نسلی و مذہبی منافرت اور یورپی و عالمی قوانین

آغا شاہی

یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلامؑ کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز کارٹونوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو مشتعل اور غضب ناک کردیا ہے۔ متعلقہ اخبارات کے مدیران آزادی اظہار کو اس ناپاک جسارت کا جواز قرار دیتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے خیال میں یہ فعل ’’جلتی پر تیل‘‘ انڈیلنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ کارٹون ڈنمارک کے روزنامہ ’’جلینڈ پوسٹنز‘‘ میں شائع ہوئے۔ مبینہ طورپر اس اخبار کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ’’حساب برابر ‘‘ کرنے کے لیے جتنی تعداد میں رسول خداکے کارٹون چھاپے گئے ،اتنی ہی تعداد میں حضرت عیسیٰ کے کارٹون چھاپے جائیں گے۔ ان کارٹونوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تضحیک کاپہلو نمایاں ہو گا۔ یہ (حل یا طریق معذرت) مسلمانوں کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں،کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ کو بھی خدا کا پیغمبر اور نبی مانتے ہیں۔

آزادئ اظہار رائے کاحق لامحدود ہرگز نہیں اور شہری وسیاسی حقوق پر عالمی قانون (International Covenant on Civil and Political rights-ICCPR) کے ذریعے اس حق کو محدود کیا گیا ہے۔ امنِ عامہ اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے مذکورہ معاہدے کا احترام ضروری ہے۔ان توہین آمیز کارٹونوں کو دیکھ کرکسی بھی مسلمان کے غم وغصے کا عروج پر پہنچ جانا فطری سی بات ہے۔ دنیا کارٹونوں کی اس بات کو ’’تہذیبوں کے تصادم ‘‘(Clash of Civilisations) کا تمہیدی منظر قرار دے رہی ہے، یعنی ’’مغرب بمقابلہ اسلام‘‘ کے دور کا (ایک بار پھر)آغاز ہو چکا ہے۔

زیر بحث کارٹون پیغمبر اسلام ؑ سے یا دوسرے لفظوں میں اسلام سے نفرت کااظہار ہیں۔ ان کارٹونوں کو شائع کرکے ’’ہمہ قسم کے نسلی امتیاز (یاتعّصبات) کے خاتمے پر عالمی کنونشن‘‘کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے ۔یہ کنونشن نسلی برتری، نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب کو ابھارنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتاہے۔ اس کی رو سے اقوام متحدہ کی ہر رکن ریاست پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کے قابل تعزیر اقدامات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ ان کارٹونوں کو شائع کرکے دراصل ایک عالمی قانون کی نفی اور خلاف ورزی کی گئی ہے۔ آزادی اظہار کی آڑ میں عقیدہ اسلام کے حاملین یعنی مسلمانوں کے جذبات کو جس طرح مجروح کیا گیا ہے، اس کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ ان ملکوں میں موجود اسلامی تنظیمیں اور مسلمان قانونی ماہرین متعلقہ ملکوں کی بااختیار عدالتوں سے ’’محکم فیصلہ ‘‘(Ruling)حاصل کریں بلکہ ترجیحاً ’’انسانی حقوق کی یورپی عدالت‘‘  (European Court of Human Rights) سے رابطہ کریں تاکہ مسلمانوں کے زخموں کا کسی حد تک مداوا ہوسکے۔

CCPR اور ICERD جیسے معاہدوں سے ثابت ہو جاتاہے کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب بے لگام آزادی ہرگز نہیں، بلکہ اس کی حدود وقیود کا باقاعدہ تعین کیا گیا ہے۔ان معاہدوں پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی واضح اکثریت نے دستخط کررکھے ہیں اور یورپی عدالتیں ان حدود وقیودکی توثیق کرتی ہیں۔ ICERDپر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور اسے مانیٹر کرنے کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ’’نسلی تعصبات کے خاتمے کی کمیٹی‘‘کے نام سے موسوم ہے۔ قانون کی رو سے نسلی برتری یا نسلی تعصب یا نسلی برتری کے نام پر نفرت پھیلانے کو مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔نسلی تفاخر کے نتیجے میں پید ہونے والی نسلی منافرت تشدد کو جنم دیتی ہے ،لہٰذا یہ فعل قانوناً ممنوع ہے اوراس کی سزا اظہار رائے کی آزادی سے ہم آہنگ ہے۔ اس حوالے سے صرف موزوں اور مناسب قانون سازی ہی کافی نہیں ،بلکہ قانون کا موثر نفاذبھی ضروری ہے ۔جو شہری آزادی اظہار کے حق سے استفادہ کرتے ہیں ،ان پر بعض خصوصی فرائض اورذمہ داریاں (خود بخود ) جاری ہو جاتی ہیں۔ (CERD کی عمومی سفارش xv)

اسلامی عقائد کے حامل افراد (مسلمان) جن کی توہین کی گئی ہے ،وہ گوروں کے اس طبقے سے مختلف طبقہ ہیں جس نے توہین کا آغازکیا یا جو توہین کے ذمہ دار ہیں، جسے ICERD اور CERD جرم قرار دیتے ہیں۔ شہریوں کو جو بنیادی آزادیاں اور انسانی حقوق ICCPR کے توسط سے حاصل ہیں، ’’انسانی حقوق کی کمیٹی ’’ان سے متعلقہ قوانین کی مفصل اور سیر حاصل توجیہ وتوضیح کرتی ہے۔ اس کمیٹی نے ’’فاریسن بنام فرانس‘‘ کیس میں دیے جانے والے عدالتی فیصلے کی توثیق کی تھی۔ اس عدالتی فیصلے کے تحت ’’یہودی مخالف کی دل جوئی اور انہیں سہارا دینے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بیانات کے اجرا پر پابندی عائد کر دی جائے جو یہودمخالف ہوں یا جن سے یہودیوں کے جذبات کوٹھیس پہنچتی ہو ۔ اس طرح یہودیوں کو مذہبی منافرت کی دفعہ (۲) ۲۰ کے پس منظر میں کار فرما اصول بھی مذکور ہ پابندی کی حمایت کرتاہے ۔آزادی اظہار کے حق سے استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعض فرائض اور ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لی جائیں ‘‘۔

’’ انسانی حقوق کی کمیٹی‘‘ (HRC)نتیجہ اخذ کرچکی ہے کہ اس نوعیت کی پابندی ICCPR کی دفعہ ۱۹ کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ یورپی عدالتیں یہودیوں کو تو حق دیتی ہیں کہ ان کے خلاف بیانات جاری نہ کیے جائیں اور بڑے پر جوش انداز میں یہ اہتمام کیا جاتاہے کہ ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔پھر مسلمانوں کو یہ حق دینے میں لیت ولعل سے کیوں کام لیاجاتاہے ؟’’انسانی حقوق کی عالمی عدالت‘‘ کے فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

’’ اظہار رائے کی آزادی کا اطلاق ان معلومات ونظریات پر بھی برابر ہوتاہے ،جو ریاست میں انتشار یاعوام کے کسی طبقے میں اشتعال کا سبب بن سکتے ہوں۔ اجتماعیت اور برداشت کے یہی تقاضے ہیں ،جن کے بغیر کسی معاشرے کو جمہوری معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘ (ہینڈی سائڈکیس)

ڈائی چنڈ ودیگر بنام آسٹریا، کرتاس بنام ترکی، بیلڈٹ ٹرامز بنام ناروے جیسے مقدمات میں یورپی عدالتوں نے صحافیوں کو اشتعال انگیز حد تک مبالغے کی اجازت دے دی، تاہم ایک یورپی عدالت نے ’’ونگروو بنام برطانیہ‘‘نام کے مقدمے میں مذکورہ بالا مقدمات کے فیصلوں سے مختلف فیصلہ بھی دیا،جس کے تحت ’’جب دفعہ (۲)۱۰ کے تحت سیاسی تقاریر اور قابل اعتراض ومتنازعہ سیاسی مباحث پر پابندی عائد نہ کی جاسکے تو عوامی مفاد کے پیش نظر آزادی اظہار کے حق کومحدود کیا جاسکتاہے، بالخصوص جو مباحث ذاتی ،اخلاقی یا مذہبی عقائد سے متعلق ہوں‘‘۔

’’اوٹوپریمنگر انسٹی ٹیوٹ بنام آسٹریا‘‘ نام کے مقدمے میں بھی اسی اصول کی پیروی کرتے ہوئے عدالت نے لکھا کہ ’’دفعہ ۹ کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے، اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بد نیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جاسکتاہے۔جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات، اقوال یا افعال کو تحمل، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کوصد فی صد یقینی بنایا جائے‘‘۔

اگر کوئی کسی دوسرے کے مذہبی عقائد کی مخالفت کرے یا انہیں جھٹلائے تو عدالت ان پر پابندی عائد کرسکتی ہے کہ وہ ممکنہ حد تک ایسی گفتگو سے پرہیز کرے جو کسی دوسرے عقیدے یا مذہب کے ماننے والے کی دل آزاری کا باعث بنتی ہو۔ ’’ڈیوبوسکا اورسکپ بنام پولینڈ ۴۰‘‘ کیس میں اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عدالت نے لکھا کہ:

’’جن باتوں کو مذہب یا عقیدے کی رو سے مقدس یا قابل تعظیم سمجھا جاتاہو ،ان کی متشدد اور اشتعال انگیز تصویر کشی کو دفعہ ۹ کے تحت حاصل شدہ حقوق کی نفی اور خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔حکومت کا یہ مثبت فرض یا مثبت ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کے پختہ مذہبی عقائد کے تحفظ کااہتمام کرے اور انہیں ہر قسم کے حملوں سے بچائے ۔قانون کے تحت حاصل شدہ کسی بھی مذہبی حق کا استعمال ،اگر کسی فرد کے عقائد کی توہین کرتاہو تو اس کی حدود کا تعین کرنے کے لیے ریاست کی مداخلت جائز ہو گی۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے باہمی تعلقا ت میں مذہبی عقائد کی آزادی کے حق کے احترام کو بھی یقینی بنائے اور عوام اور ریاستی حکام کے باہمی مراسم کے تناظر میں بھی آزادی مذہب کے حق کو محترم جانے۔اس ریاستی فرض کا ادراک برطانیہ میں اقلیتوں کے مذاہب کے فروغ میں (یورپی)کنونشن کو ممد بنا سکتاہے۔مطلب یہ کہ مذکورہ فروغ کے عمل میں (یورپی )کنونشن کو اہم کردار سونپا جاسکتاہے ‘‘۔ (دی اوٹو پریمنگر کیس)

انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی معاہداتی تنظیموں (CERD اور HRC ) اور یورپی عدالتوں کے علاوہ فرانس، جرمنی، آسٹریا، اٹلی اور بعض دوسرے ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں کے منظور شدہ قوانین نے ایک مخصوص فلسفہ قانون کومتشکل کرنے میں اہم کردار اداکیا ۔ ان ممالک کی قوانین کی روسے ’’ہولو کاسٹ‘‘(ہٹلر کے ہاتھوں جرمنی میں تقسیم یہودیوں کا قتل عام) سے انکار اور اسے خلاف واقعہ قرار دینا جرم ہے۔ (اس طرح اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کرکے اس حق کو محدود کردیا گیا ہے) اندریں حالات پیغمبر اسلام سے نفرت (نعوذباللہ )پر مبنی مواد یا تصاویر (کارٹونوں) کی اشاعت کامتعلقہ ممالک کی حکومتوں، قانون ساز اسمبلیوں اور عدالتوں نے نوٹس کیوں نہیں لیا؟(بے نیازی،سرد مہری اور لاتعلقی) کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں سے کمتر سمجھا جاتاہے ۔کیا یہ امتیاز عدم مساوات کی نشاندہی نہیں کرتا؟

اگر اشتعال انگیز اور نفرت آمیز تصاویر کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے اور انہیں نظر انداز کردیا جائے تو نتیجتاً انتہائی سنگین اور متشدد تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے کے دورانیے میں روانڈا اور بوسنیا کے انکوائری کمیشنوں او ر ہیگ اور اروشا میں ’’جرائم کے عالمی ٹربیو نلز ‘‘نے کئی مفصل شواہد ریکارڈ کیے جن سے ثابت ہوتاہے کہ نفرت پر مبنی خیالات واحساسات کا اظہار زبان سے کیا جائے یا تحریر سے یا تصویر کشی کا سہارا لیا جائے اور میڈیا ان خیالات اور احساسات کوپھیلانے اور عام کرنے میں بھر پور (مگر منفی)کردار ادا کرے تو ہم انہیں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی علامات قرار دے سکتے ہیں۔اگر یورپی ممالک نے اپنے میڈیا کے توسط سے کیے جانے والے نفرت کے اظہار کی روک تھام نہ کی تو مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے تصادم کے جانبدارانہ اور متعصبانہ نظریات سچ ثابت ہوجائیں گے اور اس طرح ان نظریات کے داعی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں گے ،لہٰذا آزادی اظہار کے حق کا استعمال کرتے وقت ضروری ہے کہ اسے اخلاقی حدود وقیود میں رکھا جائے۔ یہی ’’روشن خیال اعتدال پسندی ‘‘کااولین تقاضاہے ۔عوامی مفاد کے پیش نظر بھی ایسا کرنا ضروری ہے ۔

محولہ بالا فلسفہ ہائے قوانین کی روشنی میں یورپی ممالک میں موجود سماجی، فلاحی اور معاشرتی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ریاستی حکام، قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائیں تاکہ یورپی یونین میں مقیم ڈیڑھ کروڑ مسلمان تارکین وطن توہین سے بچ جائیں اور ان کا مذہبی تقدس بھی مجروح نہ ہو۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم راس مسن سے خصوصی درخواست کی جائے کہ وہ انسانی حقوق کے قوانین کے حوالے سے اپنے عالمی فرائض سے عہدہ برآہوں ۔امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یورپی اخبارا ت زیر بحث کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کرچکے ہیں۔مزید برآں امریکی اور برطانوی اخبارات نے ان کی دوبارہ اشاعت سے اجتناب برتنے کا جو عندیہ دیا ہے ،وہ بھی خوش آئند ہے ۔یہ طرز عمل اسلامی دنیا کے مذہبی جذبات کے احترام کے مترادف ہے۔

مغرب میں بعض اوقات یہ سوال اٹھایا جاتاہے کہ اسلامی اقدارمغر ب کی معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟ ہاں! اساسی اعتبارسے دونوں ایک ہیں، لیکن دونوں میں بعض نمایاں اور واضح اختلافات بھی پائے جاتے ہیں ۔مثلاً مغربی معاشرے میں شہریوں کواظہار رائے کی مادرپدر آزادی حاصل ہے، وہ دوسروں کے عقائد کا جس طرح چاہیں، مضحکہ اڑا سکتے ہیں،لیکن اسلامی معاشروں میں اس چیز کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انسانی حقوق کے متعدد معاہدوں میں مسلمان ممالک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔شہری ،سیاسی ،اقتصادی ،سماجی اور ثقافتی حقوق کے عالمی معاہدات ،عورتوں کے ساتھ منفی امتیاز کے امتناع کامعاہد ہ ،ہر قسم کے نسلی امتیاز (تعصبات)کے خاتمے کاعالمی معاہدہ، بچوں کے حقوق کاعالمی معاہدہ اور بعض دیگر معاہداتی دستاویزات کے ذریعے ’’انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیے‘‘کے پس پردہ کارفرما اصولوں کوقانونی ضوابط کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔اسی طرح ریاستوں کو پابند کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے انتظامی ،قانونی اور تعزیری قوانین کے نفاذ میں بھی عالمی معیار ہی کوپیش نظر رکھیں ۔

یہ درست ہے کہ بعض ممالک ان دستاویزات کی کئی شقوں کے بارے میں تحفظات کاشکار ہیں ۔ان میں مغرب، ایشیا ،افریقہ ،لاطینی امریکہ کے کچھ ممالک شامل ہیں۔ ان معیارات پر عمل درآمد کے وقت بعض ممالک اپنے فرائض کی کماحقہ ادائیگی میں قاصر رہتے ہیں۔ یہ CERD یا HRC جیسے نگران اداروں اور یا پھر ان مانیٹرنگ کمیٹیوں کا کام ہے جن کا انتخاب جغرافیائی اعتبار سے مساویانہ ہونا چاہیے۔

صرف یہ کہہ دینا اختلافات کو ہوا دینے اور سنگین تر کرنے کے مترادف ہے کہ دونوں تہذیبوں اور دونوں ثقافتیں ہم آہنگی کے فقدان کا شکار ہیں۔ اس نوعیت کے اظہار رائے میں اس مسئلے کاحل مضمر نہیں۔ مسلمان ریاستوں پر یہ تنقید بے جا اور غیرحقیقت پسندانہ ہے کہ وہ مغربی اقدار سے مکمل سمجھوتہ نہیں کر رہیں۔دو مختلف تہذیبوں کے ساتھ ان کی تاریخی وابستگی کوپیش نظر رکھا جائے تو مطالبہ احمقانہ نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر اگر مغرب مسلمان ممالک سے یہ توقع کرے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کو کاملاً قبول کر لیں اور اس بات کو پیش نظر نہ رکھیں کہ وہ آزادی ان کے مذہبی شعور واحساس کو کتنے شدید دھچکوں سے دوچار کرتی ہے ،حتیٰ کہ وہ ایسی ہستیوں کی توہین بھی برداشت کرلیں جو ان کے نزدیک مقدس ترین اور حد درجہ قابل احترام ہیں تو ناقدین آگاہ رہیں کہ کوئی اسلامی ریاست اس نوعیت کی آزادی سے استفادہ نہیں کرے گی اور پھر مغربی معاشرت میں بھی اس قسم کی آزادی تضادات کا شکارہے اور مغربی ممالک نے اس حوالے سے دو ہرے معیار اپنا رکھے ہیں۔

اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کے چیلنج سے نمٹنا مقصود ہے تو مسلمان دنیا کوچاہیے کہ اپنے جائز غم وغصے کومتشدد انداز میں ظاہرکرنے کی بجائے مغرب کے ساتھ دانشورانہ مباحث کی راہ اپنائے۔ مسلمانوں کی اپنے نبی ﷺ کے ساتھ وابستگی اور عقیدت کسی سے ڈھکی چھپی ہرگز نہیں، جنہوں نے متعدد ستم اٹھائے، کئی صعوبتیں برداشت کیں ،لیکن اپنے نیک مقاصد کوترک نہ کیا اور بالآخر مکہ میں ایک فاتح کے طورپر داخل ہوئے اور انتقام کی راہ سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے بدترین دشمنوں کوبھی معاف کر دیا۔ ایک عظیم الشان فاتح ہو کر بھی انہوں نے عفو درگزر کی ایسی مثال قائم کردی جس کی ماضی قریب یا بعید میں کوئی نظیر دستیاب نہ تھی۔ لہٰذا امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دلی،ذہنی اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے وقت ان کی سنت کو ترک نہ کریں اور اگر انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں توہین آمیز اور لڑنے مرنے پر اکسانے والے حملے کیے جائیں تو بھی وہ اپنی صفوں میں اتحاد اور نظم وضبط کی کمی نہ آنے دیں۔

(بشکریہ روزنامہ ’پاکستان‘ لاہور)


حالات و مشاہدات