مکاتیب

ادارہ

(۱)

برادرِ مکرم جناب عمار خان ناصر 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزشتہ شمارے میں جناب پروفیسر عبدالماجد نے میرے کالم ’’اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات‘‘ پر تبصرہ فرمایا جو اس لحاظ سے میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ ہمارے قارئین کس باریک بینی سے ’الشریعہ‘ کامطالعہ کرتے اور ہر قابل بحث بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میں جناب پروفیسرعبدالماجد کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے کالم کو بغور پڑھنے کے بعد اپنا تبصرہ ارسال فرمایا۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ’استشراق‘ میرے زیرمطالعہ ہے اور دیگر مستشرقین کی تحریرات کے علاوہ اسپوزیٹو کی تحریرات بھی میری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔یہ بات تسلیم ہے کہ جان ایل اسپوزیٹو طبقۂ مستشرقین میں قدرے معتدل درجہ کے محقق ہیں، لیکن اس کے باوجود اسلامی تاریخ اور اس کے حقائق کے حوالے سے اسپوزیٹو کی بہت سی ایسی تحریرات ایک مستقل مقالہ کی صورت میں جمع کی جاسکتی ہیں جو قابل گرفت ہیں۔ میں ان شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر انھیں قارئین کے سامنے پیش کروں گا۔ پروفیسر عبدالماجد صاحب نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے :

’’۔۔۔ڈاکٹر اسپوسیٹو نے تو امریکہ اور مغرب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ چند اسلامی تحریکات کے طرزِ عمل کی بنیاد پر اسلام یا تمام مسلمانوں پر انتہا پسندی اوردہشت گردی کا لیبل نہیں لگانا چاہیے۔۔۔‘‘۔

اس عبارت میں پروفیسر موصوف نے خود اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر اسپوزیٹو نے ’’چند اسلامی تحریکات‘‘ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور میری مراد بھی یہی تھی کہ اسپوزیٹو نے ایک سے زائد جہادی گروپس کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ مزید گزارش ہے کہ ایک لمحہ کے لیے تمام ’اعتدال پسندانہ حکمتوں‘سے قطع نظر، محض ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ حالیہ صیہونی وصلیبی یلغار سے قبل، مسلمانوں کی طرف سے خصوصاً، کبھی بھی تاریخِ اسلامی میں کسی جہادی جماعت کے طرزِ عمل کو نشانۂ تنقید نہیں بنایاگیا اور نہ ایسے کسی موقف کی کلی یا جزوی تائیدکی گئی ہے بلکہ اس کے برعکس جہاد کے لیے ہرممکنہ تعاون کی کوشش کی گئی، لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ استعماری یلغار کے منحوس اثرات سے امت کی فکری بنیادیں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں سب سے بڑی نعمت فکری بنیادوں پر ثابت قدمی اورسب سے بڑی ذمہ داری اغیار کی عدمِ تقلید ہے۔ ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہوجانا چاہیے کہ مائیکل ہارٹ نے محمدﷺکو تاریخ کے سو بڑے آدمیوں میں سرفہرست رکھا ہے، بلکہ اس کی وجوہات اور پس پردہ مقاصد پر بھی غور کرنا چاہیے۔

حافظ محمدسمیع اللہ فراز

شعبہ علومِ اسلامیہ 

ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، لاہور

(۲)

مکرمی حافظ محمد عمار خان صاحب، مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ جملہ اراکین مجلس ادارت ومشاورت کے ہمراہ بخیریت ہوں گے۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب قارون اور قورح کے موضوع سے اکتاہٹ کے اظہار میں اسے لایعنی اور علمی تفاخر پر مبنی بحث قرار دے چکے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ اگست ۲۰۰۶ ء کے شمارے میں پھر اسی باسی کڑھی میں ابال آیااور مارچ والے مضمون کی گالیوں اور طعنوں کا اعادہ کیاگیاہے۔ بدقسمتی سے میں تو جو شیلے مقالہ نگار کے زیر عتاب تھا ہی، اس بار علامہ محمود خارانی صاحب کو بھی تختہ مشق بنایا گیاہے اور افسوس کہ شرفا کی پگڑیاں اچھالنے کے بعد اس سلسلہ بحث کے لیے ’الشریعہ‘ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے گئے ہیں تاکہ محترم جنگجو بزرگ مصنف کی ٹوہر ( اکڑ، انا) بنی رہے۔ یہ شخصیت پرستی نہیں تو اور کیاہے ؟

اگر اس لایعنی اور غیر معقول وبے محل بحث کی اشاعت محترم ڈاکٹر صاحب کی انا کی تسکین کے لیے ناگزیر ہوچکی تھی تو گالیوں کے ہمراہ یہ بھی لکھ دیاہوتا کہ بائبل میں قارون کے خزانے کی کنجیوں کا چمڑے کی ہونا اور چمڑے کی کنجیوں کا تین سو اونٹوں یا خچروں پر لادے جانا فلاں جگہ لکھاہے، لیکن یاد رکھیے، قیامت کاسورج طلوع ہو جائے گا، آسمان لپیٹ دیے جائیں گے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ نے لگیں گے، لیکن عزت مآب ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی مدظلہ چمڑے کی کنجیاں اوران کا تین سو اونٹوں یا خچروں پر لادے جانا بائبل میں نہیں دکھا سکتے، نہیں دکھا سکتے، نہیں دکھا سکتے،اور بس۔ 

مذکورہ مذموم مضمون ’’قورح ،قارون: ایک بے محل بحث‘‘ میں محترم مصنف نے کون سا کدو میں تیر مارا ہے؟ صرف کوڑھ پر کھاج کے سوا کچھ بھی نہیں، چنانچہ مذکورہ جنگ نامہ کی ابتدائی سطر میں فرماتے ہیں: ’’ اس لیے کوئی حوالہ ضروری نہیں سمجھاگیاتھا ۔‘‘ پھر پانچویں سطر میں ہی کتاب گنتی باب ۱۶ کی نشان دہی کا اعتراف کرتے ہیں اور مزید یہ کہ مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں دعویٰ کرتے ہیں: ’’زبو رہی بائبل کی وہ کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ‘‘ لیکن اپریل کے شمارے میں جب احقر نے زبور میں تحریف کثیرثابت کرکے ان کے مضحکہ خیز دعوے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تو اب اگست ۲۰۰۶ء کے شمارہ میں درج جنگ نامہ میں فرماتے ہیں: ’’ البتہ ا س میں بھی چند مقامات پر تحریف ہوئی ہے ‘‘۔ مارچ کے شمارے میں فرمایا تھا کہ: ’’ یہی وہ زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی‘‘ لیکن جب میں نے عظیم سکالر صاحب کی علمیت کا بھانڈا سر بازار پھوڑتے ہوئے مروجہ زبو ر کے بہت سے لکھاری ثابت کردیے تو اب جنگ نامہ میں فرماتے ہیں ’’ اور پھر زبو رکے سلسلہ میں ایک اہم با ت یہ ہے کہ وہ ساری کتاب زبور جو بائبل میں شامل ہے، وہ سب داؤد علیہ السلام سے منسوب نہیں، بائبل کے اردو ترجمہ میں تو اس کا ذکر نہیں۔ ‘‘ حالانکہ اردو بائبل میں بھی ہر مزمور کے سرنامہ میں اس کے مصنف کا نام درج ہے۔ اندریں حالات کیا میں نے غلط کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب کو بائبل کھول کر دیکھنے کی توفیق میسرنہیں اور خیالات کے گھوڑے خوب دوڑاتے ہیں؟

حیرت ہے، مسلمان ڈاکٹر صاحب زبو ر میں درج حمد وثنا کے ترانوں سے بہت ہی زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ ’’تیرے نتھنوں کے دم کے جھو کے سے پانی کی تھاہ دکھائی دینے لگی‘‘ (زبور۱۸:۱۵) ’’اس کے نتھنوں سے دھواں اٹھا اور اس کے منہ سے آگ نکل کر بھسم کرنے لگی، کوئلے اس سے دہک گئے‘‘( زبور ۱۸:۸) ’’وہ کروبی پر سوار ہوکر ا ڑا بلکہ تیزی سے ہوا کے بازووں پر اڑا ‘‘ ( زبور ۱۸:۱) ’’اے خداوند !جاگ، تو کیوں سوتا ہے‘‘ (زبور ۴۴:۲۳) حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب مزمور میں لکھاہے: ’’خداوند نے مجھ سے کہا تومیرا بیٹاہے، آج تو مجھ سے پیدا ہوا ‘‘ (زبور ۲:۸) قرآ ن سے متصادم ان ترانوں کو تنزیل الٰہی کی سند دینے والے جنگجو مصنف کو، جبکہ وہ قبر میں لاتیں لٹکائے بیٹھے ہیں، ایسے مشرکانہ ترانوں سے محظوظ ہونے کی بجائے قرآن پاک کی آیات مقدسہ سے محظوظ ہوکر اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے تھی، لیکن چونکہ وہ اپنی فطرت سے مجبور ہیں، اس لیے ہمیں ان سے اب کوئی شکایت نہیں۔ ہمیں تو پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کی خدمت میں اپیل کرنی ہے کہ خواہ مخواہ کسی موضوع کو فضول یا لایعنی نہ کہہ دیاکریں۔ اگر کہہ ہی بیٹھے تو کم از کم اپنے کہے کی لاج رکھ لیا کیجئے۔ جس بحث کو آپ بار بار لایعنی اور بے محل فرماتے رہے، پھر اسی بحث کے تحت لکھے گئے مذموم جنگ نامہ کو شائع کرکے ’الشریعہ‘ کے تقدس کو پامال کیوں کردیا؟ اپنے ہی اصولوں کی دھجیاں بیچ چورا ہے کیوں بکھیر دیں؟ ایک ہم فرقہ جنگجو کی انا کی تسکین کے لیے کسی دوسرے کے شیشہ دل کی کتنی کرچیاں کر ڈالیں۔ اس کا احساس ہے آپ کو؟ مجھے احساس ہے کہ آپ جواب نہیں دیں گے، بلکہ شاید میرا خط بھی شامل اشاعت نہ کیا جائے، لیکن میرا یہ خط آپ بھول نہیں پائیں گے۔ ان شاء اللہ ۔

تمام احباب تک آداب اورسلام ۔

محمد یاسین عابد 

علی پور چٹھہ ۔ ضلع گوجرانوالہ

(۳)

بخدمت گرامی قدر علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

’الشریعہ‘ کے تازہ شمارے میں تبلیغی جماعت کے حوالے سے محترم مولانا محمد یوسف صاحب کا مضمون شائع ہوا۔ مولانا موصوف کامضمون کافی متوازن تھا اور احقر کے دل کی آواز اور ترجمان تھا۔ مولانا یوسف صاحب کے مضمون کی تائید میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

۱۔ آج فضا یہ بن چکی ہے کہ جو شخص تبلیغی جماعت کی اصلاح کی بات کرتا ہے، اسے جماعت کامخالف سمجھ لیا جاتا ہے۔

۲۔ تبلیغی کارکن بکثرت ضعیف وموضوع روایات پیش کرتے ہیں اور سامعین میں کئی علما ومفتی صاحبان موجود ہوتے ہیں، وہ اصلاح نہیں کرتے۔ جماعت کی مجموعی کارکردگی بہت اچھی ہونے کے باوجود احقر ایسے صاحبان کی بدولت جماعت میں نہیں جاتا۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ میں کسی تبلیغی کارکن نے بیان کیا کہ فلاں نیک کام کرو گے تو جنت میں ۴۵ ہزار حوریں ملیں گی اور اس بات کو حدیث بنا کر پیش کیا۔ ایک صاحب نے اپنے بیان کا آغاز اس جملے سے کیا کہ ’’صحابہ کرام ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔‘‘

۳۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جماعت میں کم یا زیادہ ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو علماے کرام کے کام کو بنظر حقارت دیکھتا ہے۔ ہمارے استاد محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب فیصل آباد کے ایک مدرسہ میں دورۂ تفسیر کے طلبہ کو سبق پڑھا رہے تھے کہ جماعت والے آئے اور کہا کہ کیا آپ نے کوئی دین کا کام بھی کیا ہے؟ ایک تبلیغی نے احقر کے متعلق کہا، وہ دین کا ٹھیکیدار بن کر مدرسہ میں بیٹھا ہوا ہے، وقت نہیں لگاتا۔ غالباً چھ سات سال پہلے کی بات ہے، تبلیغی مرکز فیصل آباد میں وفاق المدارس کے امتحانات کے لیے آئے ہوئے نگران حضرات کو جمع کیا گیا۔ ایک صاحب کارگزاری بیان کرنے لگے۔ مولانا عبد الرحمن شاہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ محمودیہ جھنگ نے بیان رکوا کر جھنگ کی آپ بیتی سنائی کہ فلاں مسجد میں مولوی صاحب نے درس قرآن شروع کیا، جماعت والوں نے بند کرا دیا کہ یہ فتنہ ڈال رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ 

احقر نے چنیوٹ چھوڑنے سے دو ماہ پہلے روزانہ درس قرآن شروع کیا۔ جماعت والوں نے بہت مخالفت کی۔ اگر درس قرآن کے حامی صبر وتحمل سے کام نہ لیتے تو سر پھٹول ہو جاتی۔ ایسا ہی ایک واقعہ مولانا محمد ابراہیم صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ مولانا چنیوٹی مرحوم کے سمجھانے کے باوجود جماعت والوں نے درس قرآن نہ سنا۔ المیہ یہ ہے کہ سارا دین چھ نمبروں، گشت اور سہ روزوں اور چلوں میں منحصر سمجھ لیا گیا ہے۔ احقر کے درس قرآن کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ بزرگوں نے عشا کے بعد مشورہ کرنے کا کہا ہوا ہے۔ درس قرآن سے ہمارا مشورہ متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ احقر کے درس قرآن کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ استاذ مکرم مولانا چنیوٹی مرحوم ہمیشہ جماعت والوں کو ’ہی‘ اور ’بھی‘ کا فرق سمجھایا کرتے تھے کہ تبلیغی کام ہی دین کا کام نہیں ہے، یہ بھی دین کا کام ہے۔

آخر میں یہ عرض ہے کہ تبلیغی کام بہت شاندار کام ہے۔ دوسرے حضرات جس شخص کو دس سال میں دین دار نہیں بنا سکتے، یہ حضرت ہفتہ چلہ میں بنا لیتے ہیں۔ شاندار نتائج سے انکار نہیں، لیکن مذکورہ کوتاہیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ رائے ونڈ میں مقیم تبلیغی بزرگ بالخصوص جماعت کے ترجمان مولانا طارق جمیل صاحب کیا اس طرف بھی توجہ فرمائیں گے؟

مشتاق احمد

مدرس جامعہ اسلامیہ کامونکی


مکاتیب

(ستمبر ۲۰۰۶ء)

Flag Counter