر عبدالماجد نے میرے کالم ’’اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات‘‘ پر تبصرہ فرمایا جو اس لحاظ سے میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ ہمارے قارئین کس باریک بینی سے ’الشریعہ‘ کامطالعہ کرتے اور ہر قابل بحث بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میں جناب پروفیسرعبدالماجد کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے کالم کو بغور پڑھنے کے بعد اپنا تبصرہ ارسال فرمایا۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ’استشراق‘ میرے زیرمطالعہ ہے اور دیگر مستشرقین کی تحریرات کے علاوہ اسپوزیٹو...

ویڈیو کیمرے کی فقہی حیثیت

― ادارہ

(ویڈیو کیمرے سے بنائی جانے والی تصویر کا مسئلہ ہمیشہ سے اختلافی رہا ہے۔ اہل علم کا ایک گروہ اسے ناجائز قرار دینے پر مصر ہے جبکہ دوسرا طبقہ فی نفسہ اس کے مباح ہونے کا قائل ہے۔ اس ضمن میں شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے نقطہ نظر کی وضاحت پر مبنی ایک تحریر یہاں شائع کی جا رہی ہے۔ مدیر)۔ استفسار۔ گرامی قدر حضرت والد صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کچھ عرصہ سے یہ بات گردش کر رہی ہے کہ آپ شادی کی کسی ایسی تقریب میں شریک تھے جہاں ویڈیو کیمرہ سے تصویریں بنائی جا رہی تھیں۔ اس میں آپ کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ آپ نے ان کو...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter